Comrade Public School & College Battal Mansehra

Comrade Public School & College Battal Mansehra quality education
(1)

16/12/2025
تشریح: نمرود کی جلائی ہوئی آگ اولادِ ابراہیمؑ اور نمرود آج بھی موجود ہیں، کیا پھر کسی کو کسی (مسلمانوں) کی آزمائش مقصود ...
08/11/2025

تشریح: نمرود کی جلائی ہوئی آگ اولادِ ابراہیمؑ اور نمرود آج بھی موجود ہیں، کیا پھر کسی کو کسی (مسلمانوں) کی آزمائش مقصود ہے۔ یعنی مسلمانوں کے لیے ہر طرف مصیبتوں کا طوفان برپا ہے اور دوسری طرف طاغوتی/باطل قوتیں انہیں مٹانے اور تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ گویا وہ مسلمانوں کی قوتِ برداشت کا جائزہ لے رہی ہیں۔
(شرح خواجہ حمید یزدانی)

نظم: خضرِ راہ ، کتاب: بانگِ درا

وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازیمیرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نَے نوازیمیں کہاں ہوں ، تو کہاں ہے، یہ مکاں کہ لامکاں ...
04/11/2025

وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازی
میرے کام کچھ نہ آیا یہ کمالِ نَے نوازی
میں کہاں ہوں ، تو کہاں ہے، یہ مکاں کہ لامکاں ہے
یہ جہاں مرا جہاں کہ تری کرشمہ سازی
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و سازِ رومی، کبھی پیچ و تابِ رازی
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی
نہ زباں کوئی غزل کی، نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دل کشا صدا ہو، عجمی ہو یا کہ تازی
نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا
یہ سپہ کی تیغ بازی، وہ نگہ کی تیغ بازی
کوئی کارواں سے ٹوٹا، کوئی بدگماں حرم سے
کہ امیرِ کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی
(1). معانی: کم نصیبی: بے نصیبی ۔ بے نیازی: بے پروائی ۔ نَے نوازی: بانسری بجانا یعنی قوم کو بیدار کرنا ۔
مطلب: قادر مطلق سے خطاب کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں اتنا بڑا تخلیق کار ہونے کے باوجود میں اب بھی اسی طرح کم نصیب ہوں جس طرح کہ تو ہر معاملے سے بے نیاز ہے ۔ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شعر گوئی میں میں نے جو کمال حاصل کیا تھا وہ عملاً میرے لیے بیکار ثابت ہوا ۔
(2). مطلب: خدایا یہ تو بتا کہ میں کس مقام پر ہوں اور تو کس مقام پر ہے اور جس جگہ میرا قیام ہے وہ مکان ہے کہ لامکان ۔ یہ حقیقت بھی ایک سربستہ معلوم ہوتی ہے ۔ یہ عالم امکان میرے اپنے تخیل کا پیدا کردہ ہے یا اسے تیری کرشمہ سازی نے تخلیق کیا ہے مطلب یہ کہ انسان کو ابھی تک حقیقت ابدی کا سراغ نہیں مل سکا ۔
(3). معانی: کبھی سوز و سازِ رومی کبھی پیچ و تاب رازی: کبھی رومی کے نظریے پسند کیے کبھی رازی کی تفسیر میں الجھا ۔
مطلب: میری زندگی کی بیشتر راتیں تذبذب اور ذہنی کشمکش کا شکار رہیں کبھی مولانا رومی کے سوز و ساز سے دل ہم آہنگ ہوا اور کبھی اس پر امام رازی کی فلسفیانہ موشگافیاں مسلط رہیں ۔
(4). معانی: فریب خوردہ شاہیں : دھوکے میں آیا ہوا مسلمان ۔ کرگسوں : گدھ، بُرے لوگ ۔ رسمِ شاہبازی: عقابوں کے طریقے ۔
مطلب: اس شعر میں علامہ نے شاہیں اور کرگس کی علامتوں کے ذریعے قوم کے نونہالوں کی جانب اشارہ کیا ہے کہ وہ جس بزدلانہ اور منافقانہ ماحول میں پرورش پا رہے ہیں ان سے جرات مندی اور انقلاب پسندی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ۔ اس کی توجیہ کچھ یوں بھی ہوتی ہے کہ جو قوم کے نونہال انگریز کی غلامی اور ان کی تقلید کو ہی شرف قبولیت دے چکے ہیں ان سے ایسے نظام اور اقدار سے بغاوت کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ۔ وہ تو اس حقیقت سے بھی بے خبر ہیں کہ آزاد اور حوصلہ مند نوجوانوں کی فطرت کیا ہونی چاہیے ۔
(5). معانی: اس شعر میں اقبال نے عہد کے تخلیقی عمل کو بے معنی قرار دیتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اس میں تاثر ناپید ہے ساتھ ہی اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ قوم کو کوئی پر لطف اور دلکشا نغمہ ملے جو خواہ فارسی زبان میں ہو یا عربی میں اس کے لیے زبان کی کوئی قید نہیں ۔
(6). مطلب: اس شعر میں درویشی اور بادشاہی کے حوالے سے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ بظاہر دونوں میں کوئی امتیاز اور فرق محسوس نہیں ہوتا ۔ درویش اپنے افکار اور خیالات کے ذریعے اور بادشاہ تلوار کے ذریعے لوگوں پر حکومت کرتا ہے عملاً دونوں کا کردار یکساں طرز کا ہے۔
(7). مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ کیفیت یہ ہے کہ ہر شخص انتشار و بے یقینی کا شکار ہو کر اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے ۔ کسی کو اجتماعی مفاد سے واسطہ نہیں ۔ اس کی قطعی وجہ یہی ہے کہ جس شخص کے ہاتھ میں اقتدار ہے وہ جسے قافلہ سالاری کے فرائض انجام دینے چاہیے وہی اپنی بے عملی اور ذاتی مفاد کے سبب قوم کی رہنمائی کا حامل نہیں ہے ۔ ایسے شخص کا قول و فعل اور کردار دوسروں کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔

شرح:اس شعر میں علامہ اقبالؒ اقتدار، سربلندی اور حکمرانی کی فطری انسانی خواہش کا ذکر کرتے ہیں، جو ہر انسان کے دل میں کسی ...
03/11/2025

شرح:
اس شعر میں علامہ اقبالؒ اقتدار، سربلندی اور حکمرانی کی فطری انسانی خواہش کا ذکر کرتے ہیں، جو ہر انسان کے دل میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ فطری بات ہے کہ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ باعزّت ہو، کسی مقام پر فائز ہو، سربراہ ہو، یا اثر و رسوخ رکھتا ہو۔ یہ تمنا ہر انسان میں پائی جاتی ہے۔

لیکن اگلی مصرعے میں اقبال سوال اٹھاتے ہیں کہ "خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے!"یعنی اگر یہ حکمرانی یا عزت ایسی ہو جس کے لیے خودی یعنی اپنی شناخت، اپنے اصول، اپنے ضمیر، اور اپنے جوہرِ انسانیت کو قربان کرنا پڑے تو ایسی حکمرانی میں کیا رکھا ہے؟
ایسی سروری بےروح، کھوکھلی اور بے قیمت ہے۔علامہ اقبال کے نزدیک "خودی" انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اگر کوئی انسان طاقت، دولت یا شہرت کے لیے اپنی خودی کو مٹا دے، تو وہ درحقیقت کامیاب نہیں بلکہ شکست خوردہ ہے۔اقبال ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہاصل حکمرانی وہی ہے جو انسان کی خودی کو زندہ رکھے، اسے بلند کرے نہ کہ اسے فنا کر دے۔
یہ شعر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دنیاوی عزت یا طاقت اگر ضمیر کے سودے سے حاصل ہو تو وہ باعزت مقام نہیں، بلکہ روح کی غلامی ہے۔

غزل: خراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے!
کتاب: بالِ جبریل

09/10/2025
14/08/2025

Adresse

Comrade Public School
Battal
MANSEHRA

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Comrade Public School & College Battal Mansehra publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Contacter L'université

Envoyer un message à Comrade Public School & College Battal Mansehra:

Partager