Allama Iqbal College Haider Campus APE

Allama Iqbal College Haider Campus APE AIC Ahmad Pur Campus (Haider College) affiliated with board and university. All programs available.

ہائی کورٹ کا ایک ولی صفت ججمیرے پاس چند دن قبل ایک ریٹائرڈ پولیس افسر آئے۔ ان کا چھوٹا سا مسئلہ تھا، میں نے ان کی جتنی م...
18/12/2025

ہائی کورٹ کا ایک ولی صفت جج
میرے پاس چند دن قبل ایک ریٹائرڈ پولیس افسر آئے۔ ان کا چھوٹا سا مسئلہ تھا، میں نے ان کی جتنی مدد کر سکتا تھا کر دی۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی تو میں نے ان سے زندگی کا کوئی حیران کن واقعہ سنانے کی درخواست کی۔
میری فرمائش پر انھوں نے ایک ایسا واقعہ سنایا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور میں نے سوچا، مجھے یہ آپ کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہیے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا: میں 1996 میں لاہور میں ایس ایچ او تھا۔ میرے والد علیل تھے، میں نے انھیں سروسز اسپتال میں داخل کرا دیا۔ سردیوں کی ایک رات میں ڈیوٹی پر تھا اور والد اسپتال میں اکیلے تھے۔ اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔
میرے خاندان کا کوئی شخص ان کے پاس نہیں تھا۔ وہ دو مریضوں کا کمرہ تھا، ان کے ساتھ دوسرے بیڈ پر ایک مریض داخل تھا۔ اس مریض کا اٹینڈنٹ موجود تھا۔ وہ اٹھا، اس نے ڈسٹ بین اور تولیہ لیا اور میرے والد کی مدد کرنے لگا۔ وہ ساری رات ابا جی کی الٹیاں صاف کرتا رہا۔ اس نے انھیں قہوہ بھی بنا کر پلایا اور ان کا سر اور بازو بھی دبائے۔ صبح ڈاکٹر آیا تو اس نے اسے میرے والد کی کیفیت بتائی اور اپنے مریض کی مدد میں لگ گیا۔ میں نو بجے صبح وردی پہن کر تیار ہو کر والد سے ملنے اسپتال آ گیا۔
اباجی کی طبیعت اس وقت تک بحال ہو چکی تھی۔ مجھے انھوں نے اٹینڈنٹ کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "رات میری اس مولوی نے بڑی خدمت کی۔" میں نے اٹینڈنٹ کی طرف دیکھا۔ وہ ایک درمیانی عمر کا باریش دھان پان سا ملازم تھا۔ میں نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا لیکن پھر سوچا، اس نے ساری رات میرے والد کی خدمت کی ہے، مجھے اسے ٹپ دینی چاہیے۔ میں نے جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور اس کے پاس چلا گیا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اسے پانچ سو روپے پکڑانے لگا۔ وہ کرسی پر کسمسایا لیکن میں نے رعونت بھری آواز میں کہا: "لے مولوی، رکھ یہ رقم، تیرے کام آئے گی۔" وہ نرم آواز میں بولا: "نہیں بھائی نہیں، مجھے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں۔ میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور تکلیف میں ہیں۔ میں فارغ تھا، لہٰذا میں اللہ کی رضا کے لیے ان کی خدمت کرتا رہا۔ آپ لوگ بس میرے لیے دعا کردیں، وغیرہ وغیرہ۔" لیکن میں باز نہ آیا، میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر صورت اسے پیسے دے کر رہوں گا۔
پولیس افسر رکے، اپنی گیلی آنکھیں اور بھاری گلہ صاف کیا اور پھر بولے: "انسان جب طاقت میں ہوتا ہے تو یہ معمولی معمولی باتوں پر ضد باندھ لیتا ہے۔ یہ ہر صورت اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے بھی پیسے دینے کی ضد بنا لی تھی، مگر مولوی مجھ سے زیادہ ضدی تھا۔ وہ نہیں مان رہا تھا۔ میں اس کی جیب میں پیسے ڈالتا تھا اور وہ نکال کر کبھی میری جیب میں ڈال دیتا تھا اور کبھی ہاتھ میں پکڑا دیتا تھا۔"
میں نے اس دھینگا مشتی میں اس سے پوچھا: "مولوی یار تم کرتے کیا ہو؟" اس نے جواب دیا: "بس ایسے ہی لوگوں کی خدمت کرتا ہوں۔" وہ مجھے اپنا کام نہیں بتانا چاہتا تھا۔ میں نے اب اس کا ذریعہ روزگار جاننے کی ضد بھی بنا لی، اس سے بار بار اس کا کام پوچھنے لگا۔ اس نے تھوڑی دیر ٹالنے کے بعد بتایا: "میں کچہری میں کام کرتا ہوں۔" مجھے محسوس ہوا یہ کسی عدالت کا اردلی یا کسی وکیل کا چپڑاسی ہو گا۔ میں نے ایک بار پھر پانچ سو روپے اس کی مٹھی میں دے کر اوپر سے اس کی مٹھی دبوچ لی اور پھر رعونت سے پوچھا: "مولوی تم کچہری میں کیا کرتے ہو؟"
اس نے تھوڑی دیر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے والد کی طرف دیکھا۔ لمبی سانس لی اور آہستہ آواز میں بولا: "مجھے اللہ نے انصاف کی ذمے داری دی ہے۔ میں لاہور ہائی کورٹ میں جج ہوں۔"
مجھے اس کی بات پر یقین نہ آیا، میں نے پوچھا: "کیا کہا؟ تم جج ہو!" اس نے آہستہ کہا: "جی ہاں، میرا نام جسٹس منیر احمد مغل ہے اور میں لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں۔"
یہ سن کر میرے ہاتھ سے پانچ سو روپے گر گئے اور میرا وہ ہاتھ جو میں نے پندرہ منٹ سے اس کے کندھے پر رکھا ہوا تھا، وہ اس کے کندھے پر ہی منجمد ہو گیا۔
جسٹس صاحب نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے سے اتارا، کھڑے ہوئے، جھک کر فرش سے پانچ سو روپے اٹھائے، میری جیب میں ڈالے اور پھر بڑے پیار سے اپنے مریض کی طرف اشارہ کر کے بتایا: "یہ میرے والد ہیں۔ میں ساری رات ان کی خدمت کرتا رہا، ان کا پاخانہ تک صاف کیا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔"
میں نے رات دیکھا، آپ کے والد اکیلے ہیں اور ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے، لہٰذا میں انھیں اپنا والد سمجھ کر ان کی خدمت کرتا رہا۔ اس میں شکریے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (جاوید چودھری)
جسٹس ڈاکٹر منیر احمد مغل ہائی کورٹ لاہور کے جج تھے، مگر ان کا جنازہ ایک چھوٹے سے گھر سے اٹھا۔ ان کی رہائش بھاٹی گیٹ کی تنگ اور تاریک گلی میں تھی۔ چار کنال کے سرکاری بنگلے کو چھوڑ کر وہ بیوی اور چھ بچوں کے ساتھ سالہا سال ایک سال خوردہ کمرے میں مقیم رہے۔ ان کے مکان میں تین منزلیں تھیں: پہلی منزل پر ان کے بھائی رہتے تھے، دوسری منزل پر ایک بڑا کمرہ اور اس کے سامنے بالکونی تھی۔ تیسرے منزل کا ایک کمرا ان کے والد کے کمرے کے ساتھ جوڑا گیا تھا، جو دن میں بیٹھک اور رات کو خوابگاہ کا کام دیتا۔ ان کے بیٹے ڈاکٹر احمد منیر مغل کے مطابق، تقسیم ہند کے بعد والد فیروز پور سے ہجرت کر کے لاہور آئے اور یہی تنگ سا مکان انہیں ملا۔ جسٹس مغل نے ساری زندگی محنت، عاجزی اور انکسار کے ساتھ گزاری۔
ان کے ایک دوست ڈاکٹر حافظ احمد خان نے ایک دفعہ ان سے حسرت بھرا استفسار کیا: "جناب، کیا میں بھی کبھی حج کر پاؤں گا"؟ مغل صاحب محبت آمیز طیش میں آ کر جو بولے وہ نہ صرف پورا بلکہ حرف بہ حرف پورا ہوا۔ فرمایا: ے احمد خان جاؤ، تم ایک نہیں 11 حج کرو گے". پھر احمد خان نے واقعی پورے 11 حج کیے۔
جسٹس منیر مغل نے ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی کی تفسیر پر پی ایچ ڈی کیا۔ ان کا دوسرا پی ایچ ڈی جامعۃ الازہر مصر سے تھا، جس کے لیے انہوں نے عربی زبان بھی سیکھی۔ ان کے علاوہ ملکی و بین الاقوامی قوانین پر 24 کتابیں تصنیف کیں۔ وہ عدالت میں تیزی سے مقدمات نمٹانے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی عدالت میں انصاف کا انداز نہایت متاثر کن تھا۔ ایک مقدمے میں جب امیر لوگوں کے وکیل اور غریب استاد کا کیس آیا، جسٹس صاحب نے استاد کے احترام میں سارا دن عدالت کھڑے ہو کر مقدمات نمٹائے اور پانچ منٹ میں فیصلہ سنایا۔
جسٹس مغل والدین کی خدمت کے حوالے سے بھی مشہور تھے۔ ان کے سامنے یوں دست بستہ کھڑے ہوا کرتے تھے کہ گویا نماز کی نیت باندھ رکھی ہے۔ والد کے زیادہ بیمار ہونے پر انہوں نے بیڈ کے قریب گھنٹی رکھی تاکہ والد پاؤں سے دبائیں اور وہ فوراً پہنچ جاتے۔ اپنی بیوی اور بچوں کو بھی والد کے کام میں ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی علم، محنت اور والدین کی خدمت میں گزاری۔ عدالت میں بھی ان کا رویہ عاجزانہ اور ایماندارانہ تھا۔
15 اپریل 2024 کو یہ فرشتہ صفت دنیا سے رخصت ہوا۔ ن کی سادہ زندگی، عاجزی اور والدین کے لیے غیر معمولی خدمت آج بھی عدلیہ اور معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ اللہ قرب کے اعلیٰ مراتب سے نوازے۔

منقول

حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے میں اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ پچیس چھبیس سال کا خوبصورت نوجوان قتل کے مقدمے میں دو ...
06/12/2025

حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے میں اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ پچیس چھبیس سال کا خوبصورت نوجوان قتل کے مقدمے میں دو دن پہلے ہی یہاں لایا گیا تھا جہاں سے چند دن بعد عدالتی کاروائی کے بعد اسے جیل منتقل کیا جانا تھا۔۔۔ اس کے خلاف کیس کافی مضبوط تھا اس لیے گمان غالب تھا کہ ایک دو پیشیوں کے بعد ہی اسے سزائے موت سنا دی جائے گی۔۔۔
میں ایک پولیس والا ہوں، اور پہلے دن سے ہی میرا رویہ اور لہجہ اس کے ساتھ کافی سخت رہا تھا۔۔۔لیکن اس کے لبوں پر ہمیشہ ایک دل موہ لینے والی مسکراہٹ ہوتی تھی اور ہمیشہ وہ مجھے بڑا سمجھتے ہوئے ادب سے اور نرم لہجے میں بات کرتا تھا۔۔۔
اور مجھ جیسا سخت انسان بھی دو دن میں ہی اس کے اچھے اخلاق کے سامنے ہار گیا تھا۔۔۔
اب وہ سلام پھیرنے کے بعد دعا مانگ رہا تھا۔۔۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔ وہ اس طرح خشوع و خضوع سے دعا مانگ رہا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ جس سے مانگ رہا ہے وہ اس کے بالکل سامنے بیٹھا ہو۔۔۔
دعا کے بعد اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس کے لبوں پر پھر وہی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔ وہ اٹھ کر میرے پاس آیا اور ہمیشہ کی طرح میرا حال احوال پوچھا۔۔
آج خلاف معمول میرا لہجہ کافی نرم تھا۔۔
باتوں کے دوران میں نے اس سے پوچھا کہ کیا واقعی اس نے قتل جیسا جرم کیا ہے۔۔ کیونکہ مجھے اس کی معصومیت سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ قتل جیسا جرم کر سکتا ہے۔۔۔
"ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔۔ تو پھر میں ایسا گھناونا جرم کیسے کرسکتا ہوں؟"
اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔
"تو پھر؟"
میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
"جب اللہ اس دنیا میں کسی کو اختیارات دیتا ہے نا تو اکثر لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ اختیارات اللہ کی طرف سے امانت ہیں۔۔۔ وہ ان سب کو اپنا کمال اور حق سمجھ بیٹھتے ہیں۔۔۔
میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ ہمارے علاقے کے ایک بااثر انسان نے قتل کردیا اور اتفاق سے میں وہاں سے چند قدم ہی دور تھا۔۔۔ اس نے الزام مجھ پر لگا دیا۔۔ جھوٹے گواہ بھی تیار کرلیے گئے اور میں یہاں آگیا"
مجھے دکھ سا ہوا۔۔۔
"تو تمہارے گھر والون نے کچھ نہیں کیا؟"
"گھر والوں نے اپنی سی کوشش کی لیکن وہی بات اس معاشرے میں لوگ بھی ڈر کے مارے اسی کا ساتھ دیتے ہیں جو طاقتور ہو"
وہ پھر سے مسکرایا تھا ۔۔
مجھے اس کے سکون کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔۔
"تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ ہو سکتا ہے کچھ دنوں تک تمہیں موت کی سزا سنا دی جائے؟"
"ان شاءاللہ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں نے اس کے آگے اپنی عرضی رکھ دی ہے جس کے سامنے بڑے سے بڑے بادشاہ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔۔"
اس نے پر یقین لہجے میں جواب دیا۔۔
میں نے پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
"میں اپنے اللہ کی بات کررہا ہوں۔۔۔ اسے میری بے گناہی کا علم ہے اور وہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا"
اس کے ہر ہر لفظ سے محبت ٹپک رہی تھی۔
"تمہیں یقین ہے کہ دعا سے کام ہوجائے گا۔۔۔؟ اگر نہ ہوا تو۔۔۔؟؟"
میں نے پوچھا۔۔
"جب اس سے مانگا جاتا ہے نا تو پھر شک میں نہیں پڑتے کہ وہ قبول نہیں کرے گا۔۔۔ بس سب کچھ اس پر چھوڑ کر انتظار کرتے ہیں"
اس کے لہجے میں یقین ہی یقین تھا۔۔۔ میں بس اس کے چہرے کو تکتا رہ گیا کہ اس سے پہلے اللہ پر اتنا یقین شاید ہی کسی میں دیکھا ہو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین دن مزید گزر گئے۔۔ اس دوران اس کے گھر والے بھی اس سے ملنے آئے تھے۔۔۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ ماں کا رو رو کر برا حال تھا لیکن اس کے سکون میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔۔ وہ مسلسل سمجھاتا رہا کہ میں نے اللہ کے سامنے عرضی رکھ دی ہے اسے پتا ہے میں بے گناہ ہوں دیکھ لیجئے گا وہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔
میں نے اللہ پر اتنا یقین اس سے پہلے صرف پڑھا ہی تھا لیکن کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔میرے دل میں اب اس کے لیے عقیدت کے جذبات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ شاید اللہ کی محبت ہوتی ہی ایسی ہے جو پتھر دل کو بھی پگھلا دیتی ہے۔۔۔
اور پھر جب اسے عدالت میں پیش کیا جانا تھا اس سے ایک دن پہلے ہی عجیب واقعہ ہوا۔۔۔
جس شخص نے خود قتل کرکے الزام اس پر لگایا تھا وہ اپنی بیوی اور اکلوتے بچے کے ساتھ گاڑی میں کہیں جارہا تھا کہ اسے ایک خوفناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں اس کی بیوی اور بچہ تو موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ اسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔۔۔ کافی گھنٹوں بعد ہوش میں آنے کے بعد اسے بیوی اور بچے کے مرنے کی خبر ملی تو اس کی حالت اور بگڑ گئی۔۔۔
اسی جان کنی کے عالم میں اسے کچھ یاد آیا۔۔۔ اس نے چیخ کر قریب موجود ڈاکٹر کو اس کی ویڈیو بنانے کا کہا۔۔۔ بار بار اصرار پر ڈاکٹر نے نرس کو ویڈیو بنانے کا اشارہ کیا تو اس نے ویڈیو میں بڑی مشکل سے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اس نوجوان کو بے گناہ قرار دے کر ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔۔۔
اس نے ڈاکٹر سے وعدہ لیا کہ وہ یہ ویڈیو ضرور پولیس سٹیشن لے کر جائے گا۔۔۔۔۔ شاید بیوی بچے کے مرنے کے بعد اور اپنی حالت کا علم ہوجانے کے بعد وہ اس گناہ کو ساتھ لے کر مرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
ادھر ویڈیو پولیس سٹیشن پہنچی ادھر وہ آدمی مرگیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج عدالت میں اس کی پیشی تھی۔۔ عدالت کے سامنے اس کی بے گناہی کا ناقابل تردید ثبوت ویڈیو کی شکل میں موجود تھا۔۔ لہذا اسے باعزت بری کر دیا گیا۔۔۔
میں کمرہ عدالت میں کھڑا گم سم سا سوچ رہا تھا کہ اللہ ان بندوں کی جو صحیح معنوں میں اس پر ایمان لاتے ہیں ان کی ایسے بھی مدد کرسکتا ہے۔۔۔
اس کی ہتھکڑیاں کھول دی گئی تھیں ماں روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی تھی باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔۔
آج اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔۔ شاید اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے ان حالات میں تنہا نہیں چھوڑا تھا اور اس طرح سے اس کی مدد کی تھی جس کا کسی کو وہم و گمان تک نہ تھا۔۔
اور مجھے یاد ہے مجھ سے ملنے کے بعد جب وہ جانے لگا تھا تو میں نے اسے کہا تھا کہ وہ کوئی ایسی بات بتا کر جائے جسے میں ہمیشہ یاد رکھوں۔۔
تو اس کے الفاظ تھے۔۔
*"اللہ سے بڑھ کر کوئی ہمدرد اور دوست نہیں۔۔۔ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے اسی سے مانگیں اور پھر یقین بھی رکھیں کہ وہ قبول کرے گا۔۔۔ وہ محض کسی سوچ یا تصور کا نام تو ہے نہیں۔۔۔ بلکہ وہ تو ایک زندہ حقیقت ہے۔۔۔ وہ اس وقت بھی ہمارے ساتھ ہے۔۔ شہ رگ سے بھی قریب۔۔ وہ ہمیں دیکھتا رہتا ہے کہ مشکل میں ہمارا رد عمل کیا ہوگا۔۔ اور جو اس سے مانگ کر شک میں نہیں پڑتے، اللہ بھی انھیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔۔۔ ایسے طریقوں سے اس کی مدد کرتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے"*
وہ اب واپس جارہا تھا اور مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں آج ہی مسلمان ہوا ہوں یا جیسے میں نے آج اپنے اللہ کو پالیا ہے۔۔۔۔

*ایک دن مُلّا نصیر الدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے جب نیچے اتارنے لگے تو گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا ت...
15/11/2025

*ایک دن مُلّا نصیر الدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے جب نیچے اتارنے لگے تو گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔*

بے حد کوشش کی، مگر گدھا جوں کا توں تھا اور مسلسل بَضد تھا کہ نیچے ہر گز نہیں اترنا۔
آخر کار مُلّا تھک ہار کر خود نیچے آ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ شاید گدھا خود نیچے اتر آئے.
تھوڑی دیر گزری تو مُلّا نے محسوس کیا کہ گدھا چھت کو لاتوں سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے.
مُلا پریشان ہو گئے کہ چھت تو بہت نازک ہے نہ اتنی مضبوط ہے نہ اس کی مُتحمّل ہے کہ اس کی لاتوں کو سہہ سکے مُلّا دوبارہ اوپر بھاگ کر گئے اور گدھے کو نیچے لانے کی کوشش کی لیکن گدھا اپنی ضد پر اٹکا ہوا تھا اور چھت کو توڑنے میں محو تھا مُلا آخری کوشش کرتے ہوۓ اُسے دوبارہ دھکا دے کر سیڑھیوں کی طرف لانے لگے کہ گدھے نے زور دار مُلّا کو لات ماری اور مُلا نیچے گر گئے اور پھر چھت کو توڑنے لگا۔
بالآخر چھت ٹوٹ گئی اور گدھا چھت سمیت زمین پر آ گرا.
مُلّا کافی دیر تک اس واقعہ پر غور کرتے رہے اور اس سے تین سبق اخذ کئے۔

اول: کبھی بھی گدھے کو مقام بالا پر نہیں لے جانا چاہئیے ایک تو وہ خود کا نقصان کرتا ہے۔
دوسرا: خود اس مقام کو بھی تباہ و برباد کر دیتا ہے جس کا وہ اہل نہیں۔
اور تیسرا اوپر لے جانے والے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے.

Respected Sir Rana Nasir Sb My TeacherVisit Allama Iqbal college (Haider Campus)May Allah Always keep you Happy....
15/11/2025

Respected Sir Rana Nasir Sb My Teacher
Visit Allama Iqbal college (Haider Campus)
May Allah Always keep you Happy....

09/11/2025
09/11/2025
08/11/2025
🌊 ماریانا ٹرِنچ — دنیا کی سب سے خاموش، خوفناک اور چھپی ہوئی دنیایہ دنیا کا سب سے گہرا مقام ہے، جسے ماریانا ٹرِنچ کہتے ہی...
08/11/2025

🌊 ماریانا ٹرِنچ — دنیا کی سب سے خاموش، خوفناک اور چھپی ہوئی دنیا

یہ دنیا کا سب سے گہرا مقام ہے، جسے ماریانا ٹرِنچ کہتے ہیں۔ یہ سمندر کے اندر موجود ایک ایسا گہرا گڑھا ہے جہاں انسان اب تک پوری طرح نہیں پہنچ سکا۔ اگر آپ دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کو اس کے اندر سیدھا کھڑا کر دیں تو بھی اس کی چوٹیاں پانی سے باہر نہیں نکلیں گی۔

ماریانا ٹرِنچ سمندر کی سطح سے تقریباً 11 ہزار میٹر (11 km) گہرا ہے۔ یہاں اتنا اندھیرا ہے کہ سورج کی روشنی کا ایک ذره بھی نہیں پہنچتا۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں ایسا دباؤ ہوتا ہے کہ اگر انسان پر ایک انچ بھی ظاہر ہو جائے تو اس کے جسم کی ہر ہڈی پل بھر میں پاؤڈر بن جائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسدانوں نے یہاں ایسے جاندار دیکھے ہیں جو زمین پر کہیں نظر نہیں آتے۔ کچھ مخلوقات کے جسم شفاف ہیں، کچھ چاند کی طرح چمکتے ہیں، اور کچھ کے دانت اتنے بڑے ہیں کہ دیکھ کر انسان کانپ جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گہرائی میں ایسی آوازیں سنی گئی ہیں جنہیں آج تک کوئی سمجھ نہیں سکا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ آوازیں سمندر کے دیو ہیکل جانوروں کی ہیں جو ابھی تک دنیا کے سامنے نہیں آئے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ انسان نے چاند پر قدم رکھ دیا، خلا میں گھر بنا لیا، مگر اس سمندر کی 95% دنیا آج بھی انسان کے لیے راز ہے۔ ماریانا ٹرِنچ کے بارے میں ہر تحقیق نئی حیرت اور خوف لے کر آتی ہے۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں سادہ مچھلیاں بھی خون خوار شکلوں کی لگتی ہیں اور یہاں کی خاموشی ایسی ہے کہ اگر دل کی دھڑکن بھی ہو تو آواز گونج جائے۔

اگر آپ کبھی سوچیں کہ دنیا کی سب سے خطرناک جگہ کون سی ہے، تو یاد رکھیں —
یہ زمین کے اوپر نہیں… بلکہ ہزاروں میٹر نیچے سمندر کے اندر ہے۔
جسے دیکھنے کے لیے آج تک چند انسان ہی جا سکے ہیں — اور واپس آنے والے ہمیشہ خاموش ہو جاتے ہیں…!

02/11/2025
02/11/2025
‏میچورٹی کا ایک لیول یہ ہوتا ہے کہ آپ وضاحت دینا چھوڑ دیتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں، بحث نہیں کرتے اگر کوئی آپکو برا بھل...
02/11/2025

‏میچورٹی کا ایک لیول یہ ہوتا ہے کہ آپ وضاحت دینا چھوڑ دیتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں، بحث نہیں کرتے اگر کوئی آپکو برا بھلا بھی کہہ دے تو یہ کہہ کر مسکرا کر آگے بڑھ جاتےہیں کہ " Yes I'm....
اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ سچ میں ویسے ہی ہوتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ وہ بات آپکے لیے اہمیت ہی نہیں رکھتی۔

یاد رکھیں۔۔
گاڑی کے پیچھے کچھ فاصلے تک ہی کتا بھونکتا اور دوڑتا رہتا ہے،
نہ ہی کتا آپ سے گاڑی چھیننا چاہتا ہے
نہ گاڑی میں بیٹھنا چاہتا ہے
اور نہ ہی اسے گاڑی چلانی آتی ہے

ایسے ہی زندگی کے سفر میں کچھ اسی عادت کے لوگ بنا کسی مقصد کے آپ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔
اس لئے جب آپ اپنی منزل پر رواں دواں ہوں اور لوگ آپ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کریں تو ان سے الجھنے کے بجائے اپنی منزل کی طرف متوجہ رہیں..

یاد رکھیں،
آپ کو تلخ نہیں ہونا،
آپ کو بدلہ لینے والا نہیں بننا۔
آپ کو چالیں چلنے والا،
جال بچھانے والا بھی نہیں بننا۔
آپ کو ایسا بھی نہیں ہونا کہ آپ شاطر کہلائیں۔
اور ایسا بھی نہیں کرنا کہ آپ گڑھے کھودیں۔

آپ کو لگے زخم ہیں، دل پر ہیں اور روح پر بھی ہیں،
لیکن ان کے لیے مرہم بدلہ لے کر تیار نہ کریں۔
مرہم آسمانی ہی اچھے ہوتے ہیں۔
مرہم رحمانی ہی شفاء دیتے ہیں۔
چھوڑ دیں جو ہوا، جانے دیں جس نے جو کیا۔
اپنے پیچھے دروازے بند کر کے آگے بڑھ جائیں۔
زخم دینے والوں، تکلیف پہنچانے والوں،
روح کو روند دینے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنا حال ٹھیک کریں۔ کیونکہ آپ کو وہ نہیں بننا جو حالات آپ کو بنا رہے ہیں۔ آپ کو وہ بننا ہے جو اعمال بناتے ہیں۔

"رب کا بندہ بننے کی کوشش کریں"
بندہِ مومن۔۔۔
یعنی ایک بہترین انسان
منقول

آج کل بہت سے نئے ٹیچرز یہ سمجھتے ہیں کہ پڑھانے کا مطلب صرف کلاس میں جانا، لیسن لینا اور سیلری لینا ہے۔ لیکن ایک اچھا ٹیچ...
31/10/2025

آج کل بہت سے نئے ٹیچرز یہ سمجھتے ہیں کہ پڑھانے کا مطلب صرف کلاس میں جانا، لیسن لینا اور سیلری لینا ہے۔ لیکن ایک اچھا ٹیچر جانتا ہے کہ تعلیم صرف کتابی علم دینے کا نام نہیں بلکہ تربیت، کردار سازی (Character Building) اور ڈسپلن (Discipline) سکھانے کا عمل ہے۔
ٹیچر کی چند بنیادی ذمہ داریاں جو ہر teacher کو یاد رکھنی چاہی:
۱. طلبہ کی تربیت:
ہر لیسن کے آغاز میں پانچ سے دس منٹ طلبہ کی اخلاقی تربیت، آدابِ گفتگو اور اچھے رویے پر ضرور لگائیں۔ یہی وقت ٹیچر اور طلبہ کے درمیان مضبوط تعلق بناتا ہے۔
س (Attendance) کی ذمہ داری:
روزانہ حاضری لینا، غیر حاضری کا ریکارڈ رکھنا اور بار بار غیر حاضر ہونے والے طلبہ پر نظر رکھنا ٹیچر کی ذمہ داری ہے۔ اس سے بچوں میں نظم و ضبط اور تسلسل پیدا ہوتا ہے۔
۳. ڈسپلن اور نظم و ضبط:
کلاس اور اسکول میں ڈسپلن (Discipline) قائم رکھنا صرف سزا دینے سے نہیں بلکہ مثبت انداز میں رولز بنانا اور بچوں کو ان پر عمل کا عادی بنانا ہے۔
جیسے: لائن میں چلنا، شور نہ کرنا، ایک دوسرے کی مدد کرنا — یہ سب ٹیچر کی تربیت کا حصہ ہیں۔
۴. صفائی اور ترتیب (Cleanliness & Neatness):
کلاس کی صفائی، طلبہ کے یونیفارم (Uniform)، بستوں اور نوٹ بکس (Notebooks) کی صفائی کا خیال رکھنا بھی ایک ٹیچر کی روزمرہ ڈیوٹی ہے۔
۵. اسمبلی کی تیاری:
ہر بچے کو سال میں کم از کم ایک بار اسمبلی (Assembly) میں اسٹیج پر بولنے کا موقع دیں — چاہے تلاوت (Tilawat) ہو، نعت (Naat)، تقریر یا کردار ادا کرنا۔ اس سے ان میں خود اعتمادی (Confidence) پیدا ہوتی ہے۔
۶. نوٹ بکس کی چیکنگ (Notebooks Checking):
بچوں کو سکھائیں کہ ان کی نوٹ بک صاف، مکمل اور منظم ہو۔ روزانہ کا کام روزانہ چیک کریں تاکہ طلبہ نظم و ترتیب سیکھیں۔
یہ وہ کام ہیں جو لیسن پلاننگ (Lesson Planning) اور ایگزی کیوشن (Ex*****on) کے ساتھ ساتھ ٹیچر کو کرنے چاہییں، کیونکہ اچھا ٹیچر وہ ہے جو صرف سبق نہیں بلکہ زندگی کے اصول بھی سکھائے۔

ٹیچنگ (Teaching) ایک ذمہ داری ہے، اور ٹیچر وہ چراغ ہے جو دوسروں کے راستے روشن کرتا ہے۔

Address

Shadman Colony Near Allied Bank
Ahmadpur East
06100

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allama Iqbal College Haider Campus APE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share