25/09/2025
۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ اور اس کے بعد اسرائیل کے قبضے نے فلسطین میں **اسلامی تحریکوں** کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ اس سے پہلے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) جیسی سیکولر اور قوم پرست تنظیمیں مزاحمت میں پیش پیش تھیں، لیکن ۱۹۶۷ء کی شکست اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کے بعد مذہبی اور اسلامی گروہوں نے زیادہ مقبولیت حاصل کرنا شروع کر دی۔
# # # اہم اسلامی تحریکیں اور ان کا کردار
# # # # حماس (حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ)
**حماس** فلسطین میں سب سے بڑی اور مؤثر اسلامی تحریک ہے۔ یہ تحریک **۱۹۸۷ء** میں پہلی انتفاضہ کے آغاز کے ساتھ ہی وجود میں آئی۔ اس کے بانی **شیخ احمد یاسین**، **عبدالعزیز الرنتیسی**، اور دیگر اخوان المسلمین کے اراکین تھے۔ حماس کا بنیادی مقصد فلسطین کی مکمل آزادی اور اسرائیلی قبضے کا خاتمہ کرنا ہے۔
* **فلسفہ:** حماس اسلامی اصولوں پر مبنی جدوجہد کو فلسطین کی آزادی کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔ یہ جدوجہد کو ایک **مقدس فریضہ** قرار دیتی ہے اور **جہاد** کو آزادی کا واحد راستہ سمجھتی ہے۔
* **عسکری و سیاسی شاخیں:** حماس کی ایک سیاسی شاخ ہے جو فلسطینی اتھارٹی کے انتخابات میں حصہ لیتی ہے، اور ایک عسکری شاخ **عزالدین القسام بریگیڈ** ہے جو مسلح مزاحمت کرتی ہے۔
* **سماجی خدمات:** حماس نے فلسطینی عوام کے درمیان اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر **سماجی اور فلاحی کام** بھی کیے ہیں۔ اس میں اسکول، اسپتال اور دیگر امدادی ادارے شامل ہیں۔
# # # # اسلامک جہاد فلسطین (Islamic Jihad)
**اسلامک جہاد فلسطین (PIJ)** ایک اور اہم اسلامی تحریک ہے جو ۱۹۸۱ء میں قائم ہوئی۔ اس کا مقصد بھی فلسطین کو آزاد کرانا ہے، اور اس کا نظریہ بھی مسلح مزاحمت پر مبنی ہے۔
* **نظریہ:** حماس کے مقابلے میں اسلامک جہاد زیادہ عسکری اور نظریاتی تحریک ہے۔ یہ فلسطینی مسئلے کو مکمل طور پر ایک مذہبی مسئلہ سمجھتی ہے اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی سمجھوتے کے خلاف ہے۔
* **ایران سے تعلقات:** اسلامک جہاد کو **ایران** سے مالی اور عسکری امداد حاصل ہوتی ہے۔
---
# # # اسلامی تحریکوں کے اثرات
اسرائیل کے حملوں کے بعد اسلامی تحریکوں کا ظہور فلسطینی مزاحمت کی نوعیت کو بدل گیا۔
* **عسکری مزاحمت میں اضافہ:** ان تحریکوں نے عسکری کارروائیوں کو ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جس میں خودکش حملے بھی شامل تھے، تاکہ اسرائیلی قبضے کے خلاف دباؤ بڑھایا جا سکے۔
* **سیاسی طاقت میں اضافہ:** ۲۰۰۶ء کے انتخابات میں حماس کی کامیابی نے اسے فلسطینی سیاست میں ایک اہم طاقت بنا دیا، اور اس کے بعد سے وہ غزہ کی پٹی پر حکومت کر رہی ہے۔
* **عرب دنیا پر اثر:** ان تحریکوں کی کارروائیوں نے عرب دنیا اور عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین کو ایک **اسلامی اور جہادی مسئلہ** کے طور پر پیش کیا۔ اس نے نہ صرف عرب حکومتوں بلکہ عام مسلمانوں میں بھی اس مسئلے کے بارے میں شعور اجاگر کیا۔