15/05/2026
*کیا صرف سرکاری سکول ہی تجربہ گاہ ہیں؟*
*پرائیویٹ سکول ایک بار پھر PECTAA نظام سے باہر!*
(تحریر: سر زوہیب)
آٹھویں جماعت کے سالانہ امتحان 2026-27 کے لیے رجسٹریشن کا شیڈول جاری
پنجاب ایجوکیشن، کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی (PECTAA) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں آٹھویں جماعت کے طلبہ کی رجسٹریشن Item Bank System (IBS) کے تحت کی جائے گی۔
رجسٹریشن کا آغاز 25 مئی 2026 سے ہوگا جبکہ آخری تاریخ 8 جولائی 2026 مقرر کی گئی ہے۔
*نوٹیفکیشن میں واضح طور پر صرف Public Schools یعنی سرکاری سکولوں کا ذکر کیا گیا ہے* اور CEOs/DEAs کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ تمام گورنمنٹ سکولوں کے طلبہ کی رجسٹریشن مکمل کروائیں۔ اس میں نجی سکولوں (Private Schools) کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا۔
طلبہ کی تاریخ پیدائش، تصاویر، سکول معلومات، سبجیکٹ کمبینیشن اور دیگر تفصیلات IBS سسٹم میں اپ لوڈ کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی تعلیمی نظام میں یکساں پالیسی نافذ کی جا رہی ہے یا پھر ایک بار پھر صرف سرکاری سکولوں کے بچوں کو ہی تجربات کی بھٹی میں ڈالا جا رہا ہے؟
جب اعلان کیا گیا تھا کہ 2026 تک پنجاب ایجوکیشن، کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی (PECTAA) کے امتحانات کا دائرہ کار تمام سکولوں یعنی گورنمنٹ اور پرائیویٹ دونوں تک بڑھایا جائے گا، تو پھر اس نوٹیفکیشن میں نجی سکولوں کا ذکر کیوں غائب ہے؟
اگر صرف سرکاری سکولوں کے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بچوں کو پنجاب ایجوکیشن، کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی (PECTAA) کے سخت امتحانی نظام سے گزارا جائے گا جبکہ پرائیویٹ سکول بدستور اس سے آزاد رہیں گے، تو پھر والدین آخر کیوں اپنے بچوں کو گورنمنٹ سکولوں میں رکھیں گے؟
ایک طرف سرکاری سکولوں پر نت نئے تجربات، سخت امتحانات، IBS سسٹم، مانیٹرنگ اور دباؤ…
اور دوسری طرف پرائیویٹ سکولوں کو مکمل آزادی؟
پھر حیران نہ ہوں اگر زیادہ سے زیادہ والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں منتقل کرنا شروع کر دیں۔
تعلیم میں مقابلہ برابر ہونا چاہیے۔
اگر امتحان کا ایک نظام ہے تو وہ سب کے لیے ہونا چاہیے، صرف سرکاری سکولوں کے بچوں کے لیے نہیں۔
ورنہ یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ:
"سرکاری سکولوں کو مشکل اور پرائیویٹ سکولوں کو سہولت… یہی شاید نئی تعلیمی پالیسی ہے!"