چشتیاں
ضلع بہاولنگر، صوبہ پنجاب کی ایک تحصیل ہے۔ چشتیاں شہر کی بنیاد صوفی بزرگ بابا فریدالدین گنج شکر کے پوتے تاج سرور چشتی نے رکھی۔ روحانی پیشوا خواجہ نور محمد مہاروی کا مزار بھی تاج سرور چشتی کے مزار سے 700 میٹر کے فاصلے پر مغرپ کی جانب ھے ۔روحانی پیشوا تاج سرور چشتی ، خواجہ نور محمد مہاروی کے مزار جہاں ھیں ۔ اس کو پرانی چشتیاں کے نام سے پکارا جاتا ھے ۔پرانی چشتیاں سے ایک کلومیٹردور ( درمیان می
ں قبرستان) چشتیاں کا شہر بعد میں آباد ھوا ۔ جس کی آبادی ایک لاکھ (100000) سے تجاوز کر چکی ھے ۔چشتیاں شہر کے شمال میں 3 کلومیٹر کے فاصلے پر آدم شوگر ملزھے ۔ (جب بنی تھی اسوقت کی ایشیا کی تیسری بڑی شوگر ملز) ۔
قریبی قصبات
ڈاھرانوالا ضلع بہاولنگر اور تحصیل چشتیاں کا خوبصورت شھر ھے - یہ چشتیاں سے 25 کلومیٹر سے دور چولستان میں واقع ہے۔ باقی ضلع کی نسبت ڈاھرانوالا میں شرح خواندگی کا تناسب ذیادہ ہے، ڈاھرانوالا چولستان کا قدیم قصبہ ہے۔ اس کی وجہ شھرت زراعت اور اچھا نہری نظام ہے، ڈاھرانوالا ایک زرعی علاقہ ہے۔
قریبی چک
چشتیاں شہر کے جنوب میں 14 گجیانی کا چک ھے جو اب چشتیاں کا حصہ ھی بن چکا ھے ۔ شہر کے مشرق میں 13 گجیانی کا چک ھے ۔ شہر کے شمال میں نور پورہ بستی ھے ۔ اس کے بعد سٹلائیٹ ٹاون ھے
چک نمبر174مراد ـ چک نمبرمراد169 ـ چک نمبرمراد167 - چک نمبر 206 مراد - چک 131مراد