20/08/2024
بچے کھانا کیوں نہیں کھاتے؟
افشاں نوید
چھوٹے بچے آپ کے سامنے باتیں کر رہے ہوں ان کو غور سے سنا کیجئے۔
ان کی معصوم باتوں میں زندگی کی حرارت محسوس کرکے آپ مستقبل کی تصویر کشی کر سکتے ہیں۔۔
میرے کمرے میں چار اور چھ برس کی نواسیاں اور تین برس کی پوتی کھیل رہی تھیں ۔۔
بڑی نے چھوٹی سے کہا :"تم سو جاؤ پھر میں تمہیں جگاؤں گی۔"وہ سونے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔۔
ذرا دیر میں اس نے چھوٹی بہن کو جگاتے ہوئے کہا:" اٹھو اسکول جانے کا وقت ہو رہا ہے۔۔ بس فورا اٹھ جاؤ اور جلدی بتاؤ ناشتے میں کیا کھانا ہے؟
سینڈوچ بنا دوں؟
کباب پراٹھا کھاؤگی؟
جیم بریڈ لینا ہے یا آملیٹ بنا دوں؟
لنچ میں نگٹ لے کر جانا ہے, نوڈلز لے کر جاؤ گی؟
برگر بنا دوں؟
وہ اپنی معصوم سی ماما سے بولی:"ماما میں نے کچھ نہیں کھانا"۔
تو جواب آیا:" تم روزانہ مجھے اتنا تنگ کرتی ہو۔ نہ ناشتہ کرتی ہو نہ یہ بتاتی ہو کہ لنچ میں کیا لے کر جانا ہے؟ جلدی بتاؤ دو کیا کھاؤ گی۔تمہیں ناشتہ کر کے جانا ہے آج"۔
یہ کھیل ایک حقیقت کی عکاسی کر رہا تھا۔
اس وقت کی ماں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچے کھاتے نہیں ہیں۔۔
گھر ہو یا تقریبات۔۔ مائیں بچوں کے پیچھے پیچھے پھرتی ہیں, بچے بے نیازی دکھاتے ہیں۔
بیشتر مائیں اب بچوں کو موبائل دیکھ کر کھلاتی ہیں ۔۔۔ بچے کی نظر کھانے کے بجائے اسکرین پر ہو گی تو اسے کھانے سے رغبت کیوں کر پیدا ہوگی۔۔۔۔
شاید یہ بھی ماؤں کی توجہ حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے بچے کھانا کھاتے تھے اج کے بچے کیوں نہیں کھاتے؟
ایک نسل پہلے کی ساری اقدار و روایات کیسے بدل گئیں۔۔۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اج بچوں کے پاس چوائس اور ماؤں کے پاس وقت زیادہ ہے؟
دیکھیں بھوک ایک فطری جذبہ ہے۔۔۔۔۔
بچے کے جسم میں درد ہوگا تو وہ رو کر آپ کو بتائے گا بالکل اسی طرح بھوک بھی ستاتی ہے۔۔۔
بچہ بھوکا ہوگا تو وہ خود مانگ کر کھائے گا۔۔
بھوک ایک ناقابل برداشت کیفیت کا نام ہے۔۔۔۔
جب جانور سارا دن رزق تلاش کرتے ہیں تو انسان کا بچہ جس کو اتنی وافر نعمتیں میسر ہے وہ کھانا کیوں نہیں کھائے گا؟
چھوٹے بچے کے لیے کھانے سے زیادہ اہم ماں کی توجہ ہوتی ہے۔
جب وہ دیکھتا ہے کہ نا کھا کرضد کرکے وہ ماں کی بھرپور توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ تو وہ بار بار توجہ کی طلب میں یہ ٹیکنیک آزماتا ہے۔۔۔
آپ بچے کی خوشامد نہ کریں۔۔۔
کھانا رکھ کے چھوڑ دیں ۔۔
آپ دیکھیں بچہ کھانا کیسے نہیں کھائے گا،
اصل میں وہ اپ کو تنگ کر کے منوانے کا عادی ہو گیا ہے۔۔
مائیں ہاتھ باندھے پیچھے پھر رہی ہیں,خوشامدیں کر رہی ہیں, لالچ دے رہی ہیں کہ یہ کھا لو گے تو موبائل دوں گی۔۔۔ بچے کو روٹھنا اور منانا بہت اچھا لگتا ہے۔۔
پہلے دیگر خانگی امور میں بچوں کو دینے کے لیے اتنا وقت ہی نہیں ہوتا تھا۔۔نہ اتنے وسائل اور چوائس تھے۔
ہماری مائیں تو کھانا پکا کے رکھ دیتی تھی کیونکہ۔۔۔
ان کو کپڑے سلائی کرنا ہوتے تھے۔۔۔
گھر بھر کے میلے کپڑے بن واشنگ مشین ہاتھ سے دھونا ہوتے تھے۔۔
سل پہ مصالحہ پیسنا ہوتا تھا۔۔
سردی میں سویٹر بننا ہوتا تھا۔۔
تب آٹھ اور دس افراد کے خاندان کے لیے روٹی گھر میں پکتی تھی۔۔۔
دوسرے یہ کہ گھر میں جنک فوڈز بھی دستیاب نہیں ہوتے تھے۔۔
بھوک لگنے پر اگر۔۔۔ بچے نے چپس کا پیکٹ اٹھا لیا ہے, چاکلیٹ کھا لی ہے تو بچے کی بھوک کی شدت ایک ٹافی,
ایک چاکلیٹ بسکٹ, لولی پاپ سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔۔۔
بھوک کے وقت ہمارے معدے میں ایک تیزاب بنتا ہے وہ ایک چنا کھا کے بھی ختم ہو جاتا ہے اور دو روٹیاں اور ایک پیزا کھا کے بھی۔۔۔
جب بچے کو بھوک کی حالت میں دسیوں چیزیں دستیاب ہیں تو کھانے کی طرف کیوں آئے گا۔۔۔اب تو اسکرین بھوک سے ہی نہیں ہر حاضروموجود سے بے گانہ کردیتا ہے۔۔ ۔۔۔ دسترخوان پر اس کے لیے کوئی کشش نہیں ہے ۔۔
بچے کو کھانے کے اوقات سے پہلے بھوکا رکھیے۔رونے پر بھی کچھ نہ دیں بچہ لازمی کھانے کی طرف ائے گا۔۔
کھانے کی تو خوشبو میں خود اتنی تاثیر ہوتی ہے جو کھانے کی طلب بڑھا دیتی ہے۔۔۔ ۔۔
کیوں قدم فوڈ اسٹریٹس پر رک جاتے ہیں۔
کوئلوں کی مہک اور اشتہا انگیز خوشبوئیں قدم روک لیتی ہیں۔ گھر میں کھانا پکا رکھا ہو لیکن صاحب خانہ پھر بھی بازار سے کباب, رول, تکے,بروسٹ لے اتے ہیں ۔۔
خوشبو مجبور کرتی ہے۔۔
آپ کے بچے کو کھانے کی خوشبو کیوں مجبور نہیں کرتی اس لیے کہ اس کے پاس بھوک کی شدت نہیں ہے۔۔۔
ماں کا کام بچے کی خوشامد کرنا, اس کو ہر وقت راضی رکھنا,اس کی بھوک کی فکر میں گھلتے رہنا, بہت سارے چوائس دینا نہیں ہے۔۔
اپنی بھوک کی فکر ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے۔۔ بھوک لگنے پر ایک نومولود بھی چیخ چیخ کر گھر سر پر اٹھا لیتا ہے۔۔۔
آپ جو کچھ پکاتی ہیں وہ بہترین اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہے۔بچوں کو پیزا اور میکڈونلڈ کے چوائس تو دیے گئے ہیں۔۔اس لیے گھر کے کھانے میں وہ کشش محسوس نہیں کرتے۔۔
بچے کو کھانا کھلانا درد ناک عالمی ایشو ہے۔۔۔
خود کو پریشانی سے نکالیے۔۔
بچے پالنا ایک فطری امر ہے۔۔
اللہ رب کریم نے جانوروں کو بھی بچے پالنا سکھایا ہے۔۔
آپ سے پہلے اربوں کھربوں مائیں بچے پال چکی ہیں۔۔۔
اللہ نے آپ کو بچہ دے کر کسی مصیبت کا شکار نہیں کیا ہے ۔۔
اپ کا بچہ بالکل عام بچوں جیسی حسیات لے کے پیدا ہوا ہے۔ اپنے بچے کو خاص بنانے کے چکر میں اس کو اتنا پیمپر نہ کریں کہ وہ آپ کے لیے درد سر بن جائے۔۔
بچوں کی تربیت میں کھانے کے علاوہ بھی بے شمار لوازم ہیں لیکن کھانا کھلانا ہی ساری توجہ حاصل کر لیتا ہے۔
اولاد امتحانی پرچہ ۔۔۔اور بھی بہت سے سوال درج تھے اس پرچے پر۔۔۔۔
افشاں نوید
١٠ صفر المظفر١٤٤٦ ھ
16 اگست 2024