Jamia Razvia Ahsan ul Qur'an Dina جامعہ رضویہ احسن القران دینہ

Jamia Razvia Ahsan ul Qur'an Dina جامعہ رضویہ احسن القران دینہ اس صفحہ سے تعلیمات قران و سنت کی اشاعت مقصود ہے

آج ان شاءاللہ تعالیٰ
30/08/2026

آج ان شاءاللہ تعالیٰ

27/08/2026

جامع مسجد کھوکھا شریف
جمعۃ المبارک

22/08/2026

12 اگست 2026ء بروز بدھ
بمقام : جامعہ رضویہ احسن القرآن دینہ ( حرمِ امام جزری )

19/08/2026

12 اگست 2026ء بروز بدھ
بمقام : جامعہ رضویہ احسن القرآن دینہ ( حرمِ امام جزری )

🌿 ماہانہ تربیتی اجتماع — یادگار لمحات 🌿الحمدللہ! جامعہ رضویہ احسن القرآن، دینہ (حرمِ امام جزری رحمۃ اللہ علیہ) میں ماہان...
17/08/2026

🌿 ماہانہ تربیتی اجتماع — یادگار لمحات 🌿

الحمدللہ! جامعہ رضویہ احسن القرآن، دینہ (حرمِ امام جزری رحمۃ اللہ علیہ) میں ماہانہ تربیتی اجتماع بفضلِ الٰہی نہایت روحانی و تربیتی ماحول میں منعقد ہوا۔

✨ اجتماع میں اصلاحِ نفس، دینی تربیت، ذکر و نصیحت اور اسلامی کردار سازی کے حوالے سے قیمتی گفتگو ہوئی۔

📸 اجتماع کی چند خوبصورت اور یادگار جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ اس بابرکت اجتماع کو قبول فرمائے، تمام شرکائے اجتماع کو دین پر استقامت عطا فرمائے اور ہمیں علمِ نافع و عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲

📍 جامعہ رضویہ احسن القرآن، دینہ
🕌 حرمِ امام جزری رحمۃ اللہ علیہ

15/08/2026

ماہانہ تربیتی اجتماع
گفتگو : امام المجوّدین قاری محمد یوسف سیالوی حفظہ اللہ تعالیٰ
12 اگست 2026ء بروز بدھ
بمقام : جامعہ رضویہ احسن القرآن دینہ ( حرمِ امام جزری )

12/08/2026
03/08/2026

🔹️مختصر القدوری، کتاب الرہن کی ایک عبارت کی توضیح🔹️

وان ہلک الاصل وبقی النماء افتکہ الراہن بحصتہ،یقسم الدین علی قیمۃ الرہن یوم القبض وعلی قیمۃ النماء یوم الفکاک الخ

مختصر القدوری میں امام قدوری رحمہ اللہ نے کہیں جزئیات کو ایسے انداز میں جمع کیا ہے کہ ہر جزئیہ سے کوئی نہ کوئی قاعدہ مفہوم ہوتا ہے اور کہیں قواعدصراحتاً بھی بیان کر دیے ہیں۔ اس عبارت میں رہن کے متعلق ایک قاعدہ بیان ہوا ہے، اسے سمجھنے سے پہلے چند اصطلاحات کا ذہن میں ہونا ضروری ہے:
راہن: رہن رکھنے والا( یعنی قرض لینے والا)
مرتہن : جس کے پاس رہن رکھا جائے۔(یعنی قرض دینے والا)
افتکاک رہن: قرض واپس کر کے مرہونہ چیز کو واپس چھڑالینا۔

بطور تمہید یہ ذہن میں رہے کہ بعض اوقات جاندار چیزیں بھی رہن رکھ دی جاتی ہیں جیسے کوئی شخص اپنی بکری، گائے یا کوئی اور جانور رہن رکھ دے،ایسی صورت میں ایسا ممکن ہے کہ رہن رکھے جانے کے بعد وہ جانور بچہ دے دے یا اس کے جسم پہ موجود اون یا بالوں اتنے بڑھ جائیں جن کی وجہ سے ان کی قیمت میں اضافہ ہوجائے۔یہ مسئلہ اسی صورت حال سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح یہ تمہید بھی ذہن نشین رہے کہ مرتہن مرہونہ چیز پہ قبضہ کر لے تو وہ اس کا ضامن ہوتا ہے، البتہ اگر مرہونہ چیز بچہ دے دے تو اس کا ضامن وہ تبھی ہوگا جب فکاک تک وہ بچہ زندہ سلامت ہو۔

قاعدہ: یہاں جو قاعدہ بیان ہوا وہ یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنا جانور رہن رکھ کر قرضہ لیا ،جانور نے بچہ دے دیا ،اب جانور مر گیا اور بچہ باقی ہےتو آپ کی قرض لی ہوئی رقم کو جانور اور بچے دونوں کی مجموعی قیمت پر تقسیم کریں گے۔آسان الفاظ میں اب یوں سمجھا جائے گا کہ آپ نے وہ قرضہ جانور اور اس کے بچے دونوں کو رہن رکھ کر لیا تھا ۔اب قرض کی جتنی رقم اصل جانور کے بدلے میں بنتی ہےچونکہ مرہونہ جانور مرتہن کی ضمان میں تھا اس لیے قرض کی اتنی رقم آپ کو معاف ہوجائے گی ،جتنی باقی بچے گی وہ ادا کر کے آپ جانور کا بچہ رہن سے چھڑا لیں گے۔

صورتِ مسئلہ:
ایک آدمی نے بکری رہن رکھ کر دس درہم قرض لیا، بکری کی قیمت بھی دس درہم تھی ،بکری نے بچہ دیا پھربکری مر گئی۔اب ہم دیکھیں گے کہ بچے کی موجودہ قیمت کیا ہے ۔فرض کریں بچے کی موجودہ قیمت دس درہم ہےتو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب ہم نے قرض (دس درہم) کو بکری اور بچے دونوں کی قیمت پر تقسیم کرنا ہے (یعنی 20 تقسیم 10 ) اس کا مطلب یہ ہوا کہ آدھا قرض بکری کے بدلے تھا، آدھا بچے کے عوض۔ بکری کے مرنے سے اس کے مساوی بننے والا قرض یعنی پانچ درہم ساقط ہوجائیں گے اور پانچ درہم ادا کر کے وہ شخص بکری کا بچہ رہن سے چھڑا لے گا۔

اگر بچے کی موجودہ قیمت 20 درہم ہوچکی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اب بکری اور بچے کی کل رقم 30 درہم بن گئی، قرض 10 درہم ہے۔ اب قرض کو دونوں پر تقسیم کریں تو بکری کے مساوی ایک تہائی بنتا ہے اور بچے کے مساوی دو تہائی۔ اب قرض کاایک تہائی معاف ہو جائے گا ،دو تہائی دے کر بکری کا بچہ چھڑایا جاسکے گا۔
نوٹ: بکری کی وہ قیمت معتبر ہوگی جو رہن رکھنے کے دن تھی جبکہ بچے کی وہ قیمت معتبر ہوگی جو فکاک رہن کے دن تھی۔

محمد سہیل احمد صدیقی ،خادم العلوم الاسلامیۃ
3 اگست 2026ءسوموار

صرف متن حل کیا جائے یا شروح اور حواشی کی ابحاث بھی شامل درس ہوں ؟ محمد سہیل احمد صدیقی خادم العلوم الاسلامية جامعہ رضویہ...
26/07/2026

صرف متن حل کیا جائے یا شروح اور حواشی کی ابحاث بھی شامل درس ہوں ؟

محمد سہیل احمد صدیقی
خادم العلوم الاسلامية
جامعہ رضویہ احسن القرآن دینہ

آج تلویح علی التوضيح کے اگلے سبق کی تیاری کر رہا تھا کہ معاً ذہن میں اس سوال نے جنبش کی جو اس مختصر تحریر کا موضوع ہے۔

اپنے سولہ سالہ تدریسی تجربہ کی روشنی میں اس کا مختصر جواب پیشِ خدمت ہے۔ مدرسینِ کرام اس پہ اپنی قیمتی آراء عنایت فرماکر اس تحریر کو مزید کار آمد بناسکتے ہیں۔

ہمارے ہاں مدرسین میں دو طرح کے منہج موجود ہیں :

ایک وہ طبقہ ہے جو صرف اور صرف متن پر پوری توجہ مرکوز رکھنے کا قائل ہے۔ ان کا خیال ہے کہ طلبہ کو متن سے باہر کے مباحث میں الجھایا جائے تو ان کے لیے نفسِ مسئلہ سمجھنا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ اس لیے متن فہمی پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے۔ متن سے باہر انتہائی ضروری بات ہو تو صرف اسے ہی شاملِ درس کرنا چاہیے۔اس طبقہ کا کہنا ہے کہ شروح اور حواشی کے مسائل پہ طویل گفتگو طالب علم کے ذہنی انتشار کا سبب بنتی ہے اور وہ سبق میں بوریت کا شکار ہو جاتا ہے۔

دوسرا اسلوب یہ ہے جس میں شروح اور حواشی کے مندرجات کو پورے اہتمام سے جس قدر ہوسکے شاملِ درس کیا جاتا ہے۔ متن کی چاہے چند سطریں ہی پڑھی جائیں مگر اس کی تقریر اس طرح ہو کہ شروح اور حواشی سے اس کے متعلقہ سوالات ، جوابات اور توضیحات کو بھی بیان کیا جائے۔ ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ شروح اور حواشی گرانقدر نکات اور بیش بہا فوائد پر مشتمل ہوتے ہیں اس لیے ان کو کیسے ترک کیا جاسکتا ہے۔

راقم کے خیال میں درجِ ذیل نکات کو پیش نظر رکھ کر اپنا منھج بنایا جائے تو مفید ہو سکتا ہے۔

کسی بھی علم یا فن کی ابتدائی کتاب میں خارجی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا جائے۔ اس لیے کہ وہاں مقصود اس فن یا علم کے مبادی ، اساسی تصورات اور مسائل کی بنیادیں کی تفہیم اور ضبط ہے ، اس وقت تفصیلات کا بیان مضر ہو سکتا ہے۔

مثلا صرف میں سہ اقسام ، ہفت اقسام ، شش اقسام ، دوازدہ اقسام وغیرہ کے تصورات اور ان کی جامع تعریفیں ، مثالیں اور مشقیں کرواناابتدائی ایک دو کتابوں میں مقصود ہوگا۔ یہ مقام تفصیل نہیں مقام توضیح و ضبط ہے۔

شروح میں سے کچھ وہ ہیں کہ جن میں اختصار و جامعیت اس درجے کا ہے کہ وہ گویا متن ہی کی ایک توضیحی شکل ہیں، جیسے نور الایضاح کے لیے مراقی الفلاح ۔ ایسی شروح اور اس قسم کے حواشی تو بالاستیعاب بھی بیان کیے جائیں یا ان کا اکثر حصہ بیان کر دیا جائے تو اس سے نفسِ مسئلہ کے فہم پہ کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ مفید ثابت ہوتا ہے۔

۔ رہ گئے طویل حواشی اور مفصل شروحات ، ان میں کیا اور کتنا بیان کرنا ہے یہ استاذ کی علمی بصیرت ، علوم میں پختگی اور ذہنی بلوغت پر منحصر ہے۔ چند نکات اس حوالے سے پیش خدمت ہیں :

•طلباء کی ذہنی سطح ملحوظ خاطر رہنی چاہیے
• تطویل لا طائل کا ارتکاب نہ ہو
• جو علم یا فن پڑھایا جا رہا ہے یہ فرق کیا جائے کہ حواشی یا شروح کے مباحث میں کس مبحث کا تعلق اس فن یا علم سے ہے اور کون سے فوائد و نکات دیگر علوم سے متعلق ہیں اور محشی یا شارح نے اپنے میلانِ طبع کی بنیاد پر ذکر دیے ہیں۔ اس سے بھی استاذ کو انتخاب میں مدد ملتی ہے۔ مدرسین کو حاطب اللیل نہیں بننا چاہیے۔

• جس کتاب کی کوئی شرح آگے چل کر طالب علم پڑھنے والا ہے اس متن کی تدریس کے دوران اگلی کتاب کے مسائل کو پڑھانا بھی کوئی زیادہ کار آمد چیز نہیں۔ مثلا کافیہ میں شرح جامی اور اس کی شروحات کی بحثیں، یا مختصر القدوری میں ہدایہ کے مباحث کو بیان کرنا مناسب نہیں۔

•نفس متن کو سمجھنے کے بعد شروح و حواشی سے اہم مسائل مناسب مقدار اور مناسب انداز میں ضرور بیان ہونے چاہییں تاکہ طالب علم ذہنی طور پر آئندہ مسائل کے حل کے لیے تیار ہوسکے اور اس کے ادراک کا سفر آگے بڑھتا رہے۔

یاد رہے کہ درس نظامی کی بعض کتب کا ایک خاص فائدہ تنشيط الاذھان اور تمرین العقول بھی ہے۔ فکری قوتوں کی نشو ونما اور ادراک کی افزائش کے بغیر متن خوانی محض لکیر پیٹنے کے مترادف ہے۔

واللہ الهادي.

26 جولائی 2026ء

Address

Thekrian, Dina
District Jhelum
49400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Razvia Ahsan ul Qur'an Dina جامعہ رضویہ احسن القران دینہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share