10/12/2022
دیامر میں ایک سال ہوگیا غریب ایک عجیب چکی میں پھس رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں طیب قریشی
چلاس صدر جمعیت طلباء اسلام دیامر طیب قریشی نے اپنی ایک بیان میں کہا کہ دیامر میں جو سیسٹم چل رہا ہے اس میں صرف اور صرف غریب پھیس رہے ہیں پچھلے ایک سال ہوگیا جی ار سی کے نام سے غریبوں کے چولے لٹک رہے ہیں جو سیاسی اور بااثر لوگ بیک ڈور سے اپنی اپنی چیکز لے چکے ہیں اور غریبوں کا کوئی پوچھنے والا نھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈی سی فیض اور جی ار سی کے ممبر کے درمیان قسم قسم کے چپکلشس کی وجہ سے ایک سال میں کوئی جی ار سی کی میٹنگز نھی رکھ سکے اگر کبھی کوئی میٹنگ کا تاریخ فیکس ہوتا تو کبھی ایک ممبر نھی ہوتا تو کبھی دوسرا نھی ہوتا ایک دوسرں کو کوئی ماننے کیلے تیار نھی اس کی زدہ میں غریب پھیس رہے ہیں
بہت سارے افواں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈی سی دیامر ممبر کو ڈیکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جی ار سی ممبر ڈی سی کی ماننے کو تیار نھی اس وجہ سے نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور متاثرین درپدر کی ٹھکرے کھارہے ہیں اور روز روز دفتروں کے چکر لگانے پہ مجبور ہیں
طیب قریشی نے کہا کہ ڈی سی دیامر اور جی ار سی ممبر کو چاہئے کہ جی ار سی کی کیسس کو فارغ کر کے جلد از جلد مسنگ چولہ لسٹ کو آویزاں کر دینی چاہئے۔تاکہ غریب عوام کو بروقت ان کا حق ملے ۔۔۔
طیب قریشی نے مذید کہا کہ ایک اندر پھنسے ہوئے ری کال چولے کا مسلہ حل نہیں کروا سکے ہیں دوسری طرف یہ خبر بھی زیر گردش کررہی ہے کہ مسنگ چولے کے لسٹوں میں خرد برد کرکے غریبوں کو دیوار پر لگاکر چوک چوراہوں میں تقریریں کرنے والوں کا منہ بن کرنے کیلئے ان کا چولہا میں ان کا نام ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے لہذا اس پر بھی نوٹس لینا ضروری ہے غریب عوام کو ساتھ لا کر اندر اپنے لئے انفرادی چولہا مانگنے والوں کا اگر چولہا آیا تو پھر ڈیم بنے گئی نہ سی پیک اس لئے چیف سیکرٹری اور حساس ادارے پہلے سے ہی کڑی نظر رکھیں شکریہ