Gilgit Baltistan Educational Society.

Gilgit Baltistan Educational Society. Promote peace ,, education ,,

گلگت: سیاسی مخالفین کو ایک اور بڑا جھٹکا جنم بھومی مناور میں  مسن فیملی اور بادشاہ فیملی نے ولی الرحمن حامی کے حق میں بھ...
16/05/2026

گلگت: سیاسی مخالفین کو ایک اور بڑا جھٹکا جنم بھومی مناور میں مسن فیملی اور بادشاہ فیملی نے ولی الرحمن حامی کے حق میں بھرپور شمولیت کھلم کھلا حمایت کا اعلان کر دیا دونوں خاندانوں کے بڑوں نے آج باقاعدہ طور پر آزاد امیدوار حلقہ نمبر 2 ولی الرحمن حامی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کے قافلے میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس موقع پر نوجوانوں کا کہنا تھا کہ حلقے کے عوام اب روایتی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور ایک ایماندار، باصلاحیت اور عوامی نمائندے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ بڑی شمولیت حلقے کی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہوگی، جبکہ ولی الرحمن حامی کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت نے مخالفین کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ نوجوانوں، بزرگوں اور مختلف مکاتبِ فکر کی جانب سے مسلسل حمایت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حلقہ نمبر 2 میں تبدیلی کی نئی لہر جنم لے چکی ہے۔
اس موقع پر آزاد امیدوار حلقہ نمبر 2 ولی الرحمن حامی نے مناور یوتھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے دن رات محنت کریں گے اور حلقے کے مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے.Gilgit Baltistan Legislative Assembly.

گلگت بلتستان کے نوجوان: اپنے ہی گھروں میں اجنبیتحریرسمیر عباس بوگر‎‎گلگت بلتستان کے پہاڑ ہمیشہ سے مضبوطی، صبر اور خوبصور...
13/05/2026

گلگت بلتستان کے نوجوان: اپنے ہی گھروں میں اجنبی
تحریر
سمیر عباس بوگر

‎گلگت بلتستان کے پہاڑ ہمیشہ سے مضبوطی، صبر اور خوبصورتی کی علامت رہے ہیں۔ یہاں کی وادیاں، دریا، برف پوش چوٹیاں اور سادہ لوگ اس خطے کو دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں شمار کرواتے ہیں۔ مگر ان حسین مناظر کے پیچھے ایک ایسی خاموش اذیت چھپی ہوئی ہے جسے شاید ہی کبھی سنجیدگی سے سنا گیا ہو۔ یہ اذیت اس نوجوان نسل کی ہے جو اپنے خوابوں کی تلاش میں آہستہ آہستہ اپنے ہی گھروں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

‎عام انتخابات قریب آتے ہی گلگت بلتستان کی فضائیں سیاسی نعروں سے بھر جاتی ہیں۔ ہر طرف ترقی، خوشحالی اور تبدیلی کے دعوے سنائی دیتے ہیں۔ امیدوار عوام کے درمیان جا کر نوجوانوں کو قوم کا مستقبل قرار دیتے ہیں، ان کے جذبوں کی تعریف کرتے ہیں اور ان کے بہتر کل کے وعدے کرتے ہیں۔ مگر ان تمام تقریروں اور وعدوں کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جسے نہ سیاست دان کھل کر تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ریاست سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے؛ اور وہ حقیقت نوجوانوں کی مسلسل ہجرت ہے۔

‎گلگت بلتستان کا نوجوان آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ اگر کوئی طالب علم ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھے تو اسے اپنے خاندان، اپنی زمین اور اپنی پہچان سے دور کسی دوسرے شہر جانا پڑتا ہے کیونکہ پورے خطے میں ایک مکمل اور معیاری میڈیکل یونیورسٹی موجود نہیں۔ اگر کسی کو اعلیٰ تعلیم یا جدید تحقیق کرنی ہو تو اسے اسلام آباد، لاہور، کراچی یا بیرونِ ملک کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ کی ناقص سہولتیں، بجلی کی طویل بندش، جدید لائبریریوں اور تحقیقی مراکز کی کمی، یہ سب مل کر نوجوانوں کے خوابوں کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔

‎یہ صرف تعلیم تک محدود مسئلہ نہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی ان نوجوانوں کے پاس واپس آنے کی کوئی وجہ نہیں بچتی۔ کیونکہ یہاں صنعتیں نہیں، بڑی کمپنیاں نہیں، ٹیکنالوجی سیکٹر نہیں، روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک نوجوان جو برسوں کی محنت کے بعد ڈگری حاصل کرتا ہے، وہ اپنے ہی علاقے میں خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ آخرکار وہ کسی بڑے شہر میں نوکری ڈھونڈ لیتا ہے، وہاں زندگی بسا لیتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کا تعلق اپنے آبائی علاقے سے صرف یادوں تک محدود ہو جاتا ہے۔

‎یہ ہجرت صرف جسمانی دوری نہیں، یہ جذباتی بچھڑاؤ بھی ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کے لیے رخصت تو کر دیتے ہیں، مگر اندر ہی اندر جانتے ہیں کہ اب یہ واپسی شاید مستقل نہ ہو۔ وہ بچے جو کبھی پہاڑوں میں کھیلتے تھے، دریا کنارے شام گزارتے تھے، مقامی زبانوں میں ہنستے بولتے تھے، وقت کے ساتھ اجنبی شہروں کی رفتار میں کھو جاتے ہیں۔ ان کے لہجے بدل جاتے ہیں، ترجیحات بدل جاتی ہیں، حتیٰ کہ ان کی زندگیوں کا مرکز بھی بدل جاتا ہے۔

‎پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اپنے گھروں میں مستقل رہائشی نہیں بلکہ مہمان بن جاتے ہیں۔ وہ عید پر آتے ہیں، چند تصویریں بناتے ہیں، رشتہ داروں سے ملتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے والدین ان کے کمروں کو ویسے ہی سنبھال کر رکھتے ہیں جیسے برسوں پہلے تھے، مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ان کمروں میں رہنے والے اب صرف یادوں میں بستے ہیں۔

‎سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت ہر انتخاب میں انہی نوجوانوں کے جذبات کو استعمال کرتی ہے۔ جلسوں میں ان کے مستقبل کی بات ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر ان کے خوابوں کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر اقتدار ملنے کے بعد ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ نوجوانوں کے مسائل پھر فائلوں، بیانات اور کمیٹیوں تک محدود ہو جاتے ہیں۔ سال گزرتے رہتے ہیں مگر نہ تعلیمی نظام بدلتا ہے، نہ روزگار پیدا ہوتا ہے، نہ انفراسٹرکچر بہتر ہوتا ہے اور نہ ہی ہجرت کا سلسلہ رکتا ہے۔

‎گلگت بلتستان کے نوجوان صرف روزگار نہیں مانگ رہے، وہ اپنے علاقے میں جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں اپنے والدین کے قریب رہ کر ترقی کرنے کا موقع ملے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایک طالب علم کو ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لیے اپنی شناخت نہ چھوڑنی پڑے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے علاقوں میں بھی ایسے ادارے ہوں جہاں خواب صرف دیکھے نہ جائیں بلکہ پورے بھی ہوں۔

‎اس خطے کے نوجوانوں نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ پاکستان کے بڑے تعلیمی اداروں، سول سروس، فوج، میڈیا اور دیگر شعبوں میں گلگت بلتستان کے نوجوان نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ نوجوان اتنے باصلاحیت ہیں تو پھر ان کے اپنے علاقے ترقی سے محروم کیوں ہیں؟ کیوں ان کی صلاحیتوں کا فائدہ دوسرے شہر اٹھاتے ہیں جبکہ ان کی اپنی زمینیں خالی ہوتی جا رہی ہیں؟

‎یہ مسئلہ صرف ایک خطے کا نہیں، یہ پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ جب کسی علاقے کے نوجوان مایوس ہو جائیں، جب وہ اپنی زمین پر اپنے لیے مستقبل نہ دیکھ سکیں، تو وہاں صرف آبادی باقی رہ جاتی ہے، زندگی نہیں۔ ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں کا نام نہیں، ترقی وہ احساس ہے جہاں ایک نوجوان یہ کہہ سکے کہ “میں اپنے گھر میں رہ کر بھی اپنے خواب پورے کر سکتا ہوں۔”

‎آج ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کو صرف سیاحتی مقام سمجھنے کے بجائے ایک زندہ معاشرہ سمجھا جائے۔ یہاں یونیورسٹیاں بنائی جائیں، ٹیکنالوجی پارکس قائم کیے جائیں، جدید اسپتال اور تحقیقی مراکز بنیں، انٹرنیٹ اور بجلی جیسے بنیادی مسائل مستقل بنیادوں پر حل کیے جائیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے حقیقی مواقع پیدا کیے جائیں۔

‎اگر اس بار بھی انتخابات صرف نعروں، تصویروں اور وقتی وعدوں تک محدود رہے تو آنے والے برسوں میں گلگت بلتستان کی وادیاں شاید پہلے سے زیادہ خاموش ہو جائیں گی۔ گھروں کے دروازے تو کھلے ہوں گے مگر ان گھروں کے نوجوان کہیں اور زندگی گزار رہے ہوں گے۔ اور والدین اپنے بچوں کی کامیابیوں پر فخر کرتے ہوئے بھی اندر سے ٹوٹتے رہیں گے، کیونکہ کامیابی کی قیمت جدائی بن چکی ہوگی۔

‎اب وقت آ چکا ہے کہ نوجوان صرف ووٹر نہ رہیں بلکہ سوال کرنے والے شہری بنیں۔ وہ یہ پوچھیں کہ آخر کب تک ان کی نسلیں ہجرت پر مجبور رہیں گی؟ کب تک ان کے خواب دوسرے شہروں کی سڑکوں پر پروان چڑھتے رہیں گے؟ اور کب وہ دن آئے گا جب گلگت بلتستان کا نوجوان اپنے ہی گھر میں اجنبی نہیں بلکہ مستقبل کا معمار ہوگا؟

(ایڈمین ) آزاد امیدوار حلقہ دو گلگت ولی الرحمان حامی گزشتہ کئی سالوں سے اپنے خاندان کے اندر دو بھائیوں کے درمیان جاری رن...
11/05/2026

(ایڈمین ) آزاد امیدوار حلقہ دو گلگت ولی الرحمان حامی گزشتہ کئی سالوں سے اپنے خاندان کے اندر دو بھائیوں کے درمیان جاری رنجش کو ختم کروانے کے لیے مسلسل کوششیں کرتے رہے۔ الحمدللہ، ان کی انتھک محنت، خلوص اور نیک نیتی کے باعث دونوں خاندانوں کے درمیان صلح ہوگئی۔

ولی الرحمان حامی اس بات پر اپنے بزرگوں کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے حوصلہ افزائی کی، جرگے کے فیصلے کو قبول کیا اور ایک دوسرے سے معافی مانگتے ہوئے محبت و اخوت کے ساتھ گلے ملے۔

اس موقع پر ولی الرحمان حامی خصوصی طور پر چچا اقبال، اور بھائی چچا جان عالم، چچا جاوید اقبال اور دیگر دیگر تمام ساتھیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس نیک کام میں بھرپور تعاون کیا۔ اللہ تعالیٰ سب کے درمیان ہمیشہ محبت، اتفاق اور بھائی چارہ قائم رکھے۔ آمین

11/05/2026

آزاد امیدوار حلقہ دو گلگت ولی الرحمن حامی نے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا

27/04/2026
گلگت بلتستان ایجوکیشنل سوسائٹی کے سینیئر ممبر ایڈووکیٹ محسن علی کو، گلگت بلتستان ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے دل کی گہرا...
14/04/2026

گلگت بلتستان ایجوکیشنل سوسائٹی کے سینیئر ممبر ایڈووکیٹ محسن علی کو، گلگت بلتستان ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

محسن علی نے زمانۂ طالب علمی سے ہی گلگت بلتستان ایجوکیشنل سوسائٹی کو فعال بنانے کے لیے خدمات انجام دی ہیں، اور انہی کی محنت کے نتیجے میں آج اللہ تعالیٰ نے انہیں کم سنی میں اس رتبے سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ایڈووکیٹ محسن علی کا کیریئر ماضی کی طرح علاقے کے لیے مفید ثابت ہو۔

چیئرمین: علی عظمت بوگر

حق بات کہنے کی جرات پیدا کریں جس دن میں نے حق  بات کہنا  چھوڑ دیا۔۔تو یہ مت سمجھنا کہ میں ڈرگیا۔ بلکہ سمجھنا کہ میں مر گ...
05/04/2026

حق بات کہنے کی جرات پیدا کریں جس دن میں نے حق بات کہنا چھوڑ دیا۔۔تو یہ مت سمجھنا کہ میں ڈرگیا۔ بلکہ سمجھنا کہ میں مر گیا ولی الرحمن حامی امیدوار جی بی اسمبلی حلقہ دو گلگت

جیو چیئرمین Ali Azmat Bogar
03/04/2026

جیو چیئرمین Ali Azmat Bogar

چیرمین جی بی ایجوکیشنل سوسائٹی علی عظمت بوگر وزیر داخلہ ساجد علی بیگ صاحب سے ملاقات
نوجوانوں کو درپیش سنگین مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی وزیر داخلہ صاحب نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے نوجوانوں سے مسلسل رابطے میں ہیں، اور کوشش کر رہے ہیں کہ ان مسائل کو جلد از جلد مثبت انداز میں حل کیا جا سکے چیرمین جی بی ایجوکیشنل سوسائٹی علی عظمت بوگر صاحب نے ساجد علی بیگ کو ضلع گلگت میں نوجوانوں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا، فرقہ پرستی فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی اور امن بھائی چارگی کے تمام نکات سے آگاہ کرنے کے بعد وزیر داخلہ صاحب نے کہا کہ ان شاء اللہ ان مسائل کے مستقل حل کے لیے پورا محکمہ بھرپور کوشش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں آپ کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔

ہمیں معلوم ہے کہ لوگ بڑے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، مگر ان شاء اللہ اللہ کی رضا سے یہ مسائل جلد حل کر لیے جائیں گے۔

عوام کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔

اہل علاقہ حلقے کے بزرگوں رشتہ داروں اور دوستوں سمیت نوجوانوں کی اصرار پر این اے ٹو گلگت سے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں ...
31/03/2026

اہل علاقہ حلقے کے بزرگوں رشتہ داروں اور دوستوں سمیت نوجوانوں کی اصرار پر این اے ٹو گلگت سے بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لینے کا سوچ رہا ہوں حتمی فیصلہ مذید مشاورت کے بعد کیا جائیگا فلحال مشاورت جاری ہے بانی چیئرمین جی بی ایجوکیشنل سوسائٹی سوس جیک رانیت لا ژارو

Address

Bogar Market Opposite Forest Complex Near Head Office KCBL Sahrah E Qaid Azam Gilgit
Gilgit

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Friday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00

Telephone

03111027414

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilgit Baltistan Educational Society. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Gilgit Baltistan Educational Society.:

Share