01/05/2026
کبھی کبھی سچ بولنے والا سب سے زیادہ تنہا نظر آتا ہے۔۔۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی سب سے مضبوط ہوتا ہے۔۔۔
مگر بدقسمتی سے ہم کتابوں، فلموں اور دراموں میں ہیرو کا ساتھ دیتے ہیں مگر حقیقت میں ہم ہیرو پہچاننے سے قاصر ہیں۔۔۔۔!!!
میرا ایک دوست، عبداللہ عمر جو کے ڈگری کالج حافظ آباد میں اردو کے پروفیسر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔۔۔
حال ہی میں ان کی ڈیوٹی امتحانات پر لگائی گئی۔۔۔ جب کچھ لوگ وہاں کسی کی جگہ کسی اور کا پیپر دینے آئے، انہیں نے صاف انکار کر دیا۔ کیونکہ اس کے نزدیک اصول، کسی بھی فائدے سے بڑے ہیں۔۔۔
پھر کیا ہوا؟
دباؤ آیا… دھمکیاں آئیں… لالچ دیا گیا… مگر وہ نہ بکا، نہ جھکا۔۔۔
جب یہ سب حربے ناکام ہوئے، تو اسے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے خلاف سوشل میڈیا پر بے جا الزام لگائے گئے۔۔۔ تاکہ ایک سچے انسان کو جھوٹ کے بوجھ تلے دبا دیا جائے۔۔۔!
مگر سچ کا ایک اصول ہے:
وہ وقتی طور پر خاموش ہو سکتا ہے، مگر ہارتا نہیں۔۔۔
آج میرا وہ دوست خاموش ہے… اس نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ نہ وہ چیخ رہا ہے، نہ صفائیاں دے رہا ہے… کیونکہ اسے یقین ہے کہ انصاف زمین پر نہ سہی، آسمان سے ضرور اترتا ہے۔۔۔!
میں یہ لکھ رہا ہوں کیونکہ ہم میں سے ہر ایک پر فرض ہے کہ سچ کے ساتھ کھڑے ہوں۔۔۔
ہمیں میڈیا یا کسی بھی دباؤ سے ڈر کر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔۔۔!!!
یاد رکھیں:
سچ چاہے اکیلا ہو، کھڑا رہتا ہے…
اور جھوٹ چاہے جتنا بڑا ہو، ایک دن گر جاتا ہے۔۔۔
میرا دوست ایک مخلص استاد ہے، اس کے شاگرد اور جاننے والے اس کی سچائی کے گواہ ہیں۔۔۔
اور مجھے یقین ہے… اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا اور میں اسے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کتابی باتوں کے علاوہ پھی سچ فتح پاتا ہے۔۔۔ اس گھٹن لمحے کو دلیرانہ انداز سے گزارے۔۔۔ اللہ تمھاری مدد کرے۔۔۔ آمین۔۔۔۔!!!
بس ان پر الزام لگانے والوں کو ایک جملہ یاد کروانا چاہتا ہوں " جب بندہ چُپ ہو جاتا ہے تو قدرت جواب دیتی ہے "