Jamiatul uloom islamia binory town karachi

Jamiatul uloom islamia binory town karachi Islamic news

01/03/2026
21/02/2026
14/10/2025
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ریاض کے معرض " کتب میلہ " میں❤️
03/10/2024

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ریاض کے معرض " کتب میلہ " میں❤️

بنوری ٹاؤن کراچیقائدجمعیۃ مولانا فضل الرحمن صاحب کی بنوری ٹاؤن آمد شیخ الحدیث مولانا محمد انور بدخشانی صاحب رح کی وفات پ...
22/09/2024

بنوری ٹاؤن کراچی
قائدجمعیۃ مولانا فضل الرحمن صاحب کی بنوری ٹاؤن آمد شیخ الحدیث مولانا محمد انور بدخشانی صاحب رح کی وفات پر تعزیت کے بعد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے....

13/09/2024

گستاخِ رسول کی توبہ،مغفرت اور اس کے ساتھ سلوک کا حکم

(جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ 👇)

سوال
1: اگر گستاخِ رسول توبہ کرلے، تو کیا اس کے بعد بھی اس کے گستاخی کے گناہ کی وجہ سے اس سے نفرت کرنی چاہئے؟

2: اس کے ساتھ مسلمانوں والا سلوک کر سکتے ہیں؟

3:کیا اس کے لئے دعائے مغفرت کی جا سکتی ہے؟

4:اگر گستاخ توبہ کرلے ،تو کیا وہ جنت الفردوس کا مستحق ہو سکتا ہے؟

جواب
واضح ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنا کائنات کا سب سے بد ترین جرم ہے،اور فقہاۓ احناف کے راجح قول کے مطابق ایسا شخص مرتد کے حکم میں ہے،اگر صدقِ دل سے توبہ کرلے اور اپنے جرم کی معافی مانگ لے تو مسلمان سمجھا جاۓ گااور قتل نہیں کیا جاۓ گا،لیکن اگر اپنی روش پر برقرار رہا اور توبہ نہیں کی توبہر حال ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جاۓ گا،جسے نافذ کرنے کااختیار صرف اسلامی حکومت کو ہے۔

1:اگر گستاخِ رسول توبہ کرلے اور اپنی توبہ کو لوگوں کے سامنے ظاہر بھی کردےاور آئندہ پھر یہ حرکت نہ کرے تو سابقہ گناہ کی وجہ سے اس سے نفرت کرنا درست نہیں ہے۔

2: توبہ کرلینے کی صورت میں اس کے ساتھ زندگی میں تمام تر معاملات میں مسلمانوں والا سلوک ہی کیا جاۓ گا،اور مرنے کے بعد بھی اس پر مسلمانوں والا حکم لاگو ہوگا،چناں چہ اس کی تجہیز ،تکفین اور تدفین مسلمانوں کے طرز پر ہی کی جاۓ گی۔

3: توبہ کرنے کے بعد اس شخص کا حکم بھی عام مسلمانوں والا ہوگا،جس طرح دوسرے مسلمانوں کے حق میں دعاۓ مغفرت کرنا درست ہے بالکل اسی طرح اس شخص کے حق میں بھی درست ہے۔

4:جنت الفردوس یا کسی بھی جنت میں داخلے کا استحقاق اللہ تعالیٰ صرف اور صرف اللہ تعالی کے فضل اور مشیت پر موقوف ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں جنت کا تذکرہ کرنے بعد ارشاد فرمایا‌: ‌ذلِكَ ‌فَضْلُ ‌اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشاءُ (الحدید،الآیة:21)یعنی" یہ (جنت) صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ،جس کو چاہے گا دے گا"،اورعربی زبان میں "فضل" سے مراد ہے" اللہ تعالیٰ کی طرف سے بغیر استحقاق کے دی جانےوالی چيز"، اس کے مقابلے میں "اجر" کالفظ ہے ، جس کا مطلب ہے "معاوضہ ،بدلہ"، جو کسی محنت اور مزدوری کا نتیجہ ہوتا ہے۔لہٰذا قرآن مجید میں جنت کا ذکر فضل کے ساتھ فرما کر یہ بتانا مقصود ہے کہ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو،اس وقت تک انسان صرف اپنےاعمال کے ذریعے سے ہی جنت کا مستحق نہیں بن سکتا،چناں چہ اس بارے میں ایک حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ‌أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « لن يدخل أحدا منكم ‌عمله ‌الجنة. قالوا: ولا أنت يا رسول الله؟ قال: ولا أنا، إلا أن يتغمدني الله منه بفضل ورحمة."

(كتاب صفة المنافقين وأحكامهم، باب: لن يدخل أحد الجنة بعمله بل برحمة الله تعالى،381/2،ط:رحمانیة)

ترجمہ:"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:تم میں سے کسی کا عمل بھی اسے ہرگز جنت میں داخل نہیں کر سکے گا،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: کیا آپ کو بھی نہیں یارسول اللہﷺ ؟ آپؐ نے فرمایا:ہاں مجھے بھی نہیں ،اِلاّ یہ کہ مجھے اللہ اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے.(اگراللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانپ لے گا تو جنت میں میرا داخلہ ہو گا)."

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جنت میں کسی بھی مسلمان کا داخلہ فقط اللہ کے فضل پر موقوف ہے،اگر گستاخِ رسول بھی صدقِ دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالی کی منشاء اور فضل کے اعتبار سےآخرت میں اس کا داخلہ بھی جنت الفردوس میں ممکن ہوسکتا ہے۔

18/03/2024

Address

New Town Gurumandir
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamiatul uloom islamia binory town karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share