10/09/2025
یہ ہیں ہمارے پرنسپل صاحب۔۔ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اللہ نے بڑا مرتبہ دیا ہے۔۔ کیا بات کرنے کا انداز اور کیا چلنے کا سٹائل۔۔ آدمی دیکھے تو دیکھتا ہی رہ جاۓ ۔ بالی ووڈ کے ڈائیریکٹرز اور پروڈیوسرز ایک بہت ہی بڑے اداکار سے محروم رہ گئے ہیں۔ ان کو پتا چلے گا کہ پاکستان میں ایک ایسی شخصیت موجود ہے تو وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔۔ خیر اب بھی دم خم ہے۔۔ دادا جی کا رول پلے کر سکتے ہیں۔۔۔ بالی ووڈ نہیں تو پاکستان شوبز انڈسٹری تو رابطہ کرے۔۔۔ خدا کی قسم ایسی اداکاری جو یہ کرتے ہیں کبھی کسی ایکٹر کی اتنی پر اثر نہیں رہی۔۔۔ خدا سلامت رکھے۔۔
ایکٹنگ تو ایکٹنگ پاکستان ایک سیاسی شخصیت سے بھی محروم ہوگیا ہے۔۔ میرا ایک دوست کہتا ہے دراصل پاکستان میں کریئر کونسلنگ نہیں ہوتی۔۔ انسان میں قابلیت ایک چیز کی ہوتی ہے اور معاشرے کی پابندیاں اسے کہیں اور لے جاتی ہیں۔ اب جتنی سیاست ہم نے ان حضرت کی دیکھی ہے شہریار آفریدی تو انکے پاؤں کی دھول بھی نہیں۔ جس قسم کے یہ وعدے کرتے ہیں، ہم جیسے معصوم لوگ سمجھتے ہیں ہمارا مسیحا آ گیا ہے۔۔ کتنا ہی مشکل کام کیوں نہ ہو سب کا سب یہ چٹکیوں میں کر سکتے ہیں۔ لیکن آفس سے نکلو پھر نہ تم ہو نہ تمہارا کام ان حضرت کو یاد ہے۔ اب مصروفیات ہی اتنی ہیں بندہ کیا کرے۔۔۔
موصوف بڑی امیدیں دلاتے ہیں۔ سٹوڈنٹس بڑے خوش ہوتے ہیں۔ ہر بار آؤ، حضرت جی اتنے پیار اور شفقت سے سروں پر ہاتھ رکھ کے کہتے آپ سب میرے بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور جذبات میں ہماری آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ جاتی ہیں۔۔۔ پھر ہم سوچتے ویسے لوگ پاکستان سے مایوس ہو گئے ہیں۔۔ اگر چہ مہان ہستیاں تو اب بھی موجود ہیں۔۔ انہی ہستیوں کے اخلاص کی وجہ سے پہلے پاکستان اور پھر دنیا قائم ہے۔۔ خدارا انکی قدر کریں۔۔۔
ویسے آپ کی اطلاع کیلئے ہمارے
پیپرز کو ختم ہوۓ پچاس دن سے زیادہ ہوچکے ہیں اور ابھی تک کوئی رزلٹ نہیں ہے جبکہ ان شرینِ زبان پرنسپل نے بیس دن میں رزلٹ دینے کا وعدہ کیا تھا۔۔ پتہ نہیں مزید کتنے دن لگیں گے۔ فریش گریجویٹس رزلٹ کے انتظار میں دن اور رات ، منٹس اور سیکنڈز گن رہے ہیں تاکہ رزلٹ آۓ تو آگے کچھ کر سکیں۔ جابز کیلئے اپلائی کریں یا ایم فل میں ایڈمشن لیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔
لیکن حضرت جی اپنے خوابِ خرگوش
کے مزے لوٹ رہے ہیں اور سٹوڈنٹس بھی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہیں۔
بس ہم حضرت جی کے وہ پیار بھرے بول یاد کرکے خوش ہوتے ہیں کہ سر نے کتنے پیار سے ہمارے ساتھ بات کی ہے۔۔۔
اب آپ خود سوچیں کوہاٹ جیسے ضلع کے سطح پر سب سے بڑے کالج کا پرنسپل اسکے سوا کر کیا سکتا ہے۔۔۔
آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کیسے کیسے بے حس، ناقابل اور نااہل لوگ استاد جیسے مقدس پیشے کا لبادے اوڑھ کر آتے ہیں۔۔ اللہ معاف کرے۔۔
یہ سر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایک معمولی کاوش ورنہ تو اس سے زیادہ کے حقدار ہیں۔۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس تحریر میں کہیں طنز کیا گیا ہے تو وہ آپ کا مسئلہ ہے۔ اپنا way of thinking change کریں۔۔ ہم تو کسی کا برا سوچ ہی نہیں سکتے۔۔