AMBUA Home Tution

AMBUA Home Tution Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AMBUA Home Tution, College & University, Main Canal Bank Road, Taj Bagh Bridge, Harbanspura, Lahore Lahore, Pakistan, Lahore.

08/05/2024

ہارون الرشید کی بیوی ملکہ زبیدہ بنت جعفر فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ آئیں۔ انہوں نے جب اہل مکہ اور حُجاج کرام کو پانی کی دشواری اور مشکلات میں مبتلا دیکھا تو انہیں سخت افسوس ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اخراجات سے ایک عظیم الشان نہر کھودنے کا حکم دے کر ایک ایسا فقید المثال کارنامہ انجام دیا جو رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔
ملکہ زبیدہ کی خدمت کے لئے ایک سو نوکرانیاں تھیں جن کو قرآن کریم یاد تھا اور وہ ہر وقت قرآن پاک کی تلاوت کرتی رہتی تھیں۔ ان کے محل میں سے قرات کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آتی رہتی تھی۔
ملکہ زبیدہ نے پانی کی قلت کے سبب حجاج کرام اور اہل مکہ کو درپیش مشکلات اور دشواریوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو انہوں نے مکہ میں ایک نہر نکلوانے کا ارادہ کیا۔ اب نہر کی کھدائی کا منصوبہ سامنے آیا تو مختلف علاقوں سے ماہر انجینئرز بلوائے گئے۔ مکہ مکرمہ سے 35 کلومیٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے ” جبال طاد “ سے نہر نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔
اس عظیم منصوبے پر سترہ لاکھ ( 17,00,000 ) دینار خرچ ہوئے۔جب نہر زبیدہ کی منصوبہ بندی شروع ہوئی تو اس منصوبہ کا منتظم انجینئر آیا اور کہنے لگا : آپ نے جس كام کا حکم دیا ہے اس کے لئے خاصے اخراجات درکار ہیں، کیونکہ اس کی تکمیل کے لئے بڑے بڑے پہاڑوں کو کاٹنا پڑے گا، چٹانوں کو توڑنا پڑے گا، نشیب و فراز کی مشکلات سے نمٹنا پڑے گا، سینکڑوں مزدوروں کو دن رات محنت کرنی پڑے گی۔ تب کہیں جا کر اس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔یہ سن کر ملکہ زبیدہ نے چیف انجینئر سے کہا : اس کام کو شروع کر دو، خواہ کلہاڑے کی ایک ضرب پر ایک دینار خرچ آتا ہو۔اس طرح جب نہر کا منصوبہ تکمیل کو پہنچ گیا تو منتظمین اور نگران حضرات نے اخراجات کی تفصیلات ملکہ کی خدمت میں پیش کیں۔ اس وقت ملکہ دریائے دجلہ کے کنارے واقع اپنے محل میں تھیں۔ ملکہ نے وہ تمام کاغذات لئے اور انہیں کھول کر دیکھے بغیر دریا برد کر دیا اور کہنے لگیں :
” الٰہی! میں نے دنیا میں کوئی حساب کتاب نہیں لینا، تُو بھی مجھ سے قیامت کے دن کوئی حساب نہ لینا “
اللہ رب العزت انکے درجات کو بلند فرمائے۔
اور دونوں جہاں میں ہم سبکو کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین

28/03/2024

زکوۃ کون سے مال پر لازم ہوتی ہے؟

سوال
ایک رقم مال کی صورت میں ہے، ایک رقم لوگوں سے لینی ہے ادھار میں مال بیچنے کی وجہ سے اور ایک نقد کی صورت میں ہے، زکات کس پر نکلے گی؟

جواب
واضح رہے کہ چار قسم کے اموال پر سال گزرنے کے بعد زکات فرض ہوتی ہے بشرطیکہ وہ نصابِ زکات کے برابر ہوں :
۱: نقدی (کیش)
۲: مال ِتجارت ،اگرچہ جائیداد ہی کیوں نہ ہو۔
۳: سونا
۴: چاندی.
نیز قرض کی رقم جو ملنے والی ہے ،اُس کی زکات بھی ادا کرنا لازم ہے بشرطیکہ زکات کا نصاب مکمل ہو، البتہ اس رقم میں اختیار ہوتا ہے کہ فی الفور زکات ادا کریں یا بعد میں جب رقم وصول ہوجائے تو سابقہ حساب کر کے زکات ادا کریں؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے ضروری اخراجات اور سائل پر واجب الادا قرض منہا کرنے کے بعد اگر نقد رقم، لوگوں کے ذمے ادھار رقم اور مالِ تجارت سب کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو زکات کا سال پورا ہونے پر مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکات ادا کرنا واجب ہوگا۔
البتہ مذکورہ اموال میں مطلقاً زکات واجب نہیں ہوتی، یعنی یہ اموال جتنی مقدار میں بھی ہوں ان پر زکات واجب ہو، ایسا نہیں ہے، بلکہ ان پر زکات واجب ہونے کے لیے مخصوص نصاب ہیں، اگر نصاب کے بقدر مال کسی عاقل بالغ مسلمان کی ملکیت میں ہو اور اس پرقمری اعتبار سے سال گزر جائے تو اس پر ڈھائی فیصد مال بطورِ زکات ادا کرنا واجب ہوتاہے۔
زکوۃ کا نصاب
زکوۃ کا نصاب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی، یا صرف نقدی ہو تو بنیادی ضرورت سے زائد اتنی نقدی جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو، یا صرف مالِ تجارت ہو اور اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو، یا مذکورہ چار اموال (سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت) میں سے کوئی دو طرح کے مال یا تین یا چاروں موجود ہوں اور ان کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب(ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر بنتی ہو تو ایسے شخص پر سال پورا ہونے پر قابلِ زکات مال کی ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا لازم ہے۔

28/03/2024

زکوٰۃ کے آٹھ مصارف
زکوٰۃ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔اور اہم ترین عبادت ہے۔زکوٰۃ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ پاکیزگی، اور اضافہ۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے انسان کا مال پاک ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ بندے کو گناہوں سے بھی پاک کرتے ہیں۔زکوٰۃ ادا کرنے سے بندے کے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اس کا مال بھی بڑھا دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”زکوٰۃ ادا کر و“القرآن۔نبی اکرم ؐ نے بھی حجۃالوداع کے موقعہ پر ارشاد فر مایا۔لو گو اللہ سے ڈرتے رہو پانچ وقت کی نماز پڑہو رمضان کے روزے رکھو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کر و۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لو گ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے نماز قائم کی زکوٰۃ ادا کی اللہ تعالیٰ انہیں اجر سے نوازے گا اور ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ”زکوٰۃ امیر مسلمانوں سے لے کر فقیر مسلمانوں میں تقسیم کی جائے گی“ نبی اکرمؐ کے پا س ایک آدمی آیا اور (زکوٰۃ) صدقے کے مال کا سوال کیا تو نبی اکرم ؐ نے فرمایا ”زکوٰۃ کے بارے اللہ تعالیٰ کسی نبی اور غیر نبی کے حکم پر را ضی نہیں ہوئے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے بارے میں خود حکم فرمایا اور زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں اگر تو ان آٹھ میں سے ہے تو تجھے تیر احق دے دیتا ہو ں“۔
زکوٰۃ کے حق دار آٹھ قسم کے لو گ ہیں ان کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ان کی تفصیل اور توضیح اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 60 میں بیا ن فرما دی ہے۔
(1) فقراء: فقر کی جمع ہے۔اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جن کے پاس گزر بسر کے لئے کچھ نہ ہو۔
(2) مساکین: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے جائز اخراجات زیا دہ ہو ں اور آمد ن کم ہو۔
(3) عاملین: جو زکوٰۃ وصو ل کر نے اس کا حساب وکتاب رکھنے کے ذ مہ دار ہوں۔
(4) مؤلفۃ القلوب: اس سے مراد وہ کا فر ہے جس سے امید ہو کہ وہ مال لے کر مسلمان ہو جائے گا یا مسلمانو ں کو ایزا دینے سے رک جائے گا۔
(5) فی الرقاب: گردنیں آزاد کروانے کے لئے،یعنی غلام مسلمان کو آزاد کروانے کے لئے اور مسلمانوں کو دشمن کی قید سے رہائی کے لئے۔
(6) غار مین:مقروض جو اپنا قرض ادا نہیں کر سکتے ان پر زکوٰۃ خرچ کر کے قرض سے نجات دلانے کے لئے۔
(7) فی سبیل اللہ:اس سے مراد جہاد ہے اور جہاد اسلام کی چوٹی ہے جہاد فی سبیل اللہ اور مجاہدین کے جملہ مصارف و ضروریات کو پورا کرنے لئے زکوٰۃ کو خرچ کرنا حدیث سے ثابت ہے۔ ایک آدمی نے اپنی نکیل والی اونٹنی راہ جہاد میں وقف کی تو آپؐ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے اس اونٹنی کے بدلے سات سو اونٹنیاں عطا فرمائے گا اور سب نکیل والی ہوں گی۔اس مصرف پر مسلمانو ں کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
(8) مسافر: جس کا دوران سفر زادراہ ختم ہو گیا اس کو زکوٰۃ کے مال سے دینا تا کہ منزل مقصود تک پہنچ جائے۔زکوٰۃ کن پر خرچ نہیں ہو سکتی: آل رسول ؐ، امیر و مالدارا غیرمسلم اور ایسے لوگ جن کے اخراجات و کفالت کا ذمہدار خود یعنی جن کا گزر بسر ہو رہا ہو زکوٰۃ کے قابل نہیں ہیں ان پر زکوٰۃ کا مال صرف نہیں کیا جا سکتا۔ زکوٰۃ سونے چاندی، مال تجارت اور جانوروں پر اور زمین کی پیداوار پر فرض ہے۔زکوٰۃ نہ ادا کرنے والوں کی سزا: جو لوگ سونے اور چاند ی کو جمع کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے۔ جس دن اس خزانے کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں، پہلو اور پشتیں داغی جائیں گی اور ان سے کہا جائے گا یہ ہے وہ خزانہ جسے تم جمع رکھتے تھے پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو۔ سورۃ التوبہ آیت نمبر 35-34۔
نبیؐ کریم نے فرمایا جو آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کر تا قیامت کے دن اس کا مال و دولت گنجے سانپ کی شکل میں اس پر مسلط کر دیا جائے گا جو اس کو مسلسل ڈستا رہے گا اور کہے گا میں تیرا مال اور خزانہ ہوں جس آدمی نے اپنے مویشیوں کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو گی قیا مت والے دن وہ جا نور اس آدمی کو سینگوں سے ماریں گے اور اپنے قدموں تلے روندیں گے۔

28/03/2024

عشر کیا ہے
عشر کے لغوی معنی ہیں دسواں حصہ
عشر زرعی زمین کی پیداوار سے بطور زکوۃ کے دسواں حصہ نکالنا عشر کہلاتا ہے

زکوٰاة اور عشر میں بھی فرق
زکوٰاة اور عشر میں بھی فرق ہوتا ہے زکواة 2.5 ازھائی فیصد قابل نصاب مال پر ہے جبکہ عشر 5 سے 10 فیصد ہے اگر بارانی زمین ہو جہاں پانی ا جا ہو اور فصل بھی اچھی ہو تو 10 فیصد اور بصورت دیگر جہاں پانی ٹھیک نہ ہو فصل کی پیداوار بہت کم ہو تو 5 فیصد ادا کرنا ہوتا ہے

عشر کی تعریف
عشر یا عُشر کا لغوی مطلب ہے دسواں حصہ۔ دینی اصطلاح میں یہ زمین کی پیداوار کی زکوٰۃ ہے۔ فقہا کرام کی تصریحات کے مطابق جس کھیت کی زراعت میں آبپاشی کے لیے بوجھ اٹھانا پڑے تو اس پیداوار میں سے نصف عشر دینا واجب ہے اور جس کھیت کی زراعت میں مشقت کم ہو وہاں عشر یعنی دسواں حصہ دینا واجب ہے

عشر کی تاریخ
بعض روایات کی رو سے عشر یہود پر بھی فرض تھا۔ نبی اسرائیل کے گیارہ قبائل اپنی اپنی پیداوار کا دسواں حصہ احبار یا نبی لاوی کو دیتے تھے جس کے عوض بنی لاوی یہود کی مذہبی خدمات سر انجام دیتے تھے۔

عشر کی فرضیتت
ہر اس شخص پر جو زمین کاشت کرتا ہے، عشر دینا واجب ہے۔ عشر چونکہ پیداوار کی زکوٰۃ ہے اس لیے مال کے ساتھ پیداوار کا عشر الگ نکالا جاتا ہے۔ سال کے اندر جتنی بھی فصلیں کاشت ہوں گی، ان سب پر ہی عشر واجب ہے، ربیع پر بھی اور خریف پر بھی یہی معاملہ ہے۔ امام ابو حنیفہ کے مطابق مویشیوں کے چارے پر بھی عشر واجب ہے۔

عشر کا نصابت
امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا کوئی الگ الگ نصاب نہیں، پیداوار چاہے جتنی بھی ہو عشر واجب ہے۔ یعنی مال کی طرح جیسے ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی کی طرح مخصوص حدِ پیداوار نہیں ہے۔

عشر کے مستحق
عشر کے مستحق بھی وہی لوگ ہے جو زکوٰۃ کے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ
زمین کی پید اوار سے عشر ادا کرنا فرض ہے“زمین کی پیدا وار میں سے عشر ہے۔بارانی زمین بیسواں حصہ بیس من میں سے دو من اور جس زمیں کو ٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب کیا جاتا ہو اس کے بیس من میں سے ایک من ہے یعنی نصف۔ اللہ تعالیٰ نے قر آن میں ارشاد فر مایا ”اے ایمان والو خرچ کرو پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکا لی ہیں“البقرۃ آیت 267
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”فصل کی کٹائی کے وقت اس کا حق ادا کر ؤ“سورۃ الانعام آیت نمبر 142۔

احادیث مبارکہ ہے
نبی نے فر مایا جس زمین کو با رش کے پا نی یا چشمہ سے سیراب کریں یا زمین تروتازہ ہو اس کی پید اور میں سے دسو اں حصہ ہے اور جس زمین کو کنویں کے ذریعے پا نی دیا جا ئے اس میں نصف عشر (یعنی بیسواں حصہ)زکوٰۃ ہے (صیح بخاری)۔

26/03/2024

آپ نے آسمان پر ہوائی جہاز کو اڑتے دیکھا ہوگا، جو اپنے پیچھے ایک سفید لکیر چھوڑ دیتا ہے۔ ان لکیروں کو "کونٹریلز" (contrails) کہا جاتا ہے۔ دراصل جب کسی انجن میں کسی قسم کا ایندھن جلتا ہے تو دو چیزیں فاسد مادوں کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک کاربن ڈائی آکسائڈ اور دوسرے پانی کے بخارات۔

جہاز کے انجن میں بھی یہ پانی کے بخارات اور کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا ہوتی ہیں جو جہاز اپنے انجن سے باہر خارج کردیتا ہے۔ جہاز جس بلندی پر اڑتا ہے وہاں فضا کافی ٹھنڈی ہوتی ہے، اس ٹھنڈ کی وجہ سے یہ پانی کے بخارات ایک طرح سے جم جاتے ہیں (condense) اور ان کے جمنے سے وہ سفید لکیریں جہاز کے پیچھے نظر آتی ہیں۔

یہ لکیریں شاید دیکھنے میں اچھی لگیں لیکن ان کی وجہ سے گلوبل وارمنگ بڑھتی ہے۔ گلوبل وارمنگ کیا ہوتی ہے ؟ اصل میں سورج سے ہماری زمین کی طرف لہروں کی صورت میں گرمی آتی ہے، جو زمین کو گرم کرتی ہیں، لیکن ان لہروں کا ایک حصہ زمین سے ٹکرا کر واپس خلا میں بھی پھیل جاتا ہے۔ مگر کچھ گیسوں اور فضائی آلودگی کی وجہ سے زمین کی اوپری فضا میں آلودہ گیسوں کی ایک تہہ بن جاتی ہے جو زمین سے ٹکرا کر جانے والی لہروں کو واپس نہیں جانے دیتی اور اس طرح یہ لہریں زمین پر قید ہوجاتی ہیں اور زمین کا درجہ حرارت بڑھتا ہے۔ اس عمل کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے اس درجہ حرارت کے بڑھنے سے مختلف مسائل آتے ہیں جیسے گلیشیرز کا پگھلنا، سیلاب اور موسمی آفات وغیرہ۔

ان لکیروں میں موجود جمے والے پانی کے بخارات بھی گلوبل وارمنگ کی وجہ بننے والی اس تہہ کا حصہ بن جاتے ہیں اور اس طرح یہ بھی گلوبل وارمنگ کی ایک وجہ ہیں۔ بلکہ گلوبل وارمنگ کے حوالے سے یہ کاربن ڈائی آکسائڈ سے تقریباً چار گنا زیادہ خطرناک ہیں۔ اس وقت یہ ایویشن کی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

جہازوں سے کاربن ڈائی آکسائڈ کا خروج کم کرنے کے لیے تو مختلف طریقے اپنائے گئے۔ مگر ان بخارات کے "کونٹریلز" کے لیے کوئی کامیاب عملی طریقہ سامنے نہیں آیا۔

مگر پھر پاکستان کی خاتون "ایروناٹیکل انجینئر" ڈاکٹر سارہ قریشی" نے ایسا انجن بنایا جو نہ صرف ان پانی کے بخارات کو باہر جاکر کونٹریلز بنانے سے روکے گا اور اسے اندر میں ہی محفوظ رکھے گا بلکہ ان محفوظ شدہ پانی کے بخارات کو بارش برسانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔ یعنی ایک تیر سے دو شکار۔

مجھے ڈاکٹر سارہ قریشی کے اس کارنامے کے بارے میں جب پتہ چلا ثو میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ہمارے ملک ایسے خزانے چھپے ہیں جن کے ٹیلنٹ کی بدولت ہم دنیا میں اپنا وقار بنا سکتے ہیں سارہ قریشی کی اس کامیابی کا کریڈٹ ان کے والد کو بھی جاتا ہے، جو خود ایک فزسٹ ہیں اور دونوں باپ بیٹی نے مل کر ایک کمپنی بھی بنا لی ہے جس سے وہ اپنی ایجاد کو دنیا میں پہنچا رہے ہیں۔

ڈاکٹر سارہ کو 22 سے زیادہ ایوارڈز مل چکے ہیں۔ مگر شاید ان کی کامیابی اتنی مشہور نہ ہو۔ جبکہ آج 23 مارچ کو ایک ادکارہ کو "تمغہ امتیاز"ملا ہے۔ اس کے لاکھوں فالورز ہیں۔ مجھے اس اداکارہ سے بھی مسلہ نہیں۔ لیکن میرے خیال میں ڈاکٹر سارہ قریشی جیسی خواتین ہمارے ملک کی خواتین کی قابلیت کی زیادہ اچھی عکاسی کرتی ہیں۔۔۔

24/08/2023

سنہری موقعہ
دوکان برائے فروخت
پرائم لوکیشن اڈا دواکھڑی 83 پلی مین بس سٹاپ کے اوپر دوکان برائے فروخت ڈیمانڈ 55 لاکھ ہر قسم کے کاروبار کے لیے بلکل موزوں

رابطہ
امبوا پراپرٹی ایڈوائزر اینڈ ڈیزائنر
اڈا 83 پلی دواکھری پینسرہ گوجرہ روڈ
میاں شاہد محمود
واٹسایپ اینڈ کال 03020112299

ایک ایسی ایپلیکیشن جس سے آپ ارن کر سکیں گے USD ڈالر تین طریقوں سے1: ہر 2 گھنٹے بعد Collect کے بٹن پر کلک کریں اور 200 کو...
12/07/2023

ایک ایسی ایپلیکیشن جس سے آپ ارن کر سکیں گے USD ڈالر تین طریقوں سے
1: ہر 2 گھنٹے بعد Collect کے بٹن پر کلک کریں اور 200 کوائن حاصل کریں
2: گیم کھیل کر 500 سے 3000 تک کوائن حاصل کریں
3: انوایئٹ فرینڈز پر آپ کو ملیں گے 300 کوائن اس کے علاوہ جس کو آپ نے جوائن کروایا ہے اس کی ارنیگ سے بھی آپ کو ڈیلی ریواڈ ملے گا

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.pie.dollar

Add my reference code:
miangee2551

11/07/2023

یوٹیوب اور انسٹاگرام سے ویڈیو دیکھ کر 500 سے 1500 تک روزانہ کمائے کا موقعہ
تفصیل کے لئے انبوکس میں ربطہ کریں

08/07/2023

وہ ایک مصری انجینئر اور آرکیٹیکٹ تھا جس نے ظاہری دنیاوی بودوباش سے دور اور نامعلوم رہنے کو ترجیح دی
ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل 1908-2008
وہ مصر کی تاریخ کا سب سے کم عمر شخص تھا جس نے ہائی سکول سرٹیفکیٹ حاصل کیا پھر رائل سکول آف انجینئرنگ کا سب سے کم عمر طالب علم جس نے وہاں سے گریجویٹ ڈگری لی پھر سب سے کم عمر جس کو یورپ سے اسلامک آرکیٹیکچر میں ڈاکٹریٹ کی تین ڈگریاں لینے کے لئے بھیجا گیا-اس کے علاوہ وہ سب سے کم عمر نوجوان تھا جس نے بادشاہ سے ،، نائل،، سکارف اور،، آئرن،، کا خطاب حاصل کیا
وہ پہلا انجینئر تھا جس نے حرمین شریفین کے توسیعی منصوبے کی تعمیر اور عمل درآمد کے لئے اختیارات سنبھالے
اس نے شاہ فہد اور بن لادن کمپنی کے باربار اصرار کے باوجود انجینیرنگ ڈیزائن اور آرکیٹچرل نگرانی کیلئے کسی قسم کا معاوضہ لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں دو مقدس مساجد کے کاموں کیلئے کیوں معاوضہ لوں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا کیسے سامنا کروں گا۔
اس نے 44 سال کی عمر میں شادی کی اور اس کی بیوی نے بیٹا جنم دیا اور زچگی کے بعد فوت ہو گئی اس کے بعد وہ مرتے دم تک عبادت الٰہی میں مصروف رہا اس کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی اور دنیا اور میڈیا کی چکا چوند سے ہٹ کر گمنام رہ کر حرمین شریفین کی خدمت کی۔
اس عظیم آدمی کی حرمین شریفین میں نصب کئے گئے سفید پتھر کے حصول کی بھی بڑی دلچسپ کہانی ہے یہ وہ پتھر ہے جو حرم مکی میں مطاف چھت اور باہر صحن میں لگا ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ گرمی کو جذب کرکے فرش کی سطح کو ٹھنڈا رکھتا ہے یہ پتھر ایک ملک گریس میں ایک چھوٹے سے پہاڑ میں دستیاب تھا. وہ سفر کرکے گریس گئے اور حرم کیلئے کافی مقدار میں تقریباً آدھا پہاڑ خریدنے کا معائدہ کیا
معائدہ پر دستخط کرکے وہ واپس مکہ لوٹے اور سفید پتھر سٹاک میں آگیا اور مکہ حرم میں پتھر کی تنصیب مکمل کرائی۔
پندرہ 15 سال بعد سعودی حکومت نے ایسا ہی پتھر مسجد نبوی میں بھی نصب کرنے کو کہا۔
انجینئر محمد کمال کو جب بادشاہ نے مسجد نبوی میں ویسا ہی ماربل لگانے کو کہا تو وہ بہت پریشان ہوا کیونکہ کرہ ارض پر واحد جگہ گریس ہی تھی جہاں یہ پتھر دستیاب تھا جو کہ آدھا پہاڑ تو وہ پہلے ہی خرید چکے تھے
انجینئر محمد کمال بتاتے ہیں کہ وہ گریس میں اسی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے پاس گئے اسے ملے اور ماربل کی بقایا مقدار جو بچ گئی تھی اس کے بارے میں پوچھا تو چیف ایگزیکٹو نے بتایا وہ ماربل تو ہم نے آپ کے جانے کے بعد بیچ دیا تھا اب تو 15 سال ہو گئے ہیں کمال بہت افسردہ ہوا اور میٹنگ جھوڑ کر جانے لگا تو آفس سیکرٹری سے ملا اور گزارش کی کہ مجھے اس شخص کا اتہ پتہ بتاؤ جس نے بقیہ تمام ماربل کی مقدار خریدی تو اس نے کہا پرانا ریکارڈ تلاش کرنا بہت مشکل ہے لیکن آپ مجھے اپنا فون نمبر دے جائیں میں تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں اس نے اپنا نمبر اور ہوٹل کا پتہ دیا اور اگلے دن آنے کا وعدہ کرکے چلے گئے۔
دفتر چھوڑنے سے پہلے کمال نے سوچا کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ کس نے خریدا اللہ خود ہی کوئی بندوبست کردے گا اگلے دن ایرپورٹ جانے سے چند گھنٹے قبل اسے فون کال آئی کہ مجھے ماربل کے خریدار کا ایڈریس مل گیا ہے اب میں (کمال) بہت آہستہ رفتار سے دفتر گیا کہ اب کیا کروں گا خریدار کے ایڈریس کو کیونکہ اتنا لمبا عرصہ گزر گیا ہے
کمال دفتر پہنچا تو سیکرٹری نے کمپنی کا پتہ دیا جس نے ماربل خریدا تھا جب کمال نے پتہ دیکھا تو کچھ دیر کیلئے اس کا دل دھڑکنا بھول گیا پھر زور کا سانس لیا کیونکہ وہ کمپنی جس نے ماربل خریدا تھا وہ سعودی تھی۔
کمال نے سعودیہ کی فلائیٹ پکڑی اور اسی دن وہ سعودی عرب پہنچا اور سیدھا اس کمپنی کے دفتر پہنچا اور ڈائریکٹر ایڈمن کو ملا اور پوچھا کہ آپ نے اس ماربل کا کیا کیا جو گریس سے خریدا تھا تو اس نے کہا مجھے یاد نہیں پھر اس نے سٹاک روم سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ وہ سفید ماربل جو گریس سے منگوایا تھا کدھر ہےتو انہوں نے کہا وہ ساری مقدار موجود ہے اور اس کو کبھی استعمال نہیں کیا گیا تو کمال ایک بچے کی طرح رونے لگا اور کمپنی کے مالک کو پوری کہانی سنائی. اس نے کمپنی کے مالک کو بلینک چیک دیا اور کہا اس میں جتنی رقم بھرنی ہے بھر لو اور ماربل کی تمام مقدار میرے حوالے کردو جب کمپنی کے مالک کو پتہ چلا کہ یہ تمام ماربل مسجد نبوی میں استعمال ہونا ہے تو اس نے کہا میں ایک ریال بھی نہیں لوں گا اللہ نے یہ ماربل مجھ سے خرید کرایا اور پھر میں بھول گیا اس کا مطلب یہی تھا کہ یہ ماربل مسجد نبوی الشريف میں استعمال ہونا ہے

11/06/2023

ایک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے..
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا..؟؟
آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں. آئیں ایک ایک شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈالیں . کیا پتہ کون گنہگار پڑه کہ راہ راست پہ آجائے

11/06/2023

ایڈیاں گُوڑیاں جگ تے چھاواں لبھدیاں نئیں
ٹُر جاونڑ اک وار تے ماواں لبھدیاں نئیں

پُتر پاویں لکھ جہان تُوں مندے نیں
ماواں آکھنڑ سارے جگ تُوں چنگے نیں
ہور کسے تُوں انج وفاواں لبھدیاں نئیں
ٹُر جاونڑ اک وار تے ماواں لبھدیاں نئیں

مندا منہ چوں بول جے نکلے ٹوک دئیاں
چنگی ماڑی تھاں توں ماواں روک دئیاں
مفت اچ ایڈیاں نیک صلاہواں لبھدیاں نئیں
ٹُر جاونڑ اک وار تے ماواں لبھدیاں نئیں

ماں دے وانگوں کنے درد ونڈانا اے
ایویں بُوہا کھڑکیا کِنے آوّنا اے
ایویں رولے پا نا کاواں لبھدیاں نئیں
ٹُر جاونڑ اک وار تے ماواں لبھدیاں نئیں

کم اک دوستا آکھاں تینوں کر جاویں
ماں دے مرن توں پہلاں پہلاں مر جاویں
جگ اُتے فیر مرن نوں تھاواں لبھدیاں نئیں
ٹُر جاونڑ اک وار تے ماواں لبھدیاں نئیں

ماں دا شاکرؔ انت وِچھوڑا سہنا اے
فیر آپے ڈِگنا آپے اُٹھنا پینا اے
میرا پُت بسمہ اللہ دیاں فیر صداواں لبھدیاں نئیں
ٹُر جاونڑ اک وار تے ماواں لبھدیاں نئیں

ایڈیاں گُوڑیاں جگ تے چھاواں لبھدیاں نئیں
ٹُر جاونڑ اک وار تے ماواں لبھدیاں نئیں​

*طـــــــالـــــبِ دُعــــا🤲🏻🤲🏻*
*🌴🌹شاہد محمود 🌹🌴*

09/10/2020

گیارہ ستمبر بانی پاکستان ،قائد اعظم محمد علی جناح کی برسی کا دن ہے ۔ یہ وہی روز ہے جب تاریخ کا ایک سنہری باب بند ہوا۔ نوجوان نسل اس دن کی اہمیت اور اس دن ہونے والی سرگرمیوں سے بخوبی آگاہ رہے اسی خیال کے پیش نظر یہ یادگار لمحات ایک رپورٹ کی صورت شائع کئے جارہے ہیں۔

گیارہ اور12ستمبر1948ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب کے تین بجے تھے جب ایک سرکاری اعلامیے میں یہ کہا گیا کہ حکومت پاکستان انتہائی حزن و ملال کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ ہفتہ11ستمبر 1948کی رات 10بج کر 25منٹ پر قائد اعظم محمد علی جناح حرکت قلب رک جانے کے باعث اس جہان فانی سے رحلت فرماگئے۔

قائد اعظم کا جنازہ اتوار کو دن کے تین بجے گورنر جنرل ہاؤس سے سفر آخرت پر روانہ ہوگا۔نمازجنازہ کراچی کے نمائش کے میدان میں ادا کی جائے گی۔ نماز جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی پڑھائیں گے جبکہ قائد کی تدفین اسی مقام پر ہوگی جسے جامع مسجد کی تعمیر کیلئے تجویز کیا گیا تھا۔

بارہ ستمبر1948 ء
بارہ ستمبر1948 ء کی صبح7بجے ہی دنیا بھر کی نشر گاہوں سے قائد اعظم کی وفات کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔پاکستانی نشرگاہوں سے مسلسل قرآن پاک کی تلاوت کی جاری تھی۔

کراچی سے لاہور،راولپنڈی سے درہ خیبر اور سلہٹ سے ڈھاکا ۔۔پورے پاکستان کا ماحول افسردہ اور غمگین تھا۔سات لاکھ سے زائدآبادی والا دارالخلافہ کراچی مکمل سوگ میں تھا۔بازار، کاروبار، ٹرانسپورٹ، ڈاک خانے سب بند تھے۔سرکاری طور پر ملک بھر میں 40 روزہ یوم سوگ کا اعلان کیا گیاجبکہ ملک بھر کے سینما گھر اگلے5روز کیلئے بندکردیئے گئے۔

دن کے پونے تین بجے تمام وزراء، ا اعلیٰ حکام اورسفارت کار اس ہال میں جمع ہوئے جہاں قائد اعظم کا جسد خاکی دیدار کیلئے موجود تھا۔

وزیرخارجہ سر ظفر اللہ خان نے آخری دیدار کیلئے قائد کے چہرے سے چادر اٹھائی۔دیدار کے بعدمیت کو قریبی کمرے میں لے جایا گیا جہاں جنازہ مرتب کیا گیا ۔اس مقام سے خاص دروازے تک کاندھا دے کرمیت لانے والو ں میں وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان ،وزیرخارجہ سر ظفر اللہ خان،سردار عبدالرب نشتر،پیر الٰہی بخش ،پیرزادہ عبدالستار اورسید میران محمدشاہ شامل تھے۔

گورنر جنرل ہاؤس کے اطراف لاکھوں انسانوں کا سمندر تھا جو اپنے محبوب قائد کے آخری سفر میں شریک ہونے کیلئے صبح سے ہی پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔

قائد کا جنازہ گورنرہاؤس کے صحن میں رکھا گیا۔سفید بستر پر میت پھولوں سے لدی ہوئی تھی۔ عوام اپنے قائد کا آخری دیدارکررہے تھے۔

مزید ہزارہا آدمی گورنر جنرل ہاؤس کی طرف امنڈرہے تھے اور کئی دیوار پھاند کر اندر داخل ہونا چاہتے تھے۔کچھ نے جوش جذبات میں گورنر جنرل ہاؤس کے دروازے کو توڑدیا۔بمشکل پولیس اور فوج ان پر قابوپاسکی۔گھنٹہ بھر کی کوششوں کے بعد دو قطا�

Address

Main Canal Bank Road, Taj Bagh Bridge, Harbanspura, Lahore Lahore, Pakistan
Lahore
54000

Telephone

03334037764

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AMBUA Home Tution posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to AMBUA Home Tution:

Share