22/07/2026
سرائیکی نام سے اتنی نفرت کیوں؟
کل پنجاب یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ کے موقع پر سرائیکی وسیب ( ڈیرہ غازی خان ) کالج میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ہر سرائیکی وسیب کے دل کو زخمی کر دیا۔
سرائیکی سٹوڈنٹس کونسل کے نوجوان، جو صرف نئے آنے والے طلبہ کی رہنمائی کے لیے Admission Information Desk پر بیٹھے تھے، ان کے بینر پر لکھا ہوا "سرائیکی " کا نام ٹیپ لگا کر چھپا دیا گیا۔
اس انفارمیشن کے بینر پر ""سرائیکی سٹوڈنٹس""نام کو زبردستی ٹیپ لگا کر ختم کیا گیا جو کہ یونیورسٹی کے ائے سٹاف نے کیا۔۔
وہاں پر جن سرائیکی طالبعلوں نے ڈیسک لگایا تھا ان کو( DSA) ڈاکٹر شاہزیب صاحب نے یونیورسٹی سے بے دخلی اور ڈگری سے فارغ ہونے کی دھمکی دی۔۔
مزید (DSA) صاحب نے فوری طور پر بینر سے لفظ "سرائیکی سٹوڈنٹس " مٹانے کا کہا اور ایسا نہ ہونے پر ڈگری ختم کرنے کی دھمکی دی۔
سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے یہ سب ایک ایسے شخص سےہوا(DSA)صاحب جو خود سرائیکی ہے اور سرائیکی وسیب کا بیٹا ہےجس سے سرائیکی وسیب کے لوگ اور طالبعلم یہ امید رکھتے ہیں کہ وسیب کے بچوں کا حوصلہ بڑھائے گا..
حالانکہ یہی انفارمیشن ڈیسک پنجاب یونیورسٹی کے اندر جمعیت اور تمام کمیونٹیز نے لگائے ہوئے تھے۔
یہ صرف ایک بینر پر ٹیپ لگانے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ہماری شناخت، ہماری زبان، ہماری ثقافت اور ہمارے وجود پر ٹیپ لگانے کی کوشش ہے۔
ہم پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ سے پوچھتے ہیں کہ کیا سرائیکی ہونا جرم ہے؟ کیا اپنی مادری زبان اور اپنی شناخت کے نام سے خدمت کرنا کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر یہ دوہرا معیار کیوں؟
ہم سرائیکی وسیب کے تمام نوجوانوں، طلبہ، دانشوروں، وکلا، اساتذہ اور قوم پرست تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس ناانصافی کے خلاف پرامن اور مؤثر آواز بلند کریں۔ آج اگر ہم اپنی شناخت کے مٹائے جانے پر خاموش رہے تو کل ہماری زبان، ہماری ثقافت اور ہماری تاریخ کو بھی مٹانے کی کوشش کی جائے گی۔
ہم صرف انصاف چاہتے ہیں، کوئی خصوصی رعایت نہیں۔ اگر سب کو برابر کا حق حاصل ہے تو سرائیکیوں کو بھی وہی حق ملنا چاہیے۔ سرائیکی نام ہماری پہچان ہے، اور اپنی پہچان پر سمجھوتہ کسی صورت قبول نہیں۔
🚩