04/08/2025
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی
یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک لوٹ کے آیا دعاؤں میں گھرا آیا
اک ایسا درخت ہوں کہ جس پر نہ کوئی پھول کھلا
نہ کوئی پتا ہرا آیا، نہ کوئی پرندہ ٹھہرا آیا
مجھے یہ ضد تھی کہ سورج کو بند مٹھی میں قید کرلوں
میں اندھیروں سے لڑتا رہا، وہ اپنے وقت پہ آ آیا