31/05/2023
*محقق مساٸل جدیدہ مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب زیدہ مجدہ*
مؤلف کی تحریر میں کچھ اضافہ کے ساتھ
ولادت!
مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب کی ولادت 12 جولاٸی ٕ1956 کو ضلع اٹک,تحصیل پنڈی گھیب موضع ڈھوک لاہم میں حاجی محمد خان صاحب کے گھر ہوٸی آپ کا تعلق اعوان قبیلہ سے ہے مفتی صاحب نے یہ بتایاہے کہ ہمارے قبیلے کے بعض بڑے یہ بتاتے ہیں کہ ہمارا آباٸی علاقہ دربٹہ (دندہ شاہ بلاول)ہے وہاں پر کسی زمانے میں بدامنی و فسادات کی فضا ٕ چلی تو ہمارے بڑے وہاں سے ہجرت کرکے یہاں (موضع ڈھوک لاہم ,کھڑپہ ,پنڈیگھیب)آبسے۔
تعلیمی سلسلہ!
آپ نے ابتداٸی تعلیم اپنے ہی علاقہ میں حاصل کی بعد ازاں والد کی خواہش پر (چونکہ آپ کے والد سوٸی کی گیس فیلڈ میں ملازم تھے اور وہاں خلیفہ مفتی اعظم ہند ابو الخیر مفتی محمد حسین قادری صاحب رحمہ اللہ کا تبلیغی سلسلے میں آنا جانا رہتا تھا آپ کے والد حضرت مفتی صاحب سے متاثر ہوکر آپ سے بیعت ہوگۓ اور پھر اپنا ایک بیٹا یعنی قبلہ مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب کو دین کی خدمت کے لیۓ وقف کردیا)جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر میں دوسال تک مفتی محمد حسین صاحب سے اکتساب فیض کرتے رہے اسکے بعد جامعہ شمس العلوم (واں بھچراں ,میانوالی)میں آپ حصول علم دین کی خاطر حاضر ہوۓ اور وہاں ایک سال تک اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا اسکے بعد علم دین کا شوق و جذبہ آپ کو دار العلوم امدادیہ مظہریہ (بندیال) میں لے گیا جہاں آپ استاذ الکل اور دیگر اساتذہ سے علوم دینیہ کا استفادہ کرتے رہےاسی دوران ملتان میں بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی افضل حسین شاہ صاحب رحمہ اللہ نے علم میقات و میراث کا دورہ کروایا توآپ رمضان شریف کی چھٹیوں سے فاٸدہ اٹھاتے ہوۓ وہاں پہنچے اور حضرت بحرالعلوم رحمہ اللہ سے اکتساب فیض کیا آپ نے موقوف علیہ تک علوم کی تحصیل بندیال شریف میں کی اور پھر آپ دارالعلوم امجدیہ میں تشریف لے گۓ اور وہاں دورة الحدیث شریف کیا اور یوں 1980میں آپ نے درس نظامی سے فراغت پاٸی اور عالم و فاضل کی ڈگری سے نوازے گۓ۔
دوران تعلیم ہی آپ علامہ و مفتی فیض احمد اویسی صاحب رحمہ اللہ کے پاس جامعہ اویسیہ (بھاولپور )میں حاضر ہوۓ اور وہاں کچھ دن علم دین کی خاطر قیام فرمایا ۔
اسکے بعد جس جامعہ سے آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز کیا تھا وہیں پر(جامعہ غوثیہ رضویہ ,سکھر) بطور مدرس مقرر ہوۓ آپ کی قابلیت و مہارت کے پیش نظر مفتی محمد حسین قادری صاحب نے ٕ82 میں آپ کو ناٸب مفتی کا عہدہ سپرد کردیا ( تادم تحریر آپ کو فتوی دیتے ہوۓ چالیس سال سے زاٸد عرصہ بیت چکا)اور ٕ86 میں شیخ الحدیث کے منصب پر فاٸز کردیا ۔مفتی محمد حسین صاحب نے متعدد مواقع پر قبلہ مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب کو اپنے جانشین کی حیثیت سے متعارف کروایا ۔ابوالخیر مفتی محمد حسین صاحب رحمہ اللہ کا جب وصال ہوا تو آپ کے چہلم پر سکھر سٹیڈیم میں ہزاروں کے مجمع میں قاٸد اھلسنت علامہ شاہ احمد نورانی صاحب رحمہ اللہ نے حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کاجانشین ہونے کی حیثیت سے آپ کی جبہ پوشی و دستار بندی فرماٸی اسکے بعد آپ نے جامعہ غوثیہ رضویہ کے انتظامات سنبھالے اور ساتھ ہی رٸیس دار الافتا ٕ ,مہتمم جامعہ اور مفتی حسین صاحب رحمہ اللہ کا جانشین ہونے کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے لگے ۔
جدید مساٸل شرعیہ کی خوب تحقیق رکھتے ہیں آپ ماہر مفتی اور عظیم فقیہ ہیں بالخصوص علم توقیت پر مہارت تامہ رکھتے ہیں اگر یوں کہا جاۓ کہ آپ اس وقت ملک پاکستان میں علم توقیت کو سب سے زیادہ جاننے و علم رکھنے والے ہیں تو ہرگز بے جا نہ ہوگا۔
اساتذہ!
آپ نے حصول علم دین کی خاطر مختلف اساتذہ کے سامنے زانوۓ تلمذ پھیلاۓ اور ان سے اکتساب فیض کیا جن میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں۔
(1)استاذ الکل ,امام المناطقہ ,علامہ عطا ٕ محمد بندیالوی صاحب رحمہ اللہ
(2)مفتی پاکستان علامہ وقار الدین قادری صاحب رحمہ اللہ
(3) شیخ الحدیث علامہ و مفتی عبد المصطفی ازہری صاحب رحمہ اللہ
(4) مفتی محمد حسین قادری صاحب رحمہ اللہ
(5)بحر العلوم ,علامہ و مفتی افضل حسین شاہ صاحب رحمہ اللہ
(6)حضرت علامہ ابو الفتح محمد اللہ بخش صاحب رحمہ اللہ (واں بھچراں)
(7)حضرت علامہ عبد الحق بندیالوی صاحب زید مجدہ (بندیال شریف)
(8)حضرت علامہ ابراہیم سیالوی صاحب رحمہ اللہ (واں بھچراں)
بیعت و خلافت !
1980ٕ یا 1981ٕ میں برہان ملت خلیفۂ اعلیٰ حضرت مظہر شریعت مفتی برہان الحق جبل پوری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1984) کراچی تشریف لاۓ تو مفتی صاحب سکھر سے آپ کی بارگاہ میں حاضری کے قصد سے چلے اور وہاں پہنچ کر آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوگۓ۔
خلافت !
آپ کو ابوالخیر مفتی محمد حسین قادری صاحب رحمہ اللہ اور نبیرہ اعلی حضرت منان رضا خان منانی میاں دام اقبالہ سے خلافت بھی حاصل ہے ۔
تصنیفات !
آپ نے اب تک ہزاروں فتاوی تحریر کیے ہیں جن سے ہزاروں لوگوں نے استفادہ کیا مگر افسوس کہ یہ گراں قدر مجموعہ ابھی تک شاٸع نہ ہوسکا ۔آپ نے کٸ کتب و رساٸل تصنیف کیے جن میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں۔
(1)تین طلاقوں کی شرعی حیثیت
(2)مساٸل زکوة
(3)نومسلمہ عورت کے شرعی مساٸل
(4)فتاوی قادریہ
اول الذکر تین طبع شدہ ہیں اور فتاوی قادریہ تاحال طبع نہیں ہوسکا اسکے علاوہ بھی تصنیفات ہیں جو تاحال زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوسکیں آپ کے مختلف مضامین مختلف رساٸل و جراٸد میں شاٸع ہوتے رہے ہیں۔
جن میں ماھنامہ "السعید " اور "نور الحبیب"سرفہرست ہیں۔
چند مضامین کے عنوانات
(1)اعضا ٕ کی پیوندکاری
(2)انتقال خون
(3)منصوبہ بندی
(6)ڈی این اے کی شرعی حیثیت
اسکے علاوہ آپ وقتا فوقتا مختلف ٹی وی چینلوں پر آکر بھی عقاٸد اھلسنت کی ترجمانی فرماتے رہتے ہیں ۔
تبلیغی اسفار !
آپ نے تبلیغ دین کے لیۓ مختلف ممالک کے دورے کیے انکے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
(1)عرب ممالک
(2)شام
(3)اردن
(4)استنبول
تلامذہ !
آپ کا عرصہ تدریس تقریبا پینتالیس سال کو محیط ہے بلاشک و شبہ آپ ہزاروں علما ٕ کے استاذ ہیں ۔آپ کے چند تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں۔
(1)مفتی دعوت اسلامی مفتی فاروق قادری العطاری صاحب رحمہ اللہ
(2)مفتی غلام غوث بغدادی صاحب
(3)مولانا مفتی محمد رمضان سیالوی خطیب مسجد داتاصاحب
(4)مفتی محمد عارف سعیدی صاحب
(5)مولانا مفتی جمیل احمد رضوی گھوٹکی
(6)مولاناسید ذیشان مدنی عطاری لطیف آبادحیدرآباد
(7)مولاناغلام مجتبی عطاری
(8) مولانا عبد الرشید عطاری فیضان مدینہ سکھر
(9)مولاناجمیل احمد مدنی محراب پور
10مولانامفتی جمیل احمد چنہ روہڑی (نائب مفتی جامعہ غوثیہ سکھر)
(11)مولانا محمد نعمان حنفی مفتی وصدر مدرس جامعہ انیس المدارس سکھر
(12)مولانا محدشہزاد صاحب مدرس جامعہ غوثیہ وجامعہ انیس المدارس سکھر
(13)مولانا غلام شبیرصاحب
(14)مولاناساجدالرحمن صاحب
(15)مولانا محمد حارث صاحب
(16)مولانا حنیف چاچڑ صاحب
(17مولانا حضور بخش صاحب
حال مدرسین جامعہ غوثیہ سکھر
پسندیدہ شخصیت !
مفتی محمد ابراہیم قادری صاحب خود فرماتے ہیں کہ کم عمری سے ہی مجھے امام شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ کی شخصیت کے ساتھ الفت و محبت تھی حتی کہ جب کبھی معلوم ہوتا کہ فلاں جگہ نورانی صاحب تشریف لارہے ہیں تو وہاں پہنچ جاتا ۔
تنظیمی وابستگی !
چونکہ آپ شاہ احمد نورانی صاحب کی شخصیت سے انسیت رکھتے تھے اسی سبب آپ جمیعت علماۓ پاکستان کے ساتھ وابستہ ہوۓ اور 2005 میں جمیعت علماۓ پاکستان سندھ کے سینٸر ناٸب صدر مقرر ہوۓ اور 2008 میں صوباٸی صدر کا منصب سنبھالا۔قبلہ مفتی صاحب کا دو مرتبہ اسلامی نظریاتی کونسل میں انتخاب ہوا پہلی دفعہ مٸی 2009 سے 2012تک اور دوسری مرتبہ 2013 سے لے کر 2016 تک آپ مرکزی رٶیت ہلال کمیٹی پاکستان کے تقریبا پانچ سال تک ممبر رہے ۔
رشتہ ازدواج !
آپ کی رفیق حیات آپ کی خالہ زاد ہیں اللہ عزوجل نے آپکو ایک بیٹی اور تین بیٹوں سے نوازا ہے آپ نے ساری اولاد کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ہے آپ کے چھوٹے صاحبزادے جناب علی رضا صاحب عالم دین و مفتی شرع ہیں۔
علما ٕ و طلبہ کے لیے پیغام !
"اللہ کی رضا کے لیۓ پڑھیں اللہ کی رضا کے لیۓ پڑھاٸیں اللہ تعالی دین کے خدمت گاروں کو یوں آزاد نہیں چھوڑتا اور اللہ انہیں بے آسرا نہیں چھوڑتا اور غیب سے وساٸل پیدا فرمادیتا ہے تو بس اللہ کی رضا کے لیۓ پڑھا جاۓ اور اللہ کی رضا کے لیۓ پڑھایا جاۓ بالخصوص جودین کے طالب علم ہیں وہ انگریزی علوم پڑھیں , اسکولز و کالجز میں پڑھیں اور سرکاری پوسٹوں کی ملازمت کے لیۓ اپلاٸی کریں وہاں ہماری بہت ضرورت ہے اسکے لیۓ کوشش کریں۔
حج و عمرہ کی سعادت !
آپ نے پہلا عمرہ سن 95ٕ میں کیا جس کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ ایسا سکون میسر آیا جسے میں بیان نہیں کرسکتا ۔پھر 2000ٕ میں آپ اپنی والدہ ,اہلیہ اور خالہ کے ساتھ سفر حج پر روانہ ہوۓ اور اپنا پہلا حج ادا کیا اسکے بعد بھی آپ نے معتدد عمرے اور حج کیے۔
ماتحت مساجد ومدارس!
ملک بھر میں درجنوں ادارے و مدارس آپ کے ماتحت چل رہے ہیں جن میں سے مرکزی جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر اور اسکی متعدد شاخیں اور آپ کے آباٸی علاقے میں حفظ و ناظرہ اور درس نظامی کے دو مدارس شامل ہیں۔
دکھ بھرا لمحہ!
آپ کے والد کا انتقال 1985ٕ میں ہوا یقینا اپنوں کی جداٸی کا درد قابل بیان نہیں ہوتا مفتی صاحب کہتے ہیں والد صاحب کا انتقال میری زندگی کا دکھ بھرا لمحہ تھا۔
پسندیدہ مشغلہ !
آپ کا پسندیدہ مشغلہ کتب بینی اور مطالعہ ہے پسندیدہ لباس کرتا شلوار ہے کھانے میں دال چاول ,بھنڈی اور پاۓ پسند ہیں۔خاص کسی کھیل کا شوق نہیں مگر بچپن میں والی بال اور فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔موسم سرما اور موسم بہار آپ کے لیۓ آرام دہ موسم ہیں۔آپ کو اعلی حضرت امام اھلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ کی شاعری سے لگاٶ ہے شہنشاہ سخن علامہ حسن رضا خان بریلوی ,شاہ نصیر الدین نصیر اور فیض احمد فیض کی شاعری بھی مطالعہ میں رہتی ہے۔
روزانہ کا معمول !
ہرروز بعدفجر چارکلومیٹر واک کرنا ,جامعہ غوثیہ رضویہ میں تدریس کرنا اور ساٸلین کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دینا آپ کا معمول ہے۔
دعا ہے حق تعالی آپ کے صحت و سلامتی والی طویل زندگی عطا فرماۓ۔
نوٹ!کچھ مواد ایک انٹرویو سے اخذ کیا گیا جو کچھ سال قبل آپ سے لیا گیا اور اخبار میں شاٸع ہوا اور باقی معلومات آپ کے برادر اصغر جناب نور محمد صاحب کی وساطت سے حاصل ہوٸیں)
مرتب!بلال احمد شاہ ہاشمی