12/10/2021
غلط راستے پر انسان جتنا آگے سفر کر جائے واپسی پر اتنا ہی سفر کرنا پڑتا ہے،
انسان ایک چلانگ لگا کر کنویں میں گر تو جاتا ہے لیکن 100 چھلانگیں لگانے پر بھی باہر نکلنا مشکل ہوجاتا ہے،
ایک وقت تھا جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو معاشی ماہرین نے یہ کہنا شروع کیا کہ ن لیگ نے جس حالت میں ملک چھوڑا ہے نئی حکومت کیلیئے ملک چلانا تقریبا" ناممکن ہے،
یہاں تک کہ مریم نواز نے میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ " عمران خان ملک نہیں چلا سکے گا، یہ کچھ ہی عرصے بعد لندن بھاگ جائے گا"
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اسحاق ڈار نے جو مائنز لگا رکھی ہیں ان کو کراس کرنا ممکن نہیں،
بہرحال ایسا نہیں ہوا،
عمران خان نے ملک کا تجارتی خسارہ ختم کرکے سٹیٹ کی سانس بحال کی، وہی خسارہ جو نوازشریف 20 ارب ڈالر تک چھوڑ کر گیا تھا،
میں سمجھتا ہوں کہ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو معاہدے سابقہ حکومتیں کرگئی ہیں ان کا خمیازہ میرے سمیت ہم سب کو ہی بھگتنا ہے،
اب دو ہی راستے ہیں،
قوم مشکل وقت اپنے اوپر برداشت کرلے اور سٹیٹ بچالے، یا پھر سٹیٹ کو دوبارہ بوجھ تلے دبا دیا جائے اور قوم کو اسی طرح سبسڈیوں کی لت میں مبتلا کردیا جائے،
یاد رہے،
ہم وہی قوم ہیں جو نعرہ مستانہ لگاتے نہیں تھکتے کہ "گھاس کھا لیں گے لیکن ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے"
لیکن اب جب عمل کا وقت ہے تو اچھے بھلوں کی چیخیں نکل رہی ہیں،
نعرے بہت لگ گئے، اب عمل کا وقت ہے،
اور ایک یقین دہانی میری طرف سے لے لو،
یہ مشکل اور ناقابل برداشت وقت بطور قوم اگر ہم نے برداشت کرلیا تو اس کے بعد آسانیوں کی گارنٹی مجھ ناچیز سے لے لیں،
لیکن یہ طے ہے ، کہ جتنا سفر ہم نے قرضے لے لے کر سبسڈیوں سے طے کیا ہے اتنا سفر ہمیں واپسی کا بھی طے کرنا ہوگا،
وہ ہم چیخیں مار مار کر گزاریں یا الحمدللہ کہہ کر گزاریں،
واپسی کا اتنا ہی سفر بہرحال ہمیں طے کرنا ہی پڑے گا۔
پاک فوج پاک آئی ایس آئی زندہ باد
پاکستان پائندہ باد