16/03/2026
پروفیسر میاں عمیر غنی بھٹی: تدریس، انتظام اور سماجی خدمات کا امین
تحریر:پروفیسر محمد مزمل صدیقی
پروفیسر میاں عمیر غنی بھٹی کا شمار جنوبی پنجاب کے ان ممتاز اساتذہ میں ہوتا ہے جو تدریس کے ساتھ ساتھ علمی، ادبی اور انتظامی میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے علم دوست خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے طویل عرصے سے علاقے میں علم و شعور کی شمع روشن رکھی ہوئی ہے۔ ان کے خاندان کے افراد نہ صرف تعلیم بلکہ پورے علاقے میں علم و حکمت کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں اور علمی،طبی اور سماجی خدمات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
میاں عمیر غنی بھٹی کا تعلق ضلع مظفر گڑھ کے نواحی علاقے چک نمبر 6/4 ایل، ڈاکخانہ رنگپور سے ہے وہ 19 اپریل 1974ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم میاں عبدالغنی بھٹی نے گورنمنٹ ہائی سکول رنگپور میں بطور سینئر ہیڈ ماسٹر ریٹائرمنٹ تک خدمات انجام دیں۔ والد صاحب نے اپنی تدریسی خدمات کے دوران نہ صرف طلبہ کی بہترین تربیت کی بلکہ علاقے میں خوب عزت اور شہرت حاصل کی۔پروفیسر عمیر غنی کی علمی و تدریسی زندگی مسلسل محنت اور لگن کی روشن مثال ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول رنگپور سے حاصل کی اور 1989ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد وہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے لیے مظفر گڑھ چلے گئے، جہاں انھوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج مظفر گڑھ سے1993ء میں انٹرمیڈیٹ مکمل کیا پھر گورنمنٹ سائنس کالج ملتان سے بی ایس سی (Botany, Zoology, Chemistry) کی ڈگری1996ء میں حاصل کی۔ یہاں ان کی زندگی میں ایک حیران کن موڑ آیا سائنس کی دنیا سے نکل کر انہوں نے انسانی معاشرت اور سیاست کے میدان میں قدم رکھا، جو ان کی علمی جستجو کی گہرائی کا مظہر تھا۔ ایم اے سیاسیات کا انتخاب ایک نیا راستہ تھا جس نے ان کے علمی افق کو وسیع کر دیا۔ 1999ء میں گورنمنٹ بوسن روڈ کالج ملتان سے ایم اے سیاسیات اور 2000ء میں گورنمنٹ ایجوکیشن کالج ملتان سے B.Ed کی ڈگری حاصل کی۔
علم و تحقیق کے شوق نے ان کے اندر مستقل جستجو پیدا کی۔ اسی لگن نے انہیں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان تک پہنچایا، جہاں انہوں نے 2001ء تا 2003ء کے سیشن میں MPhil سیاسیات مکمل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ ''جنوبی ایشیا میں عورتوں اور بچوں کی خرید و فروخت'' کے حساس اور اہم موضوع پر تھا، جو انسانی حقوق کے مسائل میں ان کی گہری دلچسپی کا مظہر ہے۔پروفیسر میاں عمیر غنی کا انسانی حقوق کے شعبے میں رجحان صرف تحقیقی کام تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ سماجی سطح پر بھی خواتین اور بچوں کے تحفظ، مساوات اور انصاف کے فروغ کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ انہوں نے طلبہ میں شعور اجاگر کرنے، مقامی کمیونٹیز میں آگاہی پھیلانے اور معاشرتی ناانصافی کے خلاف چھوٹے پیمانے پر اقدامات کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ انسانی حقوق کی یہ دلچسپی اور شعور ان کی تدریسی حکمت عملی اور نصاب سازی میں بھی جھلکتا رہا، جس سے طلبہ میں حساسیت، ذمہ داری اور معاشرتی شعور کی فکری تربیت ممکن ہوئی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تدریسی میدان کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ پروفیسر میاں عمیر غنی نہ صرف ایک بہترین استاد اور منتظم ہیں بلکہ ایک حساس دل رکھنے والے شاعر اور ادبی شخصیت بھی ہیں۔ وہ بہت کم اور خوبصورت شعر کہتے ہیں ان کے اشعار محبت اور جمالیات کی حسین تصاویر پیش کرتے ہیں۔ان کی یہ خوبصورت نظم دیکھیے۔
میرے بس میں اگر ہو جاناں
تو چاند تارے یہ کہکشائیں
ابھرتے سورج کی ساری کرنیں
جہاں پہ چندا کی خوابگاہ ہے وہ سب کنارے
گلوں کے دامن پہ جو منقش ہیں رنگ سارے
تمہارے قدموں میں ڈھیر کردوں
میرے بس میں اگر ہو جاناں
تو چاند راتوں کی چاندنی میں ڈھلی وہ ساحل کی ریت لاوں
جس پہ لہروں نے رقص سیکھا ہے زندگی کا
جس کے ذروں پہ حسن والوں نے اپنی پلکیں بچھا رکھی ہیں
میں ساری پلکیں سمیٹ لاوں
تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں
میرے بس میں اگر ہو جاناں
تو آسماں سے میں بادلوں کے سفید آنچل اتار لاوں
میں الپسراوں کے دیس جاوں شباب لاوں
زمیں کی وسعت میں پھیل جاوں گلاب لاوں
تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں
پروفیسر میاں عمیر غنی نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز 2002ء میں ایلیمنٹری سکول ایجوکیٹر کی حیثیت سے گورنمنٹ ہائی سکول کوڈیوال سے کیا، جہاں وہ 2005ء تک خدمات انجام دیتے رہے۔ 7 مئی 2005ء کو انہوں نے بطور لیکچرار گورنمنٹ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ بعد ازاں 2007ء میں تبادلے پر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفر گڑھ چلے آئے۔2011ء میں انہیں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے براہِ راست اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، جو ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اہم اور یادگار سنگِ میل ثابت ہوا۔ اسی سال انہیں اپنے آبائی شہر کے معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ انٹر کالج رنگپور میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ تاہم دو سال بعد وہ دوبارہ گورنمنٹ گریجویٹ کالج مظفر گڑھ واپس آ گئے۔ 2022ء میں انہیں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ یہ مقام ان کی مسلسل محنت، لگن اور تعلیمی خدمات کا اعتراف تھا اور ان کے پیشہ ورانہ سفر میں ایک نمایاں باب کے طور پر درج ہوا۔
پروفیسر میاں عمیر غنی صرف ایک استاد ہی نہیں بلکہ ایک فعال منتظم اور باصلاحیت مقرر بھی ہیں۔ سکول کے زمانے سے ہی وہ بہترین مقرر رہے ہیں۔ یہی صلاحیت بعد میں کالج کی تقریبات میں بھی نمایاں رہی اور 2007ء سے آج تک وہ کالج کے بہترین اسٹیج سیکرٹری اور کمنٹیٹر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔پرنسپل پروفیسر بشیر لطیف کے زمانے میں جب حکومت پنجاب کی ہدایات کے تحت کالجوں میں نظریہ پاکستان سوسائٹی قائم کی گئی تو انہیں اس کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ ان ہی کی تجویز پر کالج کے ایک ہال کو”پاکستان ہال“کا نام دیا گیا اور اسے تحریکِ پاکستان کے مشاہیر کی تصاویر اور تعارف سے آراستہ کیا گیا، جو پورے ڈویژن میں اپنی نوعیت کا منفرد ہال تھا۔پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر شعیب عتیق خان کے زمانے میں انہوں نے آل پنجاب مباحثہ مقابلوں میں سرائیکی اور پنجابی مباحثوں کے لیے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیے، جنہیں بے حد سراہا گیا۔ اسی دوران 2011ء میں انہوں نے بطور چیف ایڈیٹر کالج کا اخبار“خبرنامہ”جاری کیا۔
انتظامی امور میں بھی پروفیسر عمیر غنی کی خدمات نمایاں رہی ہیں۔ وہ تقریباً پانچ سال تک کنٹرولر امتحانات رہے، جبکہ گزشتہ آٹھ برس سے ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 2019ء سے وہ کالج کے پراپرٹی انچارج بھی ہیں۔ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر رحمت اللہ کے زمانے میں انہیں اسٹیٹ آفیسر اور بیوٹیفکیشن انچارج مقرر کیا گیا تو انہوں نے کالج کے فرنٹ لانز کو خوبصورت بنا کر ادارے کے ماحول کو مزید دلکش کر دیا۔
کالج میں منعقد ہونے والی ثقافتی تقریبات میں بھی ان کی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار ہوا۔ پرنسپل پروفیسر رانا مسعود اختر اور پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر اشرف حسین کے ادوار میں انہیں کلچرل شو اور سانئس نمائش کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا تو انہوں نے نہایت محنت، بہترین منصوبہ بندی اور عمدہ انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ان پروگراموں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں یہ ثقافتی تقریبات نہ صرف طلبہ و اساتذہ میں بے حد مقبول ہوئیں بلکہ کالج کی تاریخ کے یادگار ترین پروگراموں میں شمار ہونے لگیں۔
علمی سرگرمیوں میں بھی پروفیسر عمیر غنی کا کرداراہم ہے۔ بطور چیئرمین پراسپیکٹس اینڈ میگزین کمیٹی انہوں نے دو مرتبہ بہترین کالج میگزین ''پنجند ''شائع کیا۔ جب کالج میں بی ایس سیاسیات کے پروگرام کا آغاز ہوا تو بطور صدر شعبہ انہوں نے اسے کالج کے نمایاں اور فعال ڈیپارٹمنٹ میں تبدیل کر دیا۔طلبہ کی کردار سازی کے لیے قائم ہونے والی کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی (CBS)کے وہ پہلے چیف آرگنائزر رہے جبکہ کالج کی سٹوڈنٹ کونسل کے پہلے چیئرمین ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔ ملکی انتخابی عمل کی تربیت کے لیے جب ماسٹر ٹرینرز کا انتخاب ہوا تو انہیں مظفر گڑھ میں ٹاپ کیٹیگری ماسٹر ٹرینر منتخب کیا گیا۔
اساتذہ کی تنظیمی سرگرمیوں میں بھی انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے انتخابات میں وہ کالج کے مقامی یونٹ کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے اور 2024ء کے انتخابات میں ایڈیشنل سیکرٹری ساؤتھ پنجاب منتخب ہوئے۔اپنی علمی اور تدریسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ مختلف جامعات میں منعقد ہونے والے متعدد سیمینارز اور ورکشاپس میں بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔وہ غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خاں میں ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری اینڈ پولیٹیکل سانئس کے بورڈ اف سٹڈیز کے ممبر بھی ہیں۔
طلبہ کو ہمیشہ اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ تعلیم کو اپنی زندگی کا اصل سرمایہ سمجھیں اور خلوص، محنت اور ثابت قدمی کے ساتھ علم کے حصول میں مصروف رہیں۔ وہ اس یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر نوجوان سنجیدگی کے ساتھ تعلیم حاصل کریں تو نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کی تقدیر بھی بدل سکتے ہیں، کیونکہ غربت اور محرومی کے خاتمے کا سب سے مؤثر راستہ حصول علم ہی ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پروفیسر میاں عمیر غنی کی شخصیت علم، تدریس، تنظیم اور طلبہ کی کردار سازی کے حسین امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کی خدمات نہ صرف گورنمنٹ گریجویٹ کالج مظفر گڑھ بلکہ پورے خطے کے تعلیمی ماحول کے لیے باعثِ صد افتخار ہے