21/06/2022
مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کی تصنیف
"اچھی حکمرانی"
صفحہ نمبر۔۔۔۔۔ 155
عنوان۔۔۔۔۔۔"معاشرے میں فرد کی اہمیت"سے اقتباس۔
"یہ اچھی طرح حق الیقین معلوم ہونا چایئے کہ حکمرانی ہو یا کوئی اور نظام ہو اس کا اصل اور بنیادی مدعا و مقصود فرد ہے۔ہمارے ہاں اسی ایک امر کی سمجھ،شعور اور احساس نہیں ہے جس وجہ سے ترقی و تعمیر کے دریا بہا دینے کے باوجود ایک بے چینی بلکہ بے یقینی تسلسل سے چلی آ رہی ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جب ہم فرد کی بات کرتے ہیں تو معلوم ہونا چایئے کہ کون سا فرد مراد ہے۔کیا کروڑوں اور اربوں پتی،سمگلر اور لوٹ مار کرنے والا فرد مراد ہے۔یقینا نہیں۔اس سے مراد وہ فرد ہے جو ضرورت کے لیئے پریشان ہے۔کچھ لوگ وہ ہیں جو ضرورت سے زاہد کے لیے پریشان ہیں۔لیکن اہمیت اس فرد کی ہے جو ضرورت کے لیئے پریشان ہے۔اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک بھی اہمیت اسی کی ہے کیوں کہ اس کا اللہ کے سوا کوئی اور سہارا نہیں ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جو مالک حقیقی کے قریب ہیں۔یاد رکھیں کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں تو ان کی کوئی حقیقت نہیں ہو گی جب تک اس مسکین شخص کو اعتماد نہیں ہوتا کہ وہ بھی اس معاشرے کا ایک معزز فرد ہے۔اس بارے میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ارشادات کو بغور دیکھیئے اور اپنے کردار کو ٹٹولیئے۔پھر اگر اللہ عمل کی توفیق دے تو اس کے اثرات کا بھی بغور جائزہ لیجئے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:(سورہ التحریم آیت 6)
ترجمہ۔۔۔۔اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو آگ سے بچاؤ۔
یہ خطاب فرد سے ہے کہ وہ اپنے آپ کو آگ سے بچائے اور پھر اپنے اہل و عیال کو۔اگر غور سے دیکھیں تو یہی کل معاشرہ ہے۔"