25/02/2026
خلیل سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کیمپس اس امر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے کہ ہمارے کیمپس صدر فہد خلیل کو غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے گرفتار کر کے لاپتہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آئینِ پاکستان میں دی گئی آزادیِ اظہار اور منصفانہ قانونی عمل کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دو مختلف طلبہ سیاسی تنظیموں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کو جواز بنا کر فہد خلیل کو نشانہ بنانا بدنیتی پر مبنی اقدام معلوم ہوتا ہے۔ اگر کسی واقعے کی تحقیقات درکار تھیں تو اس کے لیے شفاف اور غیر جانبدار قانونی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے تھا، نہ کہ کسی منتخب نمائندے کو غیر آئینی طور پر حراست میں لے کر لاپتہ کیا جائے۔
ہم حکومتِ وقت، متعلقہ اعلیٰ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
فہد خلیل کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور رہا کیا جائے۔
اس واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔
متعلقہ ایس ایچ او اور دیگر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اگر وہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب پائے جائیں۔
ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ خلیل سٹوڈنٹ آرگنائزیشن ایک پُرامن اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ اگر ہمارے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو ہم اپنے جمہوری اور قانونی حق کے تحت پُرامن احتجاج، قانونی چارہ جوئی اور دیگر آئینی راستے اختیار کریں گے۔ ہمارا مقصد کسی قسم کا انتشار پیدا کرنا نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔
انصاف کی فراہمی ہی ریاست کی اصل ذمہ داری ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ متعلقہ حکام اس ذمہ داری کو فوری اور سنجیدگی سے پورا کریں گے۔