30/03/2026
موجودہ عالمی حالات مین کشمیر کی ازادی نزدیک تر ہے کشمیریوں کا مستقبل خطے کی واحد ایٹمی سپر طاقت پاکستان سے وابستہ ہے بدلتے ہوے حالات احادث کی روشنی میں دیکھنا پرکھنا ضروری ہے
سْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ
اردو مفہوم:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک شخص (مہدی) کی بیعت مقامِ ابراہیم اور رکن (حجر اسود) کے درمیان کی جائے گی، اور اس بیت اللہ کی حرمت کو وہی لوگ پامال کریں گے جو اس کے اہل ہوں گے۔"
2. ملحمہ کے دوران مہدی کی قیادت
امام مہدی بڑی جنگ میں "رومیوں" (مغربی طاقتوں) کے خلاف مسلم افواج کی قیادت کریں گے۔
عربی:
يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي، يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا
اردو مفہوم:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میرے اہل بیت سے ایک شخص نکلے گا جس کا نام میرے نام پر (محمد) اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر (عبداللہ) ہوگا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی۔"
3. دمشق میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
جب امام مہدی ملحمہ کے بعد دجال کا سامنا کرنے کے لیے دمشق میں صبح کی نماز کی تیاری کر رہے ہوں گے، تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔
عربی:
يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ
اردو مفہوم:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس دو زرد چادروں میں (فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے) اتریں گے۔"
4. حضرت عیسیٰ (ع) کی امام مہدی کے پیچھے نماز
یہ حدیث مسیح علیہ السلام کی واپسی کے وقت امت کی وحدت اور امام مہدی کی قیادت کو اجاگر کرتی ہے۔
عربی:
فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ
اردو مفہوم:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر (مہدی) کہے گا: 'آئیے، ہمیں نماز پڑھائیے'۔ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے: 'نہیں، تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں' (یہ اللہ کی طرف سے اس امت کی عزت ہوگی)۔"
5. بابِ لُد پر دجال کا خاتمہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا اہم ترین موڑ موجودہ تل ابیب (لد) کے قریب دجال کی ہلاکت ہے۔
عربی:
فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ
اردو مفہوم:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "پھر عیسیٰ علیہ السلام دجال کا پیچھا کریں گے یہاں تک کہ اسے 'بابِ لُد' (اسرائیل میں واقع مقام) پر پا لیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔"
ملحمۃ العظمیٰ: مقام اور شدت
1. مقام اور مسلمانوں کا مرکز
عربی:
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ، مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ
اردو مفہوم:
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بڑی جنگ (ملحمۃ العظمیٰ) کے دن مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) 'غوطہ' کے مقام پر ہوگا، جو دمشق (شام) نامی شہر کے پہلو میں واقع ہے، جو شام کے بہترین شہروں میں سے ایک ہے۔"
2. جنگ کی شدت
عربی:
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ... فَيَقْتَتِلُونَ، فَيَشْتَدُّ الْقِتَالُ، حَتَّى تَمُرَّ الطَّيْرُ بِجَنَبَاتِهِمْ فَمَا تُخَلِّفُهُمْ حَتَّى تَخِرَّ مَيْتَةً
اردو مفہوم:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "وہ (مسلمان اور رومی) لڑیں گے اور جنگ اتنی شدید ہوگی کہ اگر کوئی پرندہ ان کے پہلوؤں سے گزرے گا تو وہ انہیں پار کرنے سے پہلے ہی مردہ ہو کر گر جائے گا۔"
3. دشمن کے 80 جھنڈے
عربی:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُقَالِحُونَ الرُّومَ... ثُمَّ يَغْدِرُونَ، فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا
اردو مفہوم:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم رومیوں سے صلح کرو گے... پھر وہ غداری کریں گے اور تمہارے پاس اسی (80) جھنڈوں کے نیچے آئیں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار (12,000) سپاہی ہوں گے۔" (مجموعی تعداد: 960,000)
4. جنگ کا آغاز: دابق اور اعماق
عربی:
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقَ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الْمَدِينَةِ، مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ
اردو مفہوم:
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک رومی 'اعماق' یا 'دابق' (شمالی شام کے مقامات) میں نہ اتر آئیں۔ ان کے مقابلے کے لیے مدینہ (یا اس وقت کے مرکز) سے ایک لشکر نکلے گا جو اس وقت زمین کے بہترین لوگوں میں سے ہوگا۔
5. انجام: قسطنطنیہ کی فتح
عربی:
عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ، وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ، وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ
اردو مفہوم:
بیت المقدس کی آبادی (رونق) مدینہ کی ویرانی ہوگی، مدینہ کی ویرانی بڑی جنگ (ملحمہ) کا نکلنا ہوگی، اور بڑی جنگ کا نکلنا قسطنطنیہ کی فتح ہوگی۔
غور طلب نکات:
میدانِ جنگ: یہ تمام احادیث شام (Al-Sham) کو مرکزی میدانِ جنگ کے طور پر ظاہر کرتی ہیں۔
نتیجہ: مسلمان آخر کار غالب آئیں گے، لیکن ایک بڑے جانی نقصان کے بعد (ایک تہائی شہید ہو جائیں گے، ایک تہائی بھاگ جائیں گے، اور ایک تہائی فاتح ہوں گے)۔
ترتیب: جدید اسکالرز یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ اگرچہ قسطنطنیہ 1453 میں فتح ہوا تھا، لیکن حدیث ملحمہ کے بعد ایک حتمی یا روحانی فتح کی طرف اشارہ کرتی ہے۔