Transport Office University of Okara

Transport Office University of Okara Driven: Motivated to achieve my goals. Adaptable: Flexible in changing situations. Enthusiastic: Passionate about my interests and pursuits.

Collaborative: Enjoy working with others and contributing to team success. Curious: Always eager to learn and explore new ideas. Reliable: Dependable and trustworthy in commitments. Creative: Think outside the box and bring innovative solutions. Empathetic: Understanding and compassionate towards others. Organized: Skilled at managing tasks and time effectively. Resilient: Able to bounce back from challenges and setbacks.

موبائل نیٹ ورک کے لیے لوگ پریشان ہیں۔کافی عرصے سے اس مسئلے پر سوشل میڈیا پر لکھا جا رہا ہے، لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔آج سے...
17/08/2025

موبائل نیٹ ورک کے لیے لوگ پریشان ہیں۔
کافی عرصے سے اس مسئلے پر سوشل میڈیا پر لکھا جا رہا ہے، لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔
آج سے اس پوسٹ کو ایک باقاعدہ ٹرینڈ سمجھ کر تمام دوست ساتھ دیں اور شیئر کریں۔

حالت یہ ہے کہ:
ڈپلیکیٹ سم 500 روپے کی، سم بند کروانے کی فیس 200 روپے،
سم بند کروانے کے لیے ہیڈ آفس جانا پڑتا ہے،
کم از کم لوڈ 100 روپے، بیلنس چیک کرنے پر بھی فیس،
ہیلپ لائن پر بات کرنے کی بھی فیس،
صبح بیلنس ڈالو تو شام تک غائب ہو جاتا ہے،
پیکیجز کی شکل میں ہزاروں آپشنز،
اور جب کال کرنے کے لیے موبائل استعمال کرو تو
نیٹ ورک ہی نہیں ہوتا، نیٹ ورک آ بھی جائے تو کال کنیکٹ نہیں ہوتی،
اگر کال کنیکٹ ہو بھی جائے تو آواز نہیں آتی،
انٹرنیٹ کا حال ایسا کہ واٹس ایپ بھی نہیں چلتا۔

موبی لنک، ٹیلی نار ، زونگ، یوفون سب کا ایک ہی حال ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ہماری یہ پریشانی دور کرے
یا پھر اپنے ٹاور ہی اکھاڑ لے جائے۔
تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ اس مسئلے کو ہائی پروفائل بنائیں تاکہ اس مصیبت سے جان چھوٹے۔

اوکاڑہ یونیورسٹی میں استعمال شدہ جوابی اسکرپٹس کی نیلامی مورخہ 17 جولائی کو کی جا رہی ہے۔ تفصیلات کےلیے اشتہار لف ہے۔
04/07/2025

اوکاڑہ یونیورسٹی میں استعمال شدہ جوابی اسکرپٹس کی نیلامی مورخہ 17 جولائی کو کی جا رہی ہے۔ تفصیلات کےلیے اشتہار لف ہے۔

23/06/2025

🖤 "میری ڈیڈ باڈی آفس سے آ کر لے جانا" — ایک آخری پیغام 🖤
ملتان سے تعلق رکھنے والا ایک خوبرو نوجوان، وقاص رضا، جو ریئل اسٹیٹ کا کام کرتا تھا — اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ جانے سے پہلے صرف ایک جملہ فیملی کو بھیجا:
"میری ڈیڈ باڈی آفس سے آ کر لے جانا"

یہ خبر فیس بک پر دیکھی، دل دہل گیا…
کیوں؟ کیسے؟
یہ تو صرف اللہ جانتا ہے… مگر یہ واقعہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

❗ مسئلہ صرف وقاص کا نہیں ❗
ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کا ذہنی دباؤ، احساسِ تنہائی، ڈپریشن اور مایوسی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
کئی خوبصورت چہرے اندر سے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں — بس ہمیں نظر نہیں آتا۔

ہم اپنے بچوں کو ریاضی، سائنس، اردو، انگلش تو پڑھاتے ہیں…
مگر زندگی جینا نہیں سکھاتے۔

🔎 ہمیں اسکولوں میں کیا سکھانا چاہیے؟
👨‍🏫 لائف اسکلز (Life Skills)
یہ کوئی "اضافی مضمون" نہیں بلکہ اصل تعلیم ہے۔
ہمیں سکھانا چاہیے:

مایوسی سے کیسے نکلیں؟

ڈپریشن سے کیسے نمٹیں؟

گرنے کے بعد دوبارہ کیسے اٹھیں؟

ناکامی کے بعد ہمت کیسے جمع کریں؟

اپنے جذبات کیسے کنٹرول کریں؟

مدد مانگنا کمزوری نہیں، ہمت ہے۔

🧠 دماغی صحت = جسمانی صحت جتنی اہم
ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ "جو نظر آئے وہی بیماری ہے"
مگر ذہنی بیماریوں کا دکھ چھپتا ہے — مسکراہٹوں کے پیچھے۔

💔 اکثر خودکشی کرنے والے لوگ آخری دنوں میں "بالکل نارمل" لگتے ہیں۔
اسی لیے ہمیں اپنے دوستوں، کولیگز، رشتہ داروں پر نظر رکھنی چاہیے۔

🤝 کیا کرنا چاہیے؟
✅ اگر کوئی چپ ہو جائے — اس سے بات کریں
✅ اگر کوئی حد سے زیادہ ہنسنے لگے — اس کے دل کا حال پوچھیں
✅ اگر کوئی بہت زیادہ تنہا رہنے لگے — اس کا ہاتھ تھامیں
✅ اگر کوئی زندگی سے مایوس باتیں کرے — اس کو سنیں، جج نہ کریں

📢 آگے بڑھیں… آواز بنیں
ہم سب کو زندگی سے جُڑنے کا سبق دینا ہوگا۔
اسکول، کالجز، یونیورسٹیز، میڈیا — سب کو مل کر ایک مشترکہ آواز بننا ہوگا:

"زندگی ختم کرنے کا نام نہیں…
زندگی لڑنے کا نام ہے!"

وقاص جیسے نوجوان اگر ہمارے سسٹم میں Life Skills سیکھتے، تو شاید آج زندہ ہوتے…

💬 اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کو مدد کی ضرورت ہے:
خاموش نہ رہیں

کسی قریبی سے بات کریں

کسی ماہرِ نفسیات سے رابطہ کریں

اور یاد رکھیں: یہ وقت گزر جائے گا… زندگی بہت قیمتی ہے۔

📲

23/06/2025
اہم اعلان!اوکاڑہ یونیورسٹی کی زرعی زمین کے ٹھیکہ برائے سال 26-2025 کا نیلام عام مورخہ جون 30 کو صبح 10 بجے ہو گا۔
18/06/2025

اہم اعلان!
اوکاڑہ یونیورسٹی کی زرعی زمین کے ٹھیکہ برائے سال 26-2025 کا نیلام عام مورخہ جون 30 کو صبح 10 بجے ہو گا۔

15/04/2025

ایک دیہاتی نوجوان نے اپنی برادری کی ایک شریف پردہ دار بااخلاق اور دین دار لڑکی سے شادی کی
شادی کو ایک سال ہی گزرا تھا کہ اُس کا اپنے قریبی رشتہ دار سے سخت جھگڑا
ہو گیا
بات اتنی بڑھی کہ اُس نے غصے میں آ کر اسے قتل کر دیا
اور برادری کے رواج کے مطابق وہ اپنی بیوی کو لے کر علاقے سے دور کسی اور ضلع کی طرف نکل گیا
جہاں وہ ایک دوسری برادری کے گاؤں میں جا کر بس گیا

وہ اکثر گاؤں کے چودھری کے ڈیرے پر بیٹھتا تھا
جیسے دوسرے مرد بیٹھتے ہیں، بات چیت مشورے گپ شپ سب چلتا
ایک دن چودھری کا گزر اس کے گھر کے سامنے سے ہوا
اور اُس نے اُس کی بیوی کو دیکھا
نہایت باحیا، خوبصورت اور باوقار عورت
چودھری کے دل میں فتنہ جاگ اٹھا
دل و دماغ پر ایسا چھا گئی کہ ایک شیطانی خیال آ گیا
کہ کسی طرح خاوند کو گھر سے دور بھجوا دوں
اور موقع پا کر عورت کو تنہا کر کے اپنا مطلب نکالوں

چودھری ڈیرے پر آیا
سب بیٹھے تھے ان میں وہ نوجوان بھی تھا
چودھری نے کہا مجھے پتا چلا ہے کہ فلاں علاقے میں بہت اچھی چراگاہ ہے
میں چاہتا ہوں کہ چار آدمی بھیجوں جو جا کر دیکھ آئیں
اس نے چار افراد منتخب کیے
اور ان میں وہ نوجوان بھی شامل تھا

چاروں روانہ ہو گئے
جگہ دور تھی تین دن کا راستہ تھا
رات کو چودھری نے موقع دیکھا
اور چپکے سے اُس کے گھر کی طرف چل پڑا
گھر میں بیوی اکیلی تھی اور سو رہی تھی
چودھری اندھیرے میں دیوار سے ٹکرا گیا
زور کی آواز ہوئی
عورت جاگ گئی اور ڈرتے ہوئے بولی
کون ہے؟

چودھری بولا میں ہوں وہی چودھری جس کے گاؤں میں تم لوگ آئے ہو
عورت بولی خیریت ہے چودھری صاحب اس وقت کیا کام پڑ گیا؟

چودھری بولا جب سے تمہیں دیکھا ہے دل بے چین ہے
تم سے دل لگا بیٹھا ہوں
چاہتا ہوں تم میری ہو جاؤ

عورت نے پورے وقار سے جواب دیا ٹھیک ہے اگر واقعی تم چاہتے ہو
تو پہلے میرے ایک سوال کا جواب دو
اگر صحیح دیا تو پھر جیسا کہو گے ویسا ہوگا

چودھری نے خوش ہو کر کہا پوچھو شرط منظور ہے

عورت نے کہا جیسے گوشت خراب ہونے سے بچانے کے لیے اس پر نمک چھڑکا جاتا ہے
تو بتاؤ اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو اُسے کون ٹھیک کرے گا؟
سوچ کر آنا جلدی نہیں ہے

چودھری رات بھر سوچتا رہا مگر سمجھ نہ سکا
اگلے دن ڈیرے پر سب لوگ بیٹھے تھے
اچانک سب سے وہی سوال پوچھا
ہر ایک نے اپنی سمجھ سے جواب دیا مگر چودھری مطمئن نہ ہوا

ڈیرے میں ایک بزرگ بیٹھے تھے بڑے سمجھدار دین دار اور عقل والے
وہ خاموش رہے
جب سب چلے گئے تو وہ بیٹھے رہے

چودھری نے ان سے کہا تم نے کیوں جواب نہیں دیا؟

بزرگ بولے میں اکیلے میں بات کرنا چاہتا تھا
یہ سوال دراصل ایک پرانی حکمت کا شعر ہے

اے قوم کے عقل مند لوگو اے معاشرے کے نمک
اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو اُسے کون ٹھیک کرے گا؟

اور اگر میں غلط نہیں سمجھا
تو تم نے ایک باعزت باپردہ اور دین دار عورت پر غلط نظر ڈالی
لیکن اُس نے تمہیں عزت دی
تمہیں شرمندہ نہیں کیا
نہ ہی تمہیں بدنام کیا
بس ایک سوال کر کے تمہیں تمہارے ضمیر سے ٹکرا دیا

وہ کہنا چاہ رہی تھی
جب گوشت خراب ہوتا ہے تو نمک اسے بچا لیتا ہے
لیکن اگر خود نمک ہی خراب ہو جائے
تو پھر کیا ہوگا؟

یعنی
جب عام لوگ بگڑیں تو چودھری یا بزرگ سنبھالتے ہیں
لیکن اگر خود چودھری بگڑ جائے
تو اُسے کون سنوارے گا؟

یہ سن کر چودھری کا دل کانپ گیا
شرمندگی سے سر جھک گیا
آنسو نکل آئے
اور اس نے کہا

اللہ تمہیں سلامت رکھے
تم نے آنکھیں کھول دی
میری خطا کو ڈھانپ لو
جیسے اللہ ڈھانپتا ہے

اور شاعر کہتا ہے

گوشت تو نمک سے بچ جاتا ہے
پر اگر نمک ہی خراب ہو جائے
تو پھر کیا بچائے گا؟

اور میں کہتا ہوں

اگر باپ بگڑ جائے
تو اولاد کون سنوارے؟

اگر استاد بگڑ جائے
تو نسلوں کو علم کون دے؟

اگر رہنما بگڑ جائے
تو قوم کا مستقبل کون بچائے؟

داناؤں کی مجلس میں بیٹھو
نادانوں کی صحبت میں صرف دل ہی نہیں نسلیں بھی برباد ہو جاتی ہ

17/03/2025

تمام سٹوڈنٹس کو بس میں پرفارم دیا گیا ہے اس میں اپنا نام شناختی کارڈ نمبر اور جہاں سے اپ بیٹھتے ہیں بس پر سٹاپ اور لاسٹ سٹاپ کچھ بچے رینالہ اترتے ہیں اور کچھ اوکاڑا جاتے ہیں لکھ کر سگنیچر کر کے بس ڈرائیور کے حوالے کر دیں۔

Address

University Of Okara
Renala Khurd
52000

Telephone

+923157534946

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Transport Office University of Okara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Transport Office University of Okara:

Share