Sky Consultancy Law Firm

Sky Consultancy Law Firm japan Visa Consultants & Japan auto car Working for Tax Return FBR.

Al-Kasab Associates is Sahiwal & Uk based Compnay which provides Study visa and Immigration Consultancy.

10/04/2025
جرمنی کا اعلٰی تعلیم کا منظرنامہ بنیادی طور پر بین الاقوامی سطح پر معروف اور درجہ بندی رکھنے والی یونیورسٹیوں پر مشتمل ہ...
04/11/2014

جرمنی کا اعلٰی تعلیم کا منظرنامہ بنیادی طور پر بین الاقوامی سطح پر معروف اور درجہ بندی رکھنے والی یونیورسٹیوں پر مشتمل ہے، ان میں سے کچھ کو خصوصی فنڈز بھی حاصل ہوتے ہیں، اس لیے کہ حکومت ان کو بہترین ادارے سمجھتی ہے۔

اب اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ آپ جرمنی سے گریجویشن یا انڈرگریجویٹ کی ڈگری، جرمنی زبان کا ایک لفظ ادا کیے بغیر اور ٹیوشن فیس کی مد میں ایک ڈالر ادا کیے بغیر حاصل کرسکتے ہیں۔

خاص طور پر انگریزی زبان میں انجینئرنگ سے لے کر سوشل سائنس تک کے کورسز کے ساتھ تقریباً 900 انڈرگریجویٹ یا گریجویٹ کی ڈگریاں پیش کی جاتی ہیں۔ کچھ جرمن ڈگریوں کے لیے آپ کو باضابطہ طور پر درخواست دینے تک کی ضرورت نہیں ہوتی۔

سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ جرمنی کے اعلٰی تعلیمی نظام میں طالبعلم کی حیثیت سے داخل ہوتے ہیں تو جرمنی کی حکومت بہت خوش ہوگی۔

انگریزی زبان میں بڑی تعداد میں ڈگری کی پیشکش کا ارادہ ہے، تاکہ جرمن طالبعلموں کو غیرملکی زبان میں بات چیت کے لیے تیار کیا جائے۔ اس لیے کہ اس ملک کو بہت زیادہ ہنرمند کارکنوں کی ضرورت ہے۔

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ عرب امارات میں اکثرلو گ یہ سمجھتے ہیں کہ کل وقتی ملازمت کے ساتھ جزوقتی ملازمت کرنا غیر قان...
27/09/2014

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ عرب امارات میں اکثرلو گ یہ سمجھتے ہیں کہ کل وقتی ملازمت کے ساتھ جزوقتی ملازمت کرنا غیر قانونی ہے جبکہ یہ مکمل طورپر درست نہیں ہے۔ 2010ءسے لیبر قانون میں یہ شق موجود ہے کہ ضروری شرائط پوری کرنے پر ایک ادارے کے کل وقتی ملازم کسی دوسرے ادارے میں جزوقتی ملازمت بھی کر سکتے ہیں ۔ نیوز سائٹ24/7" Emirates "کے مطابق وزرات لیبر کا کہنا ہے کہ جزوقتی کام کا پرمٹ ایک سال کے لیے قابل استعمال ہو گا اور مقامی اور بیرون ملک سے آنے والے ملازمین کو بھی دستیاب ہوگا یہ پرمٹ 18سے 65سال کے عمر کے لوگوں کو جاری کیا جا سکتا ہے اور این او سی جاری کرنا متعلقہ آجر یا سپانسر کا اختیار ہو گا ۔ فیملی سپانسر شپ پر آنے والے اور طالب علم بھی سپانسر کے این او سی کے ساتھ جزوقتی کام کر سکتے ہیں ۔ پرمٹ کی فیس میں درخواست فارم کی فیس 100درہم (تقریباً2797پاکستانی روپے )اور منظوری فیس 500درہم(تقریباً14000پاکستانی روپے )شامل ہے ۔

ہر سال ہزاروں افراد روشن مستقبل کی امید میں اسٹوڈنٹ ویزا پر برطانیہ جاتے ہیں۔2011ء میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے برطانوی تعل...
01/07/2014

ہر سال ہزاروں افراد روشن مستقبل کی امید میں اسٹوڈنٹ ویزا پر برطانیہ جاتے ہیں۔
2011ء میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے برطانوی تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے کے غیریورپی خواہش مندوں کے لیے انگریزی زبان میں ماہر ہونے کی شرط عائد کردی تھی۔ انگریزی زبان میں مہارت ثابت کے لیے مختلف مجاز اداروں سے سرٹیفکیٹ کا حصول ضروری ہوتا ہے۔
مگر حال ہی افشا ہونے والے اسکینڈل نے محکمہ داخلہ میں کھلبلی مچادی ہے۔ امیگریشن منسٹر جیمز بروکنشائر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ برطانیہ میں داخل ہونے والے 48000 تارکین وطن نے اسٹوڈنٹ ویزا سسٹم کی خامیوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان میں سے بیشتر افراد نے انگریزی زبان میں مہارت کے جعلی سرٹیفکیٹس حاصل کرکے امیگریشن حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔ جیمز بروکنشائر کے مطابق جعلی سرٹیفکیٹس کے دھندے کو جرائم پیشہ گروہ چلا رہے ہیں۔

وزیر کے مطابق اسٹوڈنٹ ویزا سسٹم کو باقاعدہ ایک مرحلہ وار نظام کے تحت شکست دی گئی جس کی وجہ سے انگریزی حروف تہجی سے نابلد لوگ بھی ملک میں سکونت پذیر ہونے میں کام یاب رہے، اور بہت سوں نے برطانوی شہریت بھی حاصل کرلی۔ اس اسکینڈل میں انگریزی کی استعداد جانچنے والے بدعنوان ممتحن بھی شامل تھے جو خود امیدواروں کو سوالوں کے جواب پڑھ کر سناتے تھے یا امتحان میں امیدوار کے ساتھ اس کے ساتھیوں کو بھی بیٹھنے کی اجازت دیتے تھے جو امتحان پاس کرنے میں امیدوار کی مدد کرتے تھے۔ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے’’ نیشنل کرائم ایجنسی‘‘ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور اس ضمن میں کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔
گذشتہ ماہ ایک برطانوی اخبار میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شایع ہوئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہLearn Pass Succeed نامی ادارہ انگریزی زبان میں مہارت کی سند ( انگلش لینگویج سرٹیفکیٹ ) فروخت کرنے میں ملوث تھا۔ مذکورہ ادارے کو محکمہ داخلہ نے غیرملکیوں سے انگریزی زبان کا امتحان لینے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ پانچ سو پاؤنڈز کے عوض سرٹیفکیٹ فروخت کررہا تھا۔ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانوی یونی ورسٹی کے غیرملکی طالب علم نے ایک سال کے دوران بیس ہزار پاؤنڈز کمالیے جب کہ قوانین کے مطابق غیرملکی طلبا ہفتے میں بیس گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کرسکتے۔

برطانوی امیگریشن منسٹر کے مطابق تحقیقات کے دوران 29000 جعلی سرٹیفکیٹس برآمد ہوئے ہیں جب کہ 19000 سرٹیفکیٹ کے امتحانی نتائج مشکوک پائے گئے ہیں، مگر انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ جعلی اور مشکوک سرٹیفکیٹس کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ غیرملکی طلبا برطانوی تعلیمی اداروں کے لیے آمدنی کا پُرکشش ذریعہ ہیں جن سے وہ فیس کی مد میں بیس ہزار پاؤنڈز فی طالب علم تک وصول کرتے ہیں۔ جعلی سرٹیفکیٹس کا اسکینڈل طشت از بام ہوجانے کے بعد ان یونی ورسٹیوں اور کالجوں کے خلاف بھی کارروائی ہورہی ہے جنھوں نے جعلی یا مشکوک سرٹیفکیٹ کے حامل طلبا کو داخلے دیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان طلبا کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔
ویلز میں واقع گلنڈر یونی ورسٹی میں 350 طالب علموں کے انگلش لینگویج سرٹیفکیٹ جعلی یا مشکوک پائے گئے جس کے بعد مذکورہ یونی ورسٹی کے غیرملکی طالب علموں کو داخلہ دینے پر پابندی لگادی گئی۔ اسی طرح 57 نجی کالجوں کے غیرملکی طلبا کو داخلہ دینے کے اجازت نامے بھی منسوخ کردیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد طالب علموں کے داخلے بھی منسوخ کیے گئے ہیں۔

جدہ (بیورو رپورٹ) گلف کوآپریشن کونسل چھ عرب ممالک کے لئے سیاحوں کو مشترکہ ویزا لینے کی سہولت شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے...
09/06/2014

جدہ (بیورو رپورٹ) گلف کوآپریشن کونسل چھ عرب ممالک کے لئے سیاحوں کو مشترکہ ویزا لینے کی سہولت شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ چھ ممبر ممالک سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور اُومان ہیں۔ کونسل کے مشاورتی کمیشن کے ڈائریکٹر نجیب الشامیسی نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ مشاورتی کمیشن نے مشترکہ ویزا جاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کمیشن کی اگلی میٹنگ میں تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی جو کہ گرمیوں میں خلیج ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ حال میں ہونے والی تحقیق کے نتیجے میں اس تجویز کو خطے کی معیشت کے لئے فائدہ مند قرار دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے سعودی شوریٰ کونسل کے رکن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویزا یورپ کے شینجن ویزے کی طرح ہوگا اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافے کی توقع ہے۔

06/06/2014

سعودی کمپنیوں کی مناپلی اور پاکستانی ٹریول ایجنٹوں کا گٹھ جوڑ ،شعبان ،رمضان میں مہنگا ترین عمرہ
05 جون 2014


لاہور(میاں اشفاق انجم)شعبان اور رمضان میں تاریخ کا مہنگا ترین عمرہ،سعودی عمرہ کمپنیوں کی مناپلی اور پاکستانی ٹریول ایجنٹوں کا گٹھ جوڑ،شعبان میں صرف اپروول بغیر رہائشی پیکج45سے50ہزارشعبان میں جا کر شعبان میں واپسی لازمی،رمضان کے لیے اپروول 15 دن کے لیے اور21دن کے لیے اور رمضان کے لیے ویزہ اپروول بغیر رہائش 55 سے 60 ہزار ،عمرہ ایجنٹوں نے گرمیوں کی چھٹیوں (شعبان)اور رمضان میں عمرہ کرنے والوں کو چکرا کر رکھ دیا،ائیر لائنز ابھی خاموش ہیں اور کرائے بڑھانے کے لیے سروے کروا رہی ہیں مدر پدر عمرہ پالیسی کی وجہ سے سعودی اور پاکستانی عمرہ ایجنٹوں نے سعودی حکومت کی طرف سے عمرہ کوٹہ نافز ہونے کا تاثر دے کر مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش شروع کے رکھی ہے،حالا نکہ سعودی حکومت نے رجب میں پوری دنیا کے لیے ہدایات جاری کی تھیں سعودی عمرہ کمپنیاں دنیا بھر سے عمرہ کرنے کے لیے سعودیہ میں موجود افراد کو شیڈول کے مطابق واپس اپنے اپنے ملکوں میں واپسی یقینی بنائیں تاکہ شعبان اور رمضان میں رش زیادہ نہ ہو سکے اس کے لیے20 رجب سے 30رجب تک اپروول روک دی،یکم شعبان سے قوائدو ضوابط پورا کرنے والی عمرہ کمپنیوں کو عمرہ اپروول شروع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان شعبان میں رہائشوں کے پیکج کے بغیر عمرہ ویزہ جاری نہ کیا جائے بد قسمتی سے ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے،پاکستانی ایجنٹوں نے سب سے پہلے صرف ویزہ اپروول کے ریٹ مارکیٹ میں جاری کیے ہیں اور سعودی احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے50سے60ہزار روپے وصول کرتے ہوئے عمرہ زائرین کو اللہ کے سپرد اور سعودی حکام کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی نئی روایت شروع کر دی ہے،شعبان میں اکانوی عمرہ بغیر رہائش ایک لاکھ20ہزار روپے اور رہائش سمیت ایک لاکھ80ہزار کا ریٹ مارکیٹ میں آیا ہے رمضان میں اکانوی عمرہ 2لاکھ سے زائد کا پیکج مارکیٹ میں ہے،اندھیر نگری چوپٹ راج والی بات ہے کہ عمرہ کاروبار کے لیے کوئی قانون نہیں ہے ایف آئی اے فراڈ ہونے کے بعد میدان میں آتا ہے سستے عمرے کے نام پر ہر سال کروڑوں روپے کا فراڈ ہوتا ہے اور اس سال بھی عمرہ زائرین کے لیے پر کشش بینر ہر طرف نظر آنے شروع ہو گئے ہیں

سعودی حکومت نے پاکستان کیلئے عمرہ ویزا کھول دیاسرگودھا (آن لائن) سعودی حکومت نے پاکستان کیلئے عمرہ ویزہ کھول دیا ہے 16 ر...
05/06/2014

سعودی حکومت نے پاکستان کیلئے عمرہ ویزا کھول دیا
سرگودھا (آن لائن) سعودی حکومت نے پاکستان کیلئے عمرہ ویزہ کھول دیا ہے 16 رجب سے بند کئے جانے کے باعث 1 لاکھ سے زائد عازمین عمرہ کی ادائیگی کیلئے نہ جاسکے تھے۔سعودی کمپنیوں نے ماہ شعبان کے عمرہ ویزہ کی اپروول 15 سو ریال جبکہ ماہ رمضان کے عمرہ ویزہ کی اپروول فیس 25 سو سے 3 ہزار ریال تک مقرر کردی ہے۔ سعودی سفارتخانے کی طرف سے ٹورازم کمپنیوں اور ٹریول ایجنسیوں کو کوٹہ سسٹم سے منسلک کردیا گیا ہے ۔اب عمرہ پر جانیوالے ایک شخص کو عمرہ ویزہ‘ رہائش اور ٹکٹ کے عوض 1 لاکھ 60 ہزار کے قریب خرچ کرنا پڑینگے

دولت مند غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے برطانیہ میں سکونت کے حق کی نیلامی کی جانی چاہیے۔اس وقت تارکینِ وطن برطانیہ میں دس ...
25/02/2014

دولت مند غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے برطانیہ میں سکونت کے حق کی نیلامی کی جانی چاہیے۔
اس وقت تارکینِ وطن برطانیہ میں دس لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کے بعد مستقل سکونت حاصل کر سکتے ہیں۔
اسی بارے میں
پاکستان، بھارت اور نائجیریا کے شہریوں کے لیے ’ویزا بانڈ‘ سکیم ختم
برطانوی ویزا کےلیےضمانت، بھارت کی نکتہ چینی
افغان مترجموں کو برطانوی ویزے دینے کا فیصلہ
متعلقہ عنوانات
دنیا
تاہم مائیگرینٹ ایڈوائزری کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس سے ایک عام برطانوی شہری کو بہت کم فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ کم سے کم سرمایہ کاری کو دوگنا کر کے 20 لاکھ پاؤنڈ کیا جائے اور نیلامی کی صورت میں 25 لاکھ سے زائد تمام رقم قومی لاٹری کی طرز کی کسی سکیم میں استعمال کی جائے۔
واضح رہے کہ یہ تجاویز صرف مستقل سکونت کے حق کے لیے ہیں شہریت کے لیےنہیں۔
یہ دنیا میں اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہوگا تاہم اس کے اطلاق کا فیصلہ سیکرٹری داخلہ ٹریسا مے نے کرنا ہے۔
مشیروں کے مطابق انھیں امید ہے کہ سالانہ 100 ویزے نیلام کیے جا سکتے ہیں اور اس کے نیتیجے میں دو سال میں مستقل سکونت حاصل ہو جائے گی جو دوسرے طریقوں میں پانچ سال کا عرصے گزرنے پر ملتی ہے۔
ویزے کی موجودہ شرائط
اس وقت برطانیہ میں 10 لاکھ، 50 لاکھ یا ایک کروڑ پاونڈ کی سرمایہ کاری کرنے کے بعد بھی کم سے کم پانچ سال مسلسل برطانیہ میں گزارنے کے بعد ہی مستقل سکونت کے لیے درحواست کر سکتے ہیں۔ جس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ انگلش بولیں اور وہ اپنے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت افراد کو بھی برطانیہ بلا سکتے ہیں۔
نیلامی میں جیتے والوں کو رہائش کے لیے بھی نرمی دی جائے گی جس میں ایک سال میں برطانیہ میں گزاری گئی کم سے کم مدت کو نصف کر کے 90 دن کیا جائے گا۔
اس وقت برطانیہ میں 10 لاکھ پاونڈ، 50 لاکھ پاونڈ یا ایک کروڑ پاونڈ کی سرمایہ کاری کرنے کے بعد بھی کم سے کم پانچ سال مسلسل برطانیہ میں گزارنے کے بعد ہی مستقل سکونت کے لیے درخواست جمع کرائی جا سکتی ہے۔ ایسے سرمایہ کاروں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ انگلش بولیں اور یہ سرمایہ کار اپنے شریکِ حیات اور زیرِ کفالت افراد کو بھی برطانیہ بلا سکتے ہیں۔
کمیٹی کے سربراہ ڈیوڈ میٹکلف کا کہنا ہے کہ ’موجودہ سکیم میں برطانوی شہریوں کے لیے بہت کم فوائد ہیں کیونکہ بہت سے درخواست گزار حکومت کی طرف جاری کردہ بانڈز اور اس طرح کی دیگر سکیموں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور ایک طرح سے وہ حکومت کو قرضے دے رہے ہیں اور اصل میں وہ برطانیہ میں سرمایہ نہیں لگا رہے۔
سر ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ ’اس سے ایک برطانوی شہری کو کم اور تارکینِ وطن کو زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نئی سکیم میں اچھے کاموں کے لیے مختص فنڈ سے برطانوی لوگوں کو فائدہ حاصل ہو گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ سکیم کا مطلب برطانوی پاسپورٹ فروخت کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ ان سرمایہ کاروں کو برطانوی ’شہریت‘ کے حصول کے لیے پھر بھی کم سے کم پانچ سال برطانیہ میں گزارنا ہوں گے۔
امیگریشن وکلا نے نیلامی کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے اسے ’ای بے‘ کلچر قرار دیا ہے۔ تاہم سر ڈیوڈ وکلا کی مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وکلیوں کو صرف غیر ملکیوں سے حاصل ہونے والی بھاری فیسوں دلچسپی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’انہیں اتنی ہی پریشانی برطانوی شہریوں کے لیے کیوں نہیں؟‘
’وہ برطانیہ میں فلاحی فنڈز کے لیے اتنے بے چین کیوں نہیں ہوتے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ پروسٹیٹ کینسر کے خلاف اقدامات اور سکولوں میں کھیلوں کا سامان فراہم کیے جانے جیسے کام ویزہ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سے کیے جا سکتے ہیں۔

ملائشیا ‘ غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاوٴن جاری‘ سینکڑوں پاکستانی گرفتار  کوالا لمپور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبا...
20/02/2014

ملائشیا ‘ غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاوٴن جاری‘ سینکڑوں پاکستانی گرفتار

کوالا لمپور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19فروری 2014ء)ملائشیا حکومت کی طرف سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری کریک ڈاوٴن میں سینکڑوں پاکستانی گرفتار کر لئے گئے، ورک پرمٹ اور ویز ہ کے حامل درجنوں افراد بھی جیلوں میں بھیج دئیے گئے، 6ماہ قبل ہونے والے گرینڈ آپریشن کے دوران گرفتار کئے گئے پاکستانی تاحال جیلوں میں بند، پاکستان ہائی کمیشن کی طرف سے 200افراد کی رہائی کے اقدامات کے بے بنیاد دعوےٰ اور پاکستانی کمیونٹی کے صدر فیضان خان کے غلط بیان پر پاکستانیوں کا شدید احتجاج، وزیر اعظم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ‘ پاکستان ایمبیسی کے ہائی کمشنر کی کمیونٹی میں پائے جانے والے تحفظات دور کرنے اور تجاویز کیلئے پاکستانی صحافیوں کے ساتھ مشاورت، صحافی کی تجویز پر ایمرجنسی پاسپورٹ /آوٴٹ پاس کے حصول کیلئے ریزرویشن ایئر بکنگ کی شرط فوری طور پر ختم کر دی گئی، امریکہ کا ایک باشندہ گرفتار ہو جائے تو وہ چین سے نہیں بیٹھ سکتا جبکہ ہمارے سینکڑوں افراد گرفتار ہونے پر ہم کیسے خاموش بیٹھ سکتے ہیں، ہم وطنوں کی باعزت وطن واپسی اور گرفتار باشندوں کی رہائی کیلئے دن رات ایک کر رکھے ہیں، کمیونٹی ایجنٹوں کے جھانسے میں آنے کی بجائے برائے راست سفارتخانہ رابطہ کرے، ہائی کمشنر ندیم خان کی صحافیوں سے گفتگو،تفصیلات کے مطابق ملائشیا حکومت کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف 21جنوری سے جاری ملک گیر کریک ڈاوٴن میں ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹنے والے سینکڑوں پاکستانی باشندے گرفتار کر لئے گئے ہیں جبکہ درجنوں وہ افراد بھی شامل ہیں جن کے پاس باقاعدہ ورک پرمٹ اور ویزے موجود ہیں، امیگریشن ، پولیس اور دیگر ملائشین فورس گرفتار افراد سے سامان ، لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور نقدی تک ضبط کر لیتی جبکہ جرمانہ، ایئر ٹکٹ کی رقم ادا کرنے والے باشندوں کو ملک واپس بھیجنے کی بجائے جیلوں میں ہی بند رکھا جاتا ہے،ادھر پاکستان ایمبیسی کے فرسٹ سیکرٹری مراد علی خان وزیر کے اس جھوٹے دعویٰ پر پاکستانی کمیونٹی نے سخت غم و غصہ کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے 200افراد کی رہائی کے جلد اقدامات کرنے کا کہا ہے کمیونٹی نے عرفان خان کو بھی پاکستان کمیونٹی کا نام نہاد صدر قرار دیا اور کہا ہمیں نہیں معلوم انہیں کس کمیونٹی نے انہیں صدر نامزد یا منتخب کیا ہے ، کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اگر وہ پاکستانی کمیونٹی کے صدر ہوتے تو ایمبیسی کی خوشنودی کیلئے بیان جاری کرنے کی بجائے گرفتار پاکستانیوں کی رہائی اور کمیونٹی میں پائے جانے والے اضطراب کیلئے عملی اقدامات اٹھاتے، ادھر پاکستان ہائی کمیشن کے قائم مقام ہائی کمشنر ندیم خان نے کمیونٹی میں پائے جانے والے تحفظات دور کرنے اور تجاویز کیلئے پاکستانی صحافیوں کے ساتھ خصوصی مشاورت اور تجاویز کیلئے اپنے دفتر میں ان سے میٹنگ کے دوران سفارتخانہ کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ امریکہ کا ایک باشندہ گرفتار ہو جائے تو وہ چین سے نہیں بیٹھ سکتا جبکہ ہمارے سینکڑوں افراد گرفتار ہونے پر ہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ہم وطنوں کی باعزت وطن واپسی اور گرفتار باشندوں کی رہائی کیلئے دن رات ایک کر رکھے ہیں اور اس حوالہ سے ملائشیا حکام سے کئی ملاقاتیں اور رابطے کر چکے ہیں، ندیم خان نے مزید بتایا کہ ایمبیسی نے غیر قانونی باشندوں کی ملک واپسی کیلئے ملائشیا امیگریشن سے خصوصی معائدہ کیا ہے جس کے تحت صرف 500رنگٹ جرمانہ کے ساتھ انہیں بغیر گرفتاری کے پاکستان واپس بھیجا جائے گا، اس حوالہ سے ہم نے فیس بک پیج پر اطلاع جاری کر دی ہے ، ہائی کمشنر نے کمیونٹی سے اپیل کی کہ ایجنٹوں کے جھانسے میں آنے کی بجائے برائے راست سفارتخانہ یا کسی بھی مشکل کے حل کیلئے میرے ذاتی موبائل فون نمبر 0060123231263 پر رابطہ کرے، میٹنگ میں چیئرمین پاک جرنلسٹس فورم ملائشیا اور سینئر پاکستانی صحافی نثار علی خان نے ہائی کمشنر کو آوٴٹ پاس/ ایمرجنسی پاسپورٹ کے حصول کیلئے ایئر بکنگ /ریزرویشن کی شرط ختم کرنے کی تجویز دی تاکہ کمیونٹی ایجنٹوں کے ہاتھوں مزید لٹنے اور اپنی رقم ضائع ہونے سے بچ سکے اس پر ندیم خان نے موقع پر تحریری آرڈر جاری کئے اور ایئر بکنگ، ریزرویشن کی شرط ختم کر دی۔

19/02/2014 - 13:24:48 :وقت اشاعت

Address

Bismillah Plaza Alanur Market Church Road Sahiwal
Sahiwal
57000

Telephone

+92-300 6906994

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sky Consultancy Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Sky Consultancy Law Firm:

Share