22/01/2025
مابعد زوال: تحریک یا جمود؟
انگریزی عہد جہاں باعث فساد تھا وہیں اس کے رد میں کئی ایمان افروز اور تعلیمی تحریکوں نے جنم لیا، عصری دانش گاہ کے طور پر محمڈن اینگلو اورینٹل کالج (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)، دینی قلعہ کے طور پر دارالعلوم دیوبند، عصری و دینی درس گاہ کے طور پر ندوة العلماء کے تحت دارالعلوم کا قیام اسی رد عمل کے نتائج ہیں، جبکہ ہندو احیاء پرستی کا زور توڑنے اور مسلمانوں میں دینی رجحان کی ترویج کے لئے تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا ـ
ان اداروں اور تحریکوں نے اپنے وقت میں مسلم قوم اور اسلام کی بھرپور خدمات انجام دیں، عصری علوم کے ماہرین کے ساتھ دینی علوم کے شناور پیدا ہوئے، وہیں ندوة العلماء نے جامع شخصیات کو وجود بخشا، ہندو احیاء پرستی کو لٹریچر اور عملی میدان میں برابری کی سطح پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ـ
لیکن یہ ایک وقت تھا جو گزر گیا، کچھ اداروں میں تھوڑی جان باقی ہے، کچھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں، لیکن موجودہ صورت حال میں کسی تنظیم یا ادارے میں یہ صلاحیت نہیں بچی کہ وہ حالات کا سامنا کرنے کی ہمت جٹا سکے، اور علی الاعلان یہ دعوی کرسکے کہ وہ امت کو فتح مبین سے ہمکنار کرے گی ـ
دارالعلوم اور تبلیغی جماعت تقسیم کا شکار ہوئے، علی گڑھ کی تحریک حکومتی کاسہ لیسوں اور ماضی پرستوں کی نذر ہوگئی اور ندوة العلماء کا وجود مٹ گیا، جبکہ اس کے تحت چلنے والا دارالعلوم موروثیت کا شکار ہوکر خاندانی شہرت کا ذریعہ بن گیا ـ
ہم اس موجودہ حالت کو "مابعد زوال" سے موسوم کرسکتے ہیں، اور جب ہم اسے مابعد زوال کا عہد تسلیم کرلیتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ امت جس کا اثاثہ دینی تصلب اور تحریکیت ہے، جس نے کبھی بھی باطل طاقتوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے، بلکہ مشکل سے مشکل وقت میں نجات کے نئے راستے تلاش کئے ہیں، کیا وہ اس مابعد زوال دور کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے؟ کیا اس کے قلب میں کوئی چنگاری چھپی ہوئی ہے جو تحریکیت کا الاؤ روشن کرسکے؟ کیا اس کے ارادے اتنے مضبوط اور آہنی ہیں کہ وہ نئے اداروں کو قائم کرسکے؟ کیا کوئی نیا قاسم، کوئی نیا شبلی اور کوئی نیا سر سید ہے جو نئے جذبے کے ساتھ امت کی شیرازہ بندی کا فریضہ انجام دے سکے؟ یا اس امت کا وجود مردنی کا شکار ہوچکا ہے اور جمود اس کی پہچان بن چکی ہے؟
ڈاکٹر محمد عادل خان
رسرچ اسکالر شعبہ علم الجراحت
اسٹیٹ تکمیل الطب کالج لکھنؤ