04/01/2026
*سفر ساؤتھ کے خوش گوار لمحات*
قسط2
_________________________________
9828221323
تحریر: *محمد رفیق مصباحی شیرانی*، استاذ: دارالعلوم فیضان اشرف باسنی ناگور راجستھان
فیضانی ایسوسی ایشن کیرلا (کیرلا کے فیضانی برادران کی تنظیم) جو 2015 میں حضرت علامہ الشاہ سید ابراہیم خلیل بخاری بانی و مہتمم جامعہ معدن مالا پرم اور مرحوم حضرت مولانا حافظ عبد الواحد صاحب قبلہ کی موجودگی وسرکردگی میں جامعہ معدن ہی میں وجود میں آئی _ اس سال اس کی دسویں سال گرہ تھی، جس کے حسین موقع پر تنظیم کے ایک عظیم الشان اجلاس میں شرکت کے لیے حضرت مولانا مفتی محمد یونس صاحب مصباحی شیرانی ناظم تعلیمات ادارہ ہذا اور راقم الحروف (محمد رفیق مصباحی شیرانی) تنظیم کی طرف سے مدعو کیے گئے _ ان کی اس پرخلوص دعوت پر تنظیمی سرگرمیاں، کارکردگی اور طریق کار ملاحظہ کرنے نیز ممبرانِ تنظیم کی حوصلہ افزائی کے لیے حامی بھر لی_
جس کے لیے 17 دسمبر 2025 بروز بدھ ناگور سے رات 9:بجے ٹرین میں سوار ہونا تھا مگر ٹرین لیٹ ہونے کی وجہ سے 9:45 پر ناگور اسٹیشن پہنچی، نماز عشا گھر پر ہی ادا کرلی تھی، اب تو ٹرین میں سونا ہی تھا، تھوڑی دیر بیٹھے رہے، اور اپنی اپنی سیٹ پر جاکر دراز ہوگئے، صبح جلد اٹھے اور ضروریات سے فارغ ہو کر نماز فجر ادا کی ، اور کچھ دیر کے لیے سیٹ پر لیٹ گئے کہ سبھی لوگ اپنی اپنی نیند کا لطف اٹھا رہے تھے، تو ہم پیچھے کیوں رہیں ہم بھی سوگئے، یہ بھی امر واقعی ہے کہ ٹرین میں سونے، جاگنے اور کھانے پینے کا کوئی وقت نہیں ہوتا ہے _ طوالت کے خوف سے تفصیل میں نہیں جانا چاہتا _ خیر پھر کوئی دس بجا ہوگا کہ نیند سے بیدار ہوئے، ہاتھ منہ دھل کر توشہ دان کھولا اور بڑے سکون سے دونوں لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا _ اس ٹرین کا روٹ ممبئی کے علاقہ وسئی روڈ ہوتے ہوئے ہے، وسئ میں مولانا یونس صاحب مصباحی کے ہم سبق ساتھی اور ہمارے نہایت مخلص، ملنسار،خوش اخلاق ،ہنس مکھ دوست مولوی موسی فیضانی باسنوی رہتے ہیں، جنھیں حضور شیخ الجامعہ صاحب قبلہ نے ایک دن پہلے ہی فون کرکے بتادیا تھا کہ ہمارے دو موقر استاذ کیرلا جارہے ہیں ان کا بھر پور خیال رکھنا اور کھانے کابھی انتظام کرنا، بس پھر کیا تھا، موسی بھائی نے ہم لوگوں سے رابطہ کرکے کہا کہ دن کے ڈھائی بجے ٹرین وسئ روڈ پہنچے گی، جہاں ان شاء اللہ کھانا حاضر رہے گا _ وہی ہوا ماشاءاللہ موسی بھائی نے حق دوستی نبھاتے ہوئے دال، چاول، پراٹھے ، مچھلی،سلاد وغیرہ پر مشتمل ایسا لذیذ وعمدہ کھانا بھیجا کہ بس لطف ہی آگیا، ساتھ ہی کافی و وافی مقدار میں ہونے کی وجہ سے دو وقت کے لیے کفایت کرگیا_ اس موقع پر حضور شیخ الجامعہ صاحب قبلہ اور موسی بھائی کے اس حسن عمل کا نیز حضرت مولانا مفتی حامد رضا فیضانی اور عزیزم حماد رضا جنھوں نے باسنی سے ناگور اسٹیشن پہنچانے کےلیے گاڑی کا اہتمام کیا ، ان تمام مخلصین محبین کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت وعافیت کے ساتھ درازگی عمر عطا فرمائے _
واضح رہے کہ موسی بھائی نے کوئی پہلی بار یہ کارنامہ انجام نہیں دیا بلکہ سال گذشتہ ناچیز اور حضور شیخ الجامعہ صاحب قبلہ گوا میں منعقدہ ایس ایس ایف(SSF) کے پروگرام میں شرکت کرکے واپس لوٹتے وقت بھی یہ بہترین کارنامہ انجام دے چکے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں خوب ترقیاں، اور ان کے کاروبار میں بے پناہ برکتیں عطا فرمائے _
کھانا کھایا، نماز پڑھی اور
کھڑکی کے پاس بیٹھ کر جمال فطرت اور مظاہر قدرت کا نظارہ کرنے لگے، اب میخ زمین یعنی طول طویل پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ان کو دیکھ کر خدائی فرمان یاد آیا "*والی الجبال کیف نصبت، والی الارض کیف سطحت*"اس سے زیادہ ورطہ حیرت میں ڈالنے والی چیز یہ تھی کہ انھیں پہاڑوں کا پیٹ چاق کرکے سرنگیں بناکر ٹرین کا راستہ نکالا گیااور ٹرین ایک سرنگ سے نکلتی دوسری میں داخل ہوجاتی، یوں لگ رہا تھا کہ کوئی سانپ بل میں ایک طرف گھسا اور دوسری طرف نکل آیا، یہ منظر میرے لیے اگر چہ تعجب خیز نہیں تھا کیونکہ ناچیز 2007/8 میں تخصص فی الادب کے لیے جامعہ سعدیہ کاسر گوڈ، کیرلا جانا ہوا تھا جس کی وجہ سے پانچ چھ اسفار کرچکا تھا، البتہ حضرت مولانا یونس صاحب قبلہ مصباحی چونک پڑے کہ اچانک اندھیرا کیسا چھا گیا تو میں نے بتایا کہ یہ سرنگ ہے اور یہ کوئی دو چند نہیں ہے بلکہ چھوٹی بڑی 150 سے بھی زائد ہیں ان میں سب سے بڑی 12/ کلو مٹر لمبی بتائی جاتی ہے _ مگر میں نے اس سے یہ نصیحت حاصل کی کہ ہمت،حوصلہ اور کوشش کتنی بڑی چیز ہے کہ انسان نے اپنے عزم مصمم سے قلت وسائل کے باوجود اس دور میں اتنا بڑا کارنامہ انجام دے دیا جس کو وسائل سے بھری دنیا میں بھی آدمی سوچنے پر مجبور ہوجائے _ خیر ادھر رفقائے سفر سے باتوں کا سلسلہ آگے بڑھ رہا تھا ادھر ٹرین ہرے بھرے جنگلات میں خوفناک صدا بلند کرتے ہوئے،کانوں کے پردے چیرنے والے ہارن بجاتے ہوئے اپنی برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی دریا آیا تو پل سے گزرہی ہے، پہاڑ آیا تو سرنگ میں گھس رہی ہے _ جوں جوں ٹرین چلتی رہی نہایت ہی دل فریب اور دلکش مناظر سامنے آتے رہے_ آبشار، کوہسار، نہریں، ندیاں، پہاڑیاں، گھاٹیاں، ہرے بھرے درخت، ہر طرف پھیلا سبزہ زار دیکھ کر سفر کشمیر کی یاد تازہ ہوگئی_ البتہ کشمیر کا موسم ٹھنڈا یہاں کا گرم، وہاں سیب و اخروٹ کے پیڑ یہاں ناریل کے لمبے لمبے درخت_ بہرحال ان دل چسپ مناظر کو دیکھتے رہے اور آفاق وانفس میں پھیلی ان نشانیوں میں غورکرتے رہے_ اور عشا پڑھ کر سوگئے_ جاری