مرکز الدعوة والبحوث الاسلامیة

مرکز الدعوة والبحوث الاسلامیة Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from مرکز الدعوة والبحوث الاسلامیة, College & University, vill. sabripur post Muzaffarabad distt saharanpur, Saharanpur.

26/09/2025

ان ﷲ مع الصابرین

*کہاں گئے وہ لوگ* مطالعہ نگار: سید محمد ریاض ندوی کھجناوریرئیس:جامعة الحسنین صبری پور قلم وکتاب کی وسیع ترین دنیا میں مو...
31/08/2025

*کہاں گئے وہ لوگ*

مطالعہ نگار:
سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس:جامعة الحسنین صبری پور

قلم وکتاب کی وسیع ترین دنیا میں مولانا کبیر الدین فاران صاحب مظاہری زید مجدہ کا نام کوئی نیا نہیں ہے،قلم پکڑنے والےقلمکار، کتابوں سے آشنااور مطالعے کے رسیا افراد ان کے قلمی کارناموں سے اچھی طرح واقف ہیں،بات سے بات پیدا کرنے والے منفرد نقش گر مولانا کبیر الدین فاران صاحب تذکرہ نگاری میں بھی اپنے نقوش مزین کرگئے۔
خاکہ نگاری ایک مشکل موضوع ہے بسا اوقات انسان اپنے ممدوح کی عظمت وفضیلت اجاگر کرنے میں ایسی چیزوں کا ذکر کرجاتا ہے جس سے تحریر کی روح نکل جاتی ہے اسلوب نگارش بھی متاثر ہوجاتا ہے پھر قاری بھی بے کیف ہوجاتا ہے نہ اس کا دل گرماتا ہے نہ آنکھ کو ٹھنڈک پہنچتی ہے،لیکن مولانا کا یہ امتیاز ہے کہ آپ کی تحریر کو پڑھ کر ھل من مزید کی صدا بلند ہوتی ہے،آپ نےجن نادرۀ روزگار و نابغۀ زمن شخصیات پر قلم اٹھایا ہے انہیں اب گردش افلاک پیدا نہیں کر سکتی،آپ کی تحریروں میں چاشنی ، وافر حوصلہ،نوجوانوں کے لئے ایک منزل کی تلاش،صحیح سمت چننے،میدان عمل میں کودنے کی اسپرٹ ہوتی ہے،صاف وششتہ الفاظ، قدیم وبوجھل تعبیرات سے پاک،جدید تعبیرات سے آراستہ، کبھی زبانِ انگلش کو اردو رسم الخط میں لکھ کر کھانے میں نمک تو زیادہ کردیتے ہیں،حسن تعبیر،قوت استدلال اورزوربیان سے اپنی تحریر میں ایک البیلا پن بھی پیدا کردیتے ہیں،مزید یہ کہ ان کی تحریروں میں دل کا سوز بھی ہے اور ان پر آنے والی آزمائشوں کا کوہ گراں بھی،لیکن امید کا چراغ انہوں نے ہمیشہ روشن رکھا اور اپنے قلم کی سیاہی سے سفید کاغذات کو دامن امید دلائی، اپنے انداز فکر وانداز نگارش میں منفرد ہیں سلیقہ وشگفتگی سے لکھتے ہیں۔
قلمی فضا پر چھا جانے والے مولانا مظاہری کا ایک امتیاز یہ بھی ہے جب وہ کسی شخصیت پر لکھتےہیں تو تھکتے نہیں، جھجکتے نہیں، ہر پہلو پر اپنے قلم کو جنبش دیتے ہیں،اور تاریکیوں کو کافور کرتے ہیں،ہر شخصیت کی ممتاز اور نمایاں خصوصیات وامتیازات کو شرح صدر کے ساتھ لکھتے ہیں۔
پیش نظر مضامین کے مجموعہ میں مولانا کے قلم نے ان یادگارزمانہ شخصیات کو آئیڈیل بنانے کی کوشش کی ہے جن کے ساتھ آپ کی شب وروز کی داستانیں ہیں،طویل ملاقاتیں اور پیوستہ تعلقات ہیں،جن کو آپ نے پرکھا اور بھانپا،پھر جو دیکھا وہ لکھا،لیکن ایک رنج غم واندوہ کی کیفیت ان کے اوپر سوار ہے کہ کاش یہ ان کی زندگی میں لکھا جاتا تو دنیا زیادہ فائدہ اٹھاتی،ہائے بد قستمی ہماری قوم کسی کے جانے کے بعد اس کی صفات کو سامنے لاتی ہے اس کی حین حیات ہی اس کے قابل التفات کارناموں کو دنیا کے سامنے اجاگر نہیں کیا جاتا۔
ان عباقرۀ زمن شخصیات میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ،مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ،پیرطریقت حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلویؒ،محدث عصر حضرت شیخ یونس صاحبؒ،حضرت مفتی عبد العزیز صاحب رائے پوریؒ، حضرت مفتی عبد القیوم صاحب رائے پوریؒ،مولانا اسماعیل صاحب منوبریؒ،حضرت مفتی سعید احمد پالنپوریؒ،حضرت مفتی عبد الغنی ازہریؒ کشمیری،حضرت مولانا عبد ﷲ کاپودرویؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانویؒ، حضرت مولانا اختر صاحبؒ،حضرت مفتی عبدﷲ رویدریؒ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالقادر شمسؒ، حضرت مولانا محمد عباس مظاہریؒ حضرت مولانا قاری محمد ایوب صاحب قاسمیؒ حضرت مولانا قاری محمد ایوب صاحب مظاہری جھارکھنڈیؒ سے عنایتوں کا اظہار، ان کی جانب سے نچھاور ہونیوالی لازوال شفقتوں، عنایتوں کو محبت کے سمندر میں غرق ہوکر عشق وفدائیت کی مکمل تصویر بن کر اوراق کی زینت بناکر پیش کیا ہے۔
دوسرا باب کہتی ہے تجھے خلق خدا غائبانہ کیا کے نام سے قائم کیا ہے جس میں ملک کی نامور شخصیات کے کوچ کرجانے پر ان کے پسماندگان واخلاف کے نام تعزیت نامے پیش کئے گئے ہیں جن میں صبر وشکیبائی اور تسلی بھرے الفاظ کے ساتھ ان کی خدمات کو خراج پیش کیا ہے۔
تیسرا باب جنازہ سے متعلق احکامات پر مبنی ہے جس میں تدفین و تکفین کے مشہور مسائل فقہ حنفی کے معروف مراجع سے لئے گئے ہیں اخیر میں مولانا فاران کی دو مشہور کتابوں پر ملک کے مشاہیر قلم کار کے تبصرے بھی ضم کئے ہیں جو مولانا کبیر الدین فاران صاحب نے امید کا چراغ اور پھر مٹی کا چراغ روشن کیا تھا۔
کتاب کے شروع میں گجرات کی مردم گر زمین کی مردم ساز شخصیت حضرت مولانا مفتی احمد خانپوری صاحب دامت برکاتہم کا مقدمہ اور فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف ﷲ رحمانی دامت برکاتہم کی تقریظ نےچارچاند لگائے ہیں۔
مولانا کے نزدیک زندگی نام ہے جدوجہد کا،کد و کاوش کا،محنت و جانفشانی کا، وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کو سم قاتل گردانتے ہیں۔
بنیادی طور پر ان کی شناخت ایک پختہ قلم کار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین منتظم اور جدید فکر سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مردم سازکی بھی ہےوہ ایک باہمت، حوصلہ مند،راسخ عزم کے مالک،اور ندوی الفکر عالم دین ہیں، انہوں نے اچھی چیز کو لینے میں دست نوازی کو اپنا شیوہ بنایااور وہ مقام ومرتبہ پایا کہ خود دینے والے بن گئے،وہ کسی محفل وبزم میں بیٹھ کر مکمل یگانگت کا احساس کرادیتے ہیں، کام کرنیوالوں کے فدائی وشیدائی بن جاتے ہیں،ان کے قلمی نگارشات سے یہ بات محسوس ہوتی ہے ان کے یہاں جذبۀاحساس کی کارفرمائی موجود ہے اور خاکہ نگاری کا یہ سفر روایت سے جدت کی طرف ہے،اس کتاب کو ان کے جانثار واطاعت گزار بیٹوں نے شائع کیا ہے شائقین اردو اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں اور مطالعہ کریں خوبصورت ودیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ کتاب کی قیمت درج نہیں ہے

18/08/2025
16/02/2025

پیام عرفات کی خصوصی پیشکش

جب عزم بالجزم ہو ،حوصلہ ہو ،کچھ کرنیکی تمنا ہو ،اور خلوص کی آمیزش ساتھ ہو ،اور یہ عزم شب وروز ستائے ،جاگنے پر آمادہ کرے، نیند کو قربان کرنے میں مزہ آئے،اور تھک کر ٹوٹ جانے کو دل چاہے ،اور تکان ایسی کہ پھر اٹھنے کو دل گوارا نہ کرے،ساتھ میں بڑوں کی رہبری ورہنمائی اور مستجابی دعائیں شامل حال ہوں تب ایسے تاریخی کام وجود میں آتے ہیں جو دار عرفات سے نکلنے شمارہ پیام عرفات سے سامنے آیا ۔

پیام عرفات کا تازہ شمارہ خانوادۀ حسنی کے فردفرید ، زبان وادب کے رمز شناس ،علم وعمل کے جامع، ندوة العلماء سابق ناظر عام حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندویؒ کی یاد میں شائع کیا گیا ہے۔
وقت کے اکابرین کی ان سے بے پناہ محبت،رفقاء کی ان سے بے مثال عقیدت اور زبان و ادب سے تعلق رکھنے والوں نے چند ایام میں ان کی جاذب نظر شخصیت، اوصاف و کمالات کو قلمی صورت عطاکردی ،یہ ان کی محبوبیت و مقبولیت کی بین دلیل ہے ،جیسے ان کے حادثے سے میخانۀ علم و ادب میں ماتم چھا گیا تھا اب اس تاریخی ، علمی وادبی کاوش کو دیکھ کر سکون وطمانیت کی رداچھائے گی،اور تشنگان علم ادب ملک و بیرون ملک کے شہسواران قلم کے نگارشات سےمحظوظ ہوں گے۔
مرکز الامام أبی الحسن الندوی دار عرفات کی جانب سے شائع ہونے والے ماہ نامہ پیام عرفات کی ادارت میں شامل تمام قلم کاران خصوصا ہمارے رفیق برادر عزیز مولانا محمد ارمغان ندوی،مولانا سید مکی حسنی ندوی اور معاونین قابل مبارکباد ہیں اور ان کی محنتیں قابل رشک ہیں، فہرست دیکھی ،ماشاءاللہ نجوم کواکب کی ایک کہکشاں اور قطار ہے قاری اس کشمکش میں مبتلا ہو جائے پہلے کس تحریر کو پڑھا جائے ﷲ تعالی آپ کی محنتوں کو قبول فرما کر بہترین بدلہ عنایت فرمائے آمین

سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس: جامعة الحسنین صبری پور

16/02/2025

فکر اسلامی کے نقیب

سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس : جامعة الحسنین صبری پور

خانوادۀ حسنی کے گل سر سبد ،ندوة العلماء کے ناظر عام ،ہندوستان میں عربی زبان وادب کے اہم ستون،مہہ و انجم کی جھرمٹ میں نمودار ہونے والا روشن ستارہ، حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ کے بھتیجے وداماد، حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندویؒ کے لخت جگر، مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندویؒ بھی اپنے رب کی جانب کوچ کر گئے، اس باغباں کے جانے سے چمن روپڑا،آنکھیں پرنم ہوگئیں،بس اطمینان اس پرہوا کہ حور وغلمان نے ان کا استقبال کیا اور وہ شہداء کی فہرست میں شامل ہوکر نم کنومة العروس ابدی نیند سوگئے ۔
ناظر عام کے جانے سے نظارے بھی خموش ہوگئے،ان کی جدائی کا اثر قلم وکتاب، فکر وادب، دعوت وعزیمت، درس وتدریس اور قافلۀ ادب اسلامی کے ہر فرد کی طبیعت پر ہے کیونکہ ان کے جنبش زبان وقلم سے نہ جانے کتنی کلیاں مہکتی تھیں،ان کے جانے سے محفل ساز وترنم میں سناٹا ہے اور خانوادۀ حسنی کے ساتھ ساتھ علم وقلم، تصنیف وتالیف اور دعوت و تبلیغ کے مردان کار ان کی جدائی پر افسوس کناں ہیں، جدائی کا یہ ہمہ جہت اثر ان کی ذات کی وہ خوبیاں ہیں جن خوبیوں سے ﷲ تعالی نے انہیں سرفراز فرمایا۔

مولاناجعفر مسعودؒ نام تھا رفاقت ویکجائی کا،ظاہر و باطن کی یکسانیت کا،کینہ وحسد سے پاک زندگی کا، زندہ دلی وخوش گفتاری کا،الفت وانس محبت ومودت کا،سراپا خلوص واپنائیت کا، مہمان نوازی وکشادہ دلی کا، کرم گستری کا،عزیزواقارب پر جان چھڑکنے کا،تہذیب نفس اور حسن معاشرت کا، حاجت روائی ودست نگری کا،اخلاقی اقدار کا،سب سے بڑھ کر انسانیت وشرافت کا۔

وہ حلم و بردباری، تواضع و خاکساری، محبت و مودت، پرہیزگاری وپارسائی، توکل و انابت، کم گوئی و تفکر، شرافت و نجابت، ہمدردی و غم گساری بے نیازی و استغنا اور علم وعمل میں گہرائی وگیرائی کا نمونہ تھے،ان کو کبھی کسی نے ترش رو نہ دیکھا،انہوں نے ہمیشہ زخموں پر مرہم رکھا،انہوں نے دلوں کو جوڑا،بچھڑے کو ملایا ،ادب اسلامی کو پروان چڑھایا، فکر اسلامی کو تقویت دی،اسلامی ثقافت وتہذیب کو گلے لگایا۔
وہ قلم کے دھنی تھے، عربی واردوزبان پر یکساں قدرت رکھتے تھے ، زبان،اس کے زیر وبم،اس کی نزاکت پر گرفت رکھتے تھے اوراس کی اداؤں سے بخوبی واقف تھے، تسلسل وروانی وسبک خرامی،تحریری شگفتگی، نازک استعارات، لطیف تشبیہات پر ان کو ملکہ تھا،اور اپنے عصری اسلوب میں لکھنا ان کی پہچان تھی،ان کی تحریریں صرف نقش نہیں بلکہ نقش کے ساتھ شوخئی رنگ سے معمور ہوتی تھیں،یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے قلم کی جولانیوں سے ایک عالم کو گرویدہ بنایا،اور دامن دل کو اپنی جانب کھینچا،اور قاری کو اپنی گرفت میں لیا،آن کی آن میں ان کے نگارشات ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچ جاتے،براعم الایمان میں ان کے مضامین موسمی پھل سے بھی زیادہ ذائقہ دیتے، عربی لغت کا کبھی سہارا لیا جاتا،رواں دواں تحریر ہوتی، ہر لفظ عبارت میں اس طرح فٹ ہوتا گویا کسی ماہرفنکار نے انگوٹھی میں نگینہ جڑدیا ہو،ان کو پڑھنے میں اکتا ہٹ کا ذرا احساس نہ ہوتا،بلکہ ھل من مزید کی صدا بلند ہوتی ،اورمزاج کی شائستگی ان کی تحریروں میں جھلکتی یہی وجہ ہے کہ محبین ندوہ ہی نہیں بلکہ شائقین علم وادب ان سے بے پناہ محبت رکھتے اور ان کے قلمی وارد کا انتظار کرتے تھے۔
یہ آپ کی سعادت ونیک بختی تھی کہ خانوادۀ حسنی کے چشم وچراغ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ان یگانۀ روزگار اساطین علم وقلم سے بھی مربوط رہے جن کے دامن میں انشاءپردازی نے پناہ لی اس پر مستزاد یہ کہ مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندویؒ جیسے گوہر بارعم محترم کا سایۀ عاطفت بھی انہیں میسر آیااور اپنے والد محترم ادیب بے مثال حضرت مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندویؒ کا گہوارۀ تربیت بھی ان کے نصیب کا حصہ بنا،ان دونوں کیمیا اثر نفوس اور سب سے بڑھ کر مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ کی نظر کے فیضان سے وہ بھی اپنے میدان کے شہہ سوار بنے،اور وقار واعتبار کی دہلیز پر قدم رکھا،اور عربی ادب وانشا میں ان کو اتھارٹی کی حیثیت ملی۔
مجلس شوری کے اراکین نے علم وادب کے اس درخشاں ستارہ کو ندوة العلماء کے ناظرعام کے لئے منتخب فرمایا،جو ان کے بڑوں کے عزم وعمل کا عنوان تھا،آپ نے مختصر عرصہ میں دارالعلوم ندوةالعلماء کے اندردعوت نظارہ دینے والے انتظام و انصرام کی طرح ڈالی،قلیل مدت میں اس قافلہ میں شامل ہوگئے جن نصیبہ وروں نے ندوہ کی اپنے خون جگر سے آبیاری کی اور ندوة العلماء کو اپنی محنت ومصلحت،دور اندیشی ومعاملہ فہمی، زیرگی ووسیع المشربی سے مزید ترقیات کی جانب تیز گام کیا،آپ ایک بلند پایہ مدرس بھی تھے،اور گہری بصیرت کے حامل مدبر بھی، ایک جانب اگر ذہانت وفطانت کی مثال تھے ، تو دوسری جانب اعلی علمی صلاحیت سے متصف ، طلبہ کی ذہن سازی ان کی فکری علمی ادبی اور تعمیری تربیت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیااور اپنے علمی منہل سے سیرابی کا کام کیا اور امانتداری وجفاکشی کے ساتھ طلبہ کی جانب مرکوز رہے،بلکہ آپ کی ذات ایک ایسی تربیت گاہ بن گئی جہاں سے تشنگان علم و ادب حسین سانچوں میں ڈھلنے لگے،پہلے آپ نے مدرسہ عرفانیہ کو وجود بخشا پھر مولانا سید محمد حمزہ حسنی ندویؒ کی وفات کے بعد آپ ندوہ ہی کے ہوکر رہ گئے۔
ہم نے ان سے باقاعدہ نہیں پڑھا لیکن ان کو ہر ماہ اور پندرہ روز پر الرائد کے صفحات میں پڑھا ان کی تحریروں میں سلاست وروانی ایسی کہ پھر پڑھنے کو ہی دل چاہے وہ اپنی فکر قلم کے توسط سے صفحات پر اس طرح بکھیرتے گویا میز پر پھول چنے گئے ہوں اور سب قارئین کشید کررہے ہوں الرائد کا خصوصی کالم براعم الایمان وہ کئی برسوں سے لکھتے رہے اس کالم سے عربی داں طبقہ میں ان کا تعارف بھی ہوا،اب وہ الرائد کے ایڈیٹر بھی تھے۔

مولاناحسنیؒ کے ندوہ فروکش ہوجانے کے بعد کئی مرتبہ ملاقات ہوئی،رابطہ کے پروگرام میں دید وشنید رہی، ہمیشہ خندہ پیشانی سے ملتے،وقت دیتے، مشوروں سے نوازتے،آئندہ کے لئے لائحۀ عمل بتاتے، ابھی حادثہ سے ایک روز پہلے بھی فون پر بات ہوئی میں سوانح مولانا سید محمود حسنی ندویؒ پر تقریظ لکھوانا چاہتا تھا یوں گویا ہوئے ان شاءﷲ ہم ایک دو روز میں لکھ دیں گے، مسودہ بغور دیکھا،اور عناوین کی جانچ پڑتال کی ،حذف واضافہ بھی کرایا کسے معلوم تھا کہ اب انہیں کی شخصیت وخدمات پر قلم کار مضامین لکھیں گے اور وہ اس فانی دنیا کوفورا ہی وداع کا پروانہ دیں گے، خداوند تعالی ان کی بہشت بریں سے نوازے۔

مرکز الدعوة والبحوث الاسلامیة کے زیر انتظام چلنے والے ادارہ جامعة الحسنین میں حضرت مولانا عبد السبحان ناخدا ندوی دامت بر...
27/11/2022

مرکز الدعوة والبحوث الاسلامیة کے زیر انتظام چلنے والے ادارہ جامعة الحسنین میں حضرت مولانا عبد السبحان ناخدا ندوی دامت برکاتھم کی تشریف آوری
اور
تحفیظ القرآن الکریم کا سنگ بنیاد

05/07/2019

Admission open in
Jamia Hasanain
Run By
M.D.B.I.
Faculty of Hifz &Nazra

16/08/2018

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ

امید ہے کہ مزاج گرامی بعافیت تمام ہوں گے!

اپنے آبائی وطن "کھجناور"کے قریب ایک کثیر تعداد والی مسلم بستی (صبری پور مظفرآباد سہارن پور انڈیا)میں بفضل خداوندی ایک دینی ادارہ بنام جامعہ حسنین رض کی داغ بیل اکابرین علماء کی سرپرستی میں ڈالی گئی ہے ،اب تک اس بستی میں کوئی ادارہ نہ تھا جس وجہ سے یہاں کی دینی حالت مایوس کن ہے اور جہالت کا دور دورہ ہے ،ایسے حالات میں اس گاؤں میں ایک ایسے ادارہ کا قیام عمل میں آیا ہے جس میں دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ،فی الحال تعلیم کا نظم ایک چھپر میں کیا گیا ہے اور حفظ قرآن کے بیرونی طلباء ایک صاحب کے مکان میں زیر تعلیم ہیں، مجموعی طلباء کی تعداد 152ہے ،دوبیگہ زمین خرید لی گئی ہے جس کی قیمت 9لا کھ روپئے ہے جن کو ادا کرنے کے لئےچار ماہ کی قلیل مدت طے کی گئی ہے ،نیز ابھی تعمیرات پر توجہ نہ دے کر تعلیم قرآن اور تربیت پر تمام تر توجہات مبذول ہیں ۔

آپ سے خصو صی توجہات و عنایات اور دعاؤں کی درخواست ہے !!!

نیز اس درخواست کو مزید ارسال فرمادیں تاکہ الدال علی الخیر کفاعلہ کے زمرہ میں اللہ تعالی آپ کا بھی نام درج فرمادے زمین کی رقم کی ادائیگی اور تعمیر میں اپنے عطایا کے ذریعہ اس کار خیر میں حصہ لیں اور دارین میں سعادت حاصل کریں!!!!!! والسلام سید محمد ریاض ندوی سید محمد فاروق ندوی 9758044131 9548396753

15/08/2018

Address

Vill. Sabripur Post Muzaffarabad Distt Saharanpur
Saharanpur
247129

Telephone

+919758044131

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مرکز الدعوة والبحوث الاسلامیة posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to مرکز الدعوة والبحوث الاسلامیة:

Share