Sirajul Uloom Srinagar Kashmir

Sirajul Uloom Srinagar Kashmir سراج العلوم دُولعل محله نواب بازار سرینگر کشمیر۔
ملحقہ:دارالعلوم ندوةالعلماءلكھنؤاترپردیش. (الھند)

A public welfare educational institute affiliated with nadwa tul ulama Lucknow.

07/12/2025

اردو بیت بازی منعقدہ 19 نومبر 2025 کی پررونق جھلکیاں

06/12/2025
Siraj-ul-Uloom Nawab Bazar Srinagar is announcing New Addmissions in 5 year part Time Online Aalim Course.
22/10/2025

Siraj-ul-Uloom Nawab Bazar Srinagar is announcing New Addmissions in 5 year part Time Online Aalim Course.

"خلاصہ علمی محاضرہ""محترم ڈاکٹر شکیل احمد صاحب شفائی" چند روز قبل عزیزم ڈاکٹر شعیب ملک صاحب کا ایک دعوت نامہ موصول ہوا ج...
21/10/2025

"خلاصہ علمی محاضرہ"
"محترم ڈاکٹر شکیل احمد صاحب شفائی"

چند روز قبل عزیزم ڈاکٹر شعیب ملک صاحب کا ایک دعوت نامہ موصول ہوا جس میں انہوں نے احقر کو ایک علمی محاضرہ میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا - محاضرہ مدرسہ سراج العلوم ( دلال محلہ سرینگر) کی شبینہ کلاس کے زیر اہتمام منعقد ہونے جارہا تھا اور اس میں مہمان مقرر کی حیثیت سے " مفتی عمر عابدین" کو مدعو کیا گیا تھا - مفتی عمر عابدین کا تدریسی ، انتظامی اور انصرامی تعلق برصغیر کی ایک معروف فقہی دانشگاہ " المعھد العالی حیدرآباد" سے ہے اور وہ فقیہ الملۃ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ( متعنا اللہ بطول عمرہ و علمہ) کے بڑے صاحب زادے ہیں - میں نے المجمع العلمی کے اراکین کو بھی اس محاضرہ میں شرکت پر آمادہ کیا علاوہ ازیں میرے ایک جواں سال دوست ڈاکٹر عاقب جلال نے بھی اس میں شرکت کرنے پر آمادگی ظاہر کی -
محاضرہ سے ایک دن قبل رفیقِ محترم مولانا عدنان ندوی ( مہتمم مدرسہ سراج العلوم) سے رابطہ کیا اور ان سے مزید تفصیل و آگہی حاصل کی -
18 اکتوبر کو عزیزم عبدالماجد کرمانی کے ہمراہ مغرب نماز سے کچھ وقت قبل گھر سے روانگی ہوئی ، راستے میں رفیقم ضمیر احمد خان بھی شامل ہوئے - ٹریفک کے ازدحام نے اس مختصر ترین مسافت کو طے کرنے میں خاصا وقت لیا - مدرسہ کے احاطے میں داخل ہوئے تو مغرب کی نماز ہوچکی تھی - خوش قسمتی سے اسی وقت المجمع کے رکن عادل احمد لنگو ایک اور قریبی ساتھی عدنان کے ساتھ احاطہِ مدرسہ میں داخل ہوئے - جماعت ان سے بھی چھوٹ گئی تھی لہذا ہم نے سب سے پہلے مدرسے کے ایک ہال میں مغرب کی نماز ادا کی -
محاضرہ مدرسہ کی " مسجد بی بی حلیمہ رضی اللّٰہُ عنھا" میں منقعد ہونے جارہا تھا - مسجد میں مدرسہ اور شبینہ کلاس کے طلباء کی ایک بڑی جماعت موجود تھی - مدرسہ کے جواں سال مدرسین کی ، جو سب کے سب ندوی تھے ، ایک کہکشاں نظر آئی - ان سے راقم کی سلام و کلام ہے - بڑے تپاک سے ملے - مولانا عبدالباری ندوی نظامت کے فرائض انجام دے رہے تھے - مجلس کا آغاز تلاوتِ قرآن مقدس سے ہوا - اس کے بعد مولانا ریحان ندوی نے بڑی خوبصورت نعت سے سامعین کو محظوظ کیا - چونکہ مہمان گرامی قدر ابھی راستے میں تھے لہذا مولانا عبدالباری صاحب نے مجھے حکم فرمایا کہ میں موقع کی مناسبت سے کچھ کہوں - ہرچند میں اس کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا کیونکہ میں خود محاضرہ میں شرکت کرنے کے لیے ہی آیا تھا تاہم تعمیلِ حکم میں چند طالبعلمانہ باتیں عرض کی- میری گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ ہرچند شریعت کا مآخذ قرآن و حدیث ہے اور اس میں دو رائے نہیں تاہم قرآن و حدیث کے مطالعہ میں امت کے بڑے اور مقبولِ عام علماء ، محدثین ، فقہاء اور مجددین کی تحریروں سے استفادہ کریں اور اپنے آپ کو ان سے بے نیاز سمجھ کر نیز بعض برخود غلط مقررین و مصنفین سے اثر پذیری کے نتیجے میں ، براہ راست قرآن و حدیث کی تفسیر ، تفہیم ، تشریح ، تعبیر اور تدریس کا تکلف نہ کریں - اول تو یہ طریقہ ہی بنفسہٖ پُر خطر ہے ثانیاً اس سے کبھی کبھار شبہات کا غیر مختتم سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر فلاں ابن فلاں قسم کے لوگ وجود میں آتے ہیں - چونکہ اللہ تعالیٰ نے علمائے دین کو اسلام کی ترجمانی کے لیے قبول کیا ہے لہذا ان کی تصانیف و تحقیقات سے شبہات کا ازالہ ہو جاتا ہے - یہ طریقہ زیادہ احوط ، اوثق ، اوجز ، ایسر ، ارشد اور اقرب الی الحق ہے - میری گفتگو کے دوران المجمع کے رکن حبیبم عاصم رسول مسجد میں داخل ہوئے -
اسی دوران مہمان گرامی قدر بھی تشریف لائے - مولانا عدنان صاحب نے بڑی عمدہ اور فصیح زبان میں مولانا کا تعارف دیا - مولانا کی یہ تعارفی گفتگو بھی کئی اہم علمی نِکات کی حامل تھی - انہوں نے حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی سے اپنے تعلق اور استفادہ و استفاضہ کی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی -
اس کے بعد اصل محاضرہ شروع ہوا - احقر نے کئی نامی گرامی علماء کے محاضرات میں شرکت کی سعادت پائی ہے اور الحمد للہ استفادہ بھی کیا ہے لیکن اس محاضرہ کو سن کر عجیب ہی کیفیت طاری ہوئی - یہ نہ رسمی گفتگو تھی اور نہ بے روح وعظ خوانی - نہ اس میں پند و نصائح کا وہ بوجھ تھا جسے خود ہمارے مقررین اٹھا نہیں پاتے اور نہ یہ داستان طرازی اور دراز نفسی کی بوجھل تقریر تھی -
اہم علمی باتیں ، عارفانہ نِکات ، عصری آگہی ، تازہ مسائل کا حسّی شعور و ادراک اور معاصر زبان میں گفتگو کا سلیقہ و قرینہ اس محاضرے کی مابہ الامتیاز خوبیاں تھیں -
چند باتیں ذیل میں اپنے اسلوب میں تحریر کررہا ہوں:
شبینہ کلاس میں زیر تعلیم طلباء زیادہ تر جدید تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض تو اچھے خاصے سرکاری عہدوں پر بھی فائز ہیں - انہیں مخاطَب کرتے ہوئے فرمایا:
قرآن کے شروع ہی میں اس کے لاریب ہونے کی بات کہی گئی ہے اور پھر اس سے ہدایت پانے والوں کی چند صفات بیان کی گئی ہیں - ایک صفت یہ بیان کی گئی "یؤمنون بالغیب"
اس کا صرف یہ مطلب نہیں کہ آپ مغیباتِ دین ( ملائکہ ، جنت ، جہنم ، قبر و برزخ اور احوالِ حشر ونشر وغیرہ) پر ایمان لے آئیں بلکہ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ قرآن کے احکام ، اخبار اور اوامر و نواہی کو بھی سو فیصد حق سمجھیں ہر چند وہ آپ کے مشاہدہ کے خلاف ہی ہو - مثلاً قرآن کہتا ہے " يمحق الله الربا و يربي الصدقات " اب مشاہدہ اس کے خلاف ہے کیونکہ بظاھر سود سے سرمایہ میں اضافہ اور صدقہ سے کمی واقع ہوتی ہے لیکن یؤمنون بالغیب کی حقیقت قلب و ذہن میں جاگزیں ہو تو اس آیت کے مضمرات کھلتے چلے جاتے ہیں اور سمجھ میں آتا ہے کہ جو نظر آرہا تھا وہ حقیقت نہیں تھی اور جو نگاہوں سے اوجھل تھا وہ حقیقت تھی -
فرمایا کہ روایتی اور رسمی مسلمان ہونے سے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے - شعوری اور فکری مسلمان بننے اور بنانے کی کوششوں کو مہمیز دیں - ہم نے تین طلاق کے سلسلے میں ہزاروں خواتین سے رابطہ کیا اور ان کی رائے جاننی چاہی تو ایسے ایسے انکشافات ہوئے کہ حیرت کی حد نہ رہی - ہم آج تک خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے تھے - بہت سی خواتین جو نماز ، روزہ ، حج و عمرہ اور حجاب کا اہتمام کرتی ہیں لیکن اسلامی احکام کے بارے میں ان کے ذہنوں میں بیشمار شکوک وشبہات موجود ہیں مثلاً عورت کو طلاق کا حق کیوں نہیں ؟ پوتا دادا کی موجودگی میں وراثت سے محروم کیوں ہوتا ہے ؟ عورت کو مرد کے مقابلے میں نصف میراث کیوں ملتی ہے ؟ مرد کو تعددِ ازواج کا حق کیوں ہے وغیرہ
پھر شبینہ کلاس کے طلباء سے فرمایا کہ اپنے آپ کو ان چلینجز کے لیے تیار کریں کیونکہ آپ ہی جدید اسلوب میں نئی نسل کو اس صورتحال میں بہترین رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں -
مدرسہ کے مستقل طلباء سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہُ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو فرمایا کہ تم پیش آمدہ مسائل کا حل کیسے نکالو گے تو انہوں نے عرض کیا کہ اول قرآن سے ، پھر حدیث سے اور اگر یہاں نہ پاؤں تو اجتھاد کروں گا " اجتھد برأئی"
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحمد لله الذي وفّق رسولَ رسولِ الله لما يرضي به رسوله " یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللّٰہُ عنہ کے لیے " رسول" کا لفظ استعمال فرمایا - اس سے علماء کی نازک ذمہ داری کا کچھ احساس ہوتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ( سفیر و ترجمان) ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں لہذا کتنا ضروری ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں" اجتھد برأئی " کے منصب پر فائز ہونے کا اپنے آپ کو اہل ثابت کریں - وہ صرف مدرسہ کی چار دیواری اور اپنے مسلک و مکتب فکر کے " مفتی" اور " مولانا" ہوکر نہ رہیں بلکہ عالمی تناظر میں اپنی زمہ داریاں ادا کرنے کا شعور پیدا کریں -
فرمایا آج جدید تعلیم قدیم تعلیم سے کسی طور فروتر نہیں - جدید تعلیم کے ذریعے بھی مہماتِ دین سر کی جا سکتی ہیں - بعض لوگ درسِ نظامی کی تکمیل کرکے سمجھتے ہیں کہ عالم ہوگئے ، اب مسجد میں نماز پڑھائیں گے ، کسی مدرسے میں تدریس کا کام انجام دیں گے اور سمجھیں گے کہ ہماری ذمہ داری ختم - یہ صحیح نہیں بلکہ زمانے کے مقتضیات کو سمجھیں اور پوری عصری تیاری کے ساتھ امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں - اس کے لیے عصری اسلوب کو سمجھنے اور سیکھنے کی کوشش کریں -

یہ مشتہ نمونہ از خروارے چند باتیں یہاں تحریر کیں - پورا محاضرہ ہی عجائبات سے بھرا ہوا تھا - ہماری آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئیں - نئی نسل کو ایسے ہی نوجوان علماء کی ضرورت ہے- ہماری تو یہ حالت ہورہی تھی : " وہ کہیں اور سنا کرے کوئی "
حسنِ اتفاق یہ ہے کہ ہمارے حلقوں میں جس طرح کا طالبعلمانہ مذاکرہ ہوتا رہتا ہے ، مفتی صاحب کی تقریر اسی کی عالمانہ توثیق کررہی تھی - دل اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء سے لبریز ہوا جارہا تھا کہ ہماری سوچ کا رخ ایک صحیح راستے کی طرف مشیر ہے -
بہرحال اس سے حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی کی عبقریت بھی سامنے آرہی تھی جنہوں نے ایسے آبدار گہر پیدا کیے ہیں -
مفتی صاحب موصوف سے کھانے کے دوران بھی مذاکرہ ہوا - ذاتی طور ان کو تمام تر مصنوعی تکلفات سے بری پایا ، ہنس مکھ ، خوش خُلُق ، خوش مذاق ، خوش مزاج -
ادبیات کا بھی گہرا ذوق -
مولانا عدنان صاحب کے لیے بھی دل سے دعا نکلی کہ ایسے ثمر آور محاضرے کا اہتمام کیا -
ڈاکٹر عاقب اور المجمع کے ساتھی تو خوشی سے بَلیّوں اچھل رہے تھے -
سب کی زبانوں پر ایک ہی جملہ تھا:
" اس طرح کے محاضرات اور بھی ہونے چاہئیں "

( شکیل شفائی)

( مفتی عمر عابدین صاحب کے محاضرے کی چند جھلکیاں احقر نے اپنے اسلوب میں تحریر کی ہیں لہذا تعبیرات کی ذمہ داری بھی میری ہے اگرچہ میں نے محاضرے کے مغز کو امانت کے ساتھ نقل کرنے کی کوشش کی ہے)

Address

Dulal Mohalla Nawab Bazar
Srinagar
190002

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sirajul Uloom Srinagar Kashmir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Sirajul Uloom Srinagar Kashmir:

Share