21/09/2025
ششماہی 'دستک' کبھی معیار سے سمجھوتہ نہیں کرتا: پروفیسر آفتاب احمد آفاقی
شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی میں دستک کے خصوصی نمبر "تنقید: مبادیات اصول اور نظریات” کی رسم اجرا اورمذاکرے کا اہتمام
وارانسی(پریس ریلیز)آج مورخہ 20 ستمبر2025 بروز ہفتہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ششماہی ریسرچ جرنل"دستک" کے خصوصی نمبر "تنقید: مبادیات،اصول اور نظریات" کی رسم اجرا اور مذاکرے کا اہتمام کیا گیا؛ جس کی صدارت شعبہ کے سربراہ پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر رفعت جمال، پروفیسر شاہینہ رضوی، ڈاکٹر مشرف علی، ڈاکٹر احسان حسن، ڈاکٹر قاسم انصاری اور ڈاکٹر افضل مصباحی نے رسالہ کے تازہ شمارے کے مشمولات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے کہا کہ ہر تحریر تنقید کا حکم نہیں رکھتی اور ہر لکھاری کو نقاد قرار نہیں دیا جا سکتا ہے؛ تاہم اس اعتراف میں کوئی باک نہیں کہ موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس نے قلم پکڑ لی، وہ منفرد ،معتبر اور قومی و بین الاقوامی سابقے کے ساتھ ادیب یا نقاد کی صف میں شامل ہو گیا۔ تنقید کی ایسی بے حرمتی کسی دور میں نظر نہیں آتی۔ اس کی بنیادی وجہ خود ساختہ تخلیق کاروں کی سستی شہرت اور ناموری کی بھوک ہے۔ اس قبیل کے تخلیق کار اپنا خود نقاد گڑھ لیتے ہیں۔ یہ صورتحال بے حد افسوسناک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دستک اپنے معیار سے کبھی سمجھوتا نہیں کرتاہے۔ ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ جامعاتی سطح پر تنقید و تحقیق سے وابستہ ریسرچ اسکالرز ، طلبہ و طالبات اور اساتذہ اس خصوصی نمبر سے مستفید ہو سکیں اور رسالوں کی بھیڑ میں دستک اپنی انفرادیت قائم کر سکے۔
پروفیسر رفعت جمال نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرقہ کی جو روش عام ہوتی جارہی ہے وہ بے حد شرمناک ہے۔ تنقیدی وتحقیقی مقالہ لکھنے والوں کو اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جب بھی کسی کو کوٹ کریں تو حوالہ ضرور دیں۔ پروفیسر شاہینہ رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دستک کا یہ خصوصی شمارہ طلبہ،اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کے لیے بہت مفید ہے۔انہوں نے اس خصوصی شمارے کےمشمولات پر اظہار خیال کرتے ہوئے آل احمد سرور،کلیم الدین احمد،شمس الرحمن فاروقی وغیرہ کے مقالوں کا حوالہ بھی پیش کیا۔ شعبہ کے استاد ڈاکٹرمشرف علی نے کہا کہ دستک کا یہ خصوصی شمارہ تنقید کے اصول و نظریات کو سمجھنے میں بے حد معاون ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریسرچ اسکالرز اگر اس شمارے کا اچھے انداز سے مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے اندر تنقیدی شعور یقینی طور پر پروان چڑھے گا۔ ڈاکٹر محمد قاسم انصاری نے ریسرچ اسکالرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تحریر تنقیدی اصول و ضوابط کی روشنی میں لکھیں؛ تاکہ وہ معیاری ہو سکے۔انہوں نے موجودہ تنقید نگاری کے کئی حوالے بھی پیش کیے۔ ڈاکٹر احسان حسن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی اورتخلیق و تنقید ساتھ ہی ریسرچ کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دلائی۔ ڈاکٹر افضل مصباحی نے کہا کہ دستک کے خصوصی شمارے ہر اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے مشمولات میں قدیم و جدید کا خاص خیال رکھا جاتا ہے؛ جسے پڑھ کر ہر قاری اپنے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ کے استعمال پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر شعبہ کے تمام ریسرچ اسکالرز اور دیگر شعبوں کے طلبہ اور طالبات نے بھی شرکت کی۔
پروگرام کی نظامت شعبہ کے استاد اوررسالہ کے معاون مدیر ڈاکٹر عبدالسمیع نے کی، انہوں نے اپنے تعارفی کلمات میں دستک کے تنقید نمبر کی اہمیت و افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ شمارہ ہر لحاظ سے طلبہ و طالبات اور ریسرچ اسکالرز کے لیے ممدومعاون ثابت ہو گا۔ڈاکٹر رقیہ بانو نے شکریے کی رسم ادا کی۔