05/07/2023
شدید گرمی کی اسباب کیا ہیں۔۔۔؟؟؟
اللہ تعالی نے کرہ ارض میں ہر چیز کو ایک خاص تناسب میں پیدا کیا ہے چاہے وہ مٹی , پانی پھتر, پہاڑ اور ہوایٸں ہو یا زمین کی ارد گرد مختلف گیسیز۔جب ان چیزوں کی تناسب / مقدار میں کمی یا انکریمنٹ اتا ہے تو ان کی اثرات سطح زمین پر زندگی بسر کرنے والے سارے چرند, پرند , پودے ,درخت تمام جانور ,حشرات اور انسانوں کو متاثر کرتے ہیں۔
پچهلے کٸ دنوں سے گرمی کی اثرات اپ سب محسوس کر رہے ہوںگے لیکن کبھی اپ نے سوچا ہے کہ اتنی شدید اور دماغ کو خراب کرنے والے گرمی کی وجوہات کیا ہیں اور اگر پتہ بھی ہے تو کیا اس کی سلوشن کی طرف کبھی اپ نے قدم بڑھایا ہے۔۔؟؟؟
انسانوں کی روزمرہ کام کاج کی وجہ سے مختلف گیسیز ہمارے فضا کو خارج ہوتی ہیں ان گیسز میں CFcs , HFcs( کلورو پلرو کاربن & ہایڈرو کلورو پلورو کاربن) اور بے تہاشا کاربن ڈایٸ اکساٸڈ (CO2) تقریباً 3/ 2 خصہ ان ہی کا ہوتا ہے ۔. یہ گیسیز کرہ ارض کی ارد گرد موجود اوززون نامی لیںر کو ڈیپلیٹ کر کے سورج سے انے والے خطرناک ultra violate rays کیلۓ راستہ ہموار کر دیتے ہیں ۔یہ rays نہ تو انسانوں کی صخت کیلۓ اچھی خبر ہے اور نہ ہی پودوں وعیر کیلۓ۔سورج سے انے والے روشنی زمین گرم کر دیتا ہے اور رات کی وقت زمین واپس یہ ہیٹ ہمارے ماحول کو خارج کر دیتے ہیں اب چونکہ زمین کی اوپر CO2 جیسے خطرناک گیسیز موجو ہیں اسلیۓ وہ ہیٹ ان میں ٹریپ ہو کر باہر جانے کی بجائے ہمارے ماحول کی اندر ہی رہ جاتے ہیں جس consequences بہت خطرناک اور تباہ کن ہیں۔
مطلب یہ کہ موسمیاتی تبدیليوں کا سب سے بڑا زمہ دار کاربن ڈایٸ اکسایٸڈ ہے جو کہ stropshere پر سب سے زیادہ مقدار میں موجود ہے( 2/3)۔
پچھلے مارچ کی مہینے میں کویٹہ ,وزیرستان ,باجوڑ اور دیر کی پہاڑوں unexpected برف باری کی نظارے دیکھنے کو ملے تھے اور اب موسم گرما توقعات سے زیادہ گرمی کی لہریں ہمیں تنگ کرہے ہیں ۔۔🔥🔥
اب سوال یہ ہے کہ کاربن ڈایٸ اکسایٸڈ کی مقدار کو کس طرح کم کیا جاۓ۔۔؟؟😳😳
(1): سب سے پہلے کام کرنے والے انڈسٹریز اور working companies کو ان خطرناک گیسیز کا اخراج کم کرنا پڑےگا اور اگر خارج بھی ہوتے ہیں تو ان کیلۓ واپس trap back mechanism دریافت کرنا ہوگا ۔
(2): دوسرا یہ کہ Fossils fuels کی استعمال کم کرنا چاہے ۔
پرسنلز گاڑیوں پر پابندی لگانا چاہے اور سرکاری ٹرانسپورٹ کو فروع دینا چاہے ۔
(3):تیسری اور سب اہم بات جو ہر کویٸ کر سکتا ہے وہ یہ کہ ہم سب ہر موسم بہار میں کم از کم 50 عدد درخت لگاۓ کیونکہ درخت کاربن ڈایٸ اکساٸیڈ کی سب سے بڑا کنزیومر ہیں اگر یہ سلسلہ ایسا چلتا رہا تو اگلے پانچ چھ سال تک 50 ڈگری سنٹی گریڈ گرمی کیلۓ اپنے اپ کو ذہنی طور پر تیار رکھیٸں۔۔😳۔
پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیٸر کجیۓ کیونکہ اگر 1000 بندوں میں سے 100 نے عملی طور پر درخت لگانا شروع کردیۓ تو ان کی ثمرات ارد گرد سارے انسانوں کو پہنچیں گے۔۔
شاہ زیب۔
.
.
.