16/09/2024
صوبہ جموں کی تمدنی تاریخ:-
(صوبہ جموں کی تشکیل )
1846 سے قبل صوبہ جموں کا کوئ تصور نہیں تھا ۔اس وقت یہ خطہ بائیس (22) چھوٹی بڑی ریاستوں اور جاگیروں پر مشتمل تھا جیسے (بھمبر۔ کھڑکریانی ۔ بسولی ۔ بھدرواہ۔ سمرتا ۔ لکھن پور۔ سانبہ ۔ منکوٹ۔ باہو۔ جسروٹہ ۔ چنینی ۔ کشتواڑ۔ تری کٹا ۔ اکنور۔ انبالا ۔ ریاسی ۔ میرپور۔ راجوری۔ بدھل اور پونچھ ) یہ نیم آزاد علاقے تھے جہاں کے راجے اپنی مرضی کے مطابق حکومت چلاتے تھے ان ریاستوں کے آپس میں رابطے اور نا ہی مرکزی انتظامیہ والی کوئ سوچ تھی انیسویں صدی میں پنجاب میں برٹش ککومت اور خالصہ سرکار کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ کے بعد جموں کے راجہ گلاب سنگ نے بچ بچاؤ کرتے ہوئے دونوں کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت خالصہ سرکار نے ایک کروڑ سے زائد تاوان برٹش حکومت کو ادا کرنا تھا رقم زیادہ ہونے کی وجہ سے پنجاب سرکار نے کچھ علاقے برٹش حکومت کو جرمانے کے طور پر دے دیے جس میں جموں اور کشمیر بھی شامل تھا۔ پھر یہ علاقے برٹش حکومت نے گلاب سنگھ کے ساتھ 16 مارچ کو امرتسر معاہدہ کے تحت 75 لاکھ نانک شاہی میں دے دیا یوں گلاب سنگھ کو نئ ریاست جموں کشمیر کا مہاراجہ تسلیم کر دیا اس وقت یہ ریاست ۔ ( جموں ۔ وادی کشمیر۔ لداخ ۔ گلگت اور بلتستان ۔) پر مشتمل تھی ۔ اقتدار میں آنے کے بعد گلاب سنگھ نے ریاست کو دو صوبوں میں تقسیم کر دیا ۔ صوبہ جموں اور صوبہ کشمیر۔ اب صوبہ جموں پاس جو 22(بائیس) چھوٹی ریاستیں یا راجواڑے تھے انہیں صوبہ جموں کے ساتھ شامل کر کے صوبہ جموں خا حصہ بنا لیا گیا
1947 میں کے واقعات کے بعد صوبہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ۔ درمیاں میں کنٹرول لائن حائل ہو گئ
کنٹرول لائن کے ایک طرف ( کشتواڑ ۔ ڈوڈہ ۔ رام بن ۔ اودھمپور ۔ ریاسی۔ سانبہ ۔ کھٹوعہ ) ہیں اور دوسری طرف( ریاست پونچھ کی تحصیل باغ ۔ سدھنتی راولاکوٹ ۔ کہوٹہ تھکیالہ ) علاقے موجود ہیں جبکہ تحصیل منڈھر اور آدھی تحصیل حویلی بشمول پونچھ ایک طرف اور کوٹلی بھمبر اور میرپور علاقے کنٹرول لائن کے دوسری طرف واقع ہیں اب جموں کے آدھے حصہ میں پاکستان اور آدھے میں ہندوستان قابض ہیں