BHMS Students, University College of Conventional Medicine, IUB.

BHMS Students, University College of Conventional Medicine, IUB. University College of Conventional Medicine was established in the year 2000 at Khawaja Farid Campus

27/08/2024

مائیگرین Migraine

ایک نیورولوجیکل حالت ہے جس میں شدید اور دھڑکنے والا سردرد شامل ہوتا ہے، جو عام طور پر سر کے ایک طرف ہوتا ہے۔ اس قسم کے سردرد کے ساتھ اکثر متلی، قے، روشنی اور آواز کی حساسیت، اور کبھی کبھار بصری خلل (جسے "آؤرا" کہا جاتا ہے) جیسے علامات بھی ہوتی ہیں۔ مائیگرین کئی گھنٹوں یا دنوں تک جاری رہ سکتا ہے اور روزمرہ کی زندگی پر شدید اثر ڈال سکتا ہے۔ مائیگرین کی اصل وجہ مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آئی ہے، لیکن اسے جینیاتی، ماحولیاتی، اور نیورولوجیکل عوامل کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے۔

مائیگرین کے لئے ہومیوپیتھی علاج

ہومیوپیتھی ایک متبادل طبی نظام ہے جو بیماریوں کے علاج کے لئے انتہائی کم مقدار میں مادے استعمال کرتا ہے تاکہ جسم کے قدرتی شفائی عمل کو متحرک کیا جا سکے۔ مائیگرین کے علاج کے لئے، ہومیوپیتھک ادویات کا انتخاب فرد کی مخصوص علامات، درد کی نوعیت، محرکات، اور مجموعی صحت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

یہاں کچھ عام ہومیوپیتھک ادویات ہیں جو مائیگرین کے علاج کے لئے استعمال ہوتی ہیں:

1. آئرس ورسی کلر: یہ دوا ان مائیگرین کے لئے تجویز کی جاتی ہے جن کے ساتھ متلی، قے، اور بصری خلل (آؤرا) ہوتا ہے۔ درد عام طور پر سر کے ایک طرف ہوتا ہے اور پیشانی یا کنپٹیوں میں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔

2. بیلاڈونا: اچانک شروع ہونے والے مائیگرین کے لئے استعمال ہوتی ہے، جس میں پیشانی یا کنپٹیوں میں شدید دھڑکنے والا درد ہوتا ہے۔ یہ درد روشنی، شور، یا حرکت سے بڑھ سکتا ہے۔

3. نیٹرم میوریٹیکم: جذباتی تناؤ، خاص طور پر غم یا دبی ہوئی جذبات کی وجہ سے ہونے والے مائیگرین کے لئے مؤثر ہے۔ سردرد عام طور پر ہتھوڑے کی طرح محسوس ہوتا ہے اور سورج کی روشنی سے بڑھ سکتا ہے۔

4. سینگیوناریا: یہ دوا ان مائیگرین کے لئے تجویز کی جاتی ہے جو سر کے دائیں جانب ہوتا ہے، عام طور پر صبح میں شروع ہوتا ہے اور دن کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ درد سر کے پچھلے حصے سے شروع ہو کر پیشانی یا آنکھوں تک پھیل سکتا ہے۔

5. سپائی جیلیا: یہ دوا ان مائیگرین کے لئے مفید ہے جن کے ساتھ تیز، چبھنے والا درد ہوتا ہے، خاص طور پر آنکھوں یا پیشانی کے ارد گرد۔ درد عام طور پر حرکت یا روشنی اور شور کی موجودگی میں بڑھتا ہے۔

ہومیوپیتھی مائیگرین کے لئے کیسے کام کرتی ہے
مائیگرین کے لئے ہومیوپیتھک علاج کا مقصد شخص کا مجموعی علاج کرنا ہے، نہ کہ صرف سردرد کا علاج کرنا۔ ایک ہومیوپیتھک معالج آپ کی مجموعی صحت، طرز زندگی، جذباتی حالت، اور مخصوص مائیگرین علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے مناسب دوا کا انتخاب کرے گا۔ اس کا مقصد جسم کی قدرتی شفائی صلاحیتوں کو بڑھانا اور مائیگرین کی جڑ کی وجوہات کا علاج کرنا ہے۔

جبکہ بہت سے لوگ ہومیوپیتھی کے ذریعے مائیگرین سے آرام پاتے ہیں، لیکن ذاتی علاج کے لئے ایک مستند ہومیوپیتھک معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، ہومیوپیتھی کو عام طور پر ایک تکمیلی علاج سمجھا جاتا ہے اور اسے خاص طور پر شدید حالات میں روایتی طبی دیکھ بھال کی جگہ پر نہیں لیا جانا چاہئے۔

17/08/2024

𝐓𝐡𝐞 𝐈𝐬𝐥𝐚𝐦𝐢𝐚 𝐔𝐧𝐢𝐯𝐞𝐫𝐬𝐢𝐭𝐲 𝐨𝐟 𝐁𝐚𝐡𝐚𝐰𝐚𝐥𝐩𝐮𝐫, 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 (𝐈𝐔𝐁)
𝗕𝗮𝗵𝗮𝘄𝗮𝗹𝗽𝘂𝗿 | 𝗥𝗮𝗵𝗶𝗺 𝗬𝗮𝗿 𝗞𝗵𝗮𝗻 | 𝗕𝗮𝗵𝗮𝘄𝗮𝗹𝗻𝗮𝗴𝗮𝗿 | 𝗟𝗶𝗮𝗾𝘂𝗮𝘁𝗽𝘂𝗿 | 𝗔𝗵𝗺𝗲𝗱𝗽𝘂𝗿 𝗘𝗮𝘀𝘁
________

𝔸𝕕𝕞𝕚𝕤𝕤𝕚𝕠𝕟𝕤 𝔽𝕒𝕝𝕝 𝟚𝟘𝟚𝟜

𝙎𝙚𝙘𝙩𝙤𝙧: Govt.

𝘼𝙥𝙥𝙡𝙮 𝙤𝙣𝙡𝙞𝙣𝙚:
https://eportal.iub.edu.pk

𝘿𝙚𝙩𝙖𝙞𝙡𝙨:
www.iub.edu.pk

09/08/2024

انفلوئنزا

انفلوئنزا (فلو):
انفلوئنزا، جسے عام طور پر فلو کہا جاتا ہے، ایک وائرل انفیکشن ہے جو بنیادی طور پر سانس کے نظام کو متاثر کرتا ہے، جس میں ناک، گلا، اور پھیپھڑے شامل ہیں۔ یہ ایک متاثرہ شخص کے کھانسنے، چھینکنے، یا بات کرنے کے دوران بوندوں کے ذریعے آسانی سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے۔ عام علامات میں تیز بخار، سردی لگنا، گلے کی سوزش، ناک کا بہنا یا بند ہونا، جسم میں درد، سر درد، اور تھکاوٹ شامل ہیں۔

ہومیوپیتھی میں انفلوئنزا کا علاج:
ہومیوپیتھی مختلف علامات اور مریض کی مجموعی صحت پر توجہ دیتے ہوئے فلو کے علاج کے لیے مختلف ادویات پیش کرتی ہے۔ فلو کے علاج میں استعمال ہونے والی کچھ عام ہومیوپیتھک ادویات میں شامل ہیں:

1. اکونیٹم نیپیلس: فلو کے ابتدائی مراحل میں مؤثر، خاص طور پر جب سرد ہوا کے سامنا کے بعد اچانک تیز بخار، بے چینی، اور خشک جلد جیسی علامات ظاہر ہوں۔

2. جیلیسیمیم: ایسی حالت میں مؤثر ہے جب فلو کے ساتھ تھکاوٹ، نیند، جسم میں درد، ریڑھ کی ہڈی میں سردی، اور عمومی کمزوری کی علامات ہوں۔

3. بریونیا البا: جب فلو کے ساتھ خشک اور دردناک کھانسی ہو اور مریض درد کے بڑھنے کی وجہ سے حرکت سے بچنے کو ترجیح دے۔

4. ایوپیٹوریم پرفولائیٹم: ایسی حالت میں استعمال ہوتا ہے جب فلو کی وجہ سے ہڈیوں میں شدید درد ہو، خاص طور پر ٹھنڈے مشروبات کی خواہش کے ساتھ۔

5. اوسلیکوکسینم: ایک مقبول ہومیوپیتھک دوا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ فلو کی علامات کی شدت اور دورانیے کو کم کرتی ہے۔

نوٹ:
دوا کا انتخاب مریض کی مخصوص علامات اور ساخت پر مبنی ہوتا ہے۔ صحیح تشخیص اور علاج کے لیے مستند ہومیوپیتھ سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

29/07/2024

منہ کے چھالے

منہ کے چھالے، جنہیں کینکر سورز بھی کہا جاتا ہے، منہ کے اندر یا مسوڑھوں کے نیچے بننے والے چھوٹے، دردناک زخم ہوتے ہیں۔ یہ کھانے، پینے اور بات کرنے میں تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔

علامات:

- منہ کے اندر چھوٹے، گول یا بیضوی زخم
- خاص طور پر کھانے، پینے یا بولنے کے دوران درد اور تکلیف
- چھالے کے ارد گرد سرخ یا سفید دھبے
- متاثرہ علاقے میں سوجن

اسباب:

- دانتوں کے کام، جارحانہ برش کرنے، یا حادثاتی کٹنے سے منہ میں چھوٹی چوٹیں
- غذائی حساسیت، خاص طور پر ترش یا مسالے دار کھانوں سے
- وٹامن کی کمی، خاص طور پر B12، زنک، فولک ایسڈ اور آئرن
- ہارمونل تبدیلیاں، جیسے ماہواری سے متعلق
- تناؤ اور نیند کی کمی
- کچھ طبی حالتیں، جیسے سیلیک بیماری، کرون کی بیماری، یا کمزور مدافعتی نظام

ہومیوپیتھک علاج:

ہومیوپیتھی مختلف علامات اور بنیادی وجوہات کی بنیاد پر منہ کے چھالوں کے علاج کے لیے مختلف ادویات پیش کرتی ہے۔ یہاں کچھ عام ہومیوپیتھک ادویات ہیں:

1. بوریکس (Borax):
- ایسے چھالے جو آسانی سے خون بہاتے ہیں اور جلن پیدا کرتے ہیں۔
- منہ گرم اور خشک محسوس ہوتا ہے، اور چھالے کو چھونے پر درد ہوتا ہے۔

2. مرکیوریس سولوبلیس (Mercurius Solubilis):
- چھالوں کے ساتھ زیادہ رال اور منہ میں دھاتی ذائقہ۔
- مسوڑھوں میں درد، سوجن اور بدبو دار سانس کے لئے مفید۔

3. نائٹرک ایسڈ (Nitric Acid):
- چھالوں میں تیز، کانٹے دار درد۔
- چھالے منہ کے کونوں یا زبان پر ظاہر ہوتے ہیں۔

4. سلفر (Sulphur):
- بار بار ہونے والے چھالے اور جلن کے درد کے لیے۔
- منہ خشک اور گرم محسوس ہوتا ہے، اور مریض کو ٹھنڈے مشروبات کی خواہش ہوتی ہے۔

5. آرسینکم البم (Arsenicum Album):
- شدید جلن کے درد اور چھالے جو ٹھیک ہونے میں سست ہیں۔
- جب چھالے اضطراب اور بےچینی کے ساتھ ہوں۔

پیشگیری:

- دانتوں کی اچھی صفائی کا خیال رکھیں، جیسے باقاعدگی سے برش اور فلاسنگ۔
- نرم برش والے دانتوں کا برش استعمال کریں تاکہ منہ کے نازک بافتوں کو چوٹ نہ پہنچے۔
- وہ کھانے جو چھالے پیدا کرتے یا بڑھاتے ہیں، جیسے تیزابی، مسالے دار یا کھردرے کھانوں سے پرہیز کریں۔
- وٹامن اور معدنیات سے بھرپور متوازن غذا یقینی بنائیں، خاص طور پر B12، زنک، فولک ایسڈ اور آئرن۔
- تناؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے آرام کی تکنیکیں، مناسب نیند اور باقاعدگی سے ورزش کریں۔
- پانی زیادہ پئیں۔

نوٹ:
ہمیشہ کسی ماہر ہومیوپیتھک معالج سے مشورہ کریں تاکہ آپ کی مخصوص حالت کے لئے مناسب دوا اور مقدار تجویز کی جا سکے۔ ہومیوپیتھک علاج کو روایتی طبی علاج کے متبادل کے طور پر نہیں، بلکہ اس کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہئے، خاص طور پر منہ کے شدید یا بار بار ہونے والے چھالوں کی صورت میں۔

28/07/2024

ہیپاٹائٹس

ہیپاٹائٹس جگر کی سوزش ہے، جو عام طور پر وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے، لیکن یہ زہریلے مادے، کچھ دواؤں، یا خود کار مدافعتی بیماریوں کے نتیجے میں بھی ہو سکتی ہے۔ ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام ہیں، جن میں ہیپاٹائٹس A، B، C، D، اور E شامل ہیں۔

علامات:

- تھکاوٹ
- فلو جیسی علامات
- گہرے رنگ کا پیشاب
- ہلکا پاخانہ
- پیٹ میں درد
- بھوک میں کمی
- بلاوجہ وزن کم ہونا
- یرقان (جلد اور آنکھوں کا پیلا ہونا)

اسباب:

- وائرل انفیکشن :ہیپاٹائٹس کے وائرس (A، B، C، D، E)

- الکوحل: الکوحل کا مسلسل استعمال
- دوائیں: کچھ دواؤں کے زیادہ استعمال یا منفی اثرات

- خود کار مدافعتی بیماریاں: جب جسم کا مدافعتی نظام جگر کے خلیات پر حملہ کرتا ہے

ہومیوپیتھک علاج:

ہومیوپیتھی کا مقصد ہیپاٹائٹس کا علاج جسم کی قدرتی شفائی عمل کو بہتر بنا کر کرنا ہے۔ علاج مریض کی علامات، مجموعی صحت، اور ہیپاٹائٹس کی قسم کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یہاں کچھ عام ہومیوپیتھک ادویات ہیں جو ہیپاٹائٹس کے لئے استعمال ہوتی ہیں:

1. چیلیڈونیم میجس (Chelidonium Majus):
- جگر کی سوجن، یرقان، اور جگر کے علاقے میں درد کے لیے۔
- علامات میں پیلی جلد اور آنکھیں، گہرا پیشاب، اور ہلکا پاخانہ شامل ہیں۔

2. کارڈوس مریانوس (Carduus Marianus):
- جگر کی خرابی کے لئے، خاص طور پر جگر کی سوجن اور درد کے ساتھ۔
- یرقان، متلی، اور منہ میں کڑواہٹ کے لئے مفید۔

3. لائیکوپوڈیم (Lycopodium):
- دائمی جگر کی حالتوں کے لیے، خاص طور پر پیٹ پھولنے اور گیس کے ساتھ۔
- علامات میں جگر کا درد، تھکاوٹ، اور ہاضمے کے مسائل شامل ہیں۔

4. نکس وومیکا (Nux Vomica):
- الکوحل یا دواؤں کے زیادہ استعمال کی وجہ سے جگر کے مسائل کے لئے۔
- علامات میں چڑچڑاپن، بدہضمی، اور قبض شامل ہیں۔

5. فاسفورس (Phosphorus):
- جگر میں چربی اور جگر کی سوزش کے لیے۔
- علامات میں تھکاوٹ، یرقان، اور معدے میں جلنے کا احساس شامل ہیں۔

پیشگیری:

- ہیپاٹائٹس A اور B کے لئے ویکسین لگوائیں۔
- الکوحل کا زیادہ استعمال نہ کریں۔
- صفائی کا خیال رکھیں، جیسے باقاعدگی سے ہاتھ دھونا۔
- سوئیاں اور ذاتی اشیاء جو خون سے آلودہ ہو سکتی ہیں، نہ بانٹیں۔
- محفوظ جنسی تعلقات اختیار کریں۔

نوٹ:
ہمیشہ کسی ماہر ہومیوپیتھک معالج سے مشورہ کریں تاکہ آپ کے مخصوص حالت کے لئے مناسب دوا اور مقدار تجویز کی جا سکے۔ ہومیوپیتھک علاج کو روایتی طبی علاج کے متبادل کے طور پر نہیں، بلکہ اس کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہئے، خاص طور پر ہیپاٹائٹس جیسی سنگین حالتوں میں



۔

28/07/2024
26/07/2024
26/07/2024

گُردے کی پتھری (Kidney Stone) ایک ایسی حالت ہے جس میں گردے میں معدنیات اور نمکیات کے ٹھوس ڈھیلے بن جاتے ہیں۔ یہ پتھریاں پیشاب کی نالی کے کسی بھی حصے میں بن سکتی ہیں اور مختلف قسم کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

علامات (Symptoms)
- کمر اور پہلو میں شدید درد
- درد جو پیٹ کے نچلے حصے اور چوتڑوں تک پھیلتا ہے
- پیشاب کے دوران درد
- گلابی، سرخ یا بھورے رنگ کا پیشاب
- بدبو دار یا دھندلا پیشاب
- متلی اور قے
- بار بار پیشاب کی حاجت
- بخار اور کپکپی (انفیکشن کی صورت میں)

اسباب (Causes)
- پانی کی کمی
- غذائی عوامل
- موٹاپا
- کچھ طبی حالتیں
- کچھ سپلیمنٹس اور دوائیں

اقسام (Types)
1. کیلشیم پتھری (Calcium Stones): سب سے عام قسم، جو اکثر کیلشیم آکسالیٹ سے بنتی ہے۔

2. سٹرائیوٹ پتھری (Struvite Stones): پیشاب کی نالی کی انفیکشن کے جواب میں بنتی ہیں۔

3. یورک ایسڈ پتھری (Uric Acid Stones): ان لوگوں میں بنتی ہیں جو زیادہ پروٹین والی غذا کھاتے ہیں یا جن کو دائمی دست یا غذائی جزب کی خرابی ہوتی ہے۔

4. سسٹائن پتھری (Cystine Stones): وہ لوگ جو موروثی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں جس سے گردے زیادہ مقدار میں امینو ایسڈ خارج کرتے ہیں۔

ہومیوپیتھی علاج (Homeopathy Treatment)
ہومیوپیتھی میں گردے کی پتھری کے علاج کے لئے مختلف ادویات استعمال کی جاتی ہیں جو مریض کی حالت، پتھری کی قسم اور علامات کی بنیاد پر تجویز کی جاتی ہیں:

1. برائٹا کارب (Baryta carb): جب مریض کی شکایت گردے کی پتھری کے ساتھ ساتھ پیشاب کی مشکلات کی ہو
۔
2. لائیکوپوڈیم (Lycopodium): چھوٹے اور بار بار پیشاب کے ساتھ درد کی صورت میں۔

3. برائٹا مر (Berberis vulgaris): گردے میں درد، پیشاب میں ریت یا خون کی موجودگی۔

4. سارساپیلا (Sarsaparilla): پیشاب کے دوران جلن اور درد۔

پرہیز (Prevention)
- زیادہ پانی پینا
- کم نمک اور جانوروں کے پروٹین والی غذا کھانا
- صحت مند وزن برقرار رکھنا
- کیلشیم آکسالیٹ پتھری کے صورت میں اسپینچ، بیٹس، اور گری دار میوے سے پرہیز

نوٹ:
ہومیوپیتھی علاج کے لئے ہمیشہ کسی ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ صحیح دوا اور مقدار تجویز کی جا سکے۔

25/07/2024

الزائمر کی بیماری ایک ترقی پذیر نیورولوجیکل عارضہ ہے جو زیادہ تر بزرگوں کو متاثر کرتا ہے اور یادداشت کے نقصان، ذہنی زوال، اور رویے میں تبدیلیوں کا سبب بنتا ہے۔ یہ ڈیمینشیا کی سب سے عام قسم ہے۔

اہم خصوصیات:
- یادداشت کا نقصان: حالیہ واقعات یا نئی معلومات کو یاد کرنے میں مشکل۔
- ذہنی زوال: سوچنے، مسئلہ حل کرنے، اور منصوبہ بندی میں چیلنجز

- غلط فہمی: وقت، مقام، اور مانوس لوگوں کے بارے میں الجھن۔
- رویے کی تبدیلیاں: موڈ کی تبدیلی، اضطراب، اور شخصیت میں تبدیلیاں۔

وجوہات:
اس کی ٹھیک وجہ معلوم نہیں، لیکن دماغ میں ایمیلوئیڈ پلاکس اور ٹاؤ ٹینگلز کی تعمیر شامل ہے۔ جینیاتی، ماحولیاتی، اور طرز زندگی کے عوامل اس بیماری کی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تشخیص:
تشخیص عام طور پر طبی تاریخ، ذہنی ٹیسٹ، دماغ کی امیجنگ (جیسے MRI یا PET اسکین) اور کبھی کبھار جینیاتی ٹیسٹنگ کے ذریعے کی جاتی ہے

24/07/2024

for Degree program for Fall Semester 2024.
Eligibility Criteria:
FSC Pre-Medical or DHMS with FSC equivalency from IBCC
For Online Apply: https://eportal.iub.edu.pk
For Details Please Visit: www.iub.edu.pk
Stay tuned and up to date with
BHMS Doctors Association of Pakistan
Department of Homeopathic Medical Sciences IUB.
0304-7093405
0312-6517559

Like and Follow this Page
23/07/2024

Like and Follow this Page

ڈپریشن کی علامات، وجوہات، اور علاج..!

بعض اوقات ہم میں سے اکثر افراد مایوسی، اداسی، اور بیزاری کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ علامات ایک سے دو ہفتے تک ٹھیک ہو جاتی ہیں، اور ہماری زندگیاں بہت زیادہ متاثر نہیں ہوتیں۔
اداسی کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں، کبھی کبھار بغیر کسی وجہ کے بھی مایوسی یا اداسی شروع ہو سکتی ہے۔ زیادہ تر کیسز میں ہم خود ہی اس مایوسی کا مقابلہ کر لیتے ہیں جب کہ گھر والوں یا دوستوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بھی اداسی ٹھیک ہو جاتی ہے اور کسی علاج کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن یہ اداسی اس وقت ڈپریشن کہلانے لگتی ہے جب اداسی کا احساس دو ہفتوں سے زیادہ رہے اور پھر بھی ختم نہ ہو –
اداسی اس قدر شدید ہو کہ زندگی کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہونے لگیں –

بعض افراد غلط فہمی کی بنا ہر ڈپریشن کو بیماری نہیں سمجھتے، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ڈپریشن ہائی بلڈ پریشر اور ذیا بیطس جیسی ایک بیماری ہے جو کسی بھی شخص کو لاحق ہو سکتی ہے۔
ڈپریشن کا شمار عام بیماریوں میں کیا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا میں ڈپریشن کے دو سو اسی ملین مریض ہیں۔ جب کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں مجموعی آبادی کا دس سے چودہ فیصد حصہ ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔

ڈپریشن کی علامات۔

بھوک نہ لگنا
جذباتی پن
روزمرہ کے معمولات متاثر ہونا
خود کشی کی نشانیاں
ڈپریشن کی وجوہات
برین کیمسٹری
ہارمون لیول
فیملی ہسٹری
بچپن میں پیش آنے والے واقعات
کچھ بیماریاں
الکوحل کا استعمال۔
تھکاوٹ کا احساس –
جسمانی توانائی میں کمی –
نیند نہ آنا –
نیند بہت زیادہ آنا –
سر درد –
پٹھوں کی اکڑن –
ہاضمہ کے مسائل –

بھوک نہ لگنا
بھوک نہ لگنا بھی ڈپریشن کی علامت ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ وزن میں کمی یا اضافہ بھی ڈپریشن کی نشانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ڈپریشن کے زیادہ تر مریضوں کو بھوک کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ کچھ افراد کو ڈپریشن لاحق ہونے کی صورت میں زیادہ بھوک بھی لگ سکتی ہے۔

جذباتی پن
زندگی میں دل چسپی کھو دینا اور مزاج میں اداسی ڈپریشن کی مرکزی علامات شمار ہوتی ہیں۔ زندگی میں ایسی سرگرمیاں جو پہلے پر لطف اور دل کش لگتی تھیں، ان میں کشش ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈپریشن کے مریضوں کے جذباتی پن میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ امید کھونے لگتے ہیں۔

روزمرہ کے معمولات متاثر ہونا
ڈپریشن کی وجہ سے روزمرہ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے اور رشتہ داروں سے تعلق بھی ختم ہو سکتا ہے۔ ڈپریشن کے مریض اپنی پسندیدہ سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں، جب کہ سنگین کیسز میں ڈپریشن کے مریض خود کشی بھی کر سکتے ہیں۔

خود کشی کی نشانیاں
ڈپریشن کے مریضوں میں خود کشی کے خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں، اس لیے ڈپریشن کی علامات میں خود کشی یا موت کے بارے میں بات کرنا، جارحانہ خطرے کی بات کرنا، اور لوگوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دینا شامل ہے۔

ڈپریشن کی وجوہات
اس مرض کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

برین کیمسٹری
دماغ میں موجود کیمیکلز کی مقدار غیر متوازن ہو سکتی ہے جو کہ موڈ، خیالات، نیند، بھوک، اور رویے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کیمیکلز کی مقدار غیر متوازن ہونے کی وجہ سے ڈپریشن کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔

ہارمون لیول
خواتین میں ایسٹروجن اور پروجیسٹیرون نامی ہارمونز کی مقدار غیر متوازن ہونے کی وجہ سے بھی ڈپریشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ان ہارمونز کی مقدار حیض کے دوارن یا حیض کے فوراً بعد غیر متوازن ہو سکتی ہے۔

فیملی ہسٹری
اس بات کے قوی امکان ہیں کہ آپ ڈپریشن کا شکار ہو جائیں اگر آپ کے والدین یا خاندان میں سے کوئی ڈپریشن کا شکار ہے۔

بچپن میں پیش آنے والے واقعات
بچپن میں پیش آنے والے کچھ نا خوشگوار واقعات جیسا کہ شدید ذہنی دباؤ یا صدمات کی وجہ سے بھی ڈپریشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

کچھ بیماریاں
کچھ بیماریوں کی وجہ سے بھی ڈپریشن لاحق ہو سکتی ہے۔ ان بیماریوں میں خون کی کمی، دائمی درد یا تکلیف، کینسر، دل کا دورہ، وغیرہ شامل ہیں۔

الکوحل کا استعمال
الکوحل جیسی نشہ آور چیزوں کے باقاعدگی کے ساتھ استعمال سے بھی ڈپریشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

ڈپریشن کا علاج..!

مندرجہ ذیل گھریلو علاج کی مدد سے ڈپریشن کی علامات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

زعفران کا استعمال۔

زعفران ایک دل کش رنگ کی حامل بوٹی ہے، اس کے ساتھ ساتھ زعفران بہت سے طبی فوائد کا حامل بھی ہے، یہ اپنی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کی بنیاد پر ڈپریشن کا قدرتی علاج تصور کیا جاتا ہے۔
زعفران کے استعمال سے دماغ میں سیروٹونن کا لیول متوازن ہوتا ہے جو موڈ کو بہتر بنانے والا کیمیکل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈپریشن کی علامات میں کمی لانے کے لیے زعفران کے سپلیمنٹس بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

ورزش۔
ڈپریشن کی علامات میں کمی لانے کے لیے ورزش کو ایک اہم علاج تصور کیا جاتا ہے۔ باقاعدگی کے ساتھ ورزش کرنے سے دماغ مثبت انداز سے سوچنا شروع کرتا ہے جس کی وجہ سے اس بیماری کی علامات میں کمی آتی ہے
لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈپریشن کی علامات سے چھٹکارا پانے کے لیے کتنی ورزش کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات جان لیں کہ ان علامات کو کم کرنے کے لیے آپ کو میلوں تک دوڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دن بھر میں صرف کچھ بار واک کرنا بھی کافی ثابت ہو سکتا ہے۔

اومیگا-3 فیٹی ایسڈز۔
اومیگا-3 فیٹی ایسڈز جسمانی اور دماغی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم فیٹ تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کے باقاعدہ استعمال سے ڈپریشن کی شدت میں کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مرض لاحق ہونے کی صورت میں اومیگا-3 فیٹی ایسڈز کے سپلیمنٹس بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

وٹامن ڈی۔
وٹامن ڈی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے، جب کہ بد قسمتی سے بہت سے افراد اس وٹامن کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جو وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہوں ان میں ڈپریشن کی علامات شدت اختیار کر سکتی ہیں، جب کہ جسم میں اس وٹامن کی متوازن مقدار سے ڈپریشن میں کمی آ سکتی ہے۔

زنک۔
زنک کا شمار ان منرلز میں کیا جاتا ہے جو دماغی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ منرل استعمال کی جانے والی مختلف چیزوں کی سوزش کم کرنے والی اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کو بھی بڑھاتا ہے۔ زنک کی کمی کی وجہ سے ڈپریشن کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

چند ہومیوپیتھک ادویات جو علامات کے مطابق جنکا انتخاب کیا جاۓ تو بہترین رزلٹ دیتی ہیں البتہ یہ یاد رکھیں کہ ڈپریشن سے متعلقہ میڈیسن آپکو چند ماہ ریگولر استعمال کرنی پڑسکتی ہیں۔

11/07/2024

for Degree program for Fall Semester 2024.

Eligibility Criteria:
FSC Pre-Medical or DHMS with FSC equivalency from IBCC

For Online Apply: https://eportal.iub.edu.pk
For Details Please Visit: www.iub.edu.pk

Stay tuned and up to date with
BHMS Doctors Association of Pakistan

Department of Homeopathic Medical Sciences IUB
0304-7093405
0312-6517559

Address

Model Town A Railway Road
Bahawalpur
63100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BHMS Students, University College of Conventional Medicine, IUB. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to BHMS Students, University College of Conventional Medicine, IUB.:

Share