12/10/2024
جڑواں بچے کیسے پیدا ہوتے ہیں؟
زیر نظر تصویر میں دو جڑواں بھائی ہیں ایک تصویر کو دو نہیں کیا گیا ہوا۔ دونوں لڑکوں کے نام جوش اور جیرمی ہیں۔ اور دونوں لڑکیاں جو جڑواں بہنیں ہیں کے نام برٹنی اور بریانہ ہیں۔ لڑکوں کی سٹیٹ اوہائیو ہے اور لڑکیاں امریکی ریاست ورجینیا سے ہیں۔ دونوں بھائیوں کی عمر 35 سال اور بہنوں کی عمر 33 سال ہے۔ یہ دونوں جوڑے Twinsberg نامی ایک امریکی تہوار کے دوران 2017 میں ملے تھے جہاں امریکہ کی تمام ریاستوں سے جڑواں لوگ سال کے ایک خاص دن اکٹھے ہوتے ہیں آپس میں تعلقات بناتے ہیں۔ دونوں ہم شکل بھائیوں نے دونوں بہنوں کو پسند کر لیا۔ اور دو فروری یعنی 2-2 کو ہی دونوں بہنوں کو ٹوینز برگ میں ایک جیسے نیلے لباس میں کسی بہانے بلوا کر سرپرائز دیتے ہوئے پرپوز کیا جسے دونوں بہنوں نے بخوشی قبول کر لیا۔ اب یہ دونوں جوڑے میاں بیوی ہیں اور والدین بھی بن چکے ہیں۔ دونوں جوڑوں کے پاس ایک ایک بیٹا ہے۔
ان کی شادی دنیا بھر کے اخباروں میں دلچسپ سرخیوں کی زینت بنی تھی۔ مجھے تب سے تجسس تھا جڑواں بچوں پر پڑھوں اور پھر لکھوں۔ اب تین سال جاکر اس موضوع کی باری آئی۔
جڑواں بچے آخر پیدا ہوتے کیسے ہیں؟ عموماً لڑکیوں کا ری پروڈکٹیو سسٹم مہینے میں ایک بار ایک عدد بیضہ یا انڈہ خارج کرکے رحم میں بھیجتا ہے جسکی عمر 12 سے 24 گھنٹے کے درمیان ہوتی ہے اگر اس عرصے میں بیضے کا ملاپ یا یونین مرد کے نطفے یا سپرم سے ہوجائے تو ایک زائیگوٹ بن جاتا ہے۔ بہت سے جوڑے جب سپرم اور بیضے کی مجموعی صحت ٹھیک ہونے پر بھی والدین نہیں بن پاتے تو وہ ایک عمل سے گزرتے ہیں جسے ڈاکٹر حضرات ZIFT یعنی Zygote intrafallopian transfer کہتے ہیں۔ اگر لڑکی کی فلاپیین ٹیوب سے صحیح سلامت بیضہ رحم میں آنے میں کوئی دشواری ہو تو اس عمل کے دوران ایک سرنج نما آلے سے لڑکی کا بیضہ اووری سے نکال کر مرد کے سپرم لیکر انکو ایک کیپسول نما ڈبی میں ڈال کر انکا یونین کروایا جاتا ہے۔ اور مائیکروسکوپ سے دیکھا جاتا ہے آیا کہ بیضہ اور سپرم زائیگوٹ بن گئے ہیں کہ نہیں۔ اس عمل کو IVF یعنی In Vitro Fertilization کہا جاتا ہے یہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی نہیں ہے وہ ایک اور چیز ہے۔ جب زائیگوٹ بن جائے تو اسے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر لیپرو سکوپی کے زریعے فلاپیین ٹیوب میں داخل کر دیا جاتا ہے جہاں سے یہ قدرتی عمل کے ذریعے رحم میں آکر خون کا لوتھڑا بنتا ہے اور پھر گوشت پوست کا انسان۔ اس عمل پر پاکستان میں 3 سے پانچ لاکھ روپے خرچ آتا ہے اور یہ بلکل جائز اور حلال طریقہ ہے۔
خیر جب جڑواں بچے ہوتے ہیں تو ماں ایک بیضے کی بجائے دو بیضے خارج کرتی ہے اور دونوں بیضے الگ الگ سپرم سے ملاپ کرکے دو زائیگوٹ بن جاتے ہیں اور نتیجتاً دو بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا کسی وجہ سے ایک ہی بیضہ ٹوٹ کر دو بیضے ہوجاتا ہے اور دو زائیگوٹ بن جاتے اس صورت میں جو جڑواں بچے ہوتے انکی جنس اور شکل ایک ہوتی ہے انہیں Identical Twins کہتے ہیں۔ تصویر میں موجود لڑکے اور لڑکیاں دونوں ایک ہی بیضے سے مزید بنے دو بیضوں سے پیدا ہوئے جڑواں بچے ہیں دونوں اسی وجہ سے ہم شکل ہیں اور انکے جسم قد اور وزن بھی ننانوے فیصد تک ایک جیسے ہیں۔ اگر دو مکمل بیضے فلاپیین ٹیوب خارج کرے تو وہ بچے ہم شکل اور ہم جنس نہیں ہونگے ان کو Non Identical Twins کہتے ہیں۔ اب تک کی تاریخ میں عورت کے ایک حمل میں زیادہ سے زیادہ 9 بیضے خارج ہوئے نو بچے پیدا ہوئے جن میں سے چھ بچوں کو بچا لیا گیا وہ تندرست ہیں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔
اسی طرح ایک روسی خاتون نے سترہویں صدی کے اوائل میں 69 بچوں کو 27 بار میں جنم دیا جو سب کے سب زندہ رہے۔ ان میں 16 بار حمل میں اس نے جڑواں بچے پیدا کیے جو 32 بچے تھے۔ سات بار تین تین بچے یک مشت پیدا ہوئے جو 21 بچے تھے۔ اور چار بار چار چار بچے پیدا ہوئے جو 16 بچے تھے۔ ٹوٹل کر لیں کل ملا کر 69 بچے ایک خاتون نے ایک ہی مرد سے پیدا کیے۔ دنیا بھر کے جینیاتی سائنسدانوں نے اس عورت کے جینز پر ریسرچ کی خون کے نمونے لیے اور طرح طرح کے نتیجے نکالے کہ اتنے زیادہ صحت مند بیضے ایک عورت کیسے پیدا کر سکتی ہے۔
اس موضوع پر آج تک ریسرچ ہوتی ہے جینیات کے سٹوڈنٹس اور اساتذہ اس موضوع پر تھیسز لکھتے ہیں آرٹیکل لکھتے ہیں اور عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں مگر وہ سب انگلش میں ہوتا ہے جو پاکستان میں 80 فیصد عوام کی سمجھ سے باہر ہے۔ جنکی سمجھ میں آئے بھی وہ اسے پڑھتے کم ہی ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود سے بھی جڑواں بچے پیدا کیے جا سکتے ہیں؟ تو اسکا جواب ہے جی ہاں
نارملی دنیا بھر میں وہ لڑکیاں جڑواں بچے پیدا کرتی ہیں جو 30 سے 35 سال کی عمر میں حاملہ ہوتی ہیں اور حمل سے پہلے وہ بہت زیادہ ڈیری پراڈکٹس جیسے دودھ دہی پنیر وغیرہ کھاتی ہیں۔ دوسرے نمبر پر فولیٹ یعنی فولک ایسڈ والی غذاؤں کا استعمال زیادہ کرتی ہیں۔ تیسرے نمبر پر وہ جنسی تعلق کے وقت بہت زیادہ خوش و پر جوش ہوتی ہیں اس پراسس میں انوالو ہو کر انجوائے کرتی ہیں خود بھی آرگیزم حاصل کرتی ہیں یعنی مردوں کی طرح ڈسچارج ہوتی ہیں جو انکا حق ہے۔ چوتھے نمبر پر تھوڑی سی صحت مند یا معمولی سی موٹی لڑکیاں دبلی پتلی لڑکیوں کی نسبت زیادہ جڑواں بچوں کی مائیں بنتی ہیں۔ خیر ان لڑکیوں کے بیضے اتنے طاقتور یا سائز میں بڑے ہوتے کہ یا تو ایک کہ دو ہوجاتے یا ٹیوب سے نکلتے ہی دو ہیں۔ اسی عمر میں ایک لڑکی کی جنسی اشتہا اپنے عروج پر ہوتی ہے اور یہی عمر جڑواں بچوں کی قدرتی پیدائش کے لیے موضوع ترین عمر ہے۔ جڑواں بچوں کی شرح پیدائش 300 میں سے ایک پیدائش ہے۔ پاکستان میں حاملہ ہونے کے بعد لڑکیوں کو پتا چلتا ہیمو گلوبن لیول کیا ہے اور فولک ایسڈ کیا چیز ہے۔ اگر حمل سے پہلے لڑکی خود کو مانیٹر کرے اور پلان کرکے حاملہ ہو تو ممکنہ طور پر جڑواں بچے پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بچے عموماً دوسری یا تیسری پیدائش میں زیادہ پیدا ہوتے ہیں اگر بچوں کی پیدائش میں تین سال کا وقفہ ہو اور ماں ہر لحاظ سے صحت مند ہو۔
یہاں پڑھے لکھے بھی اکثر جاہل و بیوقوف لوگ تین سال میں تین اپریشن کروا کر اسکی کمر میں تین ٹیکے لگوا کر تین بچے پیدا کرکے بیوی کو عمر بھر کے لیے معذور کر دیتے ہیں وہ باقی عمر روتے ہی گزار دیتی ہے۔ اس موضوع پر مجموعی معلومات بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ حکیموں اور عطائیوں نے سرے سے پھیلائی ہی غلط ہوئی ہیں۔ لوگ جتنا اولاد کے حصول کے لیے مالی و جسمانی استحصال کا شکار ہوتے دنیا کے کسی اور مسئلے کے لیے نہیں ہوتے۔ نام نہاد پیر و دم کرنے والے سادہ لوح خواتین کا علاج کے بہانے ریپ کرتے ہیں حکیم مردوں کے سپرم بڑھانے کی دوائی دے کر ہزاروں و لاکھوں روپے روٹتے ہیں لوگ مسئلے کو مکمل جانے اولاد کے حصول کے لیے بغیر تحقیق دو یا تین شادیاں کر لیتے ہیں میرا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ان کو کون سمجھائے انکو کون روکے اس ضمن میں آگاہی کیسے میں عام کروں۔
سو فیصد یقینی جڑواں بچوں کی پیدائش کے لیے مصنوعی طریقہ پیدائش یعنی آئی وی ایف کے ذریعے ایک صحت مند بیضے کے دو بیضے بنائے جا سکتے ہیں یا فلاپیین ٹیوب سے نکالے ہی دو بیضے جا سکتے ہیں اور انکا کامیاب ملاپ کروا کر دونوں زائیگوٹ اوور میں رکھ دیے جاتے تو جڑواں ہی بچے پیدا ہوتے۔ آپ نے دو سال قبل سنا ہوگا انڈین فلم ہدایتکار کرن جوہر اور سنی لیون نے IVF کے ذریعے جڑواں بچے پیدا کیے۔ وہ یہی پراسس تھا بیضے اور سپرم کا ملاپ ماں کے پیٹ سے باہر کروایا گیا تھا۔ یہ پاکستان میں بھی ممکن ہے ایسا کرنا بلکل جائز ہے۔ کسی کے پاس پیسے ہوں تو کر سکتا ہے یا خوراک کا پلان بنا کر اس پر تھوڑی سی ریسرچ اور کسی ماہر گائنی ڈاکٹر سے مشورہ کرکے خود کو انڈر ابزرویشن رکھ کے جڑواں بچے پیدا کیے جا سکتے ہیں۔