عالمی افسانوی ادب

عالمی افسانوی ادب Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from عالمی افسانوی ادب, Khokhar Street, Dinga.

23/02/2026

"آؤ، بنکاک نہیں کابل چلتے ہیں۔"

بنکاک تھائی لینڈ میں ہے اور تھائی لینڈ ایشیا میں ہے۔ بچپن سے لے کر آج تک سنتے آئے تھے کہ بنکاک عیاشیوں کا اڈہ ہے۔ لہٰذا جوانی تک پہنچتے پہنچتے ماسکو، فن لینڈ، پولینڈ، اٹلی، یوکرائن، ڈنمارک، ترکی، ایران، آرمینیا، سوئزرلینڈ، آسٹریا، ازبکستان اور دبئی گھومتے گھومتے بال سفید ہو گئے، مگر ہمیشہ ایک ہی طعنہ سنتے رہے کہ بھیا بنکاک نہیں دیکھا تو کچھ نہیں دیکھا۔
ہمیشہ خود پر لعن طعن کرتے رہے کہ یار واقعی ڈوب مرنے کا مقام ہے جو ابھی تک ہم نے بنکاک نہیں دیکھا۔ عمرِ رفتہ بڑھتے بڑھتے جب چالیس کے پیٹے میں آ گئی اور محبوباؤں کے بچے ماموں بولنے لگے اور بنا کر کالج میں داخلے کی سفارشیں ہم سے کروانے لگے، فیس بک پر چالیس سالہ حسینائیں جب لالہ لالہ پکارنے لگیں اور گھر میں بیوی کو باجی کہنے کا دل کرنے لگا، تو سوچا کہ چل خٹک، اب تیرا بنکاک سے مستفید ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ بنکاک کی بچیاں لازماً آپ کو خوش آمدید کہیں گی۔
کراچی سے بنکاک کی طرف رواں دواں ہوا تو جہاز ادھیڑ عمر جوانوں اور پان کی کھیپیوں سے بھرا پڑا تھا۔ میرے ساتھ کراچی کے کچھ نوجوان، جو چالیس سے اوپر اور ساٹھ سے نیچے کے پیٹے میں چل رہے تھے، سفید پتلون کے ساتھ لال چمکیلی شرٹس پہنے براجمان تھے اور اندھیری رات میں کالے چشمے لگا کر کہہ رہے تھے کہ نیٹ پر تیرہ سال کی بچیاں بک کی ہوئی ہیں۔ ایک بابے کے ہاتھوں میں تو باقاعدہ ویاگرا کی ڈبی تک دیکھ لی۔
خیر، آس پاس اس قسم کے عجیب و غریب نظارے دیکھتے ہوئے جہاز نے اڑان بھری۔ ایئر ہوسٹس جب ڈرنکس سرو کرنے لگیں تو کراچی والے مفت کی شراب پر ٹوٹ پڑے۔ جب پورا جہاز، ماسوائے میرے اور کپتان کے، مدہوش ہو گیا تو مجھے اپنا آپ بہت برا محسوس ہوا کہ ایسے کافروں کے بیچ بیٹھے مسلمان کے لیے پشتو میں ایک بہت برا لفظ ہے۔ سو غیرت میں آ کر نسوار نکالی اور چونڈی ڈال کر خود کو بھی دنیا و مافیہا سے بیگانہ کر ڈالا۔
بنکاک ایئرپورٹ سے نکلا تو ایسا لگا کہ میں کراچی سے لاہور آ گیا ہوں۔ لاہور میں مرد دھوتی پہنتے ہیں، وہاں عورتیں اسکرٹ پہنتی ہیں۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک تین گھنٹے لگے۔ ٹریفک کا وہ ازدحام جو مجھے قطعی برا نہیں لگا بلکہ میں بنکاک میں ایم اے جناح روڈ کو یاد کر کے آبدیدہ ہو گیا۔ تنگ سڑکیں، رکشوں کی بھرمار اور ہر طرف سڑک کنارے کھانے پینے کے ٹھیلے۔ اگر پشاور کا گل خان اور کابل کے گل مرجان یہاں آ جائیں تو بے ساختہ منہ سے نکلے گا۔
"وئی دا خو پیخور دے۔
دہ خو BRT دہ۔"
بنکاک شہر میں بدبو کے شدید بھبھکوں نے جو والہانہ استقبال کیا، باخدا پانچ دن روزے سے رہا۔ ہر طرف سڑی ہوئی مچھلی کی بساند اور کچے کھانے کی بدبو جو طبیعت کو بوجھل کر کے رکھ دے۔ دنیا کا پہلا فائیو اسٹار ہوٹل بھی دیکھا جہاں نازنینوں کو کچی مچھلی، مگرمچھ اور سور کا کچا گوشت کھاتے اور ان کا خون پیتے دیکھا۔
شام ایک رائل ڈنر میں مدعو کیا گیا جہاں آدھے گھنٹے تک کچھ کھانے کو تلاش کرتا رہا اور بالآخر معلوم ہوا کہ گائے کا گوشت حلال ہے اور اس کی باربی کیو باہر لان سے مل سکتی ہے۔ پلیٹ بھر کر گوشت کے پارچے اپنی میز پر لے کر آیا۔ فرطِ شوق میں پورا ٹکڑا منہ میں ڈال دیا۔ جیسے ہی گوشت چبانا شروع کیا، مجھے زبان پر الگ ذائقہ محسوس ہوا۔ ہونٹوں کو ہاتھ لگایا تو لال خون دیکھ کر فوراً واش روم بھاگا۔ اب یہ مت پوچھنا کہ الٹیاں آئیں یا دست، کہ بندے کی اپنی ایک پرائیویسی بھی ہوتی ہے۔
کھانے کے نام پر اس قسم کے لوازمات کے لیے اہلِ بنکاک لاجک دیتے ہیں کہ آگ یا تیل میں پکی ہوئی چیزوں کا پروٹین ضائع ہو جاتا ہے۔
رات کو گھومنے نکلا تو وہی بدبو اور عجیب سا تعفن۔ رکشہ روک کر جیسے ہی اندر بیٹھا، ڈرائیور نے پوچھا کہ "گو گو؟" میں نے کہا، "یس، گو" مطلب جاؤ۔ اس نے البم نکالا اور لڑکیاں دکھانے لگ گیا۔ میں نے غصے میں آ کر کہا، "گو گو، مطلب جاؤ یار!" کمینے نے ایک کنجر خانے کے سامنے اتار دیا۔
بنکاک والے انگریزی سے اتنے ہی نابلد ہیں جتنے ہمارے والے دانشور اردو سے۔ اشاروں کی زبان چلتی ہے۔ اگر آپ کو انڈرویئر چاہیے تو اپنے اعضائے ضعیفہ کو ہاتھ لگا لیں، سیلز گرل سمجھ جائیں گی، مگر آس پاس دو تین خواتین آ کر ضرور کھڑی ہو جائیں گی کہ 3000 بھات دے دو تو ساتھ چلتے ہیں۔
بنکاک کی ایک خوبی یہ اچھی لگی کہ بنکاک میں کوئی مخصوص ریڈ لائٹ زون (کنجر خانے) نہیں ہے بلکہ پورے بنکاک میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جو ریڈ لائٹ زون نہ ہو۔ ہر گلی میں آپ کو دس بارہ کنجر خانے مل جاتے ہیں جن کے دروازوں پر بکنی پہنے نیم برہنہ لڑکیاں بیٹھ کر آپ کو اندر بلا رہی ہوں گی۔ ہر لڑکی کے دس دلال ہوتے ہیں۔ اسی حساب سے ایک چوتھائی بنکاک آپ کو اسی روزگار سے ہی وابستہ ملے گا۔
بنکاک رخصت کرنے سے پہلے صہیب جمال نے بتایا تھا کہ لالہ، خواتین کی گلے کی ہڈی نہیں ہوتی، لہٰذا مول تول کرتے وقت گلے کی ہڈی ضرور دیکھ لینا، ورنہ عورت کے روپ میں چھپا مرد آپ کو ہڈی پکڑوا بھی سکتا ہے۔ سو جو بھی خاتون یا لڑکی اچھی لگی، اس کی گلے کی ہڈی ہی نظر آئی۔
بنکاک جانے والوں کو میری ایک نصیحت ہے کہ سڑک چھاپ سستے کنجر خانوں سے بچیں، کیونکہ سو بھات میں آپ سے سودا کریں گے اور اندر لے جا کر آپ کو دس ہزار بھات سے محروم کر دیا جائے گا۔ انتہائی منظم جرائم پیشہ عناصر ان ریکٹس کو چلاتے ہیں۔ اگر پیسے نہیں دیے تو مار دھاڑ الگ سے ہوتی ہے۔ پولیس آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گی۔
بنکاک کے لوگ انتہائی بدتمیز اور دھوکے باز ہیں۔ پانچ بھات کی چیز آپ کو سو بھات میں زبردستی دیں گے۔ اگر آپ غصہ کریں تو باقاعدہ ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں۔
بنکاک کی خواتین ہماری اداکارہ ریشم سے بھی گئی گزری ہیں۔ ریشم تو کم از کم فوم کا کچھ پہن کر پاکستانیوں کے جذبات تھوڑے بہت اٹھا دیتی ہیں مگر وہاں کی خواتین تو ہماری فیمنسٹوں کی طرح بالکل فلیٹ اور بے کردار ہیں۔ مجھے تو ان کے بچوں پر ترس آ رہا تھا کہ بیچارے کیا پی کر بڑے ہو رہے ہیں، لیکن ایک طرح سے اچھا ہے، کم از کم ہماری طرح صبح شام اماں سے یہ تو نہیں سنیں گے کہ "جا منحوسہ، تجھے اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔"
مردوں کی بابت کیا کہوں، ان کی گلے کی ہڈی ہی ان کے لیے کافی ہے۔
یہاں آسٹریلین اور یورپین آتے ہیں کیونکہ موسم سال کے بارہ مہینے گرم ہوتا ہے اور یہ موسم ان کو مرغوب ہے۔ ساتھ میں نو سال سے لے کر بارہ سال تک کی بچیوں کے ساتھ ہم بستری بھی کرتے ہیں، جس کے لیے باقاعدہ انٹرنیٹ پر ان کی بکنگ کی جاتی ہے۔ بچوں کے حقوق کا جتنا استحصال بنکاک میں ہوتا ہے شاید ہی کسی اور ملک میں ہوتا ہو۔ بدقسمتی سے یہ سب وہاں حکومت کی زیرِ نگرانی چلتا ہے۔ انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق کے علمبردار ممالک پورا سال بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرتے کرتے جب تھک جاتے ہیں تو اسی ملک میں آ کر اپنی تھکن کسی دس سالہ بچی کے ساتھ اتار دیتے ہیں اور تازہ دم ہو کر پھر سے بچوں کے حقوق پر تقاریر، پالیسیاں اور دیگر منجن بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔
یاد رہے، بنکاک میں حکومت مکمل طور پر فوج کے زیرِ اثر ہے اور امریکہ یا اقوام متحدہ کو تھائی فوج سے فی الحال جمہوریت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے، کیونکہ بادشاہ سلامت کو وہاں بدھا کا اوتار سمجھ کر پوجا جاتا ہے۔
میرا مشورہ ہے کہ بنکاک جانے سے بہتر ہے کہ آپ کابل چلے جائیں، جہاں آپ کو اپنے کردہ اور ناکردہ گناہوں پر شرمندگی کا ایک موقع تو ضرور ملے گا۔

تحریر عارف خٹک

12/08/2025

. #آغازِ_نسلِ_انسانی_بعد_از_حضرت_نوح_علیہ_السلام
قرآنِ پاک اور قدیم الہامی روایات کے مطابق آج روئے زمین پر جتنے انسان بستے ہیں وہ سب حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ میرے پیارو! حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے، جنہیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو شرک اور گمراہی میں مبتلا ہو چکی تھی۔ انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، مگر اکثریت نے انکار کیا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم طوفان کے ذریعے نافرمانوں کو ہلاک کر دیا اور اہلِ ایمان کو نجات دی۔ حضرت نوح علیہ السلام کے چار بیٹے تھے :
1. سام
2. حام
3. یافث
4. کنعان (یام)

عزیز دوستو! طوفان سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کنعان کو بھی دعوت دی کہ وہ کشتی میں سوار ہو جائے، مگر اس نے غرور اور کفر میں ڈوبے رہنے کا انتخاب کیا اور قوم کے ساتھ غرق ہو گیا۔ اس کی والدہ اور باقی اہلِ خانہ بھی جو ایمان نہ لائے تھے، اسی انجام کو پہنچے۔ اس طرح طوفان کے بعد زمین پر انسانوں کا نیا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — کی نسل سے ہوا۔ یہی نسلیں مختلف سمتوں میں پھیل کر آج کے تمام انسانوں کی آبادی کی بنیاد بنیں۔

:
سام حضرت نوح علیہ السلام کے بڑے بیٹوں میں سے تھے۔ طوفان کے بعد وہ مشرق کی طرف، خاص طور پر یمن میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے عرب، فارس، روم، بنی اسرائیل، آشوری، ارمنی، اور کلدانی جیسی بڑی اقوام وجود میں آئیں۔ سام کو #ابوالعرب بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عرب قبائل کا سلسلہ نسب انہی تک پہنچتا ہے۔ بنی اسرائیل بھی سام کی اولاد ہیں اور اسی نسبت سے انہیں " " کہا جاتا ہے۔ سام کی نسل نے جزیرہ نما عرب، عراق، شام، فلسطین اور ایران جیسے خطوں میں اپنی تہذیبیں قائم کیں۔

:
حام طوفان کے بعد براعظم افریقہ میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے مصری، حبشی، نوبی، بربر، کنعانی، ہندی، اور کچھ جنوبی ایشیائی اقوام پیدا ہوئیں۔
مصراِیم بن حام نے قدیم مصری تہذیب کی بنیاد رکھی۔ کے بیٹوں کی نسل میں افریقہ اور بعض ایشیائی خطوں میں پھیلی ہوئی اقوام شامل ہیں۔ زیادہ تر حام کی نسل والے گہرے رنگت اور مضبوط جسمانی ساخت کے مالک تھے۔

:
یافث سب سے بڑے یا بعض روایات کے مطابق درمیانی بیٹے تھے، جو شمال اور مغرب کی سمت میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل سے ترک، روس، تاتار، مغول، چین، جاپان، یاجوج ماجوج، یونانی اور شمالی یورپ کی اقوام پیدا ہوئیں۔
یہ نسل دنیا کے سرد اور معتدل علاقوں میں پھیلی اور تجارت، جہازرانی اور جنگی فنون میں مہارت حاصل کی۔

المختصر و مقصودِ تحریر منجانب کم فہم فرحان یہ کہ آج زمین پر بسنے والے تمام انسان، چاہے وہ کسی بھی نسل زبان یا رنگ کے ہوں، حضرت نوح علیہ السلام کے ان تین بیٹوں سام، حام اور یافث کی اولاد ہیں۔ اس حقیقت کو جان کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ پوری انسانیت ایک ہی خاندان کی اولاد ہے، اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ عدل احترام اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔ آج زمین پر جتنے بھی انسان ہیں، سب کا نسب حضرت نوحؑ کے تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — سے جڑتا ہے طوفانِ نوح کے بعد یہی تینوں نسلِ انسانی کو دنیا کے کونے کونے میں لے کر پھیلے ...

وَجَعَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُمُ ٱلۡبَاقِينَ
اور ہم نے نوح کی اولاد ہی کو باقی رہنے والا بنایا۔
(سورۃ الصافات: 77)

13/04/2025

اسلام کے دوبارہ عروج کا آغاز غزوہ ہند سے شروع ہو گا۔۔۔
احادیث میں غزوہ ہند اور بیت المقدس کی آزادی کیلئے خراسان سے امام مہدی کی قیادت میں اسلامی لشکر روانہ ہونے کے بارے میں کئی احادیث موجود ہیں۔۔۔۔
ان سب احادیث سے ثابت ہوتا ہے امام مہدی سے قبل ایک مضبوط اسلامی حکومت خراسان و پاکستان کے علاقے میں قائم ہو چکی ہو گی اور امام مہدی کے ظہور کے بعد ہندوستان کو فتح کیا جائے گا اور پھر بیت المقدس کی آزادی کیلئے یورپ کی مشترکہ فوج سے عظیم جنگ ہو گی اور فتح مسلمانوں کو ہوگی۔۔۔۔

رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہند کا ذکر کیا تو فرمایا : ”تمہارا ایک لشکر ہند پر حملہ کرے گا تو اللہ ان پر فتح عطا فرمائے گا حتیٰ کہ سندھ کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے ، اللہ ان کے گناہ بخش دے گا ، جس وقت وہ واپس جائیں گے تو وہ مسیح ابن مریم کو شام میں پائیں گے ۔
(مسند اسحاق بن راہویہ867)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ مجھ سے میرے خلیل و صادق پیغمبر اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس امت میں ایک لشکر سندھ اور ہند کی طرف بھی جائے گا اگر میں نے وہ زمانہ پایا اور شہید ہوگیا تو بہت اچھا اور اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں ابوہریرۃ المحرر ہوں گا جو جہنم کی آگ سے آزاد ہوچکا ہوگا
(مسند احمد 8823)
(مسند احمد، 369/2، مسند ابوہریرہ، 8467)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم سے محفوظ کر دیا ہے ۔ ایک گروہ وہ ہو گا جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا “ ۔
(سنن نسائی 3177)

حضرت کعب رضی اللّٰہ تعالٰی کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
بیت المقدس کا ایک بادشاہ ہندوستان کی جانب ایک لشکر روانہ کرے گا۔ مجاہدین سر زمینِ ہند کو پامال کر ڈالیں گے، اس کے خزانوں پر قبضہ کر لیں گے، پھر بادشاہ ان خزانوں کو بیت المقدس کی تزئین و آرائش کے لئے استعمال کرے گا۔ وہ لشکر ہندوستان کے بادشاہوں (حاکموں) کو بیڑیوں میں جکڑ کر اس بادشاہ کے روبرو پیش کریگا۔ اس کے مجاہدین بادشاہ کے حکم سے مشرق و مغرب کے درمیان کا سارا علاقہ فتح کر لیں گے اور دجال کے خروج تک ہندوستان میں قیام کریں گے۔
(الفتن، غزوة الہند، 409/1، حدیث 1235)

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا
جب تم خراسان کی طرف سے سیاہ پرچموں (کا قافلہ) آتے ہوئے دیکھو تو اس میں ضرور شامل ہو جانا اگرچہ برف پرگھسٹ کر آنا پڑے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ مہدی ہوں گے

(ابن ماجة: 4084، وأحمد بن حنبل : 22441
والحاکم في المستدرک : 8432).

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کچھ لوگ مشرق کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے
(سنن ابن ماجہ 4088)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے انہیں کوئی چیز لوٹا نہ سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس پر جا کر نصب ہوجائیں گے ۔
مسند احمد 8775

حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے آتے ہوئے دیکھو تو ان میں شامل ہوجاؤ کیونکہ اس میں خلیفۃ اللہ امام مہدی ؓ ہوں گے ۔
مسند احمد 22387

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے“۔

(سنن ابوداؤد 4284)،

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا،
(سنن ابو داؤد 4282)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
۔۔۔۔۔۔ پھر فتنہ اتنا تباہ کن عام ہو گا کہ عرب کا کوئی گھر باقی نہ رہے گا جو اس کی لپیٹ میں نہ آ گیا ہو گا ۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی الاصفر (نصارائے روم عیسائیوں) کے درمیان ہو گی ، لیکن وہ دغا کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے ۔ اس میں 80 جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہو گی (یعنی نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج سے وہ تم پر حملہ آور ہوں گے) ۔ ... حدیث متعلقہ ابواب: نو لاکھ عیسائی فوجی مسلمانوں سے لڑیں گے ۔
(صیح بخاری 3176)

10/03/2025

ڈاکٹر کی ڈائری ۔۔۔۔
جنت کا بزنس کلاس مسافر !

میں چوہدری ہسپتال میں اپنے روز مزہ کلینک میں مصروف تھا کہ ایک نوجوان آ کر بیٹھا اسکے ہاتھ میں پوری ایک فائل تھی رپورٹس کی اور کہنے لگا ؛ ڈاکٹر صاحب یہ میرے چھوٹے بھائی کی رپورٹس ہیں آپ دیکھ لیں زرا اسکی عمر تیئس سال ہے،آسڑیلیا پڑھنے گیا تھا کہ وہاں اسے بلڈ کینسر کی تشخیص ہوئی ایک سال سے علاج چل رہا تھا وہاں لیکن ریسپانس نہیں آیا علاج سے،اب ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اسکے پاس جینے کے صرف چار سے آٹھ ہفتے ہیں،اسکی آنکھوں کی بینائی بھی تقریباً چلی گئی ہے اور کمر سے نیچے کا دھڑ بھی مفلوج ہو گیا ~
‏he is bed bound now
ہم چاہتے ہیں کہ اسے یہاں داخل کروا دیا جائے کہ اسکی تکلیف کیلئے جو کچھ کر سکتے ہیں کریں۔۔۔
میرے دل و دماغ میں ایک مرتبہ پھر فاطمہ اسد کے بلڈ کینسر اور آخری دنوں کی فلم چلنے کو تھی کہ میں نے پوچھا کیا نام ہے آپ کے بھائی کا۔۔
احمد نام ہے اسکا ۔۔
میں نے پوچھا کیا اسے پتا ہے اس ساری صورتحال کا
جی ڈاکٹر صاحب ۔۔
تو اسکا مورال کیسا ہے !!
وہ پوری طرح تیار ہے ۔۔
یہ کہتے ہوئے عمر (بھائی) کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔ڈاکٹر صاحب میں بھی آسٹریلیا گیا تھا اس کیساتھ بون میرو ٹرانسپلانٹ کیلئے میچنگ ہو گئی تھی میری لیکن وہاں تک پہنچ ہی نہ پائے!
مجھے فاطمہ اسد کا آخری لمحوں میں اپنی بہن عائشہ اسد کو پیغام دینا یاد آ گیا” عائشہ کا شکریہ کہنا اسنے مجھے بون میرو دینی تھی”
They had 100 percent matching for Bone marrow transplantation but….
خیر میں نے عمر کو جوابدیا لے آیئں اپنے بھائی کو ۔۔
I will do my best ….
لیکن اصل میں تو میں ایک “ریڈی” انسان سے ملنا چاہتا تھا جاننا چاہتا تھا کہ یہ پہاڑ حوصلہ آتا کہاں سے اور کیسے ہے ۔۔
احمد کو ریسیو کیا تو بہت حالت خراب تھی جسم میں خون نہ ہونے کے برابر صرف تین ہیموگلوبن اورپلیٹلٹس صرف تین ہزار اور شدید بخار،میں نے پوچھا کیا حال ہے احمد ؛! کہنے لگا ٹھیک ہوں الحمداللہ؛ پوچھا ؛ کوئی تکلیف مسئلہ،کہنے لگا ؛ بس بخار ہے ۔۔۔اس سے زیادہ اس دن بات نہیں ہوئی
ہیماٹالوجسٹ کو آن بورڈ لیا اور دو دنوں میں احمد کا بخار اتر گیا اور خون کی کمی کو بلڈ ٹرانسفیثونز سے پورا کیا
تیسرے دن میں احمد کے کمرے میں راؤنڈ کرنے گیا
تو اچھے موڈ میں مُسکرا رہا تھا،سٹاف کو باہر بھیج کے میں اسکے سرہانے بیٹھ گیا اسکے گھر والوں سے اکیلے میں اس سے بات کرنے کی اجازت چاہی تو وہ بھی باہر چلے گئے ۔۔۔
ہم تقریباً آدھا گھنٹہ باتیں کرتے رہے میں میری آواز درمیان میں ُرندھ جاتی تھی( فاطمہ کو یاد کر کے،احمد کے خدو خال اور بات کرنے کا انداز فاطمہ سے حیران کُن طور پہ ملتا تھا) لیکن احمد ایسے مطمئن انداز سے اپنے کینسر کی روداد سنا رہا تھا جیسے کوئی نزلہ زکام ہوا ہو۔۔۔
میں نے پوچھا احمد تمہیں آسڑیلیا کے ڈاکٹرز نے کیا بتایا ہے تمہارے مستقبل بارے۔۔۔
ہس کر کہنے لگا مجھے کئی دفعہ انہوں نے کہا کہ میرے پاس صرف چند ہفتے ہیں جینے کیلئے لیکن سال ڈیڑھ گزر گیا،میرا آسڑیلین ڈاکٹر میرے ساتھ بہت اٹیچ ہو گیا تھا علاج میں پہ در پہ ناکامی دیکھ کر اور پھر جب میرا نچلا دھڑ بلکل مفلوج ہو گیا اور ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی تو کہنے لگا ؛ احمد میں تمہارے خدا سے ناراض ہوں تمہارے ضبط اور صبر کو شفا ملنی چاہئیے تھی۔۔
ڈاکٹر صاحب وہ تو مجھے ابھی بھی پاکستان آنے نہیں دے رہا تھا لیکن مجھے اب جانا ہی تھا،میں اپنے آخری دن اپنی فیملی کیساتھ گزارنا چاہتا تھا۔۔
میں نے پوچھا احمد تمہیں گلہ شکوہ نہیں آتا کہ تمہارے ساتھ ایسا کیوں ہوا ۔۔کہنے لگا بلکل بھی نہیں ۔۔
میں ایسا بندہ ہی نہیں ہوں کہ جو گِلہ کرے۔۔
میں نے تو کبھی بہت زیادہ دعا بھی نہیں کی اپنی صحت کیلئے کہ اُسے ☝️سب پتا ہے اس نے کچھ بہتر ہی پلان کیا ہوگا میرے بارے۔۔۔
آخری سوال ۔۔مرنے سے ڈر لگ رہا ہے!
مُسکراتے ہوئے ~بلکل بھی نہیں
I know I m going to much better place
میں نے اٹھتے اٹھتے کہا ؛ فاطمہ ملے تو میرا سلام کہنا ۔
I know you are going to heavens
I have read in a Hadees that spirits do visit each other in Barzakh
مجھے یاد آ گیا کہ جب آخری دن میں فاطمہ کی حالت دیکھ کر رو پڑا تھا تو میں نے دعا کر دی تھی یا اللہ مجھے پتا لگ گیا ہے کہ تیری مرضی کچھ اور ہے ۔۔
الٹی ہو گیئں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا ؛
تو اب اسے اٹھا لے۔
تو چند گھنٹوں بعد ہی کام ہو گیا ۔۔۔
آج ایک بار پھر وہی دعا کرنا پڑی ۔۔
احمد کیساتھ ایک فوٹو کی اجازت مانگی اور پوچھا کیا ہماری یہ گفتگو شیئر کر سکتا ہوں میں ڈاکٹر کی ڈائری کے نام سے لکھتا ہوں،احمد نے بخوشی اجازت دے دی
پھر مجھے کراچی جانا پڑ گیا چار دن بعد کل کلینک پہ بیٹھا تھا کہ احمد کا وہی بھائی عمر اور والدہ صاحبہ تشریف لایئں(کمال صبر و شکر والے لوگ)
میں نے احمد بارے پوچھا تو کہنے لگے اسکا دو دن پہلے انتقال ہو گیا انا اللہ و انا الیہ راجعون
ہم بھی اللہ ہی ملکیت ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ~
ڈاکٹر صاحب ہم خاص طور پہ آپ سے یہ معلوم کرنے آئے ہیں کہ آپکی اس دن احمد سے کیا بات ہوئی تھی،اس دن کے بعد اس میں عجیب سا سکوت تھا،کہنے لگے ؛ احمد کہہ رہا تھا میرے آسٹریلیا کے ڈاکٹر کے بعد مجھے یہ ڈاکٹر صاحب بہت اچھے لگے۔
ڈاکٹر صاحب اس نے آخری دن پوچھا تھا کہ کیا ڈاکٹر اسد امتیاز کا فون آیا میرے لئے۔۔۔
تاسف کا اظہار کرتے ہوئے ؛ ڈاکٹر صاحب آپ کال کرتے تو اسے بہت اچھا لگتا !
میں نے نم آنکھوں سے جوابدیا۔۔کال
میں نے تو اتوار کو فاطمہ اسد دسترخوان ناشتہ بیٹھک کے موقع پہ اپنے والینٹئرز کیساتھ احمد کا ذکر کیا تو سب جذباتی ہو گئے کہ ہم نے بھی ملنا ہے،میں نے ہسپتال فون کیا کہ ہم آ رہے ہیں تو پتا چلا احمد ڈسچارج ہو کر گھر چلا گیا تھا۔۔
وہ افسوس کرنے لگے ہاں ڈاکٹر صاحب واقعی ہم آپ کو اطلاع دئیے بغیر ہی چلے گئے تھے ۔۔۔
پھر کہنے لگے ڈاکٹر صاحب احمد آخری لمحوں میں یہی کہتا رہا “میں جا رہا ہوں امی مبارک ہو ۔۔
میرا بزنس کلاس کا ٹکٹ آیا ہے ۔۔۔
احمد اور اسکی فیملی کی اس آزمائش کا وقت اب ختم ہو چکا تھا اب وہ “جنت کا بزنس کلاس کا مسافر تھا “
ڈاکٹر اور مریض کی یہ ڈائری پُژمردگی و افسوس کا پیغام بلکل نہیں اور قاریئن بھی یقیناً اسے مُثبت ہی لیں گے کہ
Death is not THE END
ایک عظیم ترین کامیابی جسکا سورہ فجر میں اعلان کیا ہے ہمارے پروردگار نے جو کہ انبیا کی گولڈن چین کے علاوہ دوسرے انسان بھی حاصل کر سکتے ہیں کہ وقت انتقال ہی رزلٹ آوٹ کر دیا جاتا ہے۔۔
یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ
اے اطمینان والی روح ۔
ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾
تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے خوش ۔
فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾
پس میرے خاص بندوں میں داخل ہوجا ۔
وَ ادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ
اور میری جنت میں چلی جا ۔

کوشش کرنے والوں کو اس کیلئے کوشش کرنی چاہئیے
انشااللہ ✌️
ڈاکٹر اسد امتیاز ابو فاطمہ
..کاپیڈ...

07/02/2025

‏بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سےپوچھا شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ہیں؟
کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ہاتھ سے کھانا، خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ہاتھ دھونا۔

بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ہو اور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وہاں سے اٹھ کر آگے چل دیئے۔
شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا، سرکار وہ دیوانہ ہے لیکن شیخ صاحب پھر وہاں پہنچے ‏بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ہو؟ کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ہوں گے۔

جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال رکھے۔ بہلول نے کہا کھانا تو کھانا، آپ بولنے کے آداب بھی نہیں جانتے، بہلول نے پھر دامن جھاڑا اورتھوڑا سا اور آگے چل کر بیٹھ گئے۔پھر سلام کیا
‏شیخ صاحب پھر وہاں جا پہنچے سلام کیا۔
بہلول نے سلام کا جواب دیا، پھر وہی سوال کیا کون ہو؟
شیخ صاحب نے کہا، جنید بغدادی جو کھانے اور بولنے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے اچھا سونے کے آداب ہی بتا دیں؟
کہا نماز عشاء کے بعد، ذکر و تسبیح، سورہ اور وہ سارے آداب بتا دیئے جو روایات میں ذکر ہوئے ہیں۔
‏بہلول نے کہا آپ یہ بھی نہیں جانتے، اٹھ کر آگے چلنا ہی چاہتے تھے کہ شیخ صاحب نے دامن پکڑ لیا اور کہا جب میں نہیں جانتا تو بتانا آپ پر واجب ہے۔

بہلول نے کہا جو آداب آپ بتا رہے ہيں وہ فرع ہیں اور اصل کچھ اور ہے، اصل یہ ہے کہ جو کھا رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام، لقمہ حرام کو جتنا بھی آداب سے کھاؤ گے وہ دل میں تاریکی ہی لائےگا نور و ہدایت نہیں، شیخ صاحب نے کہا جزاک اللہ۔
‏بہلول نے کہا کلام میں اصل یہ ہے کہ جو بولو اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے بولو اگر کسی دنیاوی غرض کیلئے بولو گے یا بیھودہ بول بولو گے تو وہ وبال جان بن جائے گا۔

سونے میں اصل یہ ہے کہ دیکھو دل میں کسی مؤمن یا مسلمان کا بغض لیکر یا حسد و کینہ لیکر تو نہیں سو رہے، دنیا کی محبت، مال کی فکر میں تو نہیں سو رہے،کسی کا حق گردن پر لیکر تو نہيں سو رہے...!

02/02/2025

پاکیزہ روحوں کی محبت 🥹

ابو العاص نبی کریم ﷺ کے پاس بعثت سے پہلے گئے اور کہا:
"میں آپ کی بڑی بیٹی زینب سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔"
(ادب)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میں ایسا نہیں کروں گا جب تک اس سے اجازت نہ لے لوں۔"
(شرع)

نبی کریم ﷺ زینب کے پاس گئے اور فرمایا:
"تمہارے خالہ زاد بھائی تم سے نکاح کا کہتے ہیں، کیا تم اسے اپنے لیے پسند کرتی ہو؟"
زینب کا چہرہ سرخ ہو گیا اور وہ مسکرا دی۔
(حیا)

زینب نے ابو العاص بن ربیع سے شادی کی، جس سے ایک محبت بھری کہانی کا آغاز ہوا، اور انہوں نے علی اور امامہ کو جنم دیا۔
(خوشی)

پھر ایک مرحلہ آیا ، جب نبی کریم ﷺ کو نبوت ملی، اور ابو العاص سفر پر تھے۔ جب وہ واپس آئے تو معلوم ہوا کہ ان کی بیوی مسلمان ہو چکی ہیں۔
(عقیدہ)

زینب نے انہیں اپنے اسلام کی خوش خبری سنائی، تو ابو العاص ان سے دور ہٹ گئے۔
(احترام)

زینب حیران ہوئیں اور ان کے پیچھے گئیں۔ انہوں نے کہا:
"میرے والد نبی بن گئے ہیں، اور میں مسلمان ہو گئی ہوں۔"
ابو العاص نے کہا: "کیا آپ نے مجھے پہلے بتایا یا مجھ سے اجازت لی ؟"
زینب نے جواب دیا:
"میں اپنے والد کو جھوٹا نہیں کہہ سکتی، وہ صادق اور امین ہیں۔ اور میں اکیلی نہیں ہوں؛ میری ماں، میرے بھائی، میرے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب، تمہارے چچا زاد بھائی عثمان بن عفان، اور تمہارے دوست ابو بکر صدیق بھی مسلمان ہو چکے ہیں۔"

ابو العاص نے کہا:
"میں نہیں چاہتا کہ لوگ کہیں کہ اس نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا اور اپنے آباؤ اجداد سے بے وفائی کی صرف اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے۔ اور تمہارے والد پر الزام لگانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیا تم میری بات سمجھ سکتی ہو؟"
(تعمیری مکالمہ)

زینب نے کہا:
"اگر میں نہ سمجھوں گی، تو کون سمجھے گا؟ لیکن میں تمہاری بیوی ہوں، اور تمہیں حق پر آنے میں مدد دوں گی جب تک تم اس کے لیے تیار نہ ہو جاؤ۔"
(سمجھداری اور برداشت)

زینب نے اپنے وعدے کو بیس سال نبھایا۔
(اللہ کے لیے صبر)

ابو العاص اپنی کفر کی حالت پر قائم رہے، پھر ہجرت کا وقت آیا۔
زینب نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور پوچھا:
"کیا آپ مجھے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دیتے ہیں؟"
(محبت)

نبی ﷺ نے اجازت دے دی۔
(رحمت)

زینب مکہ میں رہیں، یہاں تک کہ غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ ابو العاص قریش کے لشکر کے ساتھ جنگ کے لیے نکلے، اور زینب دعا کرتی رہیں:
"یا اللہ! میں ڈرتی ہوں کہ ایسا دن نہ آئے جس میں میرے بچے یتیم ہو جائیں یا میں اپنے والد کو کھو دوں۔"
(حیرت اور دعا)

ابو العاص غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور قید ہو گئے۔ جب زینب کو پتا چلا تو انہوں نے پوچھا:
"میرے والد نے کیا کیا؟"
انہیں بتایا گیا: "مسلمان جیت گئے۔"
انہوں نے شکرانے کے طور پر سجدہ کیا۔

پھر انہوں نے پوچھا:
"میرے شوہر کا کیا ہوا؟"
جواب ملا: "انہیں قیدی بنا لیا گیا۔"
زینب نے کہا: "میں اپنے شوہر کی رہائی کے لیے فدیہ بھیجوں گی۔"
(عقل مندی)

زینب کے پاس قیمتی چیز کچھ نہ تھی،
تو انہوں نے اپنی ماں خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وہ ہار نکالا جو وہ ہمیشہ پہنتی تھیں، اور اسے ابو العاص کے بھائی کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس بھیج دیا۔

نبی کریم ﷺ نے فدیہ وصول کرتے وقت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہار دیکھا تو رو پڑے اور پوچھا:
"یہ ہار کس کا فدیہ ہے؟"
جواب دیا گیا: "یہ ابو العاص بن ربیع کا ہے۔"
(وفا)

نبی ﷺ نے کہا:
"یہ شخص دامادی کے رشتے میں کبھی برا نہیں نکلا۔ کیا تم اسے آزاد کر دو گے بلافدیہ ؟ اور زینب کو ان کا ہار واپس کر دو۔"
(انصاف اور تواضع)

صحابہ نے کہا: "ہاں، یا رسول اللہ۔"
(صحابہ کا ادب)

نبی ﷺ نے ابو العاص کو ہار دیا اور فرمایا:
"اپنی بیوی کو کہنا، خدیجہ کے ہار کی حفاظت کرے۔"
(اعتماد ان کے اخلاق پر باوجود کے وہ حالت کفر میں ہیں)

پھر نبی ﷺ نے ابو العاص سے کہا:
"کیا تم زینب کو میرے پاس واپس بھیج سکتے ہو؟"
ابو العاص نے کہا: "ہاں۔"
(مردانگی)

زینب ابو العاص کو مکہ کے دروازے پر خوش آمدید کرنے آئیں، جہاں انہوں نے کہا:
"میں جا رہا ہوں، لیکن تمہیں اپنے والد کے پاس جانا ہوگا۔"
(وعدہ نبھانا)
زینب نے کہا کیا آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں گے
کہا نہیں
سو وہ خاموشی سے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینۃ منورہ آگئیں
(فرمانبرداری)

چھ سال تک زینب کے رشتے آتے رہے لیکن انہوں نے ہر رشتے کے لیے انکار کیا، ابو العاص کے لوٹنے کی امید پر۔
(وفاداری)

چھ سال بعد، ابو العاص قافلے کے ساتھ شام جا رہے تھے۔ صحابہ نے قافلہ قبضے میں لے لیا، لیکن ابو العاص نکلنے میں کامیاب ہوگئے ، اور ابو العاص رات کے وقت زینب کے دروازے پر پہنچے۔ دروازے بجایا:
(اعتماد)
زینب نے پوچھا: "کیا تم مسلمان ہو گئے؟"
(امید)

انہوں نے کہا: "نہیں، میں بھاگ کر آیا ہوں۔"
زینب نے کہا:
"کیا تم اسلام قبول کر لو گے؟"
(اصرار اور وعدہ)

ابو العاص نے جواب دیا: "نہیں۔"

زینب نے کہا: "فکر نہ کرو، خالہ زاد بھائی کے بیٹے، اور علی و امامہ کے والد، خوش آمدید۔"
(فضل اور عدل)

فجر کی نماز کے بعد، نبی کریم ﷺ نے سنا کہ مسجد کے آخر سے زینب کی آواز آ رہی ہے:
"میں نے ابو العاص بن ربیع کو پناہ دی ہے۔"
(شجاعت)

نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: "کیا تم نے وہ سنا جو میں نے سنا؟"
صحابہ نے کہا: "جی، یا رسول اللہ۔"

زینب نے کہا:
"یا رسول اللہ، اگر ابو العاص سے دور کارشتہ شمار کروں تو وہ خالہ زاد ہیں، اور اگر قریبی رشتہ ہو تو میرے بچوں کے والد ہیں۔ میں نے انہیں پناہ دی ہے۔"

نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
"یہ شخص سسرالی رشتے میں برا نہیں نکلا، وعدہ کرتا تھا تو پورا کرتا تھا، اور بات کرتا تھا تو سچ کہتا تھا۔
اگر تم اس کے مال کو واپس کر دو اور اسے چھوڑ دو تو یہ مجھے پسند ہے، لیکن فیصلہ تمہارا ہے، اور تمہارے حق میں ہے۔"
(مشورہ)

صحابہ نے کہا: "ہم اس کا مال واپس کریں گے، یا رسول اللہ۔"
(صحابہ کا ادب)

نبی کریم ﷺ نے زینب سے کہا:
"اپنے خالہ زاد بھائی کی مہمان نوازی کرنا، لیکن یاد رکھو، ان کی قربت تمہارے لیے حلال نہیں۔"
(رحمت اور شریعت)

زینب نے کہا: "جی، یا رسول اللہ۔"
(اطاعت)

زینب نے ابو العاص کو خوش آمدید کہا اور کہا:
"کیا تمہارے لئے ہم سے جدا رہنا آسان ہے؟ کیا تم اسلام قبول کر کے ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے؟"
(محبت اور امید)

ابو العاص نے جواب دیا: "نہیں۔"
انہوں نے اپنا مال لیا اور مکہ واپس چلے گئے۔

مکہ پہنچ کر، ابو العاص نے لوگوں سے کہا:
"یہ لو تمہارا مال، کیا کسی کا کچھ باقی رہ گیا ہے؟"
(امانت داری)

لوگوں نے کہا: "نہیں، تم نے بہترین وفا کی ہے۔ تمہیں اسکا بہترین بدلہ ملے "
(فطرت)

پھر ابو العاص نے کہا:
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"
(ہدایت اور نعمت)

ابو العاص فوراً مدینہ روانہ ہوئے اور فجر کے وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا:
"یا رسول اللہ، آپ نے مجھے کل پناہ دی تھی، آج میں ایمان لے کر آیا ہوں۔"
(خوبصورتی سے ہدایت دینا)

پھر ابو العاص نے عرض کیا :
یارسول اللہ کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں زینب کے پاس جاوں؟
(۔ محبت اور ازدواجی تعلقات)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی العاص کو ساتھ لیا اور زینب کا دروازے کھٹکھٹایا
اور زینب باہر آئیں تو ان سے کہا
تمہارے خالہ زاد بھائی تمہاری طرف لوٹنا چاہتے ہیں کیا تم انہیں قبول کرتی ہو
(والد اور کفیل )
زینب کا چہرہ سرخ ہوگیا اور وہ مسکرا دیں
( رضامندی)

اس واقعہ کے سال بعد زینب کا انتقال ہوگیا ،
ابوالعاص بہت شدت سے روئے یہاں تک کہ لوگوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے آنسو صاف کررہے ہیں اور تسلی دے رہے ہیں
ابو العاص نے کہا
یا رسول اللہ زینب کے بعد میرے لئے اس دنیا میں کوئی رغبت نہیں
(رفیقہ حیات کی محبت )

اس حادثہ کے سال بعد ابو العاص بھی انتقال کرگئے
( پاکیزہ روحوں کا ملن)
اگر آپ یہ قصہ مکمل پڑھ چکے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل و اولاد و اصحاب پر درود و سلام بھیجئے..

30/01/2025

سور کیوں پیدا کیا گیا
ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے

یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے۔
کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔
اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ صابن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔
شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔
چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔
اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا
P
1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔
اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!
آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیااستعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں،

ان مصنوعات میں
دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں
کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔
سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔
لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔
E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E905

Address

Khokhar Street
Dinga
0092

Telephone

+923446174244

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عالمی افسانوی ادب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to عالمی افسانوی ادب:

Share