10/05/2026
آج کل فیس بک پر کچھ وکلاء حضرات ایڈووکیٹ کے چیمبر سے ہے وہ حال ہی میں ہونے والے سرکاری رقبہ کو واگزار کروانے کے حوالے سے دیپال پور بار کے ممبر اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی رانا شاہد محمود کے حوالے سے کچھ غلط اور نامناسب پوسٹیں لگارہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئ تعلق نہیں ہے ۔ رانا شاہد محمود ایک دیانتدار اور صاف گو انسان ہیں۔ اگر ان کے بھانجے نے ان کے کہنے پر کوئ درخواست سرکاری رقبہ کے فراڈ پر مبنی رجسٹری سے متعلق گزاری ہے تو اس پر کارروائی ہوکر وہ ناجائز تعمیرات مسمار ہوچکی ہیں اور اس درخواست کے رد عمل کے طور پر رانا شاہد محمود پر ناجائز قبضہ کا بہتان لگانا میرے نزدیک ان کے ساتھ ذیادتی ہے۔ اگر کسی کے پاس ان کے ناجائز قابض ہونے کا کوئ ثبوت ہے جو کہ یقینی طور پر نہیں ہے پھر بھی میں ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ایسا کوئ ایک ڈاکومنٹ بھی سامنے لائیں تو میں رانا شاہد محمود کی حد تک ذمہ داری لیتا ہوں کہ شام سے پہلے ان سے وہ رقبہ واپس جس کا ہے اس کو لیکر دے دوں گا اور اگر ایسا ثبوت نہیں ہے تو الزام لگانے والوں کو شرم کرنی چاہئے کہ بغیر ثبوت اس طرح کی پوسٹیں لگارہے ہیں جو قانونی طور پر بھی قابل جرم ہیں اور ہمارا دین بھی ایسے بہتان لگانے والوں کی سخت مزمت کرتا ہے۔ ہم ہر اس دوست کے ساتھ ہیں جو حق اور سچ پر کھڑا ہے اور جس کا دامن اس طرح کی کرپشن سے پاک صاف ہے۔