01/12/2022
معیاری تعلیم کا فقدان کیوں؟
(قاسم علی شاہ)
نویں صدی عیسوی میں مراکش کا شہر’ فاس‘ دارالحکومت کا درجہ حاصل کر رہا تھا۔ اسی دوران قرویین شہر سے دو بہنیں اس شہر میں پہنچیں اور یہاں انھوں نے رہائش اختیار کی۔ ان کا والد محمد الفہری ایک مالدار ترین انسان تھا جو کچھ عرصے بعد فوت ہوگیا تو دونوں بہنوں نے فیصلہ کیا کہ جس شہر نے ہمیں پناہ دی ہے اس کی ترقی کے لیے ہمیں کچھ کرنا چاہیے۔ بڑی بہن فاطمہ کوعلم سے کافی لگاو تھا، اس نے ایک علمی درس گاہ بنانے کا ارادہ کیا اور وراثت میں ملنے والی دولت سے اس منصوبے پر کام شروع کروایا۔ 18سال تک کام جاری رہا، اس دوران فاطمہ اکثر روزے سے رہتی اور اس منصوبے کی مقبولیت کے لیے دعا گو رہتی۔ جب درس گاہ مکمل ہوئی تو اس کا نام ’’جامعۃ القرویین‘‘ رکھا گیا۔ اس درس گاہ میں تفسیر، حدیث، فقہ، طب، ریاضی اور فلکیات کا علم پڑھایا جاتا تھا۔ فاطمہ الفہری کے اخلاص کی برکت تھی کہ کچھ ہی عرصے میں طلبہ جوق در جوق یہاں آنے لگے اور اپنی علمی پیاس بجھانے لگے۔ یہاں پڑھانے والے اساتذہ کا شمار بھی اپنے زمانے کی قابل ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔ ارسطو کے فلسفے کو بہترین انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے والے اور 108 کتابوں کے مصنف ابن رُشد، معروف ادیب اور مورخ قاضی عیاض، تاریخ بانی ابن خلدون اور تصوف کے امام ابن عربی نے یہاں درس و تدریس کا فریضہ نبھایا اور علم کے موتی بکھیرے۔ اسی بنا پر اس درس گاہ کا شمار اپنے وقت کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہونے لگا بلکہ یہ تاثر آج تک قائم ہے اور’’گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘‘کے مطابق یہ دنیا کا سب سے قدیم تعلیمی ادارہ ہے جو آج تک علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔ جامعہ قرویین نے یورپ اور اسلامی دنیا کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی تعلقات کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہاں سے مستفید ہونے والے طلبہ بھی علم اور قابلیت کے ایسے نمونے تھے جنھوں نے دنیا پر گہرے نقوش چھوڑے۔ معروف غیر مسلم فلسفی موسیٰ بن میمون، معروف جغرافیہ دان محمد الادریسی، یورپ کو عربی اعداد اور صفر کا نظریہ دینے والے پوپ سلویسٹر ثانی، افریقہ کاسب سے مستند نقشہ تیار کرنے والے الوزان، علم میراث کے ماہر العبدری الفاسی، معروف شاعر ابن الخطاب، ماہر فلکیات ابو اسحاق البطروجی، یورپین فلاسفر نیکولاس اور ڈچ مین گولیس وہ لوگ تھے جو جامعہ القرویین سے فارغ التحصیل تھے۔
اس یونیورسٹی نے اپنے قیام سے لے کر آج تک ہزاروں افراد کو علم کے نور سے منور کیا تو اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہاں پڑھانے والے اساتذہ کے اندر اہلیت تھی ، ان کو اپنے فن اوراپنے میدان سے عشق تھا،وہ نئے دور کے تقاضو ں کو سامنے رکھ کر طلبہ کی تربیت کررہے تھے اور حقیقی معنوں میں نئی نسل کی تربیت کرناچاہتے تھے جبکہ طلبہ بھی سیکھنے میں مخلص تھے ،ان کے اندر کچھ بننے اور زمانے کو بدلنے کا جذبہ تھا۔اپنے اساتذہ کی طرح انھیں بھی اپنے موضوع سے عشق تھا اور اسی وجہ سے مستقبل میں وہ اپنے میدان کے امام بن گئے۔
استاداور طالب کے مضبوط رشتے اورسچی لگن نے علم کامعیارشاندار بنادیا تھااور اسی کی بدولت آج تک ان شخصیات کی قابلیت اور خدمات کی مثالیں دی جاتی ہیں جبکہ آج اگر ہم اپنی تعلیم کا جائزہ لیں تونتائج بڑے مایوس کن نظر آتے ہیں۔ہمارے تعلیمی نظام میں سب سے بڑی کمزوری معیار کی ہے۔اساتذہ کی محنت تنخواہ تک ہے ، طلبہ ڈگری حاصل کرنے اورپیسہ کمانے کے لیے پڑھتے ہیں جبکہ والدین بھی بچوںکو نوکربناناچاہتے ہیں اور ان سب عوامل نے مل کرتعلیم کے معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اسی اہم اور حساس موضوع پر قاسم علی شاہ فاونڈیشن میں ایک مکالماتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں شعبہ تعلیم اور انڈسٹری کے ماہرین کو بلاکر انھیںاس موضوع پر بات چیت کا موقع دیاگیا کہ آج ہم معیاری تعلیم سے محروم کیوں ہیں۔یہ گفتگو بہت ہی مفید رہی اوربڑی بہترین تجاویز سامنے آئیں، جنھیں ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
(1) نصاب کمزورنہیں
عام طورپر کہاجاتاہے کہ تعلیمی اداروں میں پڑھایاجانے والانصاب بہت پرانا ہے جس کو بدلنے کی ضرورت ہے ، لیکن اس نشست میں موجودیونیورسٹی پروفیسرز کا کہنا تھا کہ موجودہ نصاب بہترین ہے ، اس کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔اس نصاب میں ایسے بنیادی عوامل ہیں جنھیں سیکھنا طلبہ کے لیے ضروری ہیں اور جنھیں ہم چاہ کر بھی نکال نہیں سکتے۔یونیورسٹی پروفیسرز اچھے انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں اور طلبہ کو جن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے ، وہ انھیں سکھایاجارہاہے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے فلٹرز ٹھیک نہیں لگوائے۔اس کمزوری کی وجہ سے بہت سارے مسائل بن رہے ہیں۔
(2)رویوں میں تبدیلی
تعلیم معیاری نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ بیس سالوں میں طلبہ کے رویوں میں کافی تبدیلی آئی ہے۔بیس سال پہلے کے طلبہ محنت کرتے تھے اور فارغ اوقات میں کتاب کو اپناساتھی بنالیتے تھے جبکہ آج ہم نے ترقی کرلی ، سوشل میڈیا نے بہت تیزی سے ہمارے معاشرے میں جگہ بنالی جس کے لیے نہ ہم تیار تھے اور نہ ہی ہماری نئی نسل ۔تربیت کے بغیر سوشل میڈیا کے استعمال سے نئی نسل علم ، کتاب اور محنت سے آہستہ آہستہ دورہوتی گئی۔سوشل میڈیاکی وجہ سے ایک اور چیز بھی آئی۔آج کے جوان خود کواسی کی بنیاد پر متعارف کرواتے ہیں اور کہتے ہیں میرا نام فلاں ہے اور میرے 10 لاکھ فالورز ہیں۔سوشل میڈیا کی عادت نے ان کے رویوں کو بھی بگاڑکررکھ دیاہے۔ موبائل میں کئی گیمز ایسی ہیں جس میں آپ بیٹھے بٹھائے اپنی مرضی سے اپنا گھر بناسکتے ہیں ۔نئی نسل اس چیز کی عادی ہوچکی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ حقیقی زندگی بھی ایسی ہی آسان ہے کہ بٹن دبایااور کام ہوگیا۔یہی وجہ ہے کہ آج کی نسل ہر چیز بڑی جلدی سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔آج کے جوان ڈگری مکمل کرنے کے بعدیہ توقع رکھتے ہیں کہ توپوں کی سلامی کے ساتھ میرا استقبال کیا جائے۔وہ کمپنی کے ایچ آر مینیجر کو فون کرکے کہتے ہیں کہ میں نے فلاں یونیورسٹی سے اس GPAکے ساتھ ڈگری لی ہے، میری تنخواہ کی اتنی ڈیمانڈہے آپ اگر مجھے رکھتے ہیں تو کتنی تنخواہ دیں گے؟اگر اتنا بجٹ ہے تومیں انٹرویو کے لیے آتا ہوں وگرنہ میراٹائم ضائع ہوگا۔اس بگڑے رویے نے تعلیمی نظام اور عملی زندگی میں کئی سارے مسائل کوجنم دیا ہے۔
(3)How to sell your potential
معیاری تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے جو کمزوریاں پیدا ہوئی ہیں ان میں ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ طلبہ کو ڈگری لینے کے بعد بھی اپنی قابلیت بیچنی نہیں آتی۔ ان کی کمیونیکیشن اورپریزنٹیشن اسکلز کمزور ہوتی ہیں اوریہ چیز ان کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔اس قابلیت سے محروم ہونے کی وجہ سے یہ طلبہ انڈسٹری میں موجود مواقع کو اپنے لیے استعمال کرنانہیں جانتے اوریہی وجہ ہے کہ آج آپ کوبڑے بڑے قابل لوگ بھی رُلتے ہوئے نظر آئیں گے۔
(4)Outcome based education
Outcome based education
ہمیں اپنے نظام تعلیم کو اس سسٹم کے تحت لانا چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی چیز کو اگر طالب علم کے Cognitiveکے پانچ مراحل سے گزارکرسمجھایا جائے تو وہ اس قابل ہوتاہے کہ پھر اپنے حاصل شدہ علم سے کچھ تخلیق کرسکے۔ہماراالمیہ یہ ہے کہ یونیورسٹی میں چوتھے سمسٹر تک بچوں سے پوچھا جاتاہے کہ What is database?۔ Whatکاسوال یاددہانی کے لیے آتا ہے تخلیقیت کے لیے نہیں۔تعلیمی اداروں کواپنے سوالات کو بدلنا پڑے گا تب ہی تعلیم معیاری ہوگی۔
(5)سفارش
آج کے اساتذہ کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ ہم تو جی جان سے پڑھارہے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی طلبہ پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔جب طلبہ سے پوچھتے ہیں کہ آپ پڑھنے میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے تو ان کاجواب ہوتاہے کہ ڈگری کے بعد ہمیں جوجاب ملے گی وہ ہمارے پڑھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمارے تعلقات اور سفارش کی بدولت ملے گی۔ان کا والد ، چچاکسی بڑے عہدے پر ہوتاہے اور طالب علم کواس بات کاانتظار ہوتاہے کہ بس مجھے ڈگری مل جائے اور میں پیسے کمانے لگ جاؤں ۔
(6)وزٹنگ لیکچررشپ
ٹیکنالوجی وقت کے ساتھ ساتھ اپ ڈیٹ ہورہی ہے جبکہ یونیورسٹی کے اساتذہ اس طرف دلچسپی نہیں دکھاتے۔ یونیورسٹی اپنے وسائل کے مطابق طلبہ کو رہنمائی دینے کی کوشش کرتی ہے لیکن وہ ناکافی ہوتی ہے۔یونیورسٹی کوچاہیے کہ آئی ٹی انڈسٹری میں موجود تمام ماہرین کووزٹنگ پر مدعو کرے اور انھیں موقع دے کہ وہ طلبہ کو آئی ٹی کی دنیا میں آنے والی نئی جدتوں سے آگاہ کریں۔اس کاوش سے یقینا طلبہ کو فائدہ ہوگا اور آئی ٹی کی تعلیم بھی معیاری ہوگی ۔
(7)بے روزگاری
تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر سال 25ہزار بچے Bsکی ڈگری لے کرفارغ ہورہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اہلیت رکھنے والے افراد نہیں ملتے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ طلبہ کے اندر وہ قابلیت نہیں ہوتی جس کی انڈسٹری کوضرورت ہوتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ انڈسٹری سے جو ڈیمانڈ کرتے ہیں ، اس کے مطابق اپنی خدمات پیش نہیں کرتے۔ان مسائل کی وجہ سے بے روزگاری روزبروز بڑھ رہی ہے۔
(8)قصور ہمارا بھی ہے
ہم اکثر اپنی نئی نسل سے یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ان کی تربیت میں کمی ہے، انھیں پڑھنے کاشوق نہیں ہے لیکن اس میں کسی حد تک ہمارا بھی قصور ہے۔بحیثیت والدین اوراساتذہ ہم نے مکمل طورپر بچوں کی تربیت کی ذمہ داری نہیں اٹھائی۔آج سے کچھ سالوں پہلے کے اساتذہ بڑے کھلے دل کے ساتھ پڑھاتے تھے اورسوالات کا موقع بھی دیتے تھے لیکن آج کل ایسا نہیں ہورہا۔والدین کی کمزوری یہ ہے کہ انھوں نے بچوں کواکیڈمیوں کے حوالے کردیا، جہاں صرف نمبروں کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے لیکن تربیت کہیں نہیں ہے۔والدین اور اساتذہ دونوں کوپیسے کی دوڑ سے نکل کر نئی نسل کی تربیت کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی وگرنہ ہم اسی طرح اپنی نسل سے شکوہ کررہے ہوں گے۔
(9)انڈسٹری کی جلد بازی
شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے احباب کا انڈسٹری سے یہ گلہ تھا کہ وہ ساتویں سمسٹر میں قابل بچوں کواپنے ہاں نوکری پر رکھ لیتے ہیں ، ان کی ڈگری مکمل ہونے کاانتظار ہی نہیں کرتے کہ کہیں یہ قابلیت کسی اورجگہ نہ چلی جائے۔اس وجہ سے وہ طالب علم اپنی پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دیتا، کیوں کہ وہ پیسے کمانے لگ جاتا ہے اورجب اس عمل کو باربار دہرایا جاتاہے توپھر معاشرے میں قحط الرجال کی کیفیت تو رہے گی۔
(10)موسم گرما کی تعطیلات میں تربیت
ہمارے تعلیمی اداروں میں کچھ عرصہ پہلے تک مختلف ہم نصابی سرگرمیاں ہوتی تھیں،کوئیز مقابلے ہوتے تھے جبکہ اب یہ سلسلہ رُک چکاہے۔اب بچے یونیورسٹی تک پہنچتے ہیں لیکن انھیں ان چیزو ں کا علم نہیں ہوتا۔یونیورسٹی میں بھی سمسٹر پر سمسٹر ہورہے ہوتے ہیں اور طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کی کوئی فکر نہیں کی جاتی۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں جب گرمی کی چھٹیاں ہوجاتی ہیں تو اس دوران بھی بچوں کو پڑھانے کوشش کی جاتی ہے جبکہ باہر ممالک میں ان تعطیلات کو تربیت کے لیے استعمال کیاجاتاہے۔وہاں طلبہ کی قابلیتوں، مہارتوں اور صلاحیتوں پر محنت کی جاتی ہے جبکہ یہاں چھٹیوں میں بھی اس سے کاپیاں رٹوائی جاتی ہیں۔تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ بچوں کی چھٹیوں کو ان کی مہارت بڑھانے اور شخصیت سازی کے لیے استعمال کریں۔
(11)خوداعتمادی
آج کی نسل میں اگر کچھ کمزوریاں ہیں تو وہیں خوبیاں بھی ہیں۔آج کی نسل اعتماد سے بھرپور ہے لیکن اکثر والدین اور اساتذہ اس چیز کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کو بدتمیزی کا نام دے دیتے ہیں۔حالانکہ اگربچوں کی شخصیت اور ان کے اعتماد کو سمجھاجائے اور اس کو بہتر انداز میں کام میں لایاجائے تو بڑے اچھے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔