30/12/2025
پنجاب کے میڈیکل کالجوں میں بلوچستان کے طلباء کی کوٹہ نشستوں
کی پالیسی سوچی سمجھی سازش کے تحت تعلیمی قدغن ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ،پنجاب
بلوچستان میں جاری خصوصاً تعلیمی پالیسیاں طلباء کی تعلیم دشمن ہونے کی عکاسی کرتی ہیں۔جہاں بلوچستان کے طلباء تعلیم جیسے زیور سے آراستہ ہونے کے جستجو کرتے ہیں لیکن وہاں بد قسمتی سے سوچی سمجھی پالیسیوں کے تحت آئے روز طلباء کے تعلیمی سفر میں رکاوٹیں اور پریشانیاں پیدا کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈوں کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ ماضی کی طرح حالیہ یو ایچ ایس(یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز) کا گڈول کوٹہ نشستوں کی پالیسی طلبہ کو تعلیم سے دور رکھنے کے مترادف ہے۔ طلباء کو بنیادی تعلیمی حق دینے کی بجائے انہیں غیر فطری رویے سے نفسیاتی مریض بنایا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف طلباء کے لیے تعلیمی دروازے بند کیے جا رہے ہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جو طلبہ اور تعلیم کے درمیان فاصلے کو بڑھا رہا ہے۔
اس طرح کی پالیسیاں نہ صرف کسی بھی معاشرے میں مایوسی پیدا کرتی ہیں بلکہ وہاں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔یو ایچ ایس کی حالیہ پالیسی بلوچستان کے طلباء کو میڈیکل جیسے اہم شعبے سے دستبردار کر رہی ہیں اور طلباء کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے کے لیے مرتب کی جا رہی ہے۔
بلوچستان میں پہلے سے ہی تعلیمی فقدان ہے اس کو کم کرنے کی بجائے طلباء کے تعلیمی حقوق پر ڈاکہ ڈال کر انہیں تعلیم سے دور رکھنا انتظامیہ کی سازش ہے۔انتظامیہ کو تعلیمی معملات میں ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور طلباء کی تعلیمی حق تلفی سے گریز کرنا چاہیے اور گڈ ول کوٹہ نشستوں کے لیے جلد سے جلد مثبت اقدامات کیے جائیں