Jamia Salfia FSD.

Jamia Salfia FSD. Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamia Salfia FSD., Jamia Salfia, Faisalabad.

برطانیہ سے مولانا حافظ عبدالاعلیٰ دُرّانی صاحب کی مادرِ علمی جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تشریف آوری29 اپریل 2026، بروز ب...
29/04/2026

برطانیہ سے مولانا حافظ عبدالاعلیٰ دُرّانی صاحب کی مادرِ علمی جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تشریف آوری

29 اپریل 2026، بروز بدھ، بعد نمازِ ظُہر

رپورٹ: عبدالقیوم فرُّخ
استاذ جامعہ سلفیہ فیصل آباد

آج جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں فضیلۃ الشیخ مولانا حافظ عبدالاعلیٰ دُرّانی حفظہ اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری ہوئی۔ جامعہ سلفیہ ان کا مادرِ علمی ادارہ ہے، اور وہ جامعہ کے مایہ ناز سپوتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب بھی وہ برطانیہ سے پاکستان اپنی تعطیلات کے لیے آتے ہیں تو اپنے اس مادرِ علمی کا دورہ ضرور کرتے ہیں۔ جامعہ کے علاوہ دیگر دینی اداروں اور اہلِ علم شخصیات سے ملاقات کو بھی وہ اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔ جامعہ کے بعض اساتذہ کرام ان کے دیرینہ رفقاء میں سے ہیں، جن سے ملاقات کے لیے بھی وہ خصوصی طور پر جامعہ تشریف لاتے ہیں۔

جامعہ پہنچنے پر سب سے پہلے ان کی ملاقات جناب مدیر التعلیم، فضیلۃ الشیخ چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ تعالیٰ سے ہوئی، جہاں دونوں شخصیات کے مابین مفصل تبادلۂ خیال ہوا۔ مولانا دُرّانی صاحب نے برطانیہ میں مسلم کمیونٹی کے حالات اور بالخصوص اہلِ حدیث حضرات کی خدمات کے حوالے سے مفصل گفتگو کی۔ جناب مدیرُالتعلیم صاحب نے معزز مہمان کو جامعہ کی تعلیمی سرگرمیوں اور جاری ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ کیا۔ حالیہ تعمیرات، خصوصاً نئی تدریسی عمارت کا بھی دورہ کروایا گیا، جسے دیکھ کر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ نمازِ ظہر باجماعت ادا کی گئی۔ نماز کے بعد ایک مختصر تقریب کا انعقاد ہوا، جس میں جناب مدیر التعلیم صاحب نے مہمانِ گرامی کا تعارف کراتے ہوئے ان کی آمد پر تہہ دل سے خوش آمدید کہا۔

اس کے بعد مولانا دُرّانی حفظہ اللہ نے طلبہ سے خطاب فرمایا۔ انہوں نے انتہائی شُستہ، سلجھے اور منجھے انداز میں طلبہ کو اساتذہ، کتابوں اور ادارے کے در و دیوار کے ادب و احترام کی تلقین کی۔ اصلاحِ احوال، حسنِ کردار اور باطن کی پاکیزگی پر بھی تفصیلی نصیحتیں کیں۔ان کی باتیں ان کے علم اور تجربہ کی عکاس تھیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے حضرت رسول اللہ ﷺ، حضراتِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین، نیز اکابرین و محدثین کے واقعات بیان کیے۔ اسی طرح برصغیر کے جلیل القدر علماء، جیسے حافظ محمد گوندلوی، میاں محمد باقر، سید داؤد غزنوی، مولانا اسماعیل سلفی (رحمھم اللہ اجمعین) اور دیگر بزرگوں کا تذکرہ کر کے طلبہ کو قیمتی نصائح سے نوازا۔ تقریب میں اساتذہ جامعہ اور طلبہ برابر شریک رہے۔

تقریب کے بعد، المصباح ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مولانا دُرّانی صاحب کے ساتھ ایک خصوصی پوڈکاسٹ (جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے برطانیہ تک) بھی ریکارڈ کیا گیا، جس میں ان کی برطانیہ میں دعوتی خدمات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہ پوڈکاسٹ ان شاء اللہ جلد المصباح ڈیجیٹل (یوٹیوب اور فیسبک) پر نشر کیا جائے گا۔

آخر میں ہدیۂ تشکر پیش کیا گیا اور پرتکلف ظہرانے کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

نئے طلبہ کا انٹری ٹیسٹ اور پُروقار استقبالیہ تقریببتاریخ 19 اپریل 2026، بروز اتوار، جامعہ سلفیہ فیصل آبادرپورٹ: عبدالقی...
23/04/2026

نئے طلبہ کا انٹری ٹیسٹ اور پُروقار استقبالیہ تقریب
بتاریخ 19 اپریل 2026، بروز اتوار، جامعہ سلفیہ فیصل آباد

رپورٹ: عبدالقیوم فرُّخ

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی داخلوں کا مرحلہ شروع ہو گیا تھا۔ اسی سلسلے میں 19 اپریل بروز اتوار صبح 10بجے نئے طلبہ کا انٹری ٹیسٹ منعقد ہوا، جس میں تقریباً 210 طلبہ نے شرکت کی۔ اساتذۂ جامعہ نے بطور ممتحن شرکت کرتے ہوئے نہایت نظم و ضبط کے ساتھ امتحان کی نگرانی کی۔ پرنسپل جامعہ، فضیلۃ الشیخ چوہدری محمد یٰسین ظفر صاحب (حفظہ اللہ) بھی بنفسِ نفیس موجود رہے۔

انٹری ٹیسٹ دو حصوں پر مشتمل تھا: تحریری اور شفوی (زبانی)۔ تحریری امتحان میں جنرل نالج کے سوالات شامل تھے، جن کے ذریعے طلبہ کی ذہنی استعداد، معلومات اور اندازِ تحریر کا جائزہ لیا گیا۔ سوالات نہ زیادہ مشکل تھے اور نہ ہی حد سے زیادہ آسان، بلکہ متوازن انداز میں ترتیب دیے گئے تھے تاکہ ایک عام طالب علم بھی انہیں حل کر سکے۔ اس حصے میں اردو اور عربی دونوں زبانوں کے سوالات شامل تھے، تاکہ طلبہ کی املا اور بنیادی صلاحیتوں کا اندازہ کیا جا سکے۔

شفوی امتحان میں طلبہ سے قرآن مجید کی تلاوت سنی گئی۔ جو طلبہ حافظ تھے، ان سے منزل کا امتحان لیا گیا، جبکہ غیر حافظ طلبہ سے ناظرہ قرآن سنا گیا۔ کیونکہ دینی تعلیم کی بنیاد قرآن مجید ہی ہے اور اسی پر دیگر علوم و فنون کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ طلبہ نے اپنی علمی استعداد کے مطابق سوالات کے جوابات دیے۔ نتائج کی بنیاد پر کامیاب طلبہ کو جامعہ سلفیہ کی پہلی جماعت میں داخلہ دے دیا گیا۔

نمازِ ظہر کے بعد نووارد طلبہ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں جمیع طلبہ و اساتذۂ کرام، نئے آنے والے طلبہ اور ان کے والدین و سرپرست حضرات بالخصوص صدرِ جامعہ الحاج ارشد شہزاد پاشا صاحب اور حکیم عزیز الرحمن صاحب نے شرکت کی۔ اس بابرکت تقریب میں فضیلۃ الشیخ مولانا حافظ مسعود عالم صاحب، پروفیسر عبدالستار حامد صاحب (ناظم امتحانات وفاق المدارس السلفیہ پاکستان) اور نجم القراء قاری سعید اللہ سعید البخاری صاحب (حفظہم اللہ اجمعین) بطور مہمانانِ خصوصی شریک ہوئے۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری سعید اللہ سعید البخاری صاحب کی دلپذیر تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔ بعد ازاں پرنسپل جامعہ، فضیلۃ الشیخ چودھری محمد یٰسین ظفر صاحب نے نووارد طلبہ کو خوش آمدید کہا اور ان کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعہ ان طلبہ کی بہترین تعلیم و تربیت کے لیے بھرپور کوشش کرے گا۔ انہوں نے والدین کو بھی تلقین کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی کارکردگی سے باخبر رہیں اور باقاعدگی سے ان کی ہفتہ وار و ماہانہ رپورٹ حاصل کرتے رہیں۔ ان کے بعد مولانا قاری عظیم اختر صاحب نے طلبہ کی تعلیم و تربیت پر مفید گفتگو کی۔ ازاں بعد پروفیسر عبدالستار حامد صاحب نے علم اور طالب علم کی فضیلت پر جامع خطاب فرمایا اور طلبہ کو اس عظیم منصب کی قدر و اہمیت سے آگاہ کیا۔ آخر میں مولانا حافظ مسعود عالم صاحب نے بھی جامع اور مختصر انداز میں طلبہ کوشرفِ علمِ دین کے ساتھ ساتھ حسنِ کردار اپنانے کی تلقین کی اور دعا کے ساتھ مجلس کا اختتام کیا۔

اسی روز جامعہ سلفیہ کی جانب سے ضلع فیصل آباد کی مختلف مساجد سے تعلق رکھنے والے علماء، خطباء اور مبلغین کو بھی مدعو کیا گیا۔ ان کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست اور ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، جس میں باہمی تعلقات کے فروغ اور آئندہ کے لیے مفید مشاورت کی گئی۔

آخر میں نووارد طلبہ، ان کے سرپرست حضرات اور جملہ مہمانانِ گرامی کی خدمت میں ظہرانہ پیش کیا گیا۔

23 اپریل عالمی یومِ کتاب (World Book Day)رپورٹ: عبدالقیوم فرُّخأَعَزُّ مَكَانٍ فِي الدُّني سَرْجُ سَابِحٍوَخَيْرُ جَلِي...
23/04/2026

23 اپریل عالمی یومِ کتاب (World Book Day)

رپورٹ: عبدالقیوم فرُّخ

أَعَزُّ مَكَانٍ فِي الدُّني سَرْجُ سَابِحٍ
وَخَيْرُ جَلِيسٍ فِي الزَّمَانِ كِتَابٌ (المتنبي)
دنیا میں سب سے معزز جگہ تیز رفتار گھوڑے کی زین ہے،
اور زمانے میں بہترین ہم نشین کتاب ہے۔

یعنی بہترین ساتھی کتاب ہے، ایسا ساتھی جو نہ صرف انسان کا ساتھ دیتا ہے بلکہ اسے سنوارتا، نکھارتا اور آگے بڑھنے کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ کتاب انسان کی زندگی کا وہ خاموش رفیق ہے جو بغیر کسی شور کے رہنمائی کرتا ہے۔ کتاب علم کا خزانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فکر و شعور کو جِلا دینے کا ذریعہ بھی ہے۔ انسان جب تنہائی محسوس کرتا ہے تو کتاب اس کی بہترین ہم نشین بن جاتی ہے، اسے نئی دنیاؤں سے روشناس کراتی ہے اور اس کے ذہن کے بند دریچے کھولتی ہے۔ کتاب انسان کو ماضی کے تجربات، حال کے تقاضوں اور مستقبل کی راہوں سے آگاہ کرتی ہے۔

مطالعہ کتاب ایک ایسی عادت ہے جو انسان کی شخصیت کو سنوارتی ہے۔ یہ نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہے بلکہ انسان کو سوچنے، سمجھنے اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی عطا کرتی ہے۔ قارئین کرام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایک اچھی کتاب بار بار پڑھی جا سکتی ہے، اور ہر مرتبہ اس سے کوئی نہ کوئی نیا پہلو سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب پر کیا گیا خرچ درحقیقت ایک سرمایہ کاری ہے، جس سے انسان پوری زندگی فائدہ اٹھاتا رہتا ہے۔

کتاب انسان کو بہت سی بری عادات اور فضول مشاغل سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ جو شخص مطالعہ کا عادی ہو جائے، وہ اپنا وقت مفید کاموں میں صرف کرتا ہے اور اس کی زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ مطالعہ انسان کے خیالات کو وسعت دیتا ہے، اس کے اندر برداشت، سنجیدگی اور حکمت پیدا کرتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کا نوجوان تیزی سے کتاب سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے اس کا زیادہ وقت اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جس کی وجہ سے مطالعہ کا ذوق کمزور پڑ رہا ہے۔ حالانکہ ترقی یافتہ معاشروں کی بنیاد ہی علم اور کتاب دوستی پر ہوتی ہے۔ اس لیے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ نوجوان نسل کو دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ کیا جائے اور ان میں مطالعہ کی عادت کو فروغ دیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار پرنسپل جامعہ سلفیہ، فضیلۃ الشیخ چودھری محمد یٰسین ظفر صاحب (حفظہ اللہ) نے عالمی یومِ کتاب کے موقع پر جامعہ سلفیہ میںکیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کتاب کی اہمیت کسی دور میں کم نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہی علم کا بنیادی ذریعہ ہے اور یہی انسان کی فکری و علمی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے طلبہ کو خصوصی طور پر نصیحت کی کہ وہ اپنے معمولات میں مطالعہ کو شامل کریں اور روزانہ کچھ نہ کچھ پڑھنے کی عادت ڈالیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ علماء اور طلبہ دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ذوق اور ضرورت کے مطابق اچھی اور معیاری کتب کا انتخاب کریں۔ صرف نصابی کتابوں تک محدود رہنے کے بجائے تاریخ، سیرت، ادب اور دیگر مفید علوم کا بھی مطالعہ کریں، تاکہ ان کی شخصیت ہمہ جہت ترقی کر سکے۔

آخر میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر ہم کتاب سے اپنا تعلق مضبوط کر لیں اور مطالعہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، تو نہ صرف ہماری علمی سطح بلند ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی فکری اور اخلاقی طور پر مضبوط ہو سکے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع حاصل کرنے، اسے اپنی زندگی میں اپنانے اور کتاب سے تعلق استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


شعبۂ تجوید و قراءت کے زیر اہتمام آل جامعہ محفلِ حسنِ قراءتبتاریخ 22 اپریل 2026، بعد نمازِ ظہر، جامعہ سلفیہ فیصل آبادر...
22/04/2026

شعبۂ تجوید و قراءت کے زیر اہتمام آل جامعہ محفلِ حسنِ قراءت
بتاریخ 22 اپریل 2026، بعد نمازِ ظہر، جامعہ سلفیہ فیصل آباد

رپورٹ: عبدالقیوم فرُّخ

قرآنِ مجید کو خوبصورت انداز، درست تلفظ اور تجوید کے ساتھ پڑھنا شریعت کا تقاضا ہے، جبکہ اسے سمجھ کر پڑھنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ جامعہ سلفیہ میں جہاں ترجمہ، تفسیر اور دیگر معاون علوم (درسِ نظامی) کے ذریعے قرآن کو سمجھنے پر توجہ دی جاتی ہے، وہیں ابتدائی 3 سال میں تجوید و قراءت کی باقاعدہ تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مختلف محافل، مشقیں اور مقابلہ جاتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں، جن کے ذریعے ان کی قراءت کو بہتر بنایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے ایک عرصے سے طلبہ کی بڑی تعداد حفظِ قرآن کے بعد تجوید و قراءت سمیت درسِ نطامی کی تعلیم کے لیے جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا رخ کرتی ہے۔ شعبۂ تجوید و قراءت جامعہ کے فعال ترین شعبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس شعبے کو فضیلۃ الشیخ قاری ابراہیم میر محمدی حفظہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی حاصل ہے۔ جامعہ سلفیہ اس شعبے کو خصوصی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی ترقی و ترویج کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اس مبارک سلسلے کا آغاز جامعہ سلفیہ نے 2005 میں کیا تھا۔ تاحال ادارہ اپنے وسائل کے مطابق اس شعبے پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔

یاد رہے، قرآنِ مجید کی خوبصورت تلاوت معاشرے کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اگر مساجد اور اجتماعات میں عمدہ لہجے اور درست تلفظ کے ساتھ تلاوت کی جائے تو اس کی تاثیر مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے جامعہ سلفیہ نے درسِ نظامی کے ساتھ تجوید و قراءت کو یکجا کر کے دینی تعلیم کی دنیا میں ایک حسین امتزاج پیش کیا ہے، جس کے نتیجے میں یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ ایک اچھے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین قاری بھی بنتے ہیں۔الحمدللہ اب تک متعدد قراء کرام یہاں سے سندِ فراغت حاصل کر کے عملی میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں، بلکہ جامعہ کے موجودہ (شعبہ تجوید و قراءت کے) اساتذہ بھی اسی ادارے کے تربیت یافتہ ہیں۔ الحمدللہ! یہ مبارک سلسلہ نسل در نسل آگے بڑھ رہا ہے۔

شعبۂ تجوید و قراءت کو جامعہ کے اساتذہ، انتظامیہ اور بالخصوص مدیرالتعلیم جامعہ، فضیلۃ الشیخ چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ کی خصوصی شفقت اور بھرپور تعاون حاصل ہے۔ ادارے کی فراہم کردہ سہولیات کے ذریعے طلبہ کو مسلسل بہتری کی جانب گامزن کیا جا رہا ہے۔ اس وقت اس شعبے میں جناب قاری عنایت اللہ امین (صدر استاذ)، قاری عبدالحسیب اعوان، قاری حسن ابراہیم، قاری ارسلان شکور ببر اور راقم الحروف قاری عبدالقیوم فرُّخ (حفظھم اللہ اجمعین) خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔

آج جامعہ سلفیہ میں آل جامعہ “محفلِ حسنِ قراءت” کا انعقاد ہوا، جس میں طلبہ نے دلپذیر لہجوں اور مسحور کن انداز میں قرآنِ مجید کی تلاوت سے سماعتوں کو معطر اور دلوں کو منور کر دیا۔اس بابرکت موقع پر مدیرُالتعلیم جامعہ، فضیلۃ الشیخ چودھری محمد یٰسین ظفر، مدیرُالامتحانات مولانا محمد ادریس السلفی، مولانا عابد مجید مدنی اور قاری زبیر نحوی (حفظہم اللہ اجمعین) کی شرکت محفل کے وقاراور طلبہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کا سبب بنی۔

اس موقع پر مدیر التعلیم صاحب نے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ جامعہ سلفیہ اپنے وسائل کے مطابق طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتا ہے۔ یہ شعبہ نہایت مبارک ہے جہاں ہر وقت قرآنِ مجید کی تعلیم و مشق جاری رہتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مسلسل مشق، اور اپنی آواز کو مزید بہتر بنانے کی تلقین کی۔ مزید فرمایا کہ نوجوانی میں قرآنِ مجید سے تعلق انسان کی زندگی کو سنوار دیتا ہے۔ اگر یہ وقت تلاوتِ قرآن میں گزرے تو بڑھاپا بھی بابرکت ہو جاتا ہے۔ اساتذہ تجوید و قراءت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی قراءت، تلفظ اور تجوید کو بہتر بنائیں تاکہ عملی میدان میں ایک بہترین عالِم اور قاری بن کر ابھریں۔

جامعہ سلفیہ الحمدللہ اپنے تعلیمی مشن میں دن بہ دن ترقی کر رہا ہے اور تمام شعبہ جات بشمول شعبہ تجوید و قراءت میں مسلسل کام جاری و ساری ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے، اساتذہ، طلبہ، انتظامیہ اور تمام معاونین کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے اور انہیں مزید خدمتِ دین کی توفیق دے۔

ایک نیا عزم، ایک نئی شروعات  جامعہ سلفیہ میں روح پرور تقریب سے نئے تعلیمی سال کا آغاز جامعہ سلفیہ فیصل آباد اپنے اسلاف ک...
19/04/2026

ایک نیا عزم، ایک نئی شروعات جامعہ سلفیہ میں روح پرور تقریب سے نئے تعلیمی سال کا آغاز

جامعہ سلفیہ فیصل آباد اپنے اسلاف کی تابندہ علمی و تربیتی روایات کا امین و پاسبان ادارہ ہے، جہاں طلبہ کو علم میں رسوخ، ذوقِ مطالعہ کی آبیاری اور فہمِ دین کی پختگی کے ساتھ ساتھ تہذیبِ باطن، تزکیۂ نفس اور تعمیرِ سیرت کا اہتمام بھی ہمہ وقت پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔ اسی مبارک روایت کے تسلسل میں ہر سال آغازِ تعلیم کے موقع پر ایک دل آویز اور روح پرور مجلس منعقد کی جاتی ہے، جو نوواردانِ علم کے استقبال کے ساتھ ساتھ طلبۂ کرام کو جستجوئے علم کے تقاضوں سے آگاہ کرتی اور ان کے آئندہ علمی سفر کی سمت متعین کرتی ہے۔
اس علمی و فکری نشست کا آغاز قاری سعید اللّٰہ سعید البخاری صاحب کی پرسوز اور دل نشیں تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا
محسنِ طلبہ، حضرت العلام پروفیسر چوہدری محمد یاسین ظفر حفظہ اللہ نے صدارتی و کلماتِ ترحیب میں اپنے بصیرت افروز اور فکر انگیز انداز سے اس بابرکت مجلس کے انعقاد کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے طلبہ کو جامعہ میں خوش آمدید کہا اور والدین کو یقین دہانی کروائی کہ آپ نے جس مقصد کیلئے جامعہ کا انتخاب کیا ہے ہم ان مقاصد کو پورا کرنے کی بھرپور جہدوجہد کریں گے تاہم کامیابی کے لیے طلبہ اور والدین دونوں کا کردار ناگزیر ہے۔ آپ نے قواعد و ضوابط کی پابندی، والدین کے ساتھ مسلسل رابطے اور طلبہ کی مکمل یکسوئی کے ساتھ تعلیم پر توجہ دینے کی تلقین کی، اور نظم و ضبط کی پاسداری کو کامیابی کی بنیادی شرط قرار دیا۔
جامعہ ھذا کے مدرس ڈاکٹر عظیم اختر حفظہ اللّٰہ نے مختصراً گفتگو کرتے ہوئے کہا جامعہ سلفیہ رشد و ہدایت کی روشن شاہراہ ہے، جہاں طالبِ علم کو رب کی پسند اور ناپسند کی پہچان سکھائی جاتی ہے اور شر کے ہر راستے سے بچنے کا شعور دیا جاتا ہے۔
دنیا کے ادارے انسان کو دنیاوی خزانوں کی کنجیاں دیتے ہیں، مگر یہاں اس کو ایسی راہ دکھائی جاتی ہے جو جنت کے دروازوں تک لے جانے والی کنجی ہے۔
بعد ازاں بزم کے مہمانِ خصوصی، مفسرِ قرآن پروفیسر عبد الستار حامد حفظہ اللہ (ناظمِ امتحانات وفاق المدارس السلفیہ) نے طلبہ سے خطاب فرمایا۔ آپ کے مشفقانہ لب و لہجے میں اخلاص اور خیر خواہی کی ایسی تاثیر تھی جو براہِ راست سامعین کے قلوب میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔ اپنے خطاب میں آپ نے فرمایا:کہ دینی ادارے رشد و ہدایت کے مراکز ہیں جہاں طلبہ کو قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے جو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ان کے عظیم مقام کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ وہ علمِ دین کے حصول کے لیے یہاں آئے ہیں، اس لیے انہیں اپنی قدر پہچاننی چاہیے۔ انہوں نے علم کے ساتھ عمل کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اصل فائدہ اسی علم میں ہے جس پر عمل کیا جائے۔ آخر میں انہوں نے نصیحت کی کہ طلبہ نظم و ضبط، عبادت اور اخلاص کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں کیونکہ حقیقی کامیابی علم اور عمل کے امتزاج سے ہی حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے اپنے مشاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی ذمہ داری کے تحت انہیں مختلف مدارس میں جانے کا موقع ملتا رہتا ہے، لیکن جامعہ سلفیہ جیسا نظم و ضبط، تعلیم و تعلم کا ماحول اور نمازوں کی پابندی دیگر کسی ادارے میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور طلبہ کی اتنی بڑی تعداد اور منظم تعلیمی نظام اس ادارے کی نمایاں خصوصیت ہے، جو اسے دیگر اداروں سے ممتاز بناتا ہے۔
اس کے بعد جامعہ کی روحانی مجالس کی جان، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ کو دعوتِ سخن دی گئی۔ آپ نے اپنے مخصوص ایمان افروز اور دل نشیں انداز میں حاضرین کے قلوب کو رقّت و خشیت کی کیفیت سے آشنا کیا اور نہایت مؤثر نصائح کے ذریعے طلبہ کے اذہان و قلوب کو جلا بخشی۔ آپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ سے برکتوں کا سوال کیا کریں اور اصل برکت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور علمِ دین سے حاصل ہوتی ہے، اس لیے تقویٰ اور دین پر عمل کو اختیار کرنا چاہیے۔انہوں نے اہلِ علم کو انبیاء کا وارث قرار دیتے ہوئے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ علم کو اللہ کی رضا کے لیے حاصل کریں نہ کہ دنیاوی مقصد کے لیے پھر دیکھیں اللّٰہ تعالیٰ آپ کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے علماء کے بڑے جنازے اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔مزید کہا کہ والدین مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کیلئے منتخب کر کے نفع مند تجارت کا فیصلہ کیا ہے جس میں کوئی نقصان نہیں فوائد ہی فوائد ہیں۔
آخر میں شیخِ مکرم کی رقت آمیز دعائے خیر کے ساتھ یہ روح پرور مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ علم و عمل کا یہ گلشنِ سلفیہ ہمیشہ شاداب رہے، یہاں آنے والے ہر تشنۂ علم کو علمِ نافع اور عملِ صالح سے بہرہ مند فرمائے، اور اس ادارے کی خدمت میں مصروف اساتذہ، انتظامیہ اور تمام معاونین کی مساعی کو شرفِ قبول عطا فرمائے۔
"تقریب کی میڈیا کوریج جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی نشر کی جائیں گی۔

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں نئے تعلیمی سال کے لیے انٹری ٹیسٹ کا انعقادنئے تعلیمی سال کی آمد کے ساتھ ہی جامعہ سلفیہ فیصل آب...
19/04/2026

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں نئے تعلیمی سال کے لیے انٹری ٹیسٹ کا انعقاد
نئے تعلیمی سال کی آمد کے ساتھ ہی جامعہ سلفیہ فیصل آباد ایک بار پھر طلبۂ علم کی پُررونق آمد سے آباد ہو گیا۔
کلاسِ اول میں داخلہ کے لیے منعقدہ انٹری ٹیسٹ کے موقع پر ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے طلبہ کی قابلِ ذکر تعداد نے شرکت کی۔ والدین کی پُر اعتماد نگاہیں اس امر کی واضح عکاسی کر رہی تھیں کہ جامعہ سلفیہ ایک ایسے معتبر اور مستند تعلیمی ادارے کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکا ہے جو علم، تربیت اور روشن مستقبل کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
امتحانی مرکز میں تقریباً دوسو سے زائد امیدواروں کی موجودگی ایک منظم اور باوقار علمی ماحول کا منظر پیش کر رہی تھی۔ اس موقع پر مدیرُالتعلیم حضرت العلام پروفیسر چوہدری محمد یاسین ظفر حفظہ اللہ نے اساتذۂ کرام کے ہمراہ امتحانی مراحل کی خود نگرانی فرمائی اور تمام انتظامات کا جائزہ لیا طلبہ کو پرچہ حل کرنے کی رہنمائی فرمائی۔
امتحانی عمل میں حفاظِ کرام کے لیے شفوی منزل جبکہ دیگر طلبہ کے لیے ناظرہ قرآن کریم کا امتحان منعقد ہوا۔ ان شاء اللہ تمام مراحل کی تکمیل کے بعد نتائج کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، جس کے تحت کامیاب امیدواروں کو جامعہ میں داخلہ فراہم کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ علم و عمل کے اس مرکز میں تشریف لانے والے ہر طالب علم کو علمِ نافع اور عملِ صالح سے بہرہ مند فرمائے۔

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں نئے آنے والے طلباء کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب جس میں ممتاز شیوخ کرام طلباء کے والدین اور فی...
15/04/2026

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں نئے آنے والے طلباء کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب جس میں ممتاز شیوخ کرام طلباء کے والدین اور فیصل آباد کے علماء کرام سے ہم کلام ہونگے ان شاءاللہ ۔
ائیں دین کے ان قلعوں کو مضبوط بنائیں اور اپنی نسل سنواریں ۔

جماعتِ اسلامی کے لیے لمحۂ فکریہ!ہر دلعزیزی کی کوشش یا فکری ابہام؟جماعتِ اسلامی پاکستان کی ایک اہم دینی و سیاسی جماعت ہے...
14/04/2026

جماعتِ اسلامی کے لیے لمحۂ فکریہ!
ہر دلعزیزی کی کوشش یا فکری ابہام؟

جماعتِ اسلامی پاکستان کی ایک اہم دینی و سیاسی جماعت ہے، جسے خصوصاً اس کے بانی مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی وجہ سے نمایاں مقام حاصل ہے۔ جماعت اپنے سیاسی فیصلے خود کرتی ہے، جس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں، اور پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں اس کی پوزیشن بھی سب پر واضح ہے۔ تاہم یہاں اس کے ایک ایسے طرزِ عمل کی نشاندہی مقصود ہے، جس کے تحت وہ مختلف حلقوں میں قابلِ قبول اور ہر دلعزیز بننے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔

جماعت کی قیادت مختلف نوعیت کے اجتماعات "خواہ وہ سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، مذہبی ہوں یا غیر مذہبی" میں شرکت کرتی ہے اور اپنا مؤقف پیش کرتی ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ پہلو نظر انداز ہو جاتا ہے کہ جس پلیٹ فارم پر شرکت کی جا رہی ہے، اس کے عقائد اور منہج کیا ہیں۔ محض نمائندگی کی خاطر ہر قسم کے پروگرام میں شرکت ایک قابلِ غور امر ہے۔

حال ہی میں جماعتِ اسلامی کے سابق امیر مولانا سراج الحق صاحب نے ایک شیعہ ذاکر جواد نقوی کے پروگرام میں شرکت کی۔ اس موقع پر اسٹیج پر آویزاں بینر میں ایک عربی عبارت درج تھی جو قرآنِ حکیم کی آیت سے مشابہ ہونے کے باعث بحث کا موضوع بنی۔ یہ ایک نہایت حساس اور قابلِ تشویش معاملہ ہے، اور ایسے ماحول میں شرکت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔بظاہر اس طرزِ عمل سے اتحاد اور ہم آہنگی کا تاثر ملتا ہے، تاہم خیرخواہی کے جذبے کے تحت یہ گزارش ہے کہ اس کے ممکنہ اثرات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ ہماری نیت اصلاح اور بہتری ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دینی حساسیت اور اصولی موقف کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ مجلس کرانے والے ادارے کی طرف سے وضاحتی پیغام میں اختلاف کرنے والوں کو “تکفیری” قرار دینا انتہائی قابلِ تشویش بات ہے۔ اختلافِ رائے کو بغیر کسی وجہ کے تکفیر سے جوڑنا غیر درست طرزِ عمل اور علمی بددیانتی ہے۔ اصولی طور پر یہ بھی طے اور واضح ہونا چاہیے کہ “تکفیری” کا اطلاق کس پر ہوتا ہے۔

اس ضمن میں متعلقہ اداروں سے بھی مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور مناسب رہنمائی فراہم کریں، تاکہ آئندہ کسی بھی ابہام یا منفی تاثر سے بچا جا سکے اور معاملات زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھ سکیں۔

منجانب: ادارہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد

احمدیوں کے پیچھے نماز کے بارے میں جامعہ سلفیہ (فیصل آباد) کا مؤقفمورخہ: 13 اپریل 2026ء، بروز پیرحالیہ دنوں محترم جناب جا...
13/04/2026

احمدیوں کے پیچھے نماز کے بارے میں جامعہ سلفیہ (فیصل آباد) کا مؤقف

مورخہ: 13 اپریل 2026ء، بروز پیر

حالیہ دنوں محترم جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے فیس بک پیج پر ایک سوال کے جواب میں احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا، بشرطیکہ نماز میں کوئی بدعت نہ ہو۔ تاہم یہ موقف محلِ نظر ہے اور شرعاً درست نہیں، کیونکہ اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک ان کا اسلام معتبر نہیں ہے۔ نیز پاکستان کی پارلیمنٹ نے 1974ء میں متفقہ طور پر عقیدہ ختمِ نبوت (حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں) کو دستور کا حصہ بنا کر قادیانیوں (مرزائیوں) کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ لہٰذا جو شخص خود مسلمان نہ ہو، اس کے پیچھے نماز درست نہیں ہو سکتی۔

اس حوالے سے جامعہ سلفیہ فیصل آباد نے اپنا باقاعدہ موقف اور فتویٰ جاری کیا ہے، جسے جامعہ کے آفیشل پیج پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

جامعہ سلفیہ کا اہم اجلاس، تعلیمی جائزہ، انتظامی امور اور حالاتِ حاضرہبتاریخ 9 اپریل 2026ء، بروز جمعرات، بوقت 11 بجے صبحر...
09/04/2026

جامعہ سلفیہ کا اہم اجلاس، تعلیمی جائزہ، انتظامی امور اور حالاتِ حاضرہ
بتاریخ 9 اپریل 2026ء، بروز جمعرات، بوقت 11 بجے صبح

رپورٹ: عبدالقیوم فرُّخ

آج اساتذۂ جامعہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ ان دنوں نئے اور تجدیدی داخلے جاری ہیں۔ تجدیدِ داخلہ کا مرحلہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے، اور ان شاء اللہ مورخہ 11 اپریل بروز ہفتہ صبح 8 بجے اسمبلی کے ساتھ نئے تعلیمی سال اور تدریسی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ جب کہ نئے داخلے ابھی جاری و ساری ہیں۔

اجلاس کی صدارت شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ، مفتی ڈاکٹر عتیق الرحمن حفظہ اللہ تعالیٰ نے فرمائی، جبکہ مدیر التعلیم جامعہ سلفیہ، فضیلۃ الشیخ چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ تعالیٰ سمیت جامعہ کے تمام اساتذۂ کرام نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا، جس میں مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور جامعہ کے تعلیمی نظام اور انتظامی امور کا بھرپور جائزہ لیا گیا۔

اساتذہ کے ساتھ اہم مشاورت کی گئی، جس میں انہیں طلبہ کی حاضری، اسباق کی تقسیم اور دیگر ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ طلبہ کے ساتھ شفقت، محبت اور خیرخواہی پر مبنی تعلق کو مزید مضبوط بنانے اور ان کی تعلیم و تربیت پر مکمل توجہ دینے کی تاکید کی گئی۔ جناب مدیر التعلیم صاحب نے اساتذہ سے درخواست کی کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت میں پہلے سے بڑھ کر بھرپور کردار ادا کریں۔

اجلاس میں جامعہ کے سیکیورٹی نظام پر بھی غور کیا گیا۔ ملک میں بڑھتے ہوئے مسائل اور حالات کے پیش نظر سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ اگرچہ جامعہ میں پہلے سے مضبوط سیکیورٹی نظام موجود ہے، تاہم اس کو مزید بہتر بنانے کے لیے جدید ذرائع، داخلی دروازے پر اسکیننگ کے نظام، واک تھرو میٹل ڈیٹیکٹر (Walk-Through Metal Detector) کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر رہائش کے مسئلے پر بھی گفتگو ہوئی۔ چونکہ جامعہ میں طلبہ کی بڑی تعداد داخلہ لیتی ہے، اس لیے بعض اوقات رہائش کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، تاہم اس مرتبہ پرانے کلاس رومز کو رہائش کے لیے مختص کر کے اس مسئلے کا حل نکال لیا گیا ہے۔ ان شاء اللہ طلبہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اسی طرح طلبہ کی ظاہری حالت، بودوباش اور کمروں، بستروں کی صفائی ستھرائی کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ اساتذہ کو تلقین کی گئی کہ وہ اپنے عمل سے طلبہ کے لیے نمونہ بنیں، کیونکہ طلبہ اپنے اساتذہ سے سیکھتے ہیں۔ مقامی طلبہ (جن کی تعداد تقریباً 400 کے قریب ہے) کی موٹرسائیکل پارکنگ کے لیے بھی ایک منظم پالیسی ترتیب دی گئی، تاکہ نظم و ضبط برقرار رہے۔

دن بھر میں درسی اوقات کے علاوہ مغرب کے بعد طلبہ کا مطالعہ اور مذاکرہ تقریباً دو سے اڑھائی گھنٹے جاری رہتا ہے۔ اس سلسلے میں اساتذہ سے مزید تعاون کی درخواست کی گئی، جس پر اساتذہ نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ عام طور پر مدارس کے نظام میں رضاکارانہ خدمات زیادہ شامل ہوتی ہیں۔ الحمدللہ جامعہ کے اساتذہ نے ہمیشہ اسی جذبے کے ساتھ کام کیا ہے اور ہر ذمہ داری کو خوش دلی سے قبول کر کے پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے۔

اجلاس میں حالیہ عالمی حالات پر بھی گفتگو ہوئی۔ جناب مدیر التعلیم صاحب اور دیگر اساتذۂ کرام نے حالیہ جنگی صورتحال اور اس میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ پاکستان نے جنگ بندی اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جس سے عالمی سطح پر نیک نامی کے ساتھ ساتھ معیشت اور دیگر شعبوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی امید ہے۔ اس کے ساتھ ایران کی سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی پرزور مذمت کی گئی۔ سعودی عرب کے ان علاقوں پر حملہ جن کا جنگ و جدل سے کوئی تعلق نہیں، نیز صنعتی اداروں پر حملہ بھی مکمل غیر اخلاقی رویہ ہے۔

طاقت کے بل پر اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنا ناجائز ہے۔ دنیا عمل اور نتائج کو دیکھتی ہے، اور انہی کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انصاف اور اعتدال کا مظاہرہ کیا جائے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے اقدامات، جن سے عام عوام کا نقصان ہو اور مسلمانوں کے مفادات متاثر ہوں، کسی صورت درست نہیں۔ ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے حرمین شریفین کی حفاظت اور عالمِ اسلام کے امن کے لیے دعا کی گئی۔

آخر میں ان تمام اداروں اور شخصیات کی خدمات کو سراہا گیا جنہوں نے امن کے قیام اور جنگ کے خاتمے کے لیے کسی طور پر کردار ادا کیا، جبکہ ان عناصر کی مذمت کی گئی جو پاکستان یا عالمِ اسلام کے خلاف سرگرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت دے، اور اگر وہ ہدایت کے قابل نہ ہوں تو انہیں نقصان پہنچانے سے روک دے۔

سعد عبداللہ کے قلم سے، شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ مولانا عبدالعزیز علوی رحمہ اللہ کا یادنامہجامعہ سلفیہ، اسلاف کی نشاط انگیز...
07/04/2026

سعد عبداللہ کے قلم سے، شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ مولانا عبدالعزیز علوی رحمہ اللہ کا یادنامہ

جامعہ سلفیہ، اسلاف کی نشاط انگیز فکر اور راست منہج کا پاسبان و ترجمان ہے۔ یہ صرف پاک و ہند کے کبار علماء و اجل زعماء کے گہرے ادراک اور دوررس بصیرت کی اک یادگار و مثال ہی نہیں بلکہ تحریک اہل حدیث کا تسلسل اور اس کا اہم ستون ہے۔ اس تناور برگ کی تخم ریزی میں بزرگوں کا جو خلوص و جذبہ کارفرما تھا، وہ آج بھی اس کے ثمرات کی صورت میں جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کے مرکزی دارالعلوم ہونے کے باعث یہ ہر دور میں چوٹی کے علماء کا مسکن رہا ہے۔ بیسویں ماہرین علوم و متخصصین فنون نے اپنی جوانی کی توانیوں سے اس گلشن کو سینچا، ان قربانیوں سے یہ بام عروج کو پہنچا ہے۔ انہوں نے دنیا کی ظاہری چکا و چوند سے منہ پھیر کر اور بہت سے مادی فوائد کو ٹھکرا کے بانیان جامعہ کے پیش نظر مقاصد کو حق و سچ کر دکھایا ہے۔ جس قدر درمندی سے اس کی بنیاد رکھی گئی، تو آج شرق و غرب میں مصروف اس کے سینکڑوں فیض یافتگان کو دیکھ کر ان کی روح ضرور قرار پکڑتی ہو گی۔ ان میں سے ایک نام، مولانا عبدالعزیز علوی رحمہ اللہ کا بھی ہے۔

کوتاہ قد، نحیف و نزار جسم، منحنی سا چہرہ ۔۔۔ مگر علمی رسوخ اور مسائل پر دقت نظری کے اعتبار سے انتہائی بلند قامت، ایمان و کردار کی قوت سے گندھی شخصیت۔ ان کے چہرے سے پھوٹتی کرنیں ان کے ولی اللہ ہونے کا پتہ دیتی تھیں۔ زندگی میں ایسا نور اور شادابی میں نے کم ہی کسی کے چہرے پر دیکھی ہو گی، جس کے دیدار سے جہاں خدا یاد آ جائے تو وہیں دل میں ایمان کی نئی لہریں موجزن ہو جائیں۔ ان کی حدیث رسول کے ساتھ نسبت ہی فقط ان کا تعارف ہے۔ وہ چار دہائیوں پر محیط عرصے تک جامعہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔ یہاں تک کہ وہ اور جامعہ سلفیہ لازم و ملزوم قرار پائے۔ حدیث کی جامع اور صحیح ترین کتاب کی سب سے زائد بار تدریس کا شرف بھی انہی کو حاصل رہا۔ گویا حدیث کا پڑھنا پڑھانا ہی ان کی ساری حیات کی کل متاع تھا۔ متواتر سال پورا تو بیک وقت تین تین اداروں میں بخاری کے درس کے لیے جانا ان کا روز کا معاملہ تھا۔ جب سبق بالکل چھوٹ گیا تو کچھ ہی دیر بعد راہی عدم ہو گئے۔ اکثر انہیں ایک روز خرابی صحت اور علالت کے باعث معالج کے پاس لے جاتے دیکھا، مگر اگلے ہی روز وہ کتاب تھامے مسجد تہہ خانہ کی جانب جا رہے ہوتے۔ ایک بار جب سال اختتام کے قریب تھا مگر ان کی رخصتوں کے باعث ابھی کتاب مکمل نہ ہوئی تھی تو سردی کی یخ بستہ لمبی رات حدیث پڑھاتے یوں گزار دی کہ عشاء کے بعد آغاز ہوا اور صبح اذان فجر پر جا کر وقفہ کیا۔ اس بڑھاپے میں جب بال سفید موتیوں کی طرح چمکتے ہوں، یہ بڑے مجاہدے کا کام ہے۔ اس قدر طویل عرصے کی تدریس کے باوجود جس دن بیماری کے باعث مطالعہ نہ کر پاتے تو سبق نہیں پڑھاتے تھے۔

ان کی اکثر تصنیفی خدمات کا مدار بھی حدیث شریف ہی تھا، جن میں جامع ترمذی اور صحیح مسلم کی شروح مطبوع ہیں۔ ایک روز صبح سویرے طلوع آفتاب سے قبل ہی لاٹھی اور ایک خادم کے سہارے یزدانی صاحب کو تلاش کرتے ہوئے ہماری جماعت میں قدوم میمنت نزول فرمائے۔ کہنے لگے: "دو تین دنوں سے کام روک رکھا تھا۔ اس مبارک سلسلے کا آغاز سوموار کو روزے کی حالت میں کیا تھا، اب سوموار کو ہی بحالت صیام آخری سطور لکھ کر آپ کے حوالے کر رہا ہوں۔" اس وقت معلوم ہوا کہ صحیح بخاری پر ان کی تعلیقات مکمل ہوئی ہیں۔ ان کی اولو العزمی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اسی روز استاد محترم طارق محمود صاحب کی معیت میں ان کی نئی طبع شدہ تالیف کا نسخہ شیخ صاحب کی خدمت میں پیش کرنے حاضر ہوئے تو ان سے سر راہ ہی ملاقات ہو گئی۔ استاد جی کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ اب موطا امام مالک پر کام شروع کرنے والے ہیں اور پھر خاصی شرح و بسط کے ساتھ اس کے منہج اور سابقہ لکھی گئی کتب سے وجہ انفرادیت پر گفتگو فرمائی، جسے میں نے محفوظ بھی کیا تھا۔ اخیر کے ایام میں وہ جب ایک بات شروع کر لیتے تو اس کی تفصیل سے تفصیل میں چلے جاتے اور بحث در بحث نکلتی رہتی۔ دوران خطاب جس پر نظر پڑ جاتی اور محسوس کرتے کہ وہ دلچسپی لے رہا ہے تو باقی کا سارا وقت دائیں بائیں سے بے نیاز اسی سے محو کلام رہتے۔ گو کہ ہمیں ان سے براہ راست درس لینے کا موقع نصیب نہ ہوا مگر ہم فخر سے یہ ضرور بتاتے ہیں کہ ہم ان کی محافل میں شریک رہے، ان کی گفتگو سے محظوظ ہوئے اور ان کے حسن معاملات کے چشم دید گواہ ہیں۔

ان کی شخصیت کا لازمی جزو ان کی درویشی و سادگی تھی۔ معمولی لباس زیب تن کیا کرتے۔ لیکن خاص مواقع پر گھر سے پوری شان سے برآمد ہوا کرتے تھے۔ تکلفات سے خاصے دور رہتے تھے۔ تصویر کے سخت خلاف تھے اس لیے ایسے مواقع پر احتراز کیا کرتے۔ لہذا کرسی صدارت پر براجمان بھی اکثر سر جھکائے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا شاید اونگ آ گئی ہے۔ تکمیل بخاری کے ایک موقع پر انہوں نے اسی سے بچتے ہوئے منہ پر ماسک لگایا ہوا تھا جس سے بولنے میں کچھ خلل واقع ہوتا۔ چوہدری صاحب حفظہ اللہ نے پہلے تمام کیمرے بند کروائے اور پھر انہوں نے ماسک اتار کر خطاب دوبارہ جاری کیا۔ مزاج میں عموما بہت نرمی تھی، طلباء کے ساتھ یوں گھل مل کر رہتے کہ مزاح اور لطائف بھی جاری رہتے۔ ہنستے مسکراتے تو صورت بچوں سی بہت بھلی معلوم ہوتی تھی اور ان کے حسن کو چار چاند لگ جاتے۔ مگر کبھی جلال غالب آ ہی جاتا تھا۔ اس وقت ان کا چہرہ سرخ و سپید ہو جاتا اور جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی۔ طبعیت کا رخ کب کس جانب پلٹے، قرائن سے بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ بڑے بڑے ان کے سامنے دم سادھے خاموش کھڑے رہتے۔ ایک تو یہ کہ ان کی جلالت اور مرتبت کے سبب تمام ان کا احترام کرتے۔ ایک عالم دین کا مقام ہم نے جامعہ میں آ کر ملاحظہ کیا۔ لوگ ان کی جوتے سیدھے کرنے کے حریص ہوا کرتے مگر وہ یہ موقع کم ہی دیتے۔ نماز کے بعد گھر تشریف لے جاتے اگر کہیں رک جاتے تو سارا جامعہ ان کے پیچھے کھڑا رہتا تاوقتیکہ وہ دوبارہ چلنا شروع کریں۔ اور دوسرا وہ تنقید ہمیشہ ٹھوس اور مدلل کیا کرتے جس سے تمام اپنی اصلاح کا سامان ڈھونڈا کرتے تھے۔ چوہدری صاحب حفظہ اللہ نے ایک بار فرمایا تھا "اگر کبھی ہم میں تھوڑا بہت ٹیڑھ پن واقع ہو جاتا تو وہ ہمیں فورا سیدھا کر دیتے ہیں۔"

ان کی زندگی کا ماحصل ان کا زہد و استغناء ہے۔ اپنے اخراجات کے بقدر لیا کرتے اور اس سے زائد آمدن کا انکار کر دیا کرتے۔ جامعہ نے ان کے لیے ایک خطیر رقم کا اعلان کیا تو جاتے ہوئے وہ بھی جامعہ کے نام لکھ گئے۔ کسی سے مرعوب ہونا یا دب کر رہنا ان کی طبیعت کے موافق نہ تھا۔ جس بات کو حق سمجھتے بغیر خوف و خطر کے اس کا اظہار کیا کرتے۔ ایک بار وفاقی وزیر مملکت کی جامعہ آمد ہوئی۔ ان سے تقریر میں کچھ جھول ہوئی تو آپ نے اس پر بروقت اور برمحل گرفت فرمائی۔

صف اول اور تکبیر اولی کی اہمیت ہمیں ان سے معلوم ہوئی۔ اذان ہوتے ہی مسجد کو چلے آتے، مصلی امامت کے بالکل پیچھے سنن و نوافل ادا فرماتے۔ اس کبر سنی میں بھی آخری کچھ نمازوں کے سوا کھڑے ہو کر ہی ادا کیا کرتے اور اس کے بعد کافی دیر تک آنکھیں بند کیے اور سر جھکائے اذکار کرتے جاتے کہ ٹھوڈی سینے پر جا لگتی۔ ننگے سر نماز پڑھنے والوں پر برہم ہوتے اور اگر کوئی پاس دیکھ لیتے تو اسے پچھلی صف میں کر دیتے۔ کہا کرتے" مجھے تعجب ہوتا ہے، اتنے وزنی بال سر پر رکھ لیتے ہیں _جن کو سنبھالنا بھی مشکل ہے_ مگر ایک ہلکی سی ٹوپی رکھنا انہیں بھاری لگتا ہے۔ جی چاہتا ہے جو بالوں کا شوق انہیں ٹوپی لینے میں دخیل ہے انہیں قینچی سے کاٹ دوں۔" شروع شروع میں ش*ذ و نادر ہی ایسا ہوتا کہ سلام پھیرنے کے بعد پیچھے کسی کو رکعات پوری کرتے دیکھا ہو۔ مگر بعد میں جب معمول خراب ہو گیا اور کئی صفیں پیچھے نماز پڑھتے دیکھے تو بہت کڑھتے۔ فجر اور مغرب کے بعد جامعہ کے باغیچوں کے گرد چہل قدمی کرتے۔ اس دوران بھی تسبیح ہاتھ میں لیے ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔

آپ صرف ایک خشک عابد زاہد یا فقہ و حدیث کی گتھیاں سلجھانے والے قدیم طرز کے عالم نہ تھے بلکہ حالات حاضرہ پر بھی ان کہ برابر نظر رہتی۔ ہر روز پانچ نمبر کے باہر بیٹھ کر اخبار پڑھنا ان کا معمول تھا۔ استاد جی نے انہی کے لیے بطور خاص اپنے ہاں اخبار لگوا رکھا تھا۔ شیخ صاحب کی وفات کے کچھ دنوں بعد ملاقات ہوئی تو رندھی آواز سے کہنے لگے "آج اخبار کا حساب بھی برابر کر دیا۔ کل سے وہ نہیں آئے گا۔" گرمیوں میں دھوپ آ جاتی تو کرسی اندر لے جاتے۔ نظر کمزور ہوئی تو شیشہ رکھ کر اخبار پڑھتے۔ جب بستر پر دراز ہوئے اور آنا جانا موقوف ہو گیا پھر بھی ایک مصروفیت جو جاری رہی وہ اخبار پڑھنے آنے کی تھی۔ عموما اپنی سیاسی آراء کا اظہار کم ہی کرتے مگر کچھ مواقع پر ان کا موقف سنا تو داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔

فضائل و مناقب یا مسائل سے متعلقہ خاص دنوں کی آمد ہوتی تو روایت کے برعکس، بطور خاص صبح وعظ کرتے۔ سری نمازوں کی امامت انہی کے سپرد تھی لہذا کسی ایک نماز کے بعد دعا ضرور کرواتے۔ جو اکثر ظہر اور کچھ حالات میں عصر ہو جاتی۔ دعا انتہائی جامع اور خشوع خضوع سے لبریز ہوتی۔ میں کبھی مصلحت کے پیش نظر دعا کرتا تو کرتا مگر عموما ہاتھ اٹھائے بغیر دعا مانگتا۔ ایک بار انہوں نے کہا کہ کچھ طلباء فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کے بارے تحفظات رکھتے ہیں۔ ان شبہات کو انہوں نے اپنے دلائل و براہین سے واضح کیا۔ طلباء کو فجر کی نماز کے لیے باقاعدہ اٹھایا کرتے۔ اس دور میں ہم رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔ فجر کے قریب لیٹتے تو گہری نیند کی آغوش میں چلے جاتے۔ ایک بار ساری مسجد خالی ہو گئی اور صرف میں سویا پڑا تھا۔ لاٹھی کو لٹا کر یوں مارا کہ پوری کمر زد میں آ گئی۔ میں ہڑبڑا کر اٹھا تو بولے "سب سنت پڑھ چکے ہیں اور تمہاری نیند نہیں پوری ہو رہی؟" اس سے پہلے تو چار نمازیں پہلی صف میں پڑھتا ہی تھا اس میں پانچویں فجر کی بھی شامل کر لی۔ پھر تو ڈر کی یہ حالت تھی کہ کافی فاصلے سے ہی ان کی لاٹھی زمین پر پڑنے کی آواز سے اٹھ کر بیٹھ جاتا۔

شیخ صاحب نے کئی بار اس کا ذکر کیا کہ میں تو اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ! مجھے چلتا پھرتا ہی لے جانا اور کسی کا محتاج نہ کرنا۔ اپنی صحت و عافیت کی بہت دعا کیا کرتے۔ اللہ تعالی نے انہیں بہت سے امتحانوں و آزمائشوں سے امان دے دی۔ کچھ دنوں سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ سانحہ ارتحال کی شام ہم تین دوست عیادت کو گئے تو کچھ احباب دروازے پر واپس جاتے ملے۔ معلوم ہوا کہ شیخ صاحب کی طبعیت کچھ بگڑی تو آئی سی یو میں داخل کر لیا گیا ہے۔ ہم کچھ وقت ٹھہرے تھے کہ مغرب کا وقت ہو گیا اور جامعہ سے صرف ہم تین دوست ہی رہ گئے۔ اسی دوران ڈاکٹر نے دوائی کی ایک چٹی لکھ کر دی اور میں دوستوں کو رکنے کا کہ کر چلا گیا کہ اکٹھے نماز پڑھنے جائیں گے۔ واپس آیا تو دیکھتا ہوں کہ عثمان بھائی کو اندر بلایا جا رہا ہے اور مجھے ادویات واپس کرنے بھیج دیا۔ کچھ دیر بعد وہ نمناک آنکھوں سے باہر آئے اور ہم سب کی ہچکی بندھ گئی۔

ہر شخص اس دنیا سے گزر جانے والا ہے۔ جدائی کا داغ بھی ایک دن مٹ جاتا ہے اور فاصلوں کے زخم بھر جاتے ہیں مگر ایک عالم کی جدائی کی کسک صدا محسوس ہوتی ہے۔ اور اگر اس کی مسند ویران اور باقی ماندہ اہداف نامکمل رہ جائیں تو یہ چوٹ تکلیف زیادہ دیتی ہے۔
اللہ تعالی انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی تمام حسنات کو قبول فرمائے !

سعد عبداللہ
(طالب علم جامعہ سلفیہ فیصل آباد)

Address

Jamia Salfia
Faisalabad

Telephone

+923008189849

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Salfia FSD. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share