University of Gujranwala

University of Gujranwala University of Gujranwala

19/05/2026

بجلی مہنگی کوئی بول ہی نہیں رہا عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین لیا نیپرا اور اس کے ذمہ داران وزیراعظم پاکستان صدر اور بجلی کے بلوں میں جو ٹیکس لگتا ہے اس سے ڈائریکٹ غریب خون چوس رہے ہیں روٹی کا نوالہ چھین رہے ہیں۔۔نسیم صادق
چیئرمین عام لوگ پارٹی پاکستان

یونیورسٹی آف گوجرانوالہ کی تعمیر میں تاخیرکیوں؟ساگر کنارے:فیصل فاروق ساگر گوجرانوالہ میں چڑیا گھر قائم کرنے کے لئے انتظا...
19/05/2026

یونیورسٹی آف گوجرانوالہ کی تعمیر میں تاخیرکیوں؟
ساگر کنارے:فیصل فاروق ساگر

گوجرانوالہ میں چڑیا گھر قائم کرنے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے پیش رفت کی خبر سنی تو کئی سال سے سرد خانے میں پڑی یونیورسٹی کا”زخم“ جیسے تازہ ہو گیا اور شہریوں کی جانب سے یونیورسٹی مکمل کرنے کا مطالبہ ایک بار پھر شدت پکڑ گیا، خوش آئند امر یہ کہ سول سوسائٹی اس اہم معاملے پر یک زبان ہے مضمرات اپنی جگہ مگرسوشل میڈیا کا ثمر ہے کہ جائز مطالبات پرلوگوں کو خاموش کرانا اب ناممکن ہو چکا ہے، تب ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے وضاحت دی کہ چڑیا گھر کے لئے کہیں سے کوئی فنڈز نہیں آئے اس کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی تجویز پر کام ہو رہا ہے سوال یہ ہے کہ اس قسم کی تجویز یونیورسٹی کے لئے قابل عمل کیوں نہیں؟اگر فنڈز نہیں آرہے تو وہ کون لائے گا؟گوجرانوالہ کے بیٹے بیٹیوں کے لئے سرکاری یونیورسٹی حسرت چکی ہے آس پاس کے اضلاع میں سرکاری یونیورسٹیز کی موجودگی چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ کسی نے گوجرانوالہ کی نمائندگی کا حق ادا کرنے میں سنگین کوتاہی کی ہے آدھی صدی حکومتوں کا مزہ لوٹنے والے مقامی سیاستدان اپنے کتنے ہی کارنامے کیوں نہ گنوائیں ہمارے بچے بچییوں کو اعلیٰ تعلیم سے محرومی کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے،البتہ ان میں سے بعض سیاستدان اور گوجرانوالہ چیمبر کی شخصیات اس حوالے سے آواز ضرور اٹھاتے رہیں مدتوں بعد خدا خدا کر کے 2023میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے ایمن آباد میں 961کنال اراضی مختص کر کے ایمن آباد اسکا سنگ بنیاد رکھا اور اس کے لئے 5299ملین روپے لاگت تخمینہ مقرر کیا گیا اور میڈیا ٹاک میں محسن نقوی نے منصوبے کو آٹھ ماہ میں مکمل کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا، ایک ارب روپے جاری بھی ہوئے جن سے یوٹیلیٹز کی فراہمی، باؤنڈری وال، زمین کی ہمواری، بنیادی انفراسٹرکچر روڈز کا کام شروع کیا گیا جبکہ مرحلہ وار اکیڈمک بلاکس، مرکزی لائیبریری، اور ہاسٹلزاور کیمپس کی عمارتیں بھی بنائی جانی تھیں لیکن اس کے بعد مسلسل خاموش اور فنڈز کی عدم دستیابی نے سارا منصوبہ کھٹائی میں ڈال کے رکھ دیامحسن نقوی اپنے نئے جھمیلوں میں یونیورسٹی کو بھول گئے جبکہ منصوبوں کے خیالی پلاؤ بنانے والوں نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کو ایک کے بعد ایک منصوبے میں یوں الجھایا کہ یونیورسٹی آف گوجرانوالہ جیسے کسی کو یاد ہی نہ رہی سرمایہ دارانہ نظام کے منافع خوروں نے پرائیویٹ سکولوں کے بعد کالجز اور پھر یونیورسٹیز کی شکل میں تجوریاں بھرنے کی فیکٹریاں لگاکے تعلیمی کاروبار شروع کر لئے لیکن غریبوں کے بچے جو بھاری فیسیں نہ دے سکتے تھے انکے لئے اعلیٰ تعلیم حسرت بن کر رہ گئی، پنجاب یونیورسٹی کا گوجرانوالہ کیمپس گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے قائم ہے جہاں موجودہ دور میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس، ماس کمیونیکیشن، فیشن ڈیزائیننگ کی تعلیم کا کوئی تصور موجود نہیں گوجرانوالہ میں پچھلے سالوں میں کئی منصوبے شروع ہوئے جن میں چن دا قلعہ فلائی اوور مکمل بھی ہوا، سگنل فری کوریڈور اپنے تخمینے اور لاگت سمیت کہیں دفن ہو گیا، پھر 10ارب کا کارڈیالوجی اسپتال منظور ہوا اسکے بعد تو کمال ہی ہوگیا، 62ارب کی میٹرو بس کا منصوبہ شروع کرکے پورا جی ٹی روڈ دیکھتے ہی دیکھتے ادھیڑ کر رکھ دیا گیا پھر منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی اور ایک کی جگہ دو سرنگیں کھودنے کی خبر آگئی مین جی ٹی روڈ کی ٹریفک ان سروس روڈز پر موڑ دی گئی جن کی اپنی حالت انتہائی قابل رحم تھی، شہر میں ٹریفک کابحران کھڑا ہو گیا کیونکہ سارا کچھ جی ٹی روڈ کی چیر پھاڑ کے بعد کیا جا رہا تھا اب بھی شہرمیں کسی کو معلوم نہیں کہ چن دا قلعہ اور اندرون شہر ٹنل بنانے کے لئے کون کون سی املاک اور کس کس کے کاروبار کو بھینٹ چڑھایا جائے گا یہ بھی سن رہے ہیں کہ اب میٹرو کا منصوبہ 100ارب سے زائد میں مکمل ہو سکے گا یہاں پیسے کی فراوانی نظر آتی ہے ادھر تجاوزات ہٹانے کی دھماچوکڑی کے بعد بازار بند کرانے کی واہیات ایکسرسائز نے جہاں پیرا فورس کا مختصر عرصے میں ایک مکمل غیر مہذب فورس ہونے کا تاثر عوام کے ذہنوں میں پختہ کیا ہے وہیں برسراقتدار مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک(اگر کوئی باقی ہے) تو اسے بھی بری طرح نقصان پہنچایا ہے، ایک کے بعد ایک اعلان کر دہ منصوبوں کے انبار میں ایمن آباد کے جنگل میں زیر تعمیر یونیورسٹی آف گوجرانوالہ بری طرح نظر انداز ہوتی چلی گئی جہاں ٹھیکیدار کے بھاگ جانے کی خبریں بھی آئیں نہی دنوں راقم الحروف نے خود یونیورسٹی آف گوجرانوالہ کی سائٹ پر جا کر صورت حال دیکھنے کا فیصلہ کیا جو شہر سے دور جی ٹی روڈ سے کئی کلومیٹر فاصلے پر زیر تعمیر ہے اگر اسے جنگل میں منگل کی عملی تصویر کہیں تو بے جا نہ ہوکیونکہ شہر سے طویل سفر کر کے یہاں ہر روز پہنچنا بچے بچیوں کے لئے ایک مستقل سر درد رہے گا، زنگ آلود سریا اور میٹریل پڑا تھا، لیبر کی تعداد بھی کم نظر آئی وہاں سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ٹھیکیدار جو مفرور ہوچکا تھا اب واپس آچکا ہے، یونورسٹی کی افادیت اور ضرورت پر شاید کسی قسم کے دلائل دینے کی ضرورت نہیں البتہ حکمرانوں کی ترجیحات کو دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے کہ آئے روز نئے نئے منصوبے بنانے والوں نے 2023سے زیر تعمیر یونیورسٹی کو یکسر فراموش کر دیا انہیں احساس نہیں کہ ہر سال ہماری ہزاروں انتہائی قابل بیٹیاں جنہیں دوسرے شہروں میں جا کر پڑھنے کی اجازت نہیں ملتی گھر بیٹھ جاتی ہیں پرائیویٹ تعلیم افورڈ نہ کر پانے والے بچے بچیاں ذہین اورباصلاحیت ہونے کے باوجود اس محرومی کی نذر ہو جاتے ہیں اس پر آئے روز نئے نئے عجیب و غریب منصوبوں کا اعلان زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے اگر آپ چڑیا گھر کو یونیورسٹی سے زیادہ اہمیت دیں گے تو پھر آپکی ذہنی پستی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، ایک طرف آپکے پاس بیوٹیفکیشن، آسانی اور ترقی کے نام پر سڑکیں اکھاڑ اکھاڑ کر دوبارہ بنانے کے لئے کئی سو ارب روپے تو موجود ہیں لیکن قوم کے مستقبل میں سرمایہ کاری کے لئے چند ارب روپے کیوں نہیں ہیں، وزیر اعلیٰ مریم نواز اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور یونیورسٹی آف گوجرانوالہ کا منصوبہ جو پہلے ہی بہت تاخیر کا شکار ہو چکا ہے اسے جلد سے جلد مکمل کرا کے گوجرانوالہ کے بیٹے اور بیٹیوں کو انکا حق دلوائیں کوئی شک نہیں کہ یہی بچے ہمارا مستقبل اور قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں جنہیں مناسب مواقع مل جائیں تو انہیں اقوام عالم میں اپنا مقام پیدا کر نے سے کوئی نہیں رو ک سکے گا

19/05/2026

ماس ٹرانزٹ منصوبہ عوام کیلئے اچھا تو ہے،مگر منصوبہ شروع کرنے سے پہلے پلاننگ کیوں نہ کی گئی؟؟63 ارب روپے کا منصوبہ بغیر پلاننگ کیوں شروع کیا گیا؟؟آفس کیمپ کہاں واقع ہے؟تفصیلات چیئرمین عام لوگ پارٹی نسیم صادق نے سوالات اٹھادئیے

19/05/2026
جب تک روڈ مکمل نہیں ہوتے ٹریفک چالان بند کیے جائیں جب روڈ ہی ٹھیک نہیں تو چالان کس چیز کی جب اشارہ ہی نہیں تو چالان کس چ...
18/05/2026

جب تک روڈ مکمل نہیں ہوتے ٹریفک چالان بند کیے جائیں جب روڈ ہی ٹھیک نہیں تو چالان کس چیز کی جب اشارہ ہی نہیں تو چالان کس چیز کے صرف ریونیو ان کی جیبیں بڑھیں عوام سٹینڈ لیں بدمعاشی والے چالان نہ منظور پہلے ٹریفک نظام ٹھیک کرو روڈ بناؤ پھر چالان دیکھیں گے
نسیم صادق عام لوگ پارٹی پاکستان
ٹریفک چالان نہ کیے جائیں مہنگائی کاروبار نہیں اوپر سے چالان نہیں نہ منظور پہلے روڈ مکمل کرو اشارے لگاؤ ٹریفک کا نظام ٹھیک کرو پھر چالان ورنہ اپ کی تنخوائیں کا ہم نے ٹھیکا نہیں لے رکھا یہ وہ یہ گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے ٹریفک نظام درست کرو

17/05/2026

یہ کیا سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹی گجرانوالہ کو ہم بھول گئے ہیں ہم ان کو ڈنڈی نہیں مارنے دیں گے یہ منصوبہ کرپشن کی نظر میں نہیں ہونے دیں گے
انشاءاللہ ہم ان کے نیندیں حرام کر دیں گے
یونیورسٹی اف گجرانوالہ سب سے پہلے لیں گے انشاءاللہ
نسیم صادق چیئرمین۔۔۔۔ عام لوگ پارٹی پاکستان

13/05/2026

گجرانوالہ دو حصوں میں تقسیم ہے،
مگر کیا شہریوں کے حقوق بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیے گئے ہیں؟۔۔حافظہ اباد ۔روڈ نوشہرہ روڈ۔میاں سنسی روڈ گرجاک روڈ گوندرا والا روڈ۔۔جنا ح روڈ۔مین بازار سارے اس طرف ہی ہے ۔شہر کی ابادی کا بہت سارا حصہ اس طرف ہے ۔۔
ریلوے ٹریک کے اُس پار بسنے والے لوگ بھی اسی پاکستان کے شہری ہیں۔
وہ بھی ٹیکس دیتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں، خواب رکھتے ہیں،
پھر کیوں اُن کے حصے میں صرف محرومی، رش، ٹوٹی سڑکیں اور انتظار آتا ہے؟
اندرونِ گجرانوالہ کی آبادی آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
نہ بڑا سرکاری ہسپتال،
نہ معیاری بوائز و گرلز کالج،
نہ یونیورسٹی،
نہ نوجوانوں اور خاندانوں کے لیے کوئی خوبصورت عوامی مقام۔
کیا ہر ایمرجنسی میں ریلوے لائن کراس کرنا ہی ان لوگوں کا مقدر ہے؟
کیا ترقی صرف شہر کے ایک حصے کا حق ہے؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں:
اس سائیڈ پر 400 بیڈ کا جدید سرکاری ہسپتال بنایا جائے،
اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں،
اور نوجوانوں کے لیے جدید عوامی مقامات اور فیملی اسپیسز بنائی جائیں۔
یہ سیاست نہیں،
یہ شہری انصاف کی جنگ ہے۔
میں، نسیم صادق چیئرمین Aam Log Party Pakistan،
اُس گجرانوالہ کی آواز اٹھا رہا ہوں جسے دہائیوں سے نظر انداز کیا گیا۔
اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ اُس پار بسنے والے لوگ بھی انسان ہیں،
تو آواز بلند کریں…
کیونکہ حقوق مانگنے والے ہی تاریخ بدلتے ہیں۔
مرکز 14 نسیم صادق @
داعی اسلامک ورلڈ ارڈر@
چیئرمین عام لوگ پارٹی پاکستان

اگر عوام جاگ جائے تو اپنے حق کے لیے نسیم صادق عام لوگ پارٹی پاکستان تو سب کچھ مل سکتا ہے۔۔۔۔گوجرانوالہ میں نہ یونیورسٹی ...
12/05/2026

اگر عوام جاگ جائے تو اپنے حق کے لیے
نسیم صادق عام لوگ پارٹی پاکستان
تو سب کچھ مل سکتا ہے۔۔۔۔گوجرانوالہ میں نہ یونیورسٹی ہے اور نہ ہی معیاری ہسپتال
65 ارب کی میٹرو جو اب 100 ارب سے تجاوز ہو چُکی بن سکتی ہے تو شہر کے چاروں کونوں میں چار یونیورسٹی اور چار ہسپتال بھی بن سکتے ہیں ،
لیکن یہ تب بنے گی جب آپ مانگیں گے ،

Gujranwala Chamber of Commerce & Industry Daily Inqlabi Dunya

11/05/2026

گجرانوالہ کے 32 ارب روپے کے سیوریج منصوبے میں جو کچھ زمین پر ہو رہا ہے، وہ صرف ایک تعمیراتی مسئلہ نہیں، یہ عوامی امانت کا سوال ہے۔
این اے 80، حافظ آباد روڈ، نوشہرہ روڈ، میاں سانسی اور دیگر علاقوں میں جاری کام کے دوران میں نے درجنوں شواہد اکٹھے کیے ہیں۔
پائپ جوائنٹنگ غیر معیاری، تکنیکی اصولوں کے برعکس، اور کئی مقامات پر انجینئرنگ اسٹینڈرڈز سے ہٹ کر کی جا رہی ہے۔
پی سی ون عوام سے چھپایا جا رہا ہے، جبکہ ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ منصوبے کی لاگت، ڈیزائن، میٹریل اور معیار دیکھ سکے۔
پنجاب حکومت نے فنڈز عوام کی سہولت کے لیے جاری کیے، مگر کمیشن مافیا اور کرپشن نیٹ ورک اس امانت کو کھانے میں مصروف ہیں۔
یہ صرف پیسوں کی کرپشن نہیں، یہ آنے والی نسلوں کے انفراسٹرکچر کے ساتھ دھوکہ ہے۔
قرآن امانت میں خیانت سے روکتا ہے، اور میرے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
افسوس یہ ہے کہ نہ قانون کا خوف باقی رہا، نہ انسانیت کا احساس۔
اسی لیے نسیم صادق خاموش نہیں بیٹھے گا۔
میں صرف سوال نہیں اٹھا رہا، میں ثبوت کے ساتھ عوام کو حقیقت دکھا رہا ہوں۔
میرا مقصد سیاست نہیں، عوامی نگرانی، شفافیت اور جوابدہی کا نظام کھڑا کرنا ہے۔
لوگو! یہ آپ کا پیسہ ہے، آپ کا حق ہے، آپ کا شہر ہے۔
اگر آج آپ نے نگرانی نہ کی تو کل یہی مافیا آپ کے بچوں کا مستقبل کھا جائے گا۔
ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ جاری منصوبوں پر نظر رکھے، سوال کرے، اور ریکارڈ مانگے۔
عام لوگ پارٹی پاکستان اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے، اب عوام کو بھی جاگنا ہوگا۔
جاگو گجرانوالہ، جاگو پاکستان — ورنہ اربوں روپے مٹی میں دفن کر دیے جائیں گے۔
نسیم صادق
داعی اسلامک ورلڈ آرڈر
چیئرمین Aam Log Party@

10/05/2026

آج ڈی سی آفس گجرانوالہ میں کھڑے ہو کر عوام کو ایک اہم بات بتانا چاہتا ہوں۔اویرنس ویڈیو ہے پلیز ضرور اس کو شیئر کریں
ڈی سی صرف ایک کرسی نہیں، بلکہ عوام کے حقوق، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری نظام کی نگرانی کی بڑی ذمہ داری ہے۔

افسوس آج بھی ہمارے ملک میں وہی colonial administrative structure
(برطانوی دور کا انتظامی نظام) ایسٹ انڈیا کمپنی ڈی سی کلیکٹر ان کا کیا کام تھا برٹش راج اج بھی قائم ہے
بڑی حد تک موجود ہے، جسے ہم مکمل عوامی فلاحی نظام میں تبدیل نہ کر سکے۔

ہم یہاں 60 ارب کے Mass Transit Project
(ماس ٹرانزٹ منصوبہ)
اور 32 ارب کے WASA منصوبوں کے حوالے سے میٹنگ کے لیے آئے ہیں۔

گجرانوالہ کے عوام کا ایک ایک روپیہ عوام پر لگنا چاہیے۔
یہ پیسہ نہ کرپشن مافیا کی نظر ہوگا، نہ کمیشن مافیا کی۔

ہم ہر منصوبے کا حساب لیں گے، معیار دیکھیں گے، اور عوام کے حق کی آواز بلند کریں گے۔

یہ جدوجہد صرف نسیم صادق کی نہیں،
یہ گجرانوالہ کے مستقبل کی جنگ ہے۔

عام لوگ پارٹی پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہم ایک شفاف، جوابدہ اور عوامی نظام کے لیے کھڑے ہیں۔

مجھے گجرانوالہ کے باشعور عوام کی سپورٹ چاہیے۔
کیونکہ جب عوام جاگتی ہے تو نظام بدلتا ہے۔

نسیم صادق
چیئرمین عام لوگ پارٹی پاکستان

Address

Model Town Gujranwala
Gujranwala
52250

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when University of Gujranwala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share