18/04/2023
! مالک
وہ سب آنکھیں جو کسی کی راہ تکتے تکتے خشک ہو گئیںاورسیراب نہ ہو سکیں
وہ سارے
آنسو جو کسی کو نظر نہ آسکے اور ہچکیوں میں بہہ گئے
وہ ساری خاموش دعائیں جو دلوں کے کونوں میں گونجتی رہی، اور شرف قبولیت نہ پا سکیں
وہ سب معصوم دل جو تکلیف کی اذیتوں سے جلتے رہے،
اور خوشیوں کی تسکین نہ پا سکے
وہ مسافر جو منزل کی تلاش میں اجنبی راستوں پہ چلے اور بھٹک گئے
وہ غمگین ہوائیں جو کسی غریب کے دل پہ چھائی رہیں اور اسکا انگن خوشیوں سے محروم رہا
وہ سارے الفاظ جو گھٹتے گھٹتے ختم ہو گئے اور تیرے سوا کوئی بھی سن نہ سکا
اے میرے پیارے الله ان سب پر اپنا رحم فرم