20/04/2023
ہمارے ہاں دو غلط باتیں بہت عام ہیں۔
نمبر 1 بری عورتیں برے مردوں کے لیے اور برے مرد بری عورتوں کے لئے ہیں۔ نمبر 2 زنا ایک قرض ہے جو آپ کو گھر سے چکانا پڑے گا خاص کر بیٹی کی صورت میں۔ ہمارے ہاں سورہ نور کی آیت نمبر 26 کا ترجمہ سراسر غلط لیا جاتا ہے
الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَتِ *
بدکار عورتیں بدکار مردوں کے لئے اور بدکار مرد بدکار عورتوں کے لئے ہیں" بات یاد رکھیں کہ قرآن مجید کی کسی بھی آیت کی تفسیر اس کے سیاق و سباق بغیر نہیں کی جاسکتی اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں آدھا سچ بتانے کی عادت ہے۔ اگر سورہ نور کی اس آیت کے آگے اور پیچھے کی آیت کو پڑھا جائے تو صاف پتا چلتا ہے کہ یہاں پر آخرت کی بات ہو رہی ہے نہ کہ دنیا کی۔ کہ آخرت میں بری عورتیں برے مردوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گی اور اچھی عور تیں اچھے مردوں کے ساتھ جنت میں ہوں گی۔ اگر دنیا کی بات کریں تو دنیا میں تو فرعون کی بیوی مسلمان تھی اور حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کافر تھی۔ ایک کا ترجمہ ٹھیک سے سمجھ لیں کہ یہاں آخرت کا ذکر ہو رہا ہے نہ کہ دنیا کا۔
دوسری بات ہمارے ہاں امام غزالی کا ایک قول بڑا مشہور ہے کہ زنا ایک قرض ہے جسے آپ کو گھر سے چکانا پڑے گا اور خاص کر بیٹی کی صورت میں اور یہ انتہائی گھٹیا اور سراسر غلط بات ہے بلکہ یہ امام غزالی کا قول ہے ہی نہیں اور اگر امام غزالی کا قول بالفرض ہے بھی سہی تو حرف آخر تو نہیں کیونکہ ہمارے لیے ہمارے نبی اکرم زیادہ معتبر ہیں امام غزالی سے اور ہمارے نبی اکرم سے ایسی کوئی حدیث روایت بھی نہیں۔ ایک بات بتائیں اگر آپ زنا کریں گے تو اس میں آپکی بیٹی کا کیا قصور ہے؟ آپکے گناہ کی سزا آپکی بیٹی کو کیوں ملے گی؟ مکافات عمل تو برحق ہے لیکن ہر بندہ اپنے گناہ کی سزا خود اٹھائے گا اللّہ کو پتہ تھا کہ میرے بندے دنیا میں مشکل کھڑی کریں گے اس طرح کی من گھڑت باتیں کریں گے۔ تو اللّہ نے قرآن مجید میں اس بات کی دو دفعہ وضاحت کی۔ اللّہ پاک ایک دفعہ بھی وضاحت کر دیتا تو کافی تھا۔ اللّہ نے لیکن دو دفعہ وضاحت کی ہے کہ کوئی شک نہ رہے
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى *
کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
(سورہ فاطر ، 18)
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى .
کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
(سوره النجم ، 38)