Founder of Peace

Founder of Peace Founder of peace
(2)

15/05/2026

ابو علی الحسین بن عبداللہ بن سینا: علم و حکمت کا روشن ستارہ
​بو علی سینا، جنہیں مشرق میں "شیخ الرئیس" اور مغرب میں "ایویسینا" (Avicenna) کے نام سے پکارا جاتا ہے، قرونِ وسطیٰ کے سب سے بااثر مفکر، طبیب اور فلسفی تھے۔ وہ ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت (Polymath) تھے جنہوں نے نہ صرف طب بلکہ فلسفہ، منطق، فلکیات، ریاضی اور نفسیات میں بھی ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیے جو آج بھی جدید سائنس کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔
​ابتدائی حالات اور تعلیم
​بو علی سینا 980ء میں بخارا کے قریب ایک گاؤں "افشنہ" میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ریاست کے ایک معزز عہدے پر فائز تھے۔ سینا کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ:
​10 سال کی عمر میں: انہوں نے قرآن مجید حفظ کر لیا اور عربی ادب میں مہارت حاصل کی۔
​18 سال کی عمر میں: وہ اس وقت کے تمام مروجہ علوم (منطق، ریاضی، مابعد الطبیعیات اور طب) پر مکمل دسترس حاصل کر چکے تھے۔ ان کا اپنا قول ہے کہ "بیس سال کی عمر کے بعد مجھ پر علم کا کوئی نیا دروازہ نہیں کھلا، بس جو میں نے پہلے سیکھا تھا اس میں پختگی آتی گئی"۔
​طب میں انقلاب: "القانون فی الطب"
​بو علی سینا کو "بابائے طب" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاہکار تصنیف "القانون فی الطب" (The Canon of Medicine) پانچ جلدوں پر مشتمل ایک ایسا انسائیکلوپیڈیا ہے جس نے پانچ سو سال سے زائد عرصے تک یورپ اور ایشیا کے طبی تعلیمی اداروں پر حکمرانی کی۔
​ان کی اہم طبی دریافتیں:
​متعدی امراض: انہوں نے سب سے پہلے بتایا کہ بیماریاں باریک جرثوموں کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہیں۔
​قرنطینہ (Quarantine): انہوں نے بیماریوں کو روکنے کے لیے چالیس روز کی تنہائی کا تصور پیش کیا۔
​نفسیاتی علاج: وہ پہلے طبیب تھے جنہوں نے جسمانی امراض اور ذہنی تناؤ کے باہمی تعلق کو سمجھا اور "سائیکو تھراپی" کے ابتدائی طریقے وضع کیے۔
​جراحت (Surgery): انہوں نے کینسر کے آپریشن، زخموں کو صاف کرنے اور بے ہوشی (Anesthesia) کے لیے پودوں کے استعمال پر مفصل بحث کی۔
​فلسفہ اور منطق: "کتاب الشفاء"
​طب کے بعد ان کا دوسرا بڑا میدان فلسفہ تھا۔ ان کی کتاب "کتاب الشفاء" دنیا کی بڑی علمی تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔
​یہ کتاب روح کی شفا کے بارے میں ہے، جس میں منطق، طبیعیات، ریاضی اور مابعد الطبیعیات (Metaphysics) کے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہے۔
​انہوں نے ارسطو کے فلسفے کی تشریح کی اور اسے اسلامی تعلیمات کے ساتھ منطقی انداز میں ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔
​سائنسی اور دیگر خدمات
​طبیعیات (Physics): انہوں نے روشنی کی رفتار، حرارت اور قوتِ ثقل (Gravity) کے بارے میں ابتدائی تصورات پیش کیے۔
​فلکیات: انہوں نے ستاروں کی پوزیشن معلوم کرنے کے لیے نئے آلات ایجاد کیے۔
​شاعری: وہ ایک اچھے شاعر بھی تھے اور انہوں نے مشکل سائنسی مسائل کو یاد رکھنے کے لیے انہیں منظوم (شاعری کی صورت) بھی کیا۔
​آخری ایام اور وفات
​بو علی سینا کی زندگی بڑی متحرک رہی۔ وہ مختلف شاہی درباروں سے وابستہ رہے، کئی بار وزارت کے عہدے پر فائز ہوئے اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ ان کی زندگی کا آخری حصہ ایران کے شہر ہمدان میں گزرا، جہاں 1037ء میں قولنج (اندرونی بیماری) کے باعث ان کا انتقال ہوا۔
​خلاصہ
​بو علی سینا ایک ایسی عبقری شخصیت تھے جنہوں نے انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی دکھائی۔ ان کا کام آج بھی میڈیکل سائنس اور فلسفے کے طالب علموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے پیرس یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میڈیسن کے ہال میں آج بھی ان کی تصویر آویزاں ہے۔
​کیا آپ ان کی کسی مخصوص کتاب یا ان کے کسی طبی تجربے کے بارے میں مزید جاننا چاہیں گے؟

12/05/2026
12/05/2026

ابوعلی الحسن ابن الہیشم (جنہیں مغرب میں Alhazen کے نام سے جانا جاتا ہے) تاریخِ اسلام کے مایہ ناز سائنسدان، ریاضی دان، اور ماہرِ فلکیات تھے۔ انہیں "بابائے بصریات" (Father of Optics) کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے روشنی اور بینائی کے علم میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کروائیں۔
​ان کے بارے میں چند اہم حقائق درج ذیل ہیں:
​۱. پیدائش اور ابتدائی زندگی
​ابن الہیشم 965ء میں عراق کے شہر بصرہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مصر (قاہرہ) میں گزارا، جہاں انہوں نے اپنی مشہور ترین سائنسی خدمات سرانجام دیں۔
​۲. بصریات (Optics) میں کارنامے
​ابن الہیشم سے پہلے یونانیوں کا خیال تھا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر چیزوں سے ٹکراتی ہے جس سے ہمیں نظر آتا ہے۔ ابن الہیشم نے اسے غلط ثابت کیا اور بتایا کہ:
​روشنی چیزوں سے ٹکرا کر ہماری آنکھوں میں داخل ہوتی ہے، جس سے ہم دیکھ پاتے ہیں۔
​انہوں نے "کتاب المناظر" لکھی، جو قرونِ وسطیٰ میں بصریات کی سب سے اہم کتاب مانی جاتی ہے۔
​انہوں نے "پن ہول کیمرہ" (Camera Obscura) کے اصولوں کو پہلی بار سائنسی انداز میں بیان کیا۔
​۳. سائنسی طریقہ کار (Scientific Method)
​انہیں دنیا کا پہلا "حقیقی سائنسدان" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے صرف نظریات پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ہر بات کو تجربے (Experimentation) سے ثابت کرنے پر زور دیا۔ وہ جدید سائنسی طریقہ کار کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
​۴. دیگر علوم میں مہارت
​ریاضی: انہوں نے جیومیٹری اور الجبرا میں اہم کام کیا۔ "ابن الہیشم کا مسئلہ" (Alhazen's Problem) آج بھی ریاضی میں مشہور ہے۔
​فلکیات: انہوں نے سیاروں کی حرکت اور خلا کے بارے میں بھی گرانقدر معلومات فراہم کیں۔
​فلسفہ اور طب: وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے اور کئی دیگر علوم پر بھی دسترس رکھتے تھے۔
​۵. وفات
​ان کا انتقال 1040ء کے لگ بھگ قاہرہ، مصر میں ہوا۔
​ابن الہیشم کی خدمات اتنی عظیم ہیں کہ یونیسکو (UNESCO) نے 2015ء کو ان کی یاد میں "روشنی کا بین الاقوامی سال" قرار دیا تھا تاکہ ان کی سائنسی دریافتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔

11/05/2026

ابوعلی الحسن ابن الہیشم (جنہیں مغرب میں Alhazen کے نام سے جانا جاتا ہے) تاریخِ اسلام کے مایہ ناز سائنسدان، ریاضی دان، او...
11/05/2026

ابوعلی الحسن ابن الہیشم (جنہیں مغرب میں Alhazen کے نام سے جانا جاتا ہے) تاریخِ اسلام کے مایہ ناز سائنسدان، ریاضی دان، اور ماہرِ فلکیات تھے۔ انہیں "بابائے بصریات" (Father of Optics) کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے روشنی اور بینائی کے علم میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کروائیں۔
​ان کے بارے میں چند اہم حقائق درج ذیل ہیں:
​۱. پیدائش اور ابتدائی زندگی
​ابن الہیشم 965ء میں عراق کے شہر بصرہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مصر (قاہرہ) میں گزارا، جہاں انہوں نے اپنی مشہور ترین سائنسی خدمات سرانجام دیں۔
​۲. بصریات (Optics) میں کارنامے
​ابن الہیشم سے پہلے یونانیوں کا خیال تھا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر چیزوں سے ٹکراتی ہے جس سے ہمیں نظر آتا ہے۔ ابن الہیشم نے اسے غلط ثابت کیا اور بتایا کہ:
​روشنی چیزوں سے ٹکرا کر ہماری آنکھوں میں داخل ہوتی ہے، جس سے ہم دیکھ پاتے ہیں۔
​انہوں نے "کتاب المناظر" لکھی، جو قرونِ وسطیٰ میں بصریات کی سب سے اہم کتاب مانی جاتی ہے۔
​انہوں نے "پن ہول کیمرہ" (Camera Obscura) کے اصولوں کو پہلی بار سائنسی انداز میں بیان کیا۔
​۳. سائنسی طریقہ کار (Scientific Method)
​انہیں دنیا کا پہلا "حقیقی سائنسدان" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے صرف نظریات پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ہر بات کو تجربے (Experimentation) سے ثابت کرنے پر زور دیا۔ وہ جدید سائنسی طریقہ کار کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
​۴. دیگر علوم میں مہارت
​ریاضی: انہوں نے جیومیٹری اور الجبرا میں اہم کام کیا۔ "ابن الہیشم کا مسئلہ" (Alhazen's Problem) آج بھی ریاضی میں مشہور ہے۔
​فلکیات: انہوں نے سیاروں کی حرکت اور خلا کے بارے میں بھی گرانقدر معلومات فراہم کیں۔
​فلسفہ اور طب: وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے اور کئی دیگر علوم پر بھی دسترس رکھتے تھے۔
​۵. وفات
​ان کا انتقال 1040ء کے لگ بھگ قاہرہ، مصر میں ہوا۔
​ابن الہیشم کی خدمات اتنی عظیم ہیں کہ یونیسکو (UNESCO) نے 2015ء کو ان کی یاد میں "روشنی کا بین الاقوامی سال" قرار دیا تھا تاکہ ان کی سائنسی دریافتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے





​ #بصریات #پاکستان #معلومات

11/05/2026

゙ン

09/05/2026

حاصل پور اور اس کے گرد و نواح میں کئی ایسی اہم جگہیں اور مقامات ہیں جو اپنی تاریخی، تفریحی اور تجارتی اہمیت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ذیل میں ان کی تفصیل دی جا رہی ہے:
​1. ہیڈ اسلام (Islam Headworks)
​یہ حاصل پور کا سب سے مشہور تفریحی اور تکنیکی مقام ہے۔ یہ دریائے ستلج پر واقع ہے اور 1927ء میں مکمل ہوا تھا۔
​اہمیت: یہ آبپاشی کا ایک بڑا نظام ہے جس سے نکلنے والی نہریں لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرتی ہیں۔
​تفریح: یہاں کے ریستوران اپنی تازہ مچھلی کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور ہیں۔ لوگ دور دور سے یہاں پکنک منانے اور دریا کا نظارہ کرنے آتے ہیں۔
​2. تاریخی مقامات (Old Hasilpur & Tombs)
​حاصل پور کا پرانا حصہ اپنی قدامت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔
​شاہ رنگیلا کا مزار: شہر میں شاہ رنگیلا کا مقبرہ ایک تاریخی مقام ہے جہاں مقامی لوگ عقیدت کے طور پر جاتے ہیں۔
​پرانا شہر: یہاں کی تنگ گلیاں اور قدیم طرز کی تعمیرات گزرے ہوئے وقت کی یاد دلاتی ہیں۔
​3. تجارتی اور عوامی مقامات
​غلہ منڈی حاصل پور: یہ جنوبی پنجاب کی اہم منڈیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں ہونے والی زرعی تجارت شہر کی معیشت کی شہ رگ ہے۔
​علامہ اقبال پارک: یہ شہر کا ایک اہم عوامی پارک ہے جہاں مقامی فیملیز سیر و تفریح کے لیے جاتی ہیں۔
​شاہین چوک: یہ شہر کا ایک مصروف ترین اور مرکزی مقام ہے جو مختلف اہم شاہراہوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
​4. تعلیمی ادارے اور لائبریری
​حاصل پور اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔
​گورنمنٹ ڈگری کالج: یہ تحصیل کا سب سے قدیم اور بڑا تعلیمی ادارہ ہے۔
​پبلک لائبریری: حاصل پور میں ایک میونسپل لائبریری بھی موجود ہے جو علم دوست افراد کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
​5. قریبی مشہور مقامات (ضلع بہاولپور کے تناظر میں)
​چونکہ حاصل پور ضلع بہاولپور کا حصہ ہے، اس لیے یہاں رہنے والے لوگ اکثر ان مقامات کا رخ بھی کرتے ہیں:
​صحرائے چولستان (روہی): حاصل پور کی سرحدیں چولستان کے ریگستان سے ملتی ہیں، جو اپنی ثقافت اور "قلعہ دراوڑ" کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔
​بہاولپور شہر کے محلات: نور محل اور دربار محل حاصل پور سے چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع ہیں جو شاہی ریاست کی عظمت کا مظہر ہیں۔
​ ゚viralシ ゙ン

09/05/2026

حاصل پور اور اس کے گرد و نواح میں کئی ایسی اہم جگہیں اور مقامات ہیں جو اپنی تاریخی، تفریحی اور تجارتی اہمیت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ذیل میں ان کی تفصیل دی جا رہی ہے:
​1. ہیڈ اسلام (Islam Headworks)
​یہ حاصل پور کا سب سے مشہور تفریحی اور تکنیکی مقام ہے۔ یہ دریائے ستلج پر واقع ہے اور 1927ء میں مکمل ہوا تھا۔
​اہمیت: یہ آبپاشی کا ایک بڑا نظام ہے جس سے نکلنے والی نہریں لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرتی ہیں۔
​تفریح: یہاں کے ریستوران اپنی تازہ مچھلی کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور ہیں۔ لوگ دور دور سے یہاں پکنک منانے اور دریا کا نظارہ کرنے آتے ہیں۔
​2. تاریخی مقامات (Old Hasilpur & Tombs)
​حاصل پور کا پرانا حصہ اپنی قدامت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔
​شاہ رنگیلا کا مزار: شہر میں شاہ رنگیلا کا مقبرہ ایک تاریخی مقام ہے جہاں مقامی لوگ عقیدت کے طور پر جاتے ہیں۔
​پرانا شہر: یہاں کی تنگ گلیاں اور قدیم طرز کی تعمیرات گزرے ہوئے وقت کی یاد دلاتی ہیں۔
​3. تجارتی اور عوامی مقامات
​غلہ منڈی حاصل پور: یہ جنوبی پنجاب کی اہم منڈیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں ہونے والی زرعی تجارت شہر کی معیشت کی شہ رگ ہے۔
​علامہ اقبال پارک: یہ شہر کا ایک اہم عوامی پارک ہے جہاں مقامی فیملیز سیر و تفریح کے لیے جاتی ہیں۔
​شاہین چوک: یہ شہر کا ایک مصروف ترین اور مرکزی مقام ہے جو مختلف اہم شاہراہوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
​4. تعلیمی ادارے اور لائبریری
​حاصل پور اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔
​گورنمنٹ ڈگری کالج: یہ تحصیل کا سب سے قدیم اور بڑا تعلیمی ادارہ ہے۔
​پبلک لائبریری: حاصل پور میں ایک میونسپل لائبریری بھی موجود ہے جو علم دوست افراد کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
​5. قریبی مشہور مقامات (ضلع بہاولپور کے تناظر میں)
​چونکہ حاصل پور ضلع بہاولپور کا حصہ ہے، اس لیے یہاں رہنے والے لوگ اکثر ان مقامات کا رخ بھی کرتے ہیں:
​صحرائے چولستان (روہی): حاصل پور کی سرحدیں چولستان کے ریگستان سے ملتی ہیں، جو اپنی ثقافت اور "قلعہ دراوڑ" کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔
​بہاولپور شہر کے محلات: نور محل اور دربار محل حاصل پور سے چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع ہیں جو شاہی ریاست کی عظمت کا مظہر ہیں۔

09/05/2026

حاصل پور اور اس کے گرد و نواح میں کئی ایسی اہم جگہیں اور مقامات ہیں جو اپنی تاریخی، تفریحی اور تجارتی اہمیت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ذیل میں ان کی تفصیل دی جا رہی ہے:
​1. ہیڈ اسلام (Islam Headworks)
​یہ حاصل پور کا سب سے مشہور تفریحی اور تکنیکی مقام ہے۔ یہ دریائے ستلج پر واقع ہے اور 1927ء میں مکمل ہوا تھا۔
​اہمیت: یہ آبپاشی کا ایک بڑا نظام ہے جس سے نکلنے والی نہریں لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرتی ہیں۔
​تفریح: یہاں کے ریستوران اپنی تازہ مچھلی کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور ہیں۔ لوگ دور دور سے یہاں پکنک منانے اور دریا کا نظارہ کرنے آتے ہیں۔
​2. تاریخی مقامات (Old Hasilpur & Tombs)
​حاصل پور کا پرانا حصہ اپنی قدامت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔
​شاہ رنگیلا کا مزار: شہر میں شاہ رنگیلا کا مقبرہ ایک تاریخی مقام ہے جہاں مقامی لوگ عقیدت کے طور پر جاتے ہیں۔
​پرانا شہر: یہاں کی تنگ گلیاں اور قدیم طرز کی تعمیرات گزرے ہوئے وقت کی یاد دلاتی ہیں۔
​3. تجارتی اور عوامی مقامات
​غلہ منڈی حاصل پور: یہ جنوبی پنجاب کی اہم منڈیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں ہونے والی زرعی تجارت شہر کی معیشت کی شہ رگ ہے۔
​علامہ اقبال پارک: یہ شہر کا ایک اہم عوامی پارک ہے جہاں مقامی فیملیز سیر و تفریح کے لیے جاتی ہیں۔
​شاہین چوک: یہ شہر کا ایک مصروف ترین اور مرکزی مقام ہے جو مختلف اہم شاہراہوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
​4. تعلیمی ادارے اور لائبریری
​حاصل پور اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔
​گورنمنٹ ڈگری کالج: یہ تحصیل کا سب سے قدیم اور بڑا تعلیمی ادارہ ہے۔
​پبلک لائبریری: حاصل پور میں ایک میونسپل لائبریری بھی موجود ہے جو علم دوست افراد کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
​5. قریبی مشہور مقامات (ضلع بہاولپور کے تناظر میں)
​چونکہ حاصل پور ضلع بہاولپور کا حصہ ہے، اس لیے یہاں رہنے والے لوگ اکثر ان مقامات کا رخ بھی کرتے ہیں:
​صحرائے چولستان (روہی): حاصل پور کی سرحدیں چولستان کے ریگستان سے ملتی ہیں، جو اپنی ثقافت اور "قلعہ دراوڑ" کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔
​بہاولپور شہر کے محلات: نور محل اور دربار محل حاصل پور سے چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع ہیں جو شاہی ریاست کی عظمت کا مظہر ہیں۔
​اگر آپ

゚viralシ
Founder of Peace

08/05/2026

شیر (اسد): لسانی و علمی تعارف
​شیر درندوں میں سب سے مشہور جانور ہے۔ عربی زبان میں اس کے لیے اسد کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جس کی جمع 'اسود'، 'اُسد' اور 'آساد' آتی ہے۔ اس کی مادہ (شیرنی) کو 'اسدہ' کہا جاتا ہے۔
​شیر کے مختلف نام
​عربی زبان اپنی وسعت کی وجہ سے مشہور ہے اور شیر کے اوصاف کی بنیاد پر اس کے سینکڑوں نام رکھے گئے ہیں۔ ماہرینِ لغت (جیسے ابن خالویہ اور علی بن قاسم) کے مطابق شیر کے پانچ سو سے زائد نام اور صفات ہیں۔ چند مشہور نام درج ذیل ہیں:
​عام نام: اسامہ، بیہس، حارث، حیدر، عباس۔
​دیگر صفات: ضیغم، غضنفر، قسورہ، لیث، حمزہ، زفر، سبع۔
​شیر کی اقسام اور جسمانی ساخت
​قدیم یونانی فلسفی ارسطو نے شیر کی مختلف اقسام کا تذکرہ کیا ہے:
​انسانی مشابہت والا شیر: جس کا چہرہ کسی حد تک انسان سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے۔
​سرخ مائل شیر: جس کا جسم گہرا سرخ ہوتا ہے اور دم کے بال جھاڑی کی طرح ہوتے ہیں۔
​گائے کی شکل والا شیر: ایک ایسی قسم جس کی رنگت سیاہ ہوتی ہے اور سر پر سینگ نما ابھار پائے جاتے ہیں۔
​شیر کی فطرت اور خصوصیات
​ماہرینِ حیوانیات نے شیر کی عادات کے حوالے سے دلچسپ مشاہدات تحریر کیے ہیں:
​پیدائش و نشوونما: شیر کا بچہ پیدائش کے وقت انتہائی کمزور اور بے حس و حرکت ہوتا ہے۔ مادہ تین دن تک اس کی نگرانی کرتی ہے، جس کے بعد اس میں زندگی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ سات دن بعد بچہ آنکھیں کھولتا ہے اور چھ ماہ کی عمر تک اسے شکار کرنے اور خوراک حاصل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
​صبر و استقلال: شیر بھوک اور پیاس پر غیر معمولی صبر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
​خودداری: یہ ایک انتہائی خوددار جانور ہے۔ شیر کبھی دوسرے کا بچا ہوا شکار نہیں کھاتا۔ اگر ایک بار شکار کر کے پیٹ بھر لے، تو دوبارہ اس بچے ہوئے گوشت کی طرف رخ نہیں کرتا۔
​نفاست پسندی: شیر کو گندگی سے رغبت نہیں ہوتی۔ اگر کسی کھانے میں مکھی گر جائے یا پانی میں کتے کا جھوٹا شامل ہو جائے، تو وہ اسے ہاتھ لگانا یا پینا پسند نہیں کرتا۔
​دلیری: اپنی طاقت، بے خوفی اور جرات کی وجہ سے اسے تمام جانوروں میں ایک خاص مقام حاصل ہے اور اسے جنگل کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے۔
​منتخب شعری مفہوم
​قدیم اشعار میں شیر کی خودداری کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
​"اگر کسی کھانے پر مکھی بیٹھ جائے تو میں اس سے ہاتھ اٹھا لیتا ہوں، چاہے میرا دل اسے کتنا ہی کیوں نہ چاہ رہا ہو۔"
"جب کتے کسی پانی میں منہ ڈال دیں، تو شیر اس پانی سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔" ゚viralシ

Address

Hasilpur
63000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Founder of Peace posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Founder of Peace:

Share