PhDs of Pakistan

PhDs of Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from PhDs of Pakistan, College & University, HEC islamabad, Islamabad.

Big corruption scandal of a University
22/09/2022

Big corruption scandal of a University

Corruption Story That Will Shook The Whole When will we Understand Corruption is a Sin?corruption scandalPolitical corruption,The Islamia ...

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتیوں کے واقعات۔۔۔۔۔۔
01/12/2021

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں طالبات کے ساتھ اجتماعی زیادتیوں کے واقعات۔۔۔۔۔۔

20/11/2021
14/11/2021

Congratulations Dr. Athar Mahboob for the worst performance of quality Education in your tenure at KFUEIT as indicted by HeC report June 2018-June 2019. The Islamia University Bahawalpur is suffering badly and also remember your bad governance and worst long term impact on the education and employment. 🤣🤣🤣😅😂😂

پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر اور خواجہ فرید یونیورسٹی کے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے والے رضوان مجید کی حقیقت صرف ایک کرپٹ رش...
13/11/2021

پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر اور خواجہ فرید یونیورسٹی کے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے والے رضوان مجید کی حقیقت صرف ایک کرپٹ رشوت خور اور حرام کی کمائی کھانے والے سے بڑھ کر اور کچھ نہیں۔ ایچ ای سی نے ایسی کوئی لسٹ جاری نہیں کی جس میں خواجہ فرید یونیورسٹی کا تعلیمی معیار غیر تسلی بخش قرار دیا ہو۔ یہ ایک جھوٹی خبر ہے جو کہ "جناح" اخبار والوں نے لگائی ہے مزید یہ کہ اس میں کہیں بھی خواجہ فرید یونیورسٹی کا نام موجود نہیں ہے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی خبر جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر کے خواجہ فرید یونیورسٹی میں وائس چانسلر بننے کے بعد خواجہ فرید یونیورسٹی کا نام دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں آنے لگا ہے۔ بہترین نظام تعلیم ہی یونیورسٹی کی پہچان ہے۔
منہ پر سنت رسول رکھ کر جھوٹی اور مکار حرکتیں کرنے والا شخص اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا ڈائریکٹر آئی ٹی ہے جو کہ اس وقت وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا جان کا ٹکڈا ہے کیوں کہ دونوں نے جیل میں بھی اکھٹے جانے کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس بات کو واضح کرتا جاؤں گا خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان کے سابقہ وائس چانسلر اور موجودہ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اطہر محبوب کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پہلے ہی وائس چانسلر کی نوکری کے لئے ان الیجیبل قرار دے دیا ہے۔ 75 ویں سینڈیکیٹ تو جیسے اطہر محبوب کو پھانسی کے پھندے پر پہنچا کے ای جان چھوڑے گی۔ ایک سے 21 گریڈ کی سیٹوں پر بہت سے نکمے اور سفارشی لوگ رکھے ہیں اور ان تمام لوگوں کے سفارشی کوئی نہ کوئی اچھے عہدے پر موجود سیاستدان تھا۔ یونیورسٹی سے پیسہ لوٹنا ان کا کام ہے، بس۔۔۔۔۔ خیر جب ان کے جانے کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں کوئی نیا وائس چانسلر آئے گا تو یہ بات بھی واضح ہو جائے گی۔
رضوان مجید جو کہ خواجہ فرید یونیورسٹی میں منیجر آئی ٹی بھرتی کیا گیا تھا اس وقت اس کا ایکسپیرینس پورا نہیں تھا پھر بھی محبوب صاحب نے اسے نوکر رکھ لیا۔ پھر رضوان مجید کو کچھ ہی دیر بعد سات ایکسٹرا انکریمنٹ دیتے ہوئے ڈائریکٹر ای سی ٹی بنا دیا گیا۔ محبوب صاحب اسے بھی جاتے ہوئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور لے گئے اور75 ویں سنڈیکیٹ جو کہ مکمل طور پر ایلیگل ہے اس میں اس کو ڈاریکٹر آئی ٹی بنا دیا۔ اس وقت اس کا ایکسپیرینس پورا نہیں تھا وہ تو صرف اخبار میں ایڈ کے لئے تھا۔ اس کے مقابلے میں بہت سے ایکسپیرینسڈ اور اچھے لوگوں کو سائیڈ پر کر کے اس جناب کو نوکری دی گئی۔ اس بات کو بھی یہاں بتاتا چلوں کہ 75 ویں سینڈیکیٹ جو کہ مکمل طور پر ایلیگل ہے، اس کا کیس چل رہا ہے۔ کچھ لوگ جو ٹیسٹ میں فیل ہوئے تھے ان کو نوکری دے دی گئی اور کسی کو ٹیسٹ میں ابسینٹ ہونے کے بعد بھی اپوائنٹمنٹ لیٹر دے دیے گئے۔ المختصر اطہر محبوب نے مکمل طور پر سفارشیوں اور نکمے لوگوں کو 75 ویں سینڈیکیٹ میں نوکری دے دی۔75 ویں سینڈیکیٹ میں سلیکٹ ہونے والوں کے لئے ایک مفت کا مشورہ ہے کہ وہ اپنی تنخواہیں محفوظ رکھیں کہ دو سال بعد واپس جمع کروانے کے لیے کچھ نہ کچھ پاس ہونا چاہیے۔ خیر رضوان مجید کو بھی اسی سینڈیکیٹ میں ایکسٹرا انکریمنٹ دیتے ہوئے رکھا۔ لے بھئی جوان موج کر۔۔۔۔۔۔ ابھی کچھ دن پہلے ایچ ای ڈی کی تفتیشی رپورٹ جمع ہوئی ہے جس میں جناب کو مکمل طور پر ایلیگل قرار دے دیا گیا ہے اور جناب کو موت پڑ رہی ہے حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے۔ اخبار کی لنک اور سکرین شاٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ خبر جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔
https://www.dailyjinnah.com/epaper/page.php?id=1&edition=punjab&dt=13-11-2021

06/11/2021

یہ ہے خواجہ فرید یونیورسٹی کا ڈاکٹر سیف۔ پچھلے وی سی کے دور میں یہ خود ساڑھے تین لاکھ تنخواہ لیتا رہا جو کہ گورنمنٹ کے ق...
21/10/2021

یہ ہے خواجہ فرید یونیورسٹی کا ڈاکٹر سیف۔ پچھلے وی سی کے دور میں یہ خود ساڑھے تین لاکھ تنخواہ لیتا رہا جو کہ گورنمنٹ کے قاعدے قوانین سے بہت اوپر تھی اس نے اپنی بیوی اور دو رشتے داروں کی بھی یونیورسٹی میں سارے قاعدے قانون بالائے طاق رکھتے ہوئے نوکری کروائی۔ پچھلے دور میں سفارش کروا کر سروس سٹیچوز کے بغیراپنا سلیکشن بورڈ کروایا جس میں میرٹ کے برخلاف یہ ایسوسی ایٹ پروفیسر بنا اس وقت اس نے اعتراض کیوں نا کیا کہ قانون کے خلاف ہو رہا ہے یا باقی ملازمین کی مستقلی کے لئے بات کیوں نا کی۔ اس سے پہلے یہ کامسیٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف گجرات میں کام کرتا رہا۔ اس سے پوچھا جائے کہ کامسیٹ، پھر گجرات اور بعد میں خواجہ فرید یونیورسٹی میں یہ کس کی سفارش پر بھرتی ہوا۔ خواجہ فرید یونیورسٹی میں یہ کس اشتہار میں دی گئی نوکری پر اپلائی کر کے آیا۔ پچھلے دور میں ملنے والے غیر قانونی مفادات جب موجودہ وی سی نے بند کر دئے تو اس کی چیخیں شروع ہو گئی۔ پچھلے دور میں جب اس کا سلیکشن بورڈ ہوا تو وہ ٹھیک تھا پچھلے دور میں ملنے والی ساڑھے تین لاکھ تنخواہ ٹھیک تھی پچھلے دور میں یہ ہی لوگ دوسروں کے سلیکشن بورڈ رکوانے میں شامل رہے۔ اس سے پوچھا جائے کہ پچھلے دور میں جن لوگوں کو نقصان پہنچایا اب ان کے ہی لیڈر بنے ہوئے ہو یہ واقعی لیڈری ہے یا اپنے غیر قانونی لئے گئے مفادات کو چھپانے کی اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ یہ جواب دے کہ سفارشوں پر ڈائریکٹ نوکری لینے والا قانون کی دھجیاں اڑانے والا اب قانون کی بات کیوں کر رہا ہے اس کا مقصد کیا ہے۔ جب یونیورسٹی انتظامیہ اپنے ملازمین کو مستقل کرنا چاہتی ہے تو یہ لوگوں کو گمراہ کر کے روڑے کیوں اٹکا رہا ہے۔ ان چھ سو ملازمین کا کیا قصور ہے جن کے مستقل ہونے کا عمل رکوانے کے لئے یہ رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ ہے ڈاکٹر منتظم عباس جس کی اقربا پروری کی داستان سب کے علم میں ہے۔ آج کل یہ خواجہ فرید یونیورسٹی کے چند ملازمین کو احت...
21/10/2021

یہ ہے ڈاکٹر منتظم عباس جس کی اقربا پروری کی داستان سب کے علم میں ہے۔ آج کل یہ خواجہ فرید یونیورسٹی کے چند ملازمین کو احتجاج پر اکسا کر باقی تمام ملازمین کی مستقلی کے عمل کو رکوانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ سابقہ دور میں اس نے خود میرٹ کی دھجیاں اڑائی۔ اس نے اپنی بیوی بہن اور دو رشتے داروں کو قانون کے برخلاف یونیورسٹی میں نوکری دلوائی جس شعبے کا یہ خود سربراہ تھا وہ اسی میں کام کرتی رہی میرٹ کا شور کرنے والے اس بندے نے کبھی اپنی کلاسز خود نہیں پڑھائی اور ہمیشہ ہی رف حلیے میں یونیورسٹی آتا رہا جب انتظامیہ کی طرف سے سختی ہوئی تو مخالفت پر اتر ایا۔ موجودہ وائس چانسلر نے اس کی سستی کاہلی اور اقربا پروری کو دیکھتے ہوئے ہیڈ کی ذمہ داری سے فارغ کر دیا تو اس کی طرف سے مخالفت شروع ہو گئی اب یہ آپنا ذاتی غصہ نکالنے کے لئے سوشل میڈیا پر سرگرم ہے چند ملازمین کو ساتھ ملا کر احتجاج کا ڈھونگ رچا رہا ہے ان ملازمین کو گمراہ کر کے اپنے فائدے حاصل کرنے کے لئے وائس چانسلر پر پریشر ڈالنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ یہ ان لوگوں میں سے ہے جس نے پچھلے وائس چانسلر کے دور میں غیر قانونی مفادات لئے اب وہ بند ہو گئے ہیں تو شور مچا رہا ہے پچھلے دور میں جب ان کی اپنی پانچوں گھی میں تھی کبھی ملازمین کی مستقلی کی بات نا کی بلکہ اگر کسی ملازم نے کہا بھی تو بدمعاشی سے اس کو دبایا اس سے پوچھا جائے کہ پچھلے دور میں جب سات سو ملازمین کو مستقل نہیں کیا گیا تو یہ کیوں خاموش رہا اب جب انتظامیہ لوگوں کو مستقل کر رہی ہے تو یہ کیوں رکاوٹ بن رہا ہے پچھلے دور میں لوگوں کی مستقل نوکری کی راہ میں رکاوٹ رہنے والا اب اپنے آپ کو بچانے کے لئے جھوٹے احتجاج کر رہا ہے اور ملازمین کو گمراہ کر رہا ہے یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے کہ ایسے مفاد پرستوں کے خلاف سخت کاروائی کرے جو چھ سو ملازمین کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے ہیں-

موصوف ڈاکٹر سیف الرحمان کی قابلیت سوائے گندی سیاست اور منفی پروپیگنڈہ پھیلانے کے کچھ بھی نہیں۔
19/10/2021

موصوف ڈاکٹر سیف الرحمان کی قابلیت سوائے گندی سیاست اور منفی پروپیگنڈہ پھیلانے کے کچھ بھی نہیں۔

30/07/2021

Address

HEC Islamabad
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PhDs of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share