True knowledge

True knowledge Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from True knowledge, College & University, Islamabad.

  زمین پر انصاف قائم کرنا، ظلم و ظلمات کے خلاف حق کے ساتھ کھڑا ہونا، اور ہر عمل میں غور و فکر کرنا یہی انسان کی حقیقی ذم...
12/08/2026


زمین پر انصاف قائم کرنا، ظلم و ظلمات کے خلاف حق کے ساتھ کھڑا ہونا، اور ہر عمل میں غور و فکر کرنا یہی انسان کی حقیقی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں زندگی گزارنے کے اصول، عدل و حکمت اور ہدایت کا راستہ واضح کر دیا، اور انبیاء و صالحین کی زندہ مثالوں سے اسے سمجھایا بھی۔
ہمیں چاہیے کہ ان تعلیمات کو صرف پڑھیں نہیں بلکہ اپنی زندگی میں اختیار کریں، تاکہ دنیا میں امن، سکون اور خوشی حاصل ہو، اور آخرت میں اللہ کی رحمت کے سائے میں کامیابی اور جنت نصیب ہو۔

06/08/2026

دوسروں کو شیطان کہنے سے پہلے اپنے اندر جھانکیں
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیوں کو تلاش کرنے میں تو غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں، مگر اپنی اصلاح کی طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ کسی کی ایک چھوٹی سی لغزش دیکھ کر اسے برا، گمراہ یا شیطان کہہ دینا آسان سمجھا جاتا ہے، لیکن اپنے رویوں، اپنی زبان، اپنے کردار اور اپنے اعمال کا احتساب کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسان مکمل نہیں۔ ہر شخص میں کچھ کمزوریاں اور کچھ خوبیاں ہوتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر دوسروں کی ہزار خوبیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن اگر ایک خامی نظر آ جائے تو اسی کو موضوعِ گفتگو بنا لیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف افراد کی حوصلہ شکنی کرتا ہے بلکہ معاشرے میں نفرت، بداعتمادی اور تقسیم کو بھی بڑھاتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے معاشروں میں یہ رجحان سوشل میڈیا کی وجہ سے مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ کسی کی غلطی سامنے آئے تو اصلاح یا رہنمائی کے بجائے اسے مذاق، تنقید اور کردار کشی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، ترقی یافتہ اور مثبت معاشروں میں غلطیوں کو سیکھنے اور بہتر بننے کا موقع سمجھا جاتا ہے۔
ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ جو شخص مسلسل دوسروں کی خامیاں تلاش کرتا رہتا ہے، وہ اکثر اپنی کمزوریوں سے غافل ہو جاتا ہے۔ جبکہ جو انسان روزانہ اپنا احتساب کرتا ہے، وہ دوسروں کے لیے بھی زیادہ نرم دل، منصف اور خیر خواہ بن جاتا ہے۔
ہمیں یہ سوچ اپنانے کی ضرورت ہے کہ اگر کسی بھائی، بہن، دوست یا ساتھی سے غلطی ہو جائے تو اس کی تذلیل کے بجائے اس کی رہنمائی کریں۔ ایک اچھا لفظ، ایک مخلصانہ مشورہ اور ایک مثبت رویہ کئی زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔
آئیں ہم اپنے معاشرے میں ایک نئی روایت قائم کریں:
دوسروں کی عزت کریں۔
خامیوں کے بجائے خوبیوں کو تلاش کریں۔
تنقید کے بجائے اصلاح کو فروغ دیں۔
الزام کے بجائے تعاون کریں۔
نفرت کے بجائے محبت اور احترام کو عام کریں۔
جب ہر انسان دوسروں کو بدلنے کے بجائے اپنی اصلاح سے آغاز کرے گا تو گھر بہتر ہوں گے، رشتے مضبوط ہوں گے، ادارے مضبوط ہوں گے اور پورا معاشرہ مثبت سمت میں آگے بڑھے گا۔
یاد رکھیں: معاشرے کو بدلنے کا آغاز ہمیشہ اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے، وہ دوسروں کے لیے آسانی، رحمت اور امید کا سبب بنتا ہے، نہ کہ نفرت اور تقسیم کا۔
ا

02/08/2026

اللہ پر کامل بھروسہ: مومن کی سب سے بڑی قوت
تاریخِ انسانیت اس حقیقت کی گواہ ہے کہ خیر و شر، حق و باطل، اور ہدایت و گمراہی کے درمیان ہمیشہ ایک کشمکش رہی ہے۔ قرآنِ مجید واضح کرتا ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، اور اس کا مقصد انسان کو اللہ کی اطاعت سے ہٹانا، دلوں میں خوف، وسوسے، غرور، نفرت اور گمراہی پیدا کرنا ہے۔ اس کی سب سے پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ انسان اپنے رب پر بھروسہ کمزور کر دے اور اسے حق کے راستے سے ہٹا دے۔
لیکن ایک سچے مومن کی سب سے بڑی طاقت اس کا ایمان اور اپنے رب پر کامل توکل ہے۔ جب بندہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، ہر راز سے واقف ہے، اور اپنے بندوں کا بہترین محافظ ہے، تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کے دل سے سکون اور امید نہیں چھین سکتی۔
ہمیں یقین ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے لیے کافی ہے۔ ہم اپنے تحفظ، رزق، عزت اور کامیابی کے لیے کسی مخلوق پر مکمل انحصار نہیں کرتے، بلکہ اس ذات پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کائنات کو پیدا کیا، جو ہر لمحہ اپنے بندوں کی نگرانی کرتا ہے، اور جس کی قدرت کے سامنے ہر طاقت بے بس ہے۔
وہی اللہ ہے جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے دہکتی آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیا۔ وہی رب ہے جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات عطا کی اور سمندر میں ان کے لیے راستہ پیدا کیا۔ وہی اللہ ہے جس نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر قرآنِ مجید نازل فرمایا، جو قیامت تک انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور نور ہے۔ اسی رب نے ہر دور میں اپنے انبیاء کو ایسے معجزات عطا فرمائے جنہوں نے حق کو باطل پر غالب کر دکھایا۔
یہی ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا میں مشکلات، آزمائشیں اور برائی کی قوتیں ضرور موجود رہیں گی، لیکن ان کا مقابلہ خوف، نفرت یا مایوسی سے نہیں بلکہ ایمان، حکمت، صبر، عدل اور تقویٰ سے کیا جاتا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ اصل قوت ہتھیاروں، دولت یا اقتدار میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت میں ہے۔
قرآن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر انسان اللہ کو اپنا کارساز بنا لے تو وہی اس کے لیے کافی ہے۔ جو شخص اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے، اس کے دل میں یقین پیدا ہوتا ہے، اس کی سوچ میں استقامت آتی ہے، اور وہ ہر حال میں حق پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہے۔
آج کے دور میں بھی مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، قرآن و سنت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں، انصاف، سچائی اور اخلاقِ حسنہ کو اپنائیں، اور ہر مشکل میں اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کریں۔
اللہ تعالیٰ ہی ہمارا خالق، مالک، رازق، محافظ اور بہترین مددگار ہے۔ اسی پر ہمارا بھروسہ ہے، اسی سے ہماری امیدیں وابستہ ہیں، اور اسی کی رضا ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔
"اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔" (القرآن)

29/07/2026

"بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔"
سورۃ الحجرات، 49:13
یعنی انسان کی اصل فضیلت صرف اس کے علم، مال، عہدے یا طاقت میں نہیں، بلکہ تقویٰ، پرہیزگاری، نیک کردار اور دوسروں کو بھلائی کی دعوت دینے میں ہے۔ جو شخص خود نیکی اختیار کرے اور دوسروں کو بھی نیکی، تقویٰ اور خیر کی تلقین کرے، وہ معاشرے میں خیر کا ذریعہ بنتا ہے۔

27/07/2026

دورِ منافقت میں دوست اور دشمن کی پہچان

دورِ منافقت میں سب سے مشکل کام یہ جاننا ہے کہ کون دشمن ہے اور کون دوست۔ کیونکہ دشمن ہمیشہ تلوار لے کر سامنے نہیں آتا، اور ہر مسکراہٹ محبت کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات دشمن دوستی کے لباس میں قریب آتا ہے، جبکہ سچا دوست خاموش رہ کر بھی آپ کے حق میں کھڑا ہوتا ہے۔

منافقت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو حقیقت سے زیادہ ظاہری رویوں پر یقین کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ جو شخص سامنے تعریف کرے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کا خیرخواہ ہو؛ اور جو آپ کی غلطی پر آپ کو روک دے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کا دشمن ہو۔ حقیقی دوست وہ ہے جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کی عزت کی حفاظت کرے، اور منافق وہ ہے جو آپ کی موجودگی میں محبت اور غیر موجودگی میں مخالفت کرے۔

ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل پہچان اکثر اس وقت سامنے آتی ہے جب آپ کے پاس اختیار، دولت یا فائدہ نہ رہے۔ جو لوگ صرف فائدے کے وقت آپ کے قریب ہوں، وہ شاید آپ کے نہیں بلکہ آپ کے مفاد کے دوست ہیں۔ لیکن جو شخص آپ کے مشکل وقت میں بھی آپ کا ہاتھ تھامے، آپ کی عزت بچائے اور آپ کی غیر موجودگی میں آپ کا دفاع کرے، وہی حقیقی دوست ہونے کے زیادہ قریب ہے۔

یاد رکھیں، وقت سب سے بڑا پردہ اٹھانے والا ہے۔ آپ کو ہر شخص کا چہرہ پڑھنے کی ضرورت نہیں؛ بس وقت کو اپنا کام کرنے دیں۔ حالات بدلیں گے، مفادات بدلیں گے، اور پھر بہت سے چہرے خود بخود بےنقاب ہو جائیں گے۔

دشمن سے زیادہ خطرناک وہ شخص ہے جو آپ کو دشمن سے بچانے کا دعویٰ کرے، مگر اندر ہی اندر آپ کو کمزور کرتا رہے۔ اسی لیے زندگی میں لوگوں کے الفاظ سے زیادہ ان کے مسلسل اعمال، کردار اور رویے کو دیکھنا چاہیے۔

آخرکار ایک حقیقت ہمیشہ یاد رکھیں:

"منافقت کے دور میں ہر قریب آنے والا اپنا نہیں ہوتا، اور ہر دور رہنے والا بیگانہ نہیں ہوتا۔ بعض لوگ فاصلے پر رہ کر بھی دل کے قریب ہوتے ہیں، اور بعض قریب رہ کر بھی انسان کی زندگی کے سب سے بڑے دشمن بن جاتے ہیں۔"

اس لیے ہر مسکراہٹ پر یقین نہ کریں، ہر خاموشی کو دشمنی نہ سمجھیں، اور ہر تعریف کو محبت نہ جانیں۔ لوگوں کو ان کے دعووں سے نہیں، ان کے وقت، کردار اور مشکل گھڑی میں کیے گئے فیصلوں سے پہچانیں۔ کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ منافق کا چہرہ خود بولنے لگتا ہے، جبکہ سچے دوست کو اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے الفاظ کی ضرورت نہیں پڑتی۔

26/07/2026

جو چیز پسند ہو، ضروری نہیں کہ فائدہ مند بھی ہو

انسان کی فطرت ہے کہ وہ اکثر اُن چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے جو اسے خوشی، آسائش اور فوری لذت فراہم کرتی ہیں۔ لیکن زندگی کا ایک بڑا سچ یہ ہے کہ ہر پسندیدہ چیز انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی، اور ہر ناپسندیدہ چیز نقصان دہ نہیں ہوتی۔

کبھی انسان کو وہ راستہ پسند آتا ہے جس پر چلنا آسان ہو، مگر وہ اسے منزل سے دور لے جاتا ہے۔ کبھی اسے دولت، شہرت، خواہشات اور دنیاوی آسائشیں بہت پسند ہوتی ہیں، لیکن انہی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے وہ اپنا سکون، وقت اور رشتے کھو دیتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات انسان کسی ایسی چیز کو ناپسند کرتا ہے جو بظاہر مشکل اور تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر حقیقت میں وہی اس کی اصلاح، کامیابی اور بھلائی کا سبب بن جاتی ہے۔

زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ فیصلہ صرف اپنی خواہش کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقل، تجربے اور انجام کو دیکھ کر کرنا چاہیے۔ جو چیز ہمیں آج اچھی لگ رہی ہے، ضروری نہیں کہ کل بھی ہمارے حق میں اچھی ثابت ہو۔ اسی طرح جو مشکل آج ہمیں بری لگ رہی ہے، ممکن ہے وہی ہمارے مستقبل کی کامیابی کا راستہ بن جائے۔

اسی لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی خواہشات کا غلام بننے کے بجائے اپنی عقل اور ضمیر کی رہنمائی میں فیصلے کرے۔ کیونکہ حقیقی دانائی یہ نہیں کہ انسان ہر پسندیدہ چیز حاصل کر لے، بلکہ حقیقی دانائی یہ ہے کہ وہ پہچان سکے کہ اس کے لیے حقیقتاً کیا بہتر ہے۔

یاد رکھیں: ہر پسندیدہ چیز فائدہ مند نہیں ہوتی، اور ہر ناپسندیدہ چیز نقصان دہ نہیں ہوتی۔ بعض اوقات زندگی کی سب سے بڑی نعمت وہ ہوتی ہے جسے ہم ابتدا میں اپنی سب سے بڑی آزمائش سمجھتے ہیں۔

24/07/2026

تورات کے مطابق حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کی فرعون کے ظلم سے نجات کا واقعہ کتابِ خروج (Exodus) میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس روایت کا خلاصہ یہ ہے:

فرعون نے بنی اسرائیل کو مصر میں سخت غلامی اور مشقت میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اس نے ان پر بیگار مسلط کی اور بنی اسرائیل کے نومولود لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، کیونکہ اسے اندیشہ تھا کہ بنی اسرائیل کی تعداد اور طاقت بڑھ رہی ہے۔ کتابِ خروج کے مطابق، حضرت موسیٰؑ کو خدا نے بنی اسرائیل کی رہائی کے لیے منتخب کیا اور انہیں فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا۔

حضرت موسیٰؑ نے فرعون سے کہا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر کے جانے دو تاکہ وہ اپنے خدا کی عبادت کر سکیں، لیکن فرعون نے انکار کیا۔ اس کے بعد مصر پر مختلف آفات اور نشانیاں ظاہر ہوئیں۔ بالآخر فرعون نے بنی اسرائیل کو جانے کی اجازت دی، مگر پھر اپنا فیصلہ بدل کر اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔

تورات کے بیان کے مطابق، بنی اسرائیل سمندر کے سامنے پہنچ گئے اور پیچھے فرعون کا لشکر تھا۔ خدا کی مدد سے سمندر کا راستہ کھولا گیا، بنی اسرائیل گزر گئے، جبکہ فرعون اور اس کا لشکر ان کے تعاقب میں سمندر میں داخل ہوا اور غرق ہو گیا۔ اس طرح بنی اسرائیل فرعون کی غلامی سے آزاد ہوئے۔

تورات کے اس واقعے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ظلم و جبر ہمیشہ قائم نہیں رہتا، اور خدا مظلوموں کی مدد اور آزادی کا راستہ پیدا کر سکتا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کی قیادت میں بنی اسرائیل کی نجات کا واقعہ یہودی اور مسیحی روایت میں بھی ایک مرکزی تاریخی و مذہبی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔

24/07/2026

نفس، شیطان اور انسان کی آزمائش
بے شک ہر انسان، خصوصاً ایک مسلمان، یہ جانتا ہے کہ انسان کے سکون، خوشی، ایمان، غیرت اور ضمیر کا سب سے بڑا دشمن اس کا بے قابو نفس ہے۔ اور جب نفس خواہشات کا غلام بن جائے تو شیطان اسے بہکانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ وہ انسان کو گناہ کو خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے، چند لمحوں کی لذت کے بدلے اس کے دل کا سکون، ایمان کی مضبوطی اور کردار کی پاکیزگی چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں جنسی خواہش رکھی ہے، لیکن اسے پاکیزہ اور جائز راستہ بھی عطا فرمایا ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ اسی پاکیزہ نظام کا حصہ ہے، جس میں محبت، سکون، وفاداری، رحمت اور خاندان کی مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے۔ یہ رشتہ صرف جسمانی خواہش کی تکمیل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے سکون، محبت اور ذمہ داری کا ذریعہ بھی ہے۔
لیکن جب انسان چند لمحوں کی خواہش اور لذت کے لیے حرام راستے کا انتخاب کرتا ہے، تو وہ درحقیقت ایک عارضی خواہش کے بدلے بہت کچھ کھو دیتا ہے۔ وہ اپنے دل کا سکون، اپنی عزت، اپنی غیرت، اپنے ضمیر کی پاکیزگی اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو کمزور کر دیتا ہے۔ گناہ کے بعد خواہش تو ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کے اثرات انسان کے دل اور زندگی پر باقی رہ سکتے ہیں۔
زنا اسلام میں کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے، اور قرآن انسان کو واضح طور پر اس کے قریب جانے سے بھی روکتا ہے۔ اس لیے ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کو قابو میں رکھے، اپنی نگاہوں کی حفاظت کرے، اپنے دل کو پاک رکھے اور حرام سے بچنے کے لیے حلال راستہ اختیار کرے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہر وہ چیز جو ہمیں پسند آتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے لیے اچھی بھی ہو۔ انسان کا نفس اکثر اسے ایسی چیزوں کی طرف مائل کرتا ہے جو وقتی طور پر خوشی دیتی ہیں، لیکن بعد میں پچھتاوا، بے سکونی اور نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ اسی لیے عقل، ایمان اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہر خواہش کے پیچھے نہ چلے بلکہ خود سے پوچھے:
کیا یہ عمل میرے رب کو پسند ہے؟
کیا یہ میرے ایمان کے لیے بہتر ہے؟
کیا اس کے بعد میرا ضمیر مطمئن رہے گا؟
کیا میں اس عمل کو اپنے سامنے آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنا سکتا ہوں؟
انسان کو اپنے اردگرد موجود لوگوں کی زندگیوں سے بھی سبق سیکھنا چاہیے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ حرام خواہشات کے پیچھے چلنے والے لوگ آخرکار کس طرح ذہنی بے سکونی، خاندانی تباہی، رسوائی اور پچھتاوے کا شکار ہوتے ہیں، تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم بھی وہی راستہ کیوں اختیار کریں؟
اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان ہر خواہش پوری کر لے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر قابو پا لے۔ حقیقی بہادری یہ نہیں کہ انسان گناہ کرنے کی طاقت رکھتا ہو، بلکہ یہ ہے کہ موقع ہونے کے باوجود اللہ کے خوف اور اپنے ایمان کی خاطر گناہ سے رک جائے۔
یاد رکھو، شیطان انسان کو گناہ کی طرف بلاتا ہے، مگر فیصلہ انسان خود کرتا ہے۔ اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اللہ سے مدد مانگے، توبہ کا دروازہ کھٹکھٹائے اور پاکیزہ زندگی اختیار کرے۔
کیا ہم یہ نہیں سمجھتے کہ چند لمحوں کی لذت کے مقابلے میں دل کا سکون، ایمان کی روشنی، عزتِ نفس، پاکیزہ ضمیر اور اللہ کی رضا کہیں زیادہ قیمتی ہیں؟

21/07/2026

پاکستان کا سب سے بڑا خطرہ: طاقت کا غیر آئینی استعمال

میرا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ ریاستی طاقت کا سیاسی معاملات میں بڑھتا ہوا کردار ہے۔ جب کوئی ادارہ اپنے بنیادی آئینی دائرۂ کار سے باہر نکل کر سیاست، حکومت سازی، عدالتی معاملات اور ریاستی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے لگے تو اس سے نہ صرف جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔

پاکستان کی فوج کا بنیادی فریضہ ملکی دفاع اور قومی سلامتی ہے۔ اگر فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرے، سیاسی جماعتوں کے معاملات پر اثرانداز ہو یا ریاستی طاقت کے ذریعے اختلافِ رائے کو دبانے کا تاثر پیدا ہو، تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں بے چینی، نفرت اور احساسِ محرومی بڑھ سکتا ہے۔

میری نظر میں پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ بیرونی دشمن سے نہیں بلکہ اندرونی ناانصافی، سیاسی عدم استحکام، طاقت کے غیر متوازن استعمال اور آئین و قانون کی کمزوری سے ہے۔ اگر ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں واپس نہ آئے، سیاسی عمل آزاد اور شفاف نہ ہوا، اور عوام کو انصاف اور مساوی حقوق نہ ملے، تو یہ صورتحال ملک کے اتحاد کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان کو بچانے کے لیے کسی ادارے سے نفرت نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ، شفاف انتخابات، مضبوط پارلیمان اور حقیقی احتساب ضروری ہے۔ ملک کا مستقبل کسی ایک طاقتور ادارے کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے؛ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ پاکستان کے عوام اور ان کے آئینی اداروں کو کرنا چاہیے۔

طاقت وقتی طور پر خاموشی پیدا کر سکتی ہے، لیکن انصاف ہی پائیدار استحکام پیدا کرتا ہے۔ اگر انصاف کمزور ہوگا تو ریاست مضبوط نہیں رہ سکتی، اور اگر عوام کا اعتماد ختم ہو جائے تو کوئی بھی طاقت ملک کو دیرپا طور پر متحد نہیں رکھ سکتی۔

21/07/2026

ایمان صرف دعویٰ نہیں، کردار کا نام بھی ہے
جو لوگ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کو اپنے کردار اور اعمال سے بھی ثابت کریں۔ اسلام صرف زبان سے کلمہ پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو ماننے، حلال و حرام کی تمیز رکھنے، حقوق العباد ادا کرنے، ظلم سے بچنے اور اپنی زندگی کو شریعت کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کا نام بھی ہے۔
ایک مسلمان سے گناہ ہو سکتا ہے، اس سے کمزوری ہو سکتی ہے، وہ غلطی کر سکتا ہے؛ لیکن حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی کو پہچانے، اللہ کے سامنے توبہ کرے اور اپنے راستے کو درست کرنے کی کوشش کرے۔ کسی گناہ گار مسلمان کو فوراً منافق یا کافر قرار دینا درست نہیں، کیونکہ دلوں کا حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ظلم، خیانت، بے حیائی، بدعنوانی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے کو اپنا معمول بنا لے، اور اللہ کے احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر فخر کرے، تو معاشرے کو اس کے کردار پر سوال ضرور اٹھانا چاہیے۔ مسلمان معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائی کو برائی سمجھے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور نیکی، عدل اور اصلاح کو فروغ دے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا اصل دشمن کسی مذہب، قوم یا انسان کی شناخت نہیں، بلکہ ظلم، جہالت، فساد، خیانت اور باطل رویے ہیں۔ کسی ہندو، عیسائی یا دوسرے مذہب کے پیروکار کو صرف اس کے مذہب کی بنیاد پر برا کہنا اسلامی اخلاق نہیں؛ قرآن ہمیں عدل اور حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان کے گناہ اسے خود بخود اسلام سے خارج نہیں کر دیتے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں کس قسم کے انسانوں کو اپنا نمونہ بناتے ہیں؟ کیا ہم دیانت دار کو عزت دیتے ہیں یا طاقتور کو؟ کیا ہم سچ بولنے والے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا مفاد پرست کے ساتھ؟ کیا ہم ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں؟
اگر ہم واقعی کلمہ پڑھنے والے ہیں تو ہمیں اپنے ایمان کو اپنے عمل میں ظاہر کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے اندر سے منافقت، جھوٹ، ظلم، خیانت، تکبر اور نفسانی خواہشات کی غلامی کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمیں دوسروں کے ایمان کے فیصلے کرنے کے بجائے پہلے اپنے کردار کا محاسبہ کرنا ہوگا۔
ایک مضبوط مسلمان وہ ہے جو اللہ سے تعلق مضبوط کرے، نبی کریم ﷺ کی سنت کو اپنائے، گناہ سے بچے، غلطی ہو تو توبہ کرے، ظلم کے خلاف کھڑا ہو، حق کا ساتھ دے اور اپنے عمل سے اسلام کی خوبصورتی دنیا کے سامنے پیش کرے۔
اسلام ہمیں لوگوں کے دلوں کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے دل اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا سکھاتا ہے۔
پس ہمیں کسی کو محض اس کے گناہ کی وجہ سے کافر یا منافق قرار دینے کے بجائے اصلاح، نصیحت، عدل اور حکمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہی ایک ایسا راستہ ہے جو فرد کو بھی سنوارتا ہے، معاشرے کو بھی مضبوط کرتا ہے اور امت کو بھی حقیقی معنوں میں متحد کرتا ہے۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when True knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share