Archaeology Tiac QAU Rasheed 2017.5.14

Archaeology Tiac QAU Rasheed 2017.5.14 Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Archaeology Tiac QAU Rasheed 2017.5.14, Community College, Islamabad.

International museum Day
18/05/2026

International museum Day

یہ تصویر ہمارے قومی ہیرو اور اس محسن ملک🇵🇰🇵🇰🇵🇰 کی ہے جس کی وجہ سے آج ہم دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر بات کرتے ہیں یہ...
19/04/2026

یہ تصویر ہمارے قومی ہیرو اور اس محسن ملک🇵🇰🇵🇰🇵🇰 کی ہے جس کی وجہ سے آج ہم دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر بات کرتے ہیں یہ یاد گار تصویر ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کی اپنی فیملی کے ساتھ کسی زمانے میں بنائی گئی ایک اچھی اور شاندار تصاویر میں سے ایک تصویر ہے

ڈاکٹر عبد القدیر خان پیدائش 1 اپریل 1936ء - وفات 10 اکتوبر 2021ء پاکستانی سائسندان اور

پاکستانی ایٹم بم کے خالق تھے۔ مئی 1998ء کو آپ نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابلہ میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی۔ بالآخر وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دور میں آپ نے چاغی کے مقام پر چھ

کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کیے۔

اس موقع پر عبد القدیر خان نے پورے عالم کو پیغام دیا کہ ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ سعودی مفتی اعظم نے عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا اور پاکستان کے لیے خام حالت میں تیل مفت

فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔

اس کے بعد سے پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے خام تیل مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ مغربی دنیا نے پرپگینڈا کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جسے ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بخوشی قبول کر لیا۔ پرویز مشرف دور میں پاکستان پر لگنے والے ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹر عبد القدیر نے ملک

کی خاطر سینے سے لگایا اور نظر بند رہے۔
اللّٰہ کریم ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین 🤲
پاکستان زندہ باد 🇵🇰🇵🇰

⚠️ Disclaimer

This content is shared for informational and entertainment purposes only.

The intent of this post is to inform, educate, and entertain the audience, and it should not be taken as professional advice or encouragement of any activity shown.

We do not promote, support, or intend any harm, violence, or misuse through this content.

All viewers are advised to use their own judgment and understanding while engaging with this post.

This content is created in compliance with community guidelines and is not intended to violate any rules or regulations.

— Thank you

امریکیوں نے لاپتہ عملے کو ڈھونڈ نکالا اور بچا لیا، لیکن ایرانی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں پکڑ نہ سکے۔ اس کی کیا...
07/04/2026

امریکیوں نے لاپتہ عملے کو ڈھونڈ نکالا اور بچا لیا، لیکن ایرانی اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں پکڑ نہ سکے۔ اس کی کیا وجہ تھی؟
ایرانیوں کے لیے عملے کو تلاش کرنا 'بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے' کے برابر تھا، لیکن امریکیوں کو ان کے اصل مقام کا بخوبی علم تھا۔
جدید ترین ٹیکنالوجی اور GPS بیکن
امریکی پائلٹوں اور عملے کی جیکٹس میں جدید ترین سروائیول ریڈیو اور GPS بیکنز نصب ہوتے ہیں جن کا پتہ صرف امریکی سیٹلائٹ یا خصوصی طیارے ہی لگا سکتے ہیں۔ اگر عملے کی جگہ بدلتی بھی رہے، تب بھی یہ آلہ درست لوکیشن کی رپورٹ بھیجتا رہتا ہے۔ ایرانی شاید ایک وسیع علاقے میں تلاشی لے رہے تھے، لیکن امریکیوں کو ٹھیک ٹھیک معلوم تھا کہ ان کا سپاہی کس جھاڑی یا پہاڑ کی کس دراڑ میں چھپا ہوا ہے۔
یہ ایک انتہائی جدید اور فوجی معیار کا GPS ٹریکر ہے۔ اس کے کام کرنے کا طریقہ عام GPS سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور محفوظ ہے۔ اسے فوجی اصطلاح میں Combat Survivor Evader Locator (CSEL) یا بیکن کہا جاتا ہے۔
ہمارے فون کا GPS انٹرنیٹ پر مبنی ہوتا ہے، لیکن یہ فوجی بیکن براہ راست خلا میں موجود ایک خصوصی فوجی سیٹلائٹ سے جڑا ہوتا ہے۔ اسے کام کرنے کے لیے کسی ٹاور یا نیٹ ورک کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ زمین کے کسی بھی دور افتادہ صحرا یا پہاڑی کھائی سے سگنل بھیج سکتا ہے۔
ایرانی اسے کیوں نہیں پکڑ سکے؟
عام ٹریکر مسلسل سگنل بھیجتے ہیں جنہیں دشمن 'ریڈیو فریکوئنسی اسکینر' کے ذریعے آسانی سے پکڑ سکتا ہے۔ لیکن یہ بیکن 'برسٹ ٹرانسمیشن' (Burst Transmission) کے طریقے پر کام کرتا ہے۔ یعنی یہ سارا دن خاموش رہتا ہے اور صرف چند ملی سیکنڈز کے لیے سیٹلائٹ کو ڈیٹا کا ایک چھوٹا سا پیکٹ بھیجتا ہے۔ جب تک ایرانی اپنے سگنل ڈیٹیکٹر سے آسمان کو اسکین کرتے، سگنل بھیجنے کا عمل مکمل ہو چکا ہوتا! اسے LPI (Low Probability of Intercept) ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے۔
مزید برآں، اس بیکن سے منتقل ہونے والی معلومات AS-256 درجے کے ایک انتہائی مضبوط کوڈ کے ساتھ لاک ہوتی ہیں۔ اگر ایرانی کسی طرح سگنل پکڑ بھی لیتے، تب بھی انہیں وہاں سے صرف 'شور' یا 'جگ جگ' جیسی آوازیں سنائی دیتیں۔ ایرانی فوج کے پاس اس کوڈ کو توڑنے کے لیے مطلوبہ سپر کمپیوٹرز یا ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ امریکیوں کو اپنے لوگوں کا درست مقام معلوم تھا، جبکہ ایرانی صرف اندازے ہی لگاتے رہ گئے۔
فضائی برتری اور زمینی صورتحال
اس کے علاوہ، جب ایرانی فوج عملے کو پکڑنے کے لیے قافلے کی صورت میں پیش قدمی کر رہی تھی، تو امریکی A-10 طیاروں اور ڈرونز نے فضا سے ان پر مسلسل حملے کیے۔ اس کے نتیجے میں ایرانی چاہ کر بھی عملے تک نہ پہنچ سکے۔ اس 'ایئر سپورٹ' نے امریکہ کے لیے ایک بڑی طاقت کے طور پر کام کیا۔

"یوں ثابت ہوتا ہے کہ جدید جنگ دراصل ٹیکنالوجی کی جنگ ہے۔"

تاہم، ایرانی فوج نے بھی غیر متوقع مہارت دکھائی ہے۔ اس نے سات یا آٹھ امریکی طیارے اور ہیلی کاپٹر مار گرائے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ بالآخر ایران میں زمینی کارروائی کا منصوبہ منسوخ کر سکتے ہیں۔

🏰 مقبرہ جہانگیر: وہ مغل بادشاہ جن کی دو قبریں ہیں! 🕌✨کیا آپ جانتے ہیں کہ مغل شہنشاہ جہانگیر دنیا کے وہ واحد مسلم بادشاہ ...
03/04/2026

🏰 مقبرہ جہانگیر: وہ مغل بادشاہ جن کی دو قبریں ہیں! 🕌✨

کیا آپ جانتے ہیں کہ مغل شہنشاہ جہانگیر دنیا کے وہ واحد مسلم بادشاہ ہیں جن کی دو قبریں ہیں؟ ایک لاہور میں اور دوسری گجرات (پاکستان) میں۔ یہ ایک ایسی دلچسپ کہانی ہے جو تاریخ کے طالب علموں اور سیاحوں کو حیران کر دیتی ہے۔

🌟 اس شاہکار مقبرے کی خاص باتیں:

📖 دو قبروں کا راز – جب جہانگیر کشمیر سے واپسی پر وفات پا گئے، تو ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت کو لاہور لانا تھا۔ گرمی اور طویل سفر کی وجہ سے جسم کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کے اعضاء نکال کر گجرات کے قریب دفن کیے گئے (جو ان کی پہلی قبر کہلائی) اور ان کی جسدِ خاکی کو لاہور لا کر یہاں دفن کیا گیا۔
🌸 ملکہ نور جہاں کا فنِ تعمیر – یہ عالی شان مقبرہ ان کی 20 ویں بیگم، ملکہ نور جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔ اس میں ایرانی طرزِ تعمیر کی جھلک صاف نظر آتی ہے کیونکہ ملکہ کا تعلق ایران سے تھا۔
💎 سنگِ بادل اور قیمتی پتھر – یہاں کے فرش پر "سنگِ بادل" کا پیٹرن ہے، جس پر چل کر ایسا احساس ہوتا ہے جیسے آپ بادلوں پر چل رہے ہوں۔ یہاں استعمال ہونے والا تمام ماربل انڈیا کے علاقے جے پور سے لایا گیا تھا۔
🐝 ہنی کومب (Honey Comb) ڈیزائن – مقبرے کی جالیوں میں شہد کی مکھی کے چھتے جیسا پیٹرن بنایا گیا ہے، جس کی بیرونی سائیڈ بڑی اور اندرونی چھوٹی ہے تاکہ ہوا کا دباؤ قدرتی طور پر اندر کی طرف رہے اور مقبرہ ہوادار رہے۔
📜 99 صفاتی نام – بادشاہ کی قبر پر اللہ تعالیٰ کے 99 صفاتی نام اور قرآنی آیات انتہائی نفاست سے کندہ ہیں، جو آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔

💡 میرا پیغام:
لاہور میں اکبری سرائے کے ساتھ ہی یہ عظیم الشان مقبرہ موجود ہے، لیکن افسوس کہ یہاں بہت کم لوگ آتے ہیں۔ 400 سال پرانی یہ انجینئرنگ آج بھی عقل کو دنگ کر دیتی ہے۔ یہاں ضرور آئیں اور کسی گائیڈ کے ساتھ پھریں تاکہ آپ کو ایک ایک پتھر کی کہانی معلوم ہو سکے۔

💬 کیا آپ نے کبھی مقبرہ جہانگیر کی یہ پراسرار اور خوبصورت تاریخ سنی تھی؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں اور اس ویڈیو کو شیئر کریں! 👇

آبنائے ہرمز کس کے نام پر ہے؟|تحریر و تحقق : ابو الحسین آزاد|سوشل میڈیا کے موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ لکھنے والے لوگ...
29/03/2026

آبنائے ہرمز کس کے نام پر ہے؟

|تحریر و تحقق : ابو الحسین آزاد|

سوشل میڈیا کے موجودہ حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ لکھنے والے لوگوں نے اب پڑھنا اور تحقیق کرنا چھوڑ دیا ہے اور صرف کسٹمرز کی خواہش پہ تحریری آرڈر تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ اس کی تازہ مثال آبنائے ہُرمز کی وجۂ تسمیہ کا شوشہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مشہور عراقی حاکم ہُرمز کے نام پر ہے، جو ساسانی سلطنت کا ایک جرنیل تھا اور عربوں کے عراق پر پہلے حملے میں جنگِ ذات السلاسل میں حضرت خالد بن ولید کے ہاتھوں قتل ہوا۔ حالاں کہ آبنائے ہُرمز کا اُس ہُرمز سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہُرمز فارسی کا مشہور لفظ ہے۔ لغت نامہ دھخدا کے مطابق یہ خدا کا ایک نام ہے، زرتشتی خدائے واحد کو اہورامزدا کہتے تھے، اسی لفظ کی ایک تخفیف ہُرمز بھی ہے۔ نیز یہ لفظ خدا کے علاوہ نیک بختی کے ستارے مشتری، مہینے کے پہلے دن (جسے مبارک سمجھا جاتا) اور جمعرات کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ فارس میں جگہوں اور اشخاص کے ناموں میں یہ ہمیشہ استعمال ہوتا آیا ہے یہی وجہ ہے کہ ساسانی بادشاہوں کا مشہور و معروف نام رہا ہے۔ اسلام سے پہلے تیسری صدی عیسوی سے ساتویں صدی عیسوی تک ایران میں ہُرمز نام کے پانچ بادشاہ گزرے ہیں اور اُنہوں نے بھی اپنے ناموں پر بعض شہر آباد کیے۔ 'المحدث الفاصل' نامی اصولِ حدیث کی معروف کتاب لکھنے والے محدث، انہی بادشاہوں کے آباد کردہ ایرانی شہر رام ہُرمز کی نسبت سے 'رامہرمزی' کہلاتے ہیں۔

ہُرمز بن ماہان نامی مشہور صحابی بھی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشتۂ ولا کی بنا پر اہلِ بیت میں سے قرار دیا اور صدقہ لینے سے منع فرمایا۔ (دیکھیے: اسم ہرمز، اسد الغابہ از ابن اثیر اور الاصابہ از ابن حجر) بعد میں بھی یہ نام مسلمانوں میں رائج رہا اور حدیث کے بعض راویوں کا نام بھی ہُرمز ملتا ہے۔(دیکھیے تقریب التہذیب از ابن حجر)۔ ابن ہرمز کے لقب سے شہرت پانے والے ایک تابعی مدینہ کے معروف فقہاء میں سے ہوگزرے ہیں جو امام مالک کے اساتذہ میں سے تھے۔

اب آ جائیے آبنائے ہُرمز کی طرف، اس کے نام کے پیچھے ایک پوری عربی سلطنت کی تاریخ کھڑی ہے، جو آج تاریخ سے حرفِ غلط کی طرح مٹ چکی ہے۔ ایران کے جنوب میں موجودہ شہر میناب کے پاس ایک -ہُرمز' نام کی بندرگاہ تھی، جہاں سکندرِ اعظم بھی لنگر انداز ہوا تھا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق اِس نام کی قدامت کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے سائرسِ اعظم ہی کے زمانے سے یعنی 600 قبل مسیح سے ہُرمز کہا جاتا ہے، جب کہ دوسری روایت کے مطابق اسے ساسانی عہد میں پانچ ہُرمز نامی بادشاہوں کے عہد میں ہُرمز کہا جانے لگا۔ کیوں کہ تب یہ اہم تجارتی مرکز بن گیا تھا۔

ابن خرداذبہ تیسری صدی ہجری کا جغرافیہ دان ہے، تب سندھ تک پورا خطہ عربوں کے اقتدار میں تھا، اس نے تب بھی اس شہر کا نام ہرمز ہی ذکر کیا۔ ادریسی نے نزهة المشتاق میں ہرمز نام کے متعدد شہر گنوائے ہیں اور ساحلی ہرمز کا مفصل حال بیان کیا ہے۔
اسلامی فتوحات کے بعد بارہویں صدی عیسوی میں یہاں ایک عرب سردار نے سلطنت قائم کی، جو خلیج میں عمان، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت تک پھیل گئی۔ اس کا دارالحکومت یہی ہُرمز شہر تھا۔ یہ عربی سنی بادشاہت تھی جو تقریبا چار سو سال سے زیادہ عرصہ تک قائم رہی، اور تاریخ میں مملكة هرمز کے نام سے مشہور ہوئی اور اس کے بادشاہوں کو مُلوکِ ہُرمز کہا جاتا تھا۔

چودھویں صدی میں منگولوں کے حملوں کی وجہ سے اس ساحلی شہر ہُرمز کو چھوڑ کر آبادی آبنائے میں موجود جزیرے میں آباد ہو گئی اور اس جزیرے کا نام ہُرمز رکھ دیا۔ یہی جزیرہ ازاں بعد دارالحکومت بنا اور تاریخی، ثقافتی اور تجارتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ سولھویں صدی میں پرتگالی استعمار کے ہاتھوں سلاطینِ ہُرمز کی اس سلطنت کا خاتمہ ہوا۔ (دیکھیے ابراہیم بشمی کی کتاب: مملكة هرمز)

ہرمز کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دنیا اگر انگوٹھی ہے تو ہرمز اس کا نگینہ، مارکوپولو نے اپنے سفر نامے میں اسے مشرق کے تین اہم ترین خطوں میں شمار کیا۔ ہرمز کی فراوانی اور مال و دولت کے چرچے قرونِ وسطی کے یورپ میں اتنے مقبول تھے کہ جان ملٹن نے 'فردوسِ گم گشتہ' میں ہندوستان اور ہرمز کی دولت کو بطور ضرب المثال بیان کیا: The wealth of Ormus and of Ind
مکرر یاد دہانی کہ یہ ایک عربی سنی سلطنت تھی جس کا نام مملکتِ ہرمزیہ تھا، اور اس کے دارالحکومت کا نام ہُرمز تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے اس جزیرے میں موجود اس شہر کی ساری آبادی آج بھی سنی ہے اور عربی، بلوچی اور فارسی زبان بولتی ہے۔ اسی سلطنت اور اس کے مشہور شہر کی وجہ سے آبنائے ہُرمز کا نام ہُرمز پڑا۔ اس کا اُس ساسانی عراقی ہُرمز سے ایسے ہی کوئی تعلق نہیں جیسے عبدالرحمٰن الداخل کا عبد الرحمٰن بن ملجم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

برصغیر کے لوگوں کو دین تو اپنی سادہ عربی میں پسند نہیں آ سکا اور سیکڑوں سالوں کے تسلسل میں مسلسل اسے سناتنی رسوم سے رنگین کرتے رہے، حتی کہ ذات پات اور مطلقہ و بیوہ خواتین کے تاحیات تجرد جیسی غیر انسانی رسوم تک کو وسیع پیمانے پر قبول کر لیا اور آج تک ان کے اثر سے خود کو مکمل طور پر آزاد نہیں کر پائے لیکن انہیں علاقوں اور جگہوں کے ناموں کے ختنے کرنے کا شدید شوق ہے۔ ان کے خیال میں اعتقادی، اخلاقی اور سماجی سطح پر عہدِ جاہلیت کی مشرکانہ رسوم باقی رہیں تو اتنا مسئلہ نہیں ہے لیکن مٹی اور پتھروں میں ماضی کا کوئی نقش سلامت نہیں رہنا چاہیے، تاریخ کو مکمل سپاٹ بنا دیا جائے اور ماضی کو ہماری خواہش کے مطابق ڈھالا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بامیان میں بدھا کے ہزاروں سالہ پرانے یادگاری مجسمے گرنے پہ خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں اور مصر میں میوزیم کھلنے پہ سر پیٹتے ہیں۔بی جے پی کی طرح ان کی نظر میں علاقوں کے نام بدلنا بڑا کارنامہ ہوتا ہے، آپ بے شک آبنائے ہرمز کو کل سے آبنائے مادھو لال یا آبنائے ٹرمپ کہنا شروع کر دیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

⭕ ادارتی نوٹ: 'نوائے اوچ' میں یہ مواد صرف معلوماتی اور صحافتی نقطہء نظر سے پیش کیا گیا ہے۔ ہم کسی بھی قسم کے مذہبی، سیاسی، لسانی اور نسل پرستانہ ایجنڈے کی حمایت یا ترویج نہیں کرتے۔ 'نوائے اوچ' کی تمام خبریں اور نگارشات عوامی طور پر دستیاب مستند ذرائع کے حوالے سے قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

⭕ بااہتمام: نوائے اوچ میڈیا گروپ (رجسٹرڈ)
◾©️ Nawaeuch نوائے اوچ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

⭕ علمی و ادبی اقدار اور تاریخی روایات سے ہم آہنگ بامقصد نگارشات کی ترسیل کے لیے فیس بک پر 'نوائے اوچ' کے آفیشل صفحہ کو فالو کیجیے:
https://www.facebook.com/share/1DQWQrGiTW/
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

#نوائےاوچ

یہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ ایک اہم آبی گزرگاہ کا نام ایک ایسے فارسی کمانڈر “ہرمز” کے نام پر رکھا گیا، جسے تاریخ کے...
26/03/2026

یہ بات تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ ایک اہم آبی گزرگاہ کا نام ایک ایسے فارسی کمانڈر “ہرمز” کے نام پر رکھا گیا، جسے تاریخ کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک فردی مقابلے میں شکست دی—ایک ایسی شکست جس نے فارسی لشکر کو ذلت سے دوچار کیا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی پسپائی کا سبب بنی۔
تو کیا یہ عجیب نہیں کہ اس تاریخی مقابلے کے باوجود اس مقام کو حضرت خالد بن ولیدؓ کے نام سے منسوب نہیں کیا گیا؟

تفصیلی بیان:

فارسی لشکر کا سپہ سالار ہرمز اپنے گھوڑے پر سوار میدان میں نکلا اور مبارزت (دو بدو جنگ) کا مطالبہ کرتے ہوئے پکارا: “خالد کہاں ہے؟!”

یہ آواز سن کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی اپنے گھوڑے پر سوار میدان میں تشریف لائے تاکہ اس سرکش کے چیلنج کا جواب دیں۔

دونوں لشکروں کے قریب پہنچ کر—اور خاص طور پر فارسی فوج کے زیادہ قریب—یہ دونوں جرنیل آمنے سامنے ہوئے۔
ہرمز اپنے گھوڑے سے اترا اور حضرت خالدؓ کو اشارہ کیا کہ اگر تم واقعی بہادر ہو تو زمین پر اتر کر مقابلہ کرو۔

حضرت خالد بن ولیدؓ نے یہ چیلنج قبول کیا اور اپنے گھوڑے سے اتر آئے۔
ہرمز نے اپنے گھوڑے کو واپس لشکر کی طرف بھیج دیا، اور حضرت خالدؓ نے بھی یہی کیا۔

میدان میں ایک سنسنی خیز خاموشی طاری ہوگئی…
دونوں لشکر اضطراب اور بے چینی کے عالم میں یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
یہ ایک غیر معمولی موقع تھا کہ مسلمانوں کا سپہ سالار اور فارس کا عظیم کمانڈر آمنے سامنے تھے—ایسا منظر تاریخ میں ش*ذ و نادر ہی پیش آتا ہے۔

دونوں پیدل حالت میں لڑ رہے تھے، اور اس کا مطلب یہ تھا کہ اب واپسی یا فرار کا کوئی راستہ نہیں—یقیناً ان میں سے ایک کی موت مقدر تھی۔

چند ہی لمحوں میں حضرت خالدؓ نے ہرمز کے ساتھ گھمسان کا رَن باندھا اور اپنی غیر معمولی جنگی مہارت کا ایسا مظاہرہ کیا کہ خود ہرمز بھی حیران رہ گیا۔

کچھ ہی دیر بعد…
حضرت خالد بن ولیدؓ اپنے قدموں پر قائم تھے—اور ان کے ہاتھ میں تلوار تھی جو فارسی کمانڈر کے خون سے تر تھی۔

یہ منظر دیکھ کر فارسی لشکر پر سکتہ طاری ہوگیا، جبکہ مسلمانوں کے دل خوشی سے بھر گئے۔
ہرمز کی ہلاکت نے فارسیوں کو شدید صدمے میں ڈال دیا—کیونکہ وہ عربوں کو اپنی سلطنت، تہذیب اور عسکری قوت کے مقابلے میں حقیر سمجھتے تھے۔

مگر “سیفُ اللہ المسلول” نے انہیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا، فوراً عام حملے کا حکم صادر فرمایا۔

سپہ سالار کی ہلاکت اور تنظیم کے فقدان کے باعث فارسی لشکر زیادہ دیر ٹھہر نہ سکا۔
ان کی صفیں منتشر ہوگئیں، اور مسلمان ان کے درمیان گھس گئے، یہاں تک کہ انہیں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ عظیم معرکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں “کاظمہ” کے مقام پر پیش آیا، اسی نسبت سے اسے معرکۂ کاظمہ کہا جاتا ہے، اور فارسیوں کی طرف سے لشکر کو زنجیروں سے باندھنے کے سبب اسے معرکۂ ذات السلاسل بھی کہا جاتا ہے۔

یہ ہیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ—اور یہ تھا ان کا اندازِ جنگ۔
ایک ایسا سپہ سالار جس پر مسلمانوں کو بجا طور پر فخر ہے۔

پھر بھی… ایران نے اس گزرگاہ کا نام “مضیقِ ہرمز” رکھا؟!
منقول

اگر ایران انٹرنیٹ کیبل کاٹ دی تو اسکے نقصان کیا ہوسکتے ہیں اگر Iran جنگ کے دوران Strait of Hormuz کے قریب سمندر کے نیچے ...
16/03/2026

اگر ایران انٹرنیٹ کیبل کاٹ دی تو اسکے نقصان کیا ہوسکتے ہیں
اگر Iran جنگ کے دوران Strait of Hormuz کے قریب سمندر کے نیچے موجود انٹرنیٹ فائبر کیبل کو نشانہ بنا کر کاٹ دے تو اس کا اثر صرف ایک ملک پر نہیں بلکہ کئی ممالک پر پڑ سکتا ہے کیونکہ یہی راستہ خلیج کو ایشیا اور یورپ کے انٹرنیٹ نیٹ ورک سے جوڑتا ہے
اس صورت میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک United Arab Emirates Qatar، Bahrain Kuwait اور Oman شامل ہیں اس کے علاوہ Pakistan اور India کی بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک بھی ختم ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے کئی ڈیٹا راستے خلیجی سمندری کیبلز سے جڑے ہوئے ہیں

















ایران میں آباد مختلف قوموں میں فارسی، ترکمان، کرد، لُور، عرب اور بلوچ شامل ہیں اور ملک کے شمال مغربی حصے میں ترک بھی آبا...
07/03/2026

ایران میں آباد مختلف قوموں میں فارسی، ترکمان، کرد، لُور، عرب اور بلوچ شامل ہیں اور ملک کے شمال مغربی حصے میں ترک بھی آباد ہیں۔

پشاور کی طرف ضلع اسلام آباد کے آخری ریلوے سٹیشن سنگجانی پر نصب 145 سال پرانا ہینڈ پمپ۔ مسافر اس ہینڈ پمپ سے پانی پیتے تھ...
02/03/2026

پشاور کی طرف ضلع اسلام آباد کے آخری ریلوے سٹیشن سنگجانی پر نصب 145 سال پرانا ہینڈ پمپ۔
مسافر اس ہینڈ پمپ سے پانی پیتے تھے۔ یہ ہینڈ پمپ ایک کھوہی پر نصب ہے جو اوپر سے بند ہے۔
اب یہ ہینڈ پمپ استعمال میں نہیں۔ چلائیں تو چلتا تو ہے مگر پانی نہیں نکلتا۔
ریلوے سٹیشن پر پانی پینے کا متبادل نظام موجود ہے۔

From the Wall of M. Afsar Khan.

رئیل اسٹیت مافیا کھیت کھا گیا گاون کہ گاون کھا گیا، جنگل پہاڑ کھا گیا اور اب آثار قدیمہ بھی نہیں بچے۔ کونسی گالی ہے جو ب...
02/03/2026

رئیل اسٹیت مافیا کھیت کھا گیا گاون کہ گاون کھا گیا، جنگل پہاڑ کھا گیا اور اب آثار قدیمہ بھی نہیں بچے۔ کونسی گالی ہے جو بے شرموں کو لگے اور انکو شرم نہ سہی غصہ تو آئے۔ حکومت بلیک میل ہوتی ہے کیونکہ مفادات جڑے ہیں ورنہ یہ مافیا باقیو کو خرید کر عدم اعتماد بھی لانے کی طاقت رکھتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں آثارِ قدیمہ کے محکمے کی مخالفت کے باوجود پہلی جنگِ عظیم سے متعلق برطانوی یادگار مسمار کر دی گئی

شاهه خيرالدين جو مقبرو (1618ع)، پراڻو سکر، ضلعو شڪارپور، (سنڌ) 1896ع.​پراڻي سکر ۾ واقع هي مقبرو پنهنجي چمڪندڙ نيري رنگ ج...
31/01/2026

شاهه خيرالدين جو مقبرو (1618ع)،
پراڻو سکر، ضلعو شڪارپور، (سنڌ) 1896ع.
​پراڻي سکر ۾ واقع هي مقبرو پنهنجي چمڪندڙ نيري رنگ جي ڪاشي واري گنبد سبب آسپاس جي ٻين عمارتن کان نمايان نظر اچي ٿو. هن جو سهڻي نموني سينگاريل اوڀر وارو پاسو ۽ گنبد، اٽڪل پندرهن سال اڳ جي سنڌي ڪاريگرن (ڪنڀرن) جو فن آهي. هن ۾ رنگن جي چونڊ حيدرآباد ۾ موجود ٽالپرن جي مقبرن تي ٿيل ڪاشي جي ڪم واري نموني تي ڪئي وئي آهي.

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Archaeology Tiac QAU Rasheed 2017.5.14 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share