13/05/2026
🌿 سورة یونس (10:82)
وَيُحِقُّ اللهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ
ترجمہ: "اور اللہ اپنے کلمات کے ذریعے حق کو ثابت کر دیتا ہے، خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار گزرے۔"
---
✨ حق کبھی ختم نہیں ہوتا… اگرچہ وقتی طور پر دب جائے
یہ آیت صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کا واقعہ نہیں سناتی… 👉 بلکہ ہر دور کے اہلِ حق کو ایک اٹل حقیقت سمجھاتی ہے:
✔ باطل شور مچا سکتا ہے… ✔ دھوکہ دے سکتا ہے… ✔ وقتی غلبہ دکھا سکتا ہے…
لیکن: ❝ آخری فیصلہ ہمیشہ اللہ کے حق کے حق میں ہوتا ہے۔ ❞
🔹 “وَيُحِقُّ اللهُ الْحَقَّ” : اللہ خود حق کو غالب کرتا ہے
یہاں بہت بڑا سبق ہے:
اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ: “لوگ حق کو غالب کریں گے”
بلکہ فرمایا: ✔ “اللہ حق کو ثابت کرے گا”
👉 یعنی حق کی اصل طاقت: نہ تعداد میں ہے، نہ میڈیا میں، نہ طاقت میں، بلکہ اللہ کی نصرت میں ہے۔
🔹 “بِكَلِمٰتِهٖ” — اللہ کے کلمات کی طاقت
اللہ کا ایک حکم… اور بڑے بڑے نظام بدل جاتے ہیں۔
✔ سمندر راستہ دے دیتا ہے۔ ✔ آگ ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ ✔ لاٹھی اژدہا بن جاتی ہے۔ ✔ جادوگر سجدے میں گر جاتے ہیں۔ ✔ فرعون جیسی طاقت بے بس ہو جاتی ہے۔
👉 جب اللہ حق کے ساتھ ہو… تو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔
🔹 باطل ہمیشہ حقیقت سے زیادہ شور مچاتا ہے
فرعون نے: ✔ میدان سجایا ✔ جادوگر جمع کیے ✔ عوام کو متاثر کیا ✔ خوف پھیلایا
بظاہر ایسا لگ رہا تھا جیسے حق کمزور ہے۔
لیکن: ایک لمحے میں سب بدل گیا۔
👉 کیونکہ باطل کی بنیاد دھوکے پر ہوتی ہے… اور دھوکہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔
🔹 مجرمین کو حق کیوں ناپسند ہوتا ہے؟
“وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ”
حق صرف زبان سے نہیں ٹکراتا… بلکہ انسان کے غرور، خواہشات، ظلم، اور جھوٹے اقتدار سے ٹکراتا ہے۔
اسی لیے:
✔ فرعون کو موسیٰؑ ناپسند تھے۔ ✔ مشرکین کو قرآن ناپسند تھا۔ ✔ ظالموں کو عدل ناپسند ہوتا ہے۔ ✔ نفس کو سچائی بھاری لگتی ہے۔
👉 کیونکہ حق انسان کو بدلنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
🔹 کبھی کبھی انسان سچ پر ہوتے ہوئے بھی تنہا محسوس کرتا ہے۔
✔ جھوٹ زیادہ پھیل رہا ہوتا ہے ✔ غلط لوگ کامیاب دکھائی دیتے ہیں ✔ حق کمزور محسوس ہوتا ہے
تب یہ آیت دل کو سنبھالتی ہے:
✔ اللہ دیکھ رہا ہے۔ ✔ حق ضائع نہیں ہوگا۔ ✔ باطل کا انجام شکست ہے۔ ✔ اللہ اپنے وقت پر حق کو ظاہر کرے گا۔
👉 مومن جلد بازی نہیں کرتا… وہ اللہ کے وعدے پر یقین رکھتا ہے۔
🔹 موسیٰؑ کا معجزہ صرف لاٹھی کا نہیں تھا… یقین کا تھا
جادوگروں کا منظر خوفناک تھا۔ لوگ متاثر ہو گئے۔ حتیٰ کہ موسیٰؑ کے دل میں بھی لمحاتی خوف آیا۔
لیکن اللہ نے فرمایا:
❝ لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى ❞ “ڈرو نہیں، یقیناً تم ہی غالب رہو گے۔”
👉 جب بندہ اللہ پر یقین قائم رکھتا ہے… تو خوف کے میدان میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔
🔹 باطل کے پاس شور ہوتا ہے… حق کے پاس سکون
باطل: ✔ جلد بازی کرتا ہے ✔ جذبات بھڑکاتا ہے ✔ دھوکہ دیتا ہے
لیکن حق: ✔ واضح ہوتا ہے ✔ دل میں اترتا ہے ✔ فطرت سے ہم آہنگ ہوتا ہے ✔ آخرکار غالب آتا ہے
👉 اسی لیے قرآن بار بار کہتا ہے: باطل مٹنے والا ہے۔
🔹 یہ آیت صرف تاریخ نہیں… روزمرہ زندگی کا اصول ہے۔
✔ سچ بولنے والا وقتی نقصان اٹھا سکتا ہے ✔ دیانتدار آدمی آزمائش دیکھ سکتا ہے ✔ دین پر چلنے والا تنہا محسوس کر سکتا ہے
لیکن: اگر وہ حق پر قائم ہے… تو اللہ اس کے حق کو ضائع نہیں کرے گا۔
👉 مومن کا کام حق پر قائم رہنا ہے… نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
💡 ہم حق کے ساتھ کتنے مضبوط ہیں؟
✔ کیا ہم حق کو صرف آسان حالات میں قبول کرتے ہیں؟ ✔ کیا ہم لوگوں کے دباؤ سے سچ چھوڑ دیتے ہیں؟ ✔ کیا ہم وقتی فائدے کے لیے باطل کا ساتھ دیتے ہیں؟ ✔ کیا ہمیں اللہ کی نصرت پر واقعی یقین ہے؟
👉 ایمان کا اصل امتحان یہی ہے۔
🤲 اے اللہ! ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما، باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی بصیرت دے، ہمارے دلوں کو اپنے کلمات کے نور سے مضبوط فرما، اور ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرما جن کے ذریعے تو حق کو غالب فرماتا ہے۔ آمین
---
🌙 اپنا قرآن فہمی کا مقدس سفر ابھی شروع کیجیے۔ آسان اور مؤثر انداز میں۔ ان شاء اللہ!
آپ کیلنڈر کی تاریخوں اور اوقات کے مطابق اپنے قرآن کورس کا شیڈول چیک کر کے مفت داخلہ لے سکتے ہیں۔
📅 QC Course Calendar:
www.calendar.alfalahmanzil.net
مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے:
Alfalah Manzil Trust
الفلاح منزل ٹرسٹ، سٹریٹ نمبر 26، E-11/4، اسلام آباد، پاکستان
Tel: 051-8483394-5
WhatsApp: +92 332 8583210 / 0336 7777270
Islamic Community Center at Alfalah Manzil Trust | EZ Quran Study App