Govt Graduate College Kahuta

Govt Graduate College Kahuta Community Page about Govt Associate College Kahuta. ♥ Created On Jan 1, 2013 ♥
█║▌│█│║▌║││█║▌│║▌║
GDCK fac℮book Fan Pag℮ ©

13/04/2026
کالج کے سینئر ترین استاد پروفیسر حافظ عبدالصبور صاحب نے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ حرمین شریفین میں گزارا اور انوارات و...
22/03/2026

کالج کے سینئر ترین استاد پروفیسر حافظ عبدالصبور صاحب نے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ حرمین شریفین میں گزارا اور انوارات و تجلیات سمیٹ کر عید کے پُرمسرت موقع پر واپس تشریف لائے۔اللہ رب العزت ان کے اس سفر اور قیام کے لمحے لمحے کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ ایک عام آدمی اور عالم کے سفر اور عبادات میں فرق ہوتا ہے۔ عام آدمی کے پاس عقیدت اور محدود مشاہدہ ہوتا ہے۔ جب کہ ایک عالم اس پورے عمل میں ہمہ جہت طور پر شریک ہوتا ہے۔بہرحال، محترم حافظ صاحب اور ان کے صاحبزادے زین العابدین کو عمرہ اور عیدِ فطر کی دلی مبارک باد!

ہمارے تمہارے پیارے ندیمتحریر: حافظ حاشر، سال دوممیٹرک کرنے کے بعد پورے گھر کو میری ''اعلیٰ تعلیم'' کی فکر لاحق تھی۔ ہر و...
18/03/2026

ہمارے تمہارے پیارے ندیم
تحریر: حافظ حاشر، سال دوم

میٹرک کرنے کے بعد پورے گھر کو میری ''اعلیٰ تعلیم'' کی فکر لاحق تھی۔ ہر وقت میرے کالج میں داخلے کے تذکرے ہوتے رہتے تھے۔ میں بھی اپنے خیالوں میں خود کو کوہ قاف کا شہزادہ سمجھ کر کالج کے تصور میں کھو جاتا تھا۔ کالج کا نام آتے ہی عشق و مستی کی ذہن میں گھنٹیاں بجنا شروع ہو جاتی تھیں۔ اکثر دل ہی دل میں فلمی کہانیوں کے خطوط پر عشق کے کتنے ہی امتحان پاس کر لیتا تھا۔

پھر ایک دن میرے خوابوں کو تعبیر مل گئی اور میں نے گریجویٹ کالج میں قدم رکھا۔ ایک عالی شان عمارت، وسیع و عریض میدان، چاروں طرف درختوں کے جھنڈ اور ان درختوں کے بیچ جھانکتی ہوئی فلک بوس چوٹیاں... ہر طرف ہریالی اور پھولوں کے جلوے بکھرے ہوئے تھے۔ میں ایک لمحے کے لیے طلسماتی فضا میں کھو گیا۔

میری آنکھ اس وقت کھلی جب ایک گرج دار آواز میرے کانوں میں گونجی۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے ٹریک سوٹ میں ملبوس ایک پُررعب شخصیت مجھے گھور رہی تھی۔ جلدی سے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ کہیں میں کسی فوجی ٹریننگ سنٹر میں تو نہیں پہنچ گیا۔ انہوں نے مجھے پاؤں سے لے کر سر تک اپنی "الٹراساؤنڈ" نظروں سے دیکھا اور بولے، "صحیح سے تسمے باندھو!" مجھے شرمندگی ہوئی۔ معذرت کی لیکن خوف کے مارے اتنے سخت کر دیے کہ پاؤں میں درد شروع ہو گیا۔

خیر، ہم پھر کالج کی تعلیم میں غرق ہو گئے، مگر یہ شخصیت ہر وقت ہماری نظروں کے سامنے گھومتی رہتی تھی۔ اور یہ ہیں ہمارے کالج کے پیارے ندیم صاحب۔ ان کا عہدہ تو انگریزی میں "کیئر ٹیکر" کا تھا، لیکن ہم انہیں "پی ٹی صاحب" کہہ کر بلاتے تھے۔ ان کی سیٹی کی آواز سے ہمارے کانوں میں گونج پیدا ہو جاتی تھی۔ ان کی عمر تو پینتیس سال کے لگ بھگ تھی، مگر چال ڈھال میں جوانوں کو شرما دیتے تھے۔

"پی ٹی صاحب" کی خاص بات ان کی پھرتی ہے۔ آپ انہیں چھلاوا کہیں یا چیتا، یہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔ میں نے زندگی بھر اتنی پھرتیلی شخصیت نہیں دیکھی۔ بیک وقت یہ کالج کے مختلف مقامات پر دکھائی دیتے ہیں۔ آواز کہیں سے آتی ہے اور ظہور کہیں سے ہوتا ہے۔ یعنی یہ کالج کے خورشید ہیں، ادھر ڈوبے ادھر نکلے۔
"پی ٹی صاحب" کا نام ندیم ہے۔ یہ ہمارے تمہارے سب کے ندیم ہیں۔ ندیم صاحب غصے میں اکثر ایک جملہ بڑے پیار سے بولتے ہیں: "آپ نے میرا فوجی روپ نہیں دیکھا!" کالج میں ہر جگہ گھومنے والے بچے ان کے نشانے پر ہوتے ہیں۔ ڈگری بلاک کے قریب کھڑے طلبہ پر وہ بجلی بن کر گرتے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی طلبہ کوؤں کی طرح منتشر ہو جاتے ہیں۔ "ہسٹری" والے "کیمسٹری" کی کلاس میں جا گھس ہیں، اور کیمسٹری والے ہسٹری کے کلاس میں۔ میں نے بھی کئی مرتبہ "اسلامیات" کی جگہ "فزکس" کی کلاس پکڑ لی ہے، لیکن ندیم صاحب کی آواز اور شخصیت اتنی بھاری ہے کہ ان کے سامنے کچھ بھی کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اگر کسی طالبعلم نے غلطی سے درخت کی کوئی ٹہنی توڑ لی، تو ندیم صاحب اس پر پورے درخت کا مقدمہ درج کروا دیتے ہیں۔ پھول توڑنے پر پورے پودے کا مقدمہ اور کہیں کرسی ہل جائے تو سمجھو کرسی توڑنے کا مقدمہ درج ہو جاتا ہے۔

کالج کا مرکزی میدان کافی بڑا ہے۔ لیکن ندیم صاحب کے ہوتے ہوئے میدان میں جانا میدانِ جنگ سجانے کے برابر ہے۔ مجال ہے کہ کوئی ادھر کا رخ کرے۔ میدان کے آخری کونے پر جمع طلبہ کو ندیم صاحب جب کاشن دیتے ہیں ان کی آواز کی بازگشت پہاڑوں سے ٹکرا کر لوٹتی ہے۔

ندیم صاحب کا سب سے زیادہ "ریڈ" کنٹین پر ہوتا ہے، خاص طور پر اگر طلبہ سموسہ کھا رہے ہوں یا گانا گا رہے ہوں۔ ندیم صاحب ان پر فوراً "کیس" بنا دیتے ہیں۔ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ڈائری ہر وقت ان کی بغل میں ہوتی ہے اور اس میں کالج کے تمام اشتہاریوں کے نام پتے لکھے ہوئے ہیں۔

ان تمام سختیوں کے باوجود ندیم صاحب کالج کے تعلیمی عمل میں ایک جان دار کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی موجودگی نے ادارے کو ایک منظم اور مضبوط ماحول فراہم کیا ہے۔ اگر وہ سٹوڈنٹس کو ذرا محبت آمیز لہجے میں سمجھائیں تو وہ اور بھی قابلِ محبت ہو جائیں۔

کالج کے دن بچپن کی طرح ہوتے ہیں؛ بے ساختہ، جذباتی اور دل فریب۔ وقت گزر جاتا ہے، لیکن ان دنوں کی یادیں بادِ صبا کے کسی لط...
17/03/2026

کالج کے دن بچپن کی طرح ہوتے ہیں؛ بے ساختہ، جذباتی اور دل فریب۔ وقت گزر جاتا ہے، لیکن ان دنوں کی یادیں بادِ صبا کے کسی لطیف جھونکے کی طرح دل کو چھو جاتی ہیں۔ اور جب یہ یادیں جوش مارتی ہیں تو یار دوست ایک تصویر میں سمٹ جاتے ہیں۔

اس تصویر میں سیشن 2011ء کے کچھ ہر دلعزیز چہرے افطاری کے مقدس لمحات میں یکجا ہیں--مگر یہ محض ایک افطاری کا منظر نہیں، بلکہ طویل رفاقتوں کی داستان اور ایک بھرپور عہد کی یادگار ہے۔ ایسی یاد جس میں کلاس رومز کی رونق، راہداریوں کی چہل پہل، ہال کی رنگا رنگی اور میدان کی پیکار--سب کچھ سمٹ آیا ہے۔

گویا یہ تصویر ایک تسلسل ہے--یادوں، جذبوں اور وقت کے بے آواز سفر کا۔ البتہ اس تصویر کو دیکھ کر خیال ان مانوس چہروں کی طرف لوٹ جاتا ہے جو اس میں موجود نہیں ہیں۔ خدا کرے کہ جو جہاں ہے، سلامت ہو۔ آمین۔ (تصویر کے لیے راجہ ندیم رؤوف ایڈووکیٹ کا شکریہ )

15/03/2026

Online Lectures - GGCK

14/03/2026

Ghalib GGC Kahuta

Address

Kahuta

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:30
Wednesday 08:00 - 14:30
Thursday 08:00 - 02:30
Friday 08:00 - 02:30

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt Graduate College Kahuta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Govt Graduate College Kahuta:

Share