Imtiaz ahmed al snidi

Imtiaz ahmed al snidi رئيس قسم التخصص في اللغة العربية بجامعة عمر كراتشي، ونائب رئيس رابطة علماء السند، محقق، وكاتب.

15/05/2026

ترقی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ؟

ایک حکایت ہے کہ ایک بِلّا چوہوں کے ایک گاؤں پر مسلط ہو گیا تھا۔
وہ ہر روز اُن میں سے دس سے زیادہ چوہوں کو ہلاک کر ڈالتا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ چوہوں کی پوری بستی اُس کے پنجۂ ظلم سے نیست و نابود ہو جاتی۔
ایک دن چوہوں نے موقع غنیمت جانا۔ بِلّا اپنی محبوبہ بِلّی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو چوہوں نے آپس میں ایک میٹنگ منعقد کی، کہ کس طرح اس آفت سے نجات کی کوئی صورت نکالی جائے۔
اسی دوران ایک بوڑھا چوہا کھڑا ہوا، جسے تمام چوہے "حکیم" کے لقب سے پکارتے تھے۔ اس نے کہا:
"یہ بِلّا ہمیشہ ہم پر اچانک حملہ آور ہوتا ہے، اسی لیے اس کے پاس برتری کا وہ ہتھیار ہے جسے غفلت اور حیرت کہتے ہیں۔
نجات کی ایک ہی صورت ہے: ہمیں پہلے سے معلوم ہو جائے کہ وہ کب حملہ کرنے والا ہے۔ اور میں نے اس کے لیے ایک تدبیر سوچ لی ہے!"
سب چوہے یک زبان ہو کر بولے:
"اے دانائے قوم! وہ تدبیر کیا ہے؟"
حکیم نے کہا:
"یہ ایک گھنٹی ہے جو ایک ڈوری کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ ہمیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرنا کہ تم میں سے کوئی ایک، جب بِلّا سو رہا ہو، یہ گھنٹی اس کی گردن میں باندھ دے۔
پھر جونہی وہ بیدار ہو گا، گھنٹی بج اٹھے گی، اور ہم فوراً جان لیں گے کہ وہ کس سمت سے آ رہا ہے اور کب ہماری بستی کے قریب پہنچنے والا ہے۔"
حکیم کی اس تدبیر نے تمام چوہوں کو بہت پسند آئی، مگر اب اصل مرحلہ عمل درآمد کا تھا۔
حکیم جب بھی کسی چوہے کی طرف دیکھتا کہ اسے یہ خدمت سونپے، ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی عذر موجود ہوتا۔
ایک چوہا بولا:
"میں دوڑنے میں بہت سست ہوں؛ اگر میں گیا تو بِلّا یقیناً مجھے کھا جائے گا!"
دوسرا بولا:
"میری نگاہ بہت کمزور ہے، میں تو بِلّے کی گردن میں ڈوری باندھ ہی نہیں سکتا!"
اور تیسرے نے کہا: میں بہت بیمار ہوں!
یوں یہ منصوبہ محض منصوبہ ہی بنا رہا، یہاں تک کہ بلے نے چوہوں کی پوری بستی نیست و نابود کر دی۔
کہا جاتا ہے: مقصد اگر منصوبے سے خالی ہو تو محض ایک آرزو رہ جاتا ہے!
اور میں کہتا ہوں: منصوبہ اگر جرأتِ عمل سے محروم ہو تو وہ کاغذ پر کھڑی ایک ایسی عمارت ہے جو رہنے کے قابل نہیں۔
یا ایک ایسی کشتی کا نقشہ، جو سمندر میں اترنے کے لائق نہیں!
اکثر ہمیں منصوبوں کی کمی نہیں ہوتی۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، مگر ہم کرتے نہیں۔
اسی لیے ہم وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔

د. أدهم شرقاوي۔
ترجمہ: امتیاز احمد سندھی۔

14/05/2026

میرے لال! تُو مجھ سے دور جا کر کہاں جائے گا؟

ابن القيم نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "مدارج السالكين" میں ایک نہایت دل گداز واقعہ نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک راستے میں ایک دروازہ دیکھا جو کھلا ہوا تھا۔ اُس میں سے ایک چھوٹا سا بچہ روتا، سسکتا اور فریاد کرتا ہوا نکلا، جبکہ اُس کی ماں اُس کے پیچھے اُسے دھکے دے کر باہر نکال رہی تھی۔ یہاں تک کہ جب وہ دروازے سے باہر آگیا تو اُس نے دروازہ اُس کے منہ پر بند کر دیا اور خود اندر چلی گئی۔
وہ معصوم بچہ کچھ دور گیا، پھر ٹھٹھک کر کھڑا ہو گیا۔ سوچنے لگا کہ اب کہاں جائے؟ کون سا در ایسا ہے جو اُسے اپنی آغوش میں لے لے؟ آخرکار اُسے اُس گھر کے سوا کوئی پناہ گاہ نظر نہ آئی جہاں سے اُسے نکالا گیا تھا۔ چنانچہ وہ شکستہ دل، غمزدہ اور ندامت سے بوجھل قدموں کے ساتھ واپس لوٹا۔
آ کر دیکھا تو دروازہ بند تھا۔ وہ خاموشی سے دہلیز کے پاس بیٹھ گیا، یہاں تک کہ نیند نے اُسے اپنی آغوش میں لے لیا۔
کچھ دیر بعد اُس کی ماں باہر نکلی۔ جب اُس کی نگاہ اپنے ننھے بچے پر پڑی، جو دہلیز پر بےیار و مددگار سویا ہوا تھا، تو اُس کے دل کا بندھن ٹوٹ گیا۔ ممتا جوش میں آ گئی۔ وہ دوڑ کر اُس پر جھک گئی، اُسے سینے سے لگا لیا، بوسے دینے لگی، اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ پھر رندھی ہوئی آواز میں بولی:
“میرے لال! تُو مجھ سے دور جا کر کہاں جائے گا؟ میرے سوا تجھے کون پناہ دے گا؟ کیا میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر، اور مجھے مجبور نہ کر کہ تیری خطاؤں کے باعث اُس شفقت کے خلاف قدم اٹھاؤں جس پر میری فطرت میں بھر دی گئی ہے، اُس رحمت کے خلاف جو تیرے لیے میرے دل میں رکھی گئی ہے، اور اُس خیر خواہی کے خلاف جو میں تیرے لیے چاہتی ہوں؟”
پھر اُس نے اُسے اٹھایا، اپنے سینے سے لگایا، اور گھر کے اندر لے گئی۔
اللہ تعالیٰ کی شان تو سب سے بلند ہے، اُس کی صفات سب سے اعلیٰ ہیں۔ اُس کے ساتھ ہمارا حال بھی اُس بچے جیسا ہے جو اپنی ماں کے سامنے بےبس کھڑا ہو۔ اُس کے سوا ہمارے لیے کوئی در نہیں، اگر اُس کا در بند ہو جائے تو اپنی تمام وسعتوں کے باوجود یہ زمین ہم پر تنگ ہو جائے، اور ہمارے قدم کسی دوسری سمت کا راستہ نہ پہچان سکیں۔

د. أدهم الشرقاوي
ترجمہ: امتیاز احمد السندی

إنا لله و إنا إليه راجعون ایک ستارہ تھا جو کہکشاں ہو گیا۔ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے استاذ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس ...
05/05/2026

إنا لله و إنا إليه راجعون

ایک ستارہ تھا جو کہکشاں ہو گیا۔
جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے استاذ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس ترنگزئی صاحب قاتلانہ حملے میں شہید۔

انسانیت کے قاتل ظالموں نے حق کی ایک اور آواز کو خاموش کر دیا۔

دل کی تہہ میں کبھی ایک ایسا درد بھی ہوتا ہے جو بیان سے باہر ہوتا ہے—وہ کہا نہیں جاتا، صرف محسوس ہی کیا جاتا ہے… اور بس م...
19/04/2026

دل کی تہہ میں کبھی ایک ایسا درد بھی ہوتا ہے جو بیان سے باہر ہوتا ہے—
وہ کہا نہیں جاتا، صرف محسوس ہی کیا جاتا ہے… اور بس محسوس ہی کیا جاتا ہے!

ہر موسم کیلئے بہترین تحفہ حسان آن لائن شہد سینٹر کی طرف سے پیش خدمت ہے بلکل فریش اور چھوٹی مکھی کا خالص جھنگلی شہد سو فی...
16/04/2026

ہر موسم کیلئے بہترین تحفہ

حسان آن لائن شہد سینٹر کی طرف سے پیش خدمت ہے بلکل فریش اور چھوٹی مکھی کا خالص جھنگلی شہد سو فیصد گارنٹی کے ساتھ انتہائی مناسب قیمت پر۔

کسی بھی لیبارٹری سے چیک کرائیں اگر فارمی بھی ثابت ہو جائے تو ڈبل قیمت ہم سے لے لیں۔
کلو اور آدھا کلو کی پیکنگ میں دستیاب ہے۔
خواہشمند حضرات نیچے دیے گئے واٹسپ نمبر پر رابطہ کریں:
03034516206
پروپرائیٹر: امتیاز احمد السندی
استاذ جامعہ عمر کراچی
امام وخطیب جامع مکی مسجد زکریا گوٹھ کراچی

04/04/2026

ہمارے سیاست دان کس طرح عوام کو بیوقوف بناتے ہیں:
136 روپے کا اضافہ کرکے 80 روپے واپس لے لیا گیا، اور 56 روپے برقرار رکھا گیا، اور وہ بھی صرف ایک مہینے کیلئے۔

29/03/2026

(ولَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِـعَ مِلَّتَهُمْؕ)
إن في هذه الآية الكريمة درس عظيم للحكام المسلمين، ولكل من يتدبر القرآن.

لقاء ماتع مع بعض تلامذتي في إحدى المقاهي بمدينة سكهر اليوم.
25/03/2026

لقاء ماتع مع بعض تلامذتي في إحدى المقاهي بمدينة سكهر اليوم.

22/03/2026

أتقدم إليكم بالتهاني العاطرة والتبريكات الغامرة بمناسبة حلول عيد الفطر المبارك، عيدكم مبارك وكل عام وأنتم بألف خير وصحة وسلامة.
تقبل الله منا ومنكم صيام رمضان وقيامه وصالح الأعمال.

امتياز أحمد السندي
المدرس بجامعة عمر كراتشي.

گھر کا بنا ہوا اچار بنا دے آپکی افطاری کو مزید مزے دارحسان آن لائن اسٹور نام ہے کوالٹی کا۔ حسان آن لائن اسٹور کی جانب سے...
21/02/2026

گھر کا بنا ہوا اچار بنا دے آپکی افطاری کو مزید مزے دار

حسان آن لائن اسٹور نام ہے کوالٹی کا۔
حسان آن لائن اسٹور کی جانب سے پیش خدمت ہے بہترین اور عمدہ ذائقہ کے ساتھ مختلف تازہ پھلوں اور سبزیوں سے بنا ہوا گھر کا لا جواب اچار جو بنا دے آپکی افطاری کو اور بھی مزہ دار۔
جلدی آئیں جلدی پائیں۔
ہمارے اس پروڈکٹ میں شامل ہے:
1- مکس اچار: 800 گرام، قیمت: صرف 300 روپے۔
2- آم کا اچار: 800 گرام، قیمت: صرف 300 روپے۔
3- سبز مرچ کا اچار: 400 گرام، قیمت: صرف دو سو روپے۔
4- بھے کی سبزی کا اچار: 400 گرام، قیمت: صرف 400 روپے۔

پروپرائیٹر: امتیاز احمد السندی
استاذ جامعہ عمر کراچی۔
امام وخطیب جامع مکی مسجد، زکریا گوٹھ کراچی۔

Address

Karachi Lines

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imtiaz ahmed al snidi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Imtiaz ahmed al snidi:

Share