15/05/2026
ترقی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ؟
ایک حکایت ہے کہ ایک بِلّا چوہوں کے ایک گاؤں پر مسلط ہو گیا تھا۔
وہ ہر روز اُن میں سے دس سے زیادہ چوہوں کو ہلاک کر ڈالتا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ چوہوں کی پوری بستی اُس کے پنجۂ ظلم سے نیست و نابود ہو جاتی۔
ایک دن چوہوں نے موقع غنیمت جانا۔ بِلّا اپنی محبوبہ بِلّی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو چوہوں نے آپس میں ایک میٹنگ منعقد کی، کہ کس طرح اس آفت سے نجات کی کوئی صورت نکالی جائے۔
اسی دوران ایک بوڑھا چوہا کھڑا ہوا، جسے تمام چوہے "حکیم" کے لقب سے پکارتے تھے۔ اس نے کہا:
"یہ بِلّا ہمیشہ ہم پر اچانک حملہ آور ہوتا ہے، اسی لیے اس کے پاس برتری کا وہ ہتھیار ہے جسے غفلت اور حیرت کہتے ہیں۔
نجات کی ایک ہی صورت ہے: ہمیں پہلے سے معلوم ہو جائے کہ وہ کب حملہ کرنے والا ہے۔ اور میں نے اس کے لیے ایک تدبیر سوچ لی ہے!"
سب چوہے یک زبان ہو کر بولے:
"اے دانائے قوم! وہ تدبیر کیا ہے؟"
حکیم نے کہا:
"یہ ایک گھنٹی ہے جو ایک ڈوری کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ ہمیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرنا کہ تم میں سے کوئی ایک، جب بِلّا سو رہا ہو، یہ گھنٹی اس کی گردن میں باندھ دے۔
پھر جونہی وہ بیدار ہو گا، گھنٹی بج اٹھے گی، اور ہم فوراً جان لیں گے کہ وہ کس سمت سے آ رہا ہے اور کب ہماری بستی کے قریب پہنچنے والا ہے۔"
حکیم کی اس تدبیر نے تمام چوہوں کو بہت پسند آئی، مگر اب اصل مرحلہ عمل درآمد کا تھا۔
حکیم جب بھی کسی چوہے کی طرف دیکھتا کہ اسے یہ خدمت سونپے، ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی عذر موجود ہوتا۔
ایک چوہا بولا:
"میں دوڑنے میں بہت سست ہوں؛ اگر میں گیا تو بِلّا یقیناً مجھے کھا جائے گا!"
دوسرا بولا:
"میری نگاہ بہت کمزور ہے، میں تو بِلّے کی گردن میں ڈوری باندھ ہی نہیں سکتا!"
اور تیسرے نے کہا: میں بہت بیمار ہوں!
یوں یہ منصوبہ محض منصوبہ ہی بنا رہا، یہاں تک کہ بلے نے چوہوں کی پوری بستی نیست و نابود کر دی۔
کہا جاتا ہے: مقصد اگر منصوبے سے خالی ہو تو محض ایک آرزو رہ جاتا ہے!
اور میں کہتا ہوں: منصوبہ اگر جرأتِ عمل سے محروم ہو تو وہ کاغذ پر کھڑی ایک ایسی عمارت ہے جو رہنے کے قابل نہیں۔
یا ایک ایسی کشتی کا نقشہ، جو سمندر میں اترنے کے لائق نہیں!
اکثر ہمیں منصوبوں کی کمی نہیں ہوتی۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، مگر ہم کرتے نہیں۔
اسی لیے ہم وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔
د. أدهم شرقاوي۔
ترجمہ: امتیاز احمد سندھی۔