KMU IHS KOHAT

KMU IHS KOHAT KMU IHS KOHAT

30/08/2025
05/06/2024
😭😭😡😡😡💔🥺🥺
05/06/2024

😭😭😡😡😡💔🥺🥺

01/04/2024

‏مر کے اپنی ہی اداؤں پہ اَمر ہو جاؤں
اُن کی دہلیز کے قابل میں اگر ہو جاؤں

اُن کی راہوں پہ مجھے اتنا چلانا یارب
کہ سفر کرتے ہوئے گردِ سفر ہو جاؤں

اِس قدر عشقِ نبی ہو کہ مٹا دوں خود کو
اِس قدر خوفِ خدا ہو کہ نڈر ہو جاؤں

جو پہنچتی رہے اُن تک جو رہے محوِ طواف
ایسی آواز بنوں، ایسی نظر ہو جاؤں

آرزو اب تو مظفر تو جو کوئی ہے تو یہ ہے
جتنا باقی ہوں مدینے میں بسر ہو جاؤں
مظفر وارثی

31/03/2024
30/03/2024

21 رمضان المبارک
یومِ شہادت
خلیفہ چہارم داماد پیغمبر ص ، شمشیر زن صحابی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہعبدالرؤف چوہدریسیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ کا شم...
29/03/2024

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ
عبدالرؤف چوہدری

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ کا شمار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جرنیل صحابہؓ میں ہوتا ہے۔ حضرت خالد بن ولید کی ہی ذات گرامی ہے جن کو آقا نام دار صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سیف من سیوف اللہ“ یعنی اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار قرار دیا، جس کی بدولت آپ رضی اللہ عنہ ”سیف اللہ“ کے لقب سے مشہور ہوئے۔

حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کبار اصحاب میں اکثر کے قبولِ اسلام کے واقعات بڑے عجیب ہیں۔ بعینہ اسی طرح سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا ایمان قبول کرنے کا واقعہ بھی بڑا حیرت انگیز ہے، اور سوچنے کے قابل ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو کس طرح اس کے دل میں نورِ ایمان کی شمع روشن فرما دیتے ہیں۔ چنانچہ جس طرح حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے کے بعد کفار کے پنجوں میں پنجہ ڈال کر مروڑا اسی طرح قبل از اسلام ان کی اور ان کے والد ولید کی اسلام دشمنی بھی ضرب المثل تھی، لیکن جب اللہ نے ہدایت عطا کی تو کیا سے کیا بن گئے۔ آئیے! سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے معلوم کرتے ہیں کہ ان کے دل میں اسلام کی روشنی کیسے آئی اور ان کے قبول اسلام کی وجہ کیا بنی۔

چنانچہ سیدنا خالد بن ولید فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ خیر کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی۔ یکا یک میرے دل میں یہ خیال آیا کہ جس لڑائی میں بھی قریش مکہ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں جاتا ہوں واپسی پر میرا دل مجھ سے مخاطب ہوکر کہہ رہا ہوتا ہے، اے خالد! تیری یہ تمام کوشش لاحاصل اور بے سود ہے، اور تحقیق محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور غالب آ کے رہیں گے۔

چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر میں قریش مکہ کے سواروں میں سے تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام عسفان میں مسلمانوں کو ”صلوۃ الخوف“ پڑھاتے دیکھا، میرے دل میں خیال آیا کہ بڑا اچھا موقع ہے مجھے حملہ کر دینا چاہیے، لیکن میرے حملہ کرنے سے قبل ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ارادے سے واقف ہوگئے اور میں حملہ نہ کر سکا تو اسی وقت میں سمجھ گیا کہ یہ شخص من جانب اللہ مامون ومحفوظ ہیں، غیب سے ان کی حفاظت کی جارہی ہے۔ چنانچہ میں حدیبیہ سے ناکام واپس ہوگیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش سے جب صلح کر کے واپس ہوئے تو میں نے سوچا کہ قریش کی شان وشوکت ختم ہوچکی ہے اور شاہِ حبشہ نجاشی بھی آپ کا پیروکار ہوچکا ہے اور ہجرت کرنے والے آپ کے اصحاب وہاں پُرسکون زندگی بسر کر رہے ہیں، ایسی صورت میں شاہ روم ہرقل کے پاس چلا جانا چاہیے اور وہاں یہودی یا نصرانی مذہب قبول کر لینا چاہیے اور عجم کے طابع ہوکر غیب کی زندگی بسر کرنی چاہیے یا اپنے ہی وطن میں رہ کر دیکھوں کہ پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئندہ سال ”عمرۃ القضاء“ کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع پاکر میں مکہ سے باہر ”روپوش“ ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمرہ سے فارغ ہوگئے تو میرے بھائی ”ولید بن ولید“ (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا) نے مجھے ڈھونڈا مگر میں نہ ملا، بعد ازاں اس نے میرے نام ایک خط لکھا۔ خط کا مضمون درج ذیل تھا:

”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اما بعد! میں نے اس سے زیادہ تعجب خیز کوئی امر نہیں دیکھا کہ تیری رائے اسلام جیسے پاکیزہ مذہب کے قبول کرنے سے کیوں منحرف ہے، حالانکہ تیری عقل، تیری عقل ہے۔ (جو مشہور و معروف ہے) اور اسلام جیسے پاکیزہ مذہب سے کسی کا بے خبر رہنا تعجب خیز ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا حال دریافت کیا تھا کہ خالد کہاں ہے؟ میں نے کہا یارسول اللہ! عنقریب اللہ تعالیٰ اس کو لے کر آئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تعجب ہے اس جیسا عاقل اسلام جیسے پاکیزہ مذہب سے بےخبر و نادان ہوجائے، اور فرمایا کہ اگر خالد دین اسلام میں داخل ہوکر اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر دین حق کی مدد کرتا تو یہ اس کے لیے بہتر ہوتا اور ہم اس کو دوسروں پر مقدم رکھتے۔ پس اے بھائی! تجھ سے جو عمدہ مقامات فوت ہوگئے ہیں تو ان کی تلافی اور تدارک کر لے کہ ابھی وقت ہے۔“

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میرے بھائی کا خط میرے پاس پہنچا تو اس نے میرے دل میں اسلام کے لیے اور رغبت پیدا کر دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے جو کچھ فرمایا اس نے مجھے خوش کر دیا۔ اسی اثنا میں میں نے ایک خواب دیکھا۔ وہ خواب یہ تھا کہ: ”میں ایک تنگ شہر میں ہوں جہاں قحط پڑا ہوا ہے، میں اس تنگ شہر سے نکل کر سر سبز و شاداب علاقے میں چلا گیا۔“ بیدار ہوا تو میں سمجھ گیا یہ ایک خاص خواب ہے جو میری تنبیہ کے لیے دکھایا گیا ہے۔

میں مکہ مکرمہ آیا اور اسباب سفر مہیا کر کے مدینہ منورہ کی طرف چلنے کا ارادہ کیا تو میں نے چاہا کہ کوئی اور بھی میرے ساتھ ہوجائے، چنانچہ میں نے صفوان بن امیہ سے ملاقات کی اور کہا کیا تم دیکھتے نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرب وعجم پر غلبہ پالیا ہے، اگر ہم ان کے پاس جائیں اور ان کی اتباع کریں تو یہ ہمارے لیے بہتر ہوگا، محمد کا شرف ہمارا شرف ہوگا۔ صفوان نے میری بات سن کر سختی سے انکار کر دیا۔ اور کہا زمین پر موجود سبھی لوگ محمد کے تابع ہوجائیں، صرف میں ہی بچ جاؤں تب بھی اس کی اتباع نہیں کروں گا۔ خالد فرماتے ہیں میں نے سوچا اس کا باپ اور بھائی بدر میں مارے گئے تھے اس لیے اس سے کوئی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کے بعد میں عکرمہ بن ابی جہل کے پاس گیا، ساری بات کی تو اس نے بھی وہی جواب دیا جو صفوان نے دیا تھا۔

سیدنا خالد بن ولید فرماتے ہیں میں اپنے گھر گیا اونٹنی کو تیار کیا اور سوچا ایک دفعہ ”عثمان بن طلحہ“ سے بات کر لیتا ہوں وہ میرا سچا دوست ہے۔ لیکن مجھے اس کے باپ داد کے قتل ہونے کا خیال آیا، سوچنے لگا بات کروں یا نہ کروں، بالآخر یہی فیصلہ کیا کہ بات کرنے میں کیا تردد ہے۔ چنانچہ میں نے عثمان سے بات کی، تو عثمان نے میرے مشورے کو قبول کیا کہ میں بھی مدینہ چلتا ہوں لیکن ہم مکہ سے علیحدہ علیحدہ نکلیں گے اور ”مقام یاءجج“ میں ہماری ملاقات ہوگی۔ جو پہلے پہنچ جائے گا وہ دوسرے کا انتظار کرے گا۔

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم مکہ مکرمہ سے روانہ ہوگئے اور حسب وعدہ مقام یاءجج میں عثمان بن طلحہ مجھے مل گئے، ہم علی الصبح وہاں سے روانہ ہوئے، جب مقام ھدہ میں پہنچے تو وہاں عمرو بن عاص سے ملاقات ہوئی، وہ بھی مدینہ جارہے تھے، انہوں نے ہمیں مرحبا کہا، ہم نے ان کو مرحبا کہا۔ جانے کی غرض معلوم کی تو پتہ چلا وہ بھی اسلام قبول کرنے کی غرض سے مدینہ جارہے ہیں۔ یوں دو عظیم جرنیل اور سپہ سالار ایک غرض کے لیے آپس میں مل گئے۔

ہم تینوں مل کر روانہ ہوئے اور مدینہ پہنچ کر مقام حرہ میں اپنی سواریاں بٹھلائیں۔ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہماری آمد کی خبر دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ مسرور ہوئے اور فرمایا ”مکہ نے اپنے جگر گوشوں کو پھینک دیا ہے۔“ سیدنا خالد کہتے ہیں حرہ میں میں نے عمدہ لباس پہنا اور آپ کی خدمت میں حاضری کے لیے چلا تو راستے میں مجھے میرا بھائی ولید ملا اور کہا جلدی چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آمد کی اطلاع ہوچکی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ مسرور ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے منتظر ہیں۔ ہم تیز قدموں سے چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے۔ میں نے کہا السلام علیک یارسول اللہ! آپ نے نہایت خندہ پیشانی سے جواب دیا، میں نے عرض کی ”اشہد الا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قریب ہوجاؤ۔ میں قریب ہوا تو فرمایا حمد ہے اس پاک ذات کی جس نے آپ کو اسلام کی توفیق دی۔ میں دیکھتا تھا کہ آپ میں عقل ہے اور وہ عقل خیر اور بھلائی کی طرف رہنمائی کرے گی۔

قبول اسلام کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے سابقہ زندگی بالخصوص مقابلے میں آنے کی شرمندگی اور ندامت کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ لیکن سیدنا خالد بن ولید کے اصرار پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا مغفرت فرمائی۔

28/03/2024

17 رمضان المبارک
یومِ وفات حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

13/03/2024

"تحریر کی سب سے قیمتی بات (موجودہ) تعلیم کا سب سے پہلا وار انسان کی بنیادی صفت شجاعت پر ہوتا ہے"

پرانی بات ہے ، اس وقت میں نشتر میڈیکل کالج کا طالبعلم تھا۔ ایک دن ملتان سے تونسہ کی بس میں بیٹھا ۔ راستے میں ایک بابا کھجور کا ٹوکرا لیے بس میں سوار ہوا ، تین کالج کے لڑکے اس کے ٹوکرے سے کھجور اٹھا اٹھا کر کھانے لگے بابے نے منع کیا اور وہ نہیں مانے۔ وہ کہتا رہا کہ یہ میری روزی روٹی ہے ۔ میں دل میں تلملاتا رہا مگر پھر سوچا کہ بس میں اتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں کوئی تو لازمی روکے گا ۔ میں نے پیچھے دیکھا تو اکثر لوگوں نے اخبار اپنے آگے تان لیا تھا اور کچھ لوگ کھڑکی سے باہر دیکھنے کی اداکاری کر رہے تھے۔اتنے میں پیچھے سے ایک آواز آئی " استاد جی گڈی روک ایک مستری نما آدمی اپنی سیٹ پر کھڑا ہو گیا تھا . وہ آگے آیا اور ان لڑکوں کو گریبان سے پکڑ کر بس سے نیچے اتارا اور اپنی سیٹ پر واپس جا کر سگریٹ کے کش لگانے لگا۔ اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ تعلیم کا پہلا وار انسان کی بنیادی صفت شجاعت پر ہوتا ہے ۔ پھر جب میں عملی زندگی میں آیا تو اس بات کی تصدیق بھی ہو گئی ایمرجنسی میں کسی انجان زخمی کو لانے والے پروفیسر ، ڈاکٹر ، وکیل یا دانشور نہیں ہوتے تھے بلکہ یہی نیم خوانده کمزور طبقات والے لوگ ہوتے تھے ۔ مجھے جب بھی کسی لاوارث مریض کے لیے خون کی ضرورت ہوتی ، تب بھی یہی " لونڈے لپاٹے " مدد کے لئے آتے۔

معاشرے کا مکروہ چہرہ ۔۔۔۔۔۔
ایک ڈاکٹر کی وال سے
کاپی

19/02/2024

برّصغیر میں پچیس صحابہ کرام کا فیض!!

خطّۂ برّصغیر میں رسول اللہ ﷺ کے پچیس صحابہ کرام تشریف لائے۔ بارہ حضرت عمر فاروق کے عہد میں، پانچ حضرت عثمان کے عصرِ خلافت میں، تین حضرت علی کے دورِ امارات میں، چار حضرت معاویہ کے ایّامِ حکومت میں اور ایک امیر یزید بن معاویہ کے زمانۂ حکمرانی میں۔

ــــــــــــــــ 💐 عہدِ فاروقی 💐 ـــــــــــــ

۱ـ عثمان بن ابوالعاص ثقفی: بلادِ ہند میں تین جنگیں لڑیں۔

۲ـ حَکَم بن ابوالعاص ثقفی: گجرات میں بندرگاہ تھانہ اور بھڑوچ فتح کیے۔

۳ـ مُغیرہ بن ابوالعاص ثقفی: صوبہ سندھ کا شہر دیبل فتح کیا۔

٤ـ ربیع بن زیاد حارثی مذحجی: کرمان و مکران میں جہاد کیا۔

۵ـ حَکَم بن محمد بن عمرو بن مجدع ثعلبی غِفاری: مکران میں تگ و تاز جہاد کی۔

٦ـ عبداللہ بن عبداللہ بن عُتبان انصاری: فتحِ مکران میں شامل ہوئے۔

۷ـ سہل بن عدی بن مالک خزرجی انصاری: جنگِ مکران میں شرکت کی۔

۸ـ شہاب بن مخارق بن شہاب تمیمی: فتحِ مکران میں حصّہ لیا۔

۹ـ صحار بن عباس عبدی: جنگِ مکران میں شریک ہوئے۔

۱۰ـ عاصم بن عمرو تمیمی: سندھ اور سجستان کے علاقے فتح کیے۔

۱۱ـ عبداللہ بن عمیر اَشجعی: بعض بلادِ سندھ اُن کی کمان میں فتح ہوئے۔

۱۲ـ نَسیر بن وَیْسم بن ثور عَجَلی: بلوچستان کا کچھ علاقہ ان کی کوشش سے فتح ہوا۔

ـــــــــــــــ 🌺 عہد عثمانی 🌺 ـــــــــــــــ

۱۳ـ حُکیم بن جَبلہ اسدی: برّصغیر کے اوّلین سیّاح۔

١٤ـ عبیداللہ بن مَعمر بن عثمان قرشی تمیمی: مکران کے والی مقرر ہوئے۔

۱۵ـ عمیر بن سعد: کچھ عرصہ ولایتِ مکران ان کے سُپرد رہی۔

١٦ـ مُجاشع بن مسعود بن ثعلبہ سَلمی: فتحِ بلوچستان میں شرکت کی۔

۱۷ـ عبدالرحمٰن بن سَمُرہ بن حبیب قرشی تمیمی: ارضِ ہند کے بعض علاقوں پر فتح کے جھنڈے گاڑے۔

ـــــــــــــــــ 🌸 عہدِ علوی 🌸 ــــــــــــــــ

۱۸ـ خریت بن راشد ناجی سامی: سندھ و مکران میں تشریف لائے۔

۱۹ـ عبیداللہ بن سُوید تمیمی شقری: غروۂ سندھ میں شریک ہوئے۔

۲۰ـ کُلیب ابو وائل: سرزمینِ ہند میں قدم رنجہ فرمایا۔

ــــــــــــــــ 🌼 عہدِ معاویہ 🌼 ـــــــــــــــ

۲۱ـ مُہلّب بن ابو صفرہ ازدی عتکی: سندھ، بنّوں اور کوہاٹ تک پیش قدمی کی۔

۲۲ـ عبداللہ بن سوّار بن ہُمام عبدی: غزواتِ ہند میں شریک ہوئے۔

۲۳ـ یاسر بن سوّار بن ہُمام عبدی: جنگِ قلات میں شریک ہوئے۔

٢٤ـ سِنان بن سلمہ بن مُحبق ہُذلی: ارضِ ہند کے مفتوحہ علاقوں کے والی اور گورنر مقرر ہوئے۔

ــــــــــــــــــ 🍀 دورِ یزید 🍀 ـــــــــــــــــ

۲۵ـ منذر بن جارود عبدی: جنگِ یوقان و قلات میں شریک ہوئے۔

( معروف مؤرخ و اسکالر محمد اسحاق بھٹّی کی کتاب "برّصغیر میں اِسلام کے اَوّلین نقوش" سے اقتباس )

17/01/2024

اسرائیل کو دھمکیاں اور پاکستان پر حملہ ابھی تو ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ بھی کیا کہ مرنے والے اسرائیلی لوگ تھے مطلب اسرائیل سے مراد پاکستان تھا؟؟؟

Address

Kohat

Opening Hours

Monday 08:30 - 14:30
Tuesday 08:30 - 14:30
Wednesday 08:30 - 14:30
Thursday 08:30 - 14:30
Friday 08:30 - 11:30

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KMU IHS KOHAT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to KMU IHS KOHAT:

Share