During 4 year we teach the student as below
In First year with 3 practical
anatomy, physiology, Hygine, History of Tibb ,Matirea madica, Al qanoon fe Tibb
In Second year with 3 practical
anatomy, physiology,,Matirea madica, Al qanoon fe Tibb ,Pharmacy,Therapeutic
In Third year with 2 practical
Therapeutic, pathology, Jurisprudenc& toxicology, Diagnosis. Ganny,Clinic
In fourth year with 2 practic
a l
Therapeutic,Clinic,Female & Pediatric Disease, Psychology, Infectious Disease, Miner Surgery.
تعارفی کلمات
ارشاد باری تعالی ہے یوتی الحکمتہ من یشاء ج ومن یوت الحکمتہ فقد اوتی خیرا کثیرا ط(ترجمہ) وہ جسے چاہے اسے حکمت دے ودانائی دیتا ہے ۔اور جس کو حکمت دی جاتی ہے وہ ایسا ہے جسے بہت زیاہ بھلائی عطا کی گئی ہو
حدیث نبویﷺْہے العلم علمان علم الابدان وعلم الادیان
ترجمہ) علم دو ہی ہیں بدن کا علم اوردین کا علم)
طب یونانی کی ابتداء
طب یونانی فطری طریقہ علاج ہے اس کی ابتدا یونان کی زرخیز سرزمین سے ہوئی جہاں سقراط، بقراط، افلاطون اور جالینوس جیسی عظیم ہستیوں نے اس فن کی آبیاری کی۔ بابل،نینوا، مصر، یونان، روم، ایران اور شام سے ہوتا ہوا یہ فن خطہ عرب میں پہنچا جہاں اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔
مسلمانوں کی خدمات
اسلام کی آمد کے بعد مسلمانوں نے کتاب اللہ اور ارشاد نبویؐ سے رہنمائی حاصل کر کے اس فن کو بام عروج پر پہنچایا چنانچہ اسی نسبت سے یہ طب اسلامی سے موسوم ہوا عباسی خلفاء کے دور میں طب میں مزید ترقی ہوئی اور بغداد میں جڑی بوٹیوں پر باقاعدہ تحقیق کا آغاز ہوا۔ بیمارستان (ہسپتال) کھلنے لگے ۔ بو علی سینا، ابوبکر زکریا رازی، ابو قاسم زاہروی، جابر بن حیان، علی بن ابن طبری، ابن رشد اور نجیب ثمرقندی جیسے عظیم اطباء نے اپنی ذہانت تدبر اور تجربات کو اپنی قوت تحریر سے ضخیم کتابوں میں محفوظ کر کے آنے والی نسلوں کو فکر و عمل کی دعوت دی اس عظیم علمی سرمائے سے صرف مسلمانوں نے ہی نہیں بلکہ اہل یورپ نے بھی خوب استفادہ کیا۔ ان
کتابوں کے قلمی نسخے آج بھی یورپ کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔
برصغیر پاک و ہند میں طب کا فروغ
برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے وقت یہاں آیورویدک طریقہ علاج رائج تھا۔ مسلمانوں نے ہندوستان کی قدیم دانش سے استفادہ کر کے طب اسلامی کے دامن کو مزید وسیع کیا مغلوں کے عہد میں طب برصغیر کے گوشے گوشے میں پہنچ گئی۔ اٹھارہویں صدی کے بعد جب مسلمانوں کو زوال آیا تو انگریز حاکموں نے ایلوپیتھی کوفروغ دینے کے لیے 1910ء میں طب کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ کیا تاکہ یہاں کے محکوم لوگ ہر شعبہ زندگی میں ان کے محتاج بن کر رہ جائیں اس دور میں نامور اطباء اپنے آباؤ اجداد کے فن کو بچانے کیلئے حکیم محمد اجمل خان کی قیادت میں میدان عمل میں نکل آئے اور ملک گیر تحریک چلا کر انگریزوں کو غلط قانون واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے طب یونانی کے فروغ کے لئے دہلی طبیہ کالج کی بنیاد رکھی جو برصغیر میں طبی تعلیم و تربیت کی اولین درسگاہ تھی۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ طب کے سرگرم حامی تھے۔ 1927ء میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ دیسی طب کی سرپرستی کرے کیونکہ طب اسلامی کی حیثیت مسلمہ ہے اور یہ طب مغرب کے ہم پایہ ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 1945ء میں طبیہ کالج دہلی میں خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم پاکستان میں طب سمیت تمام اسلامی علوم و فنون کو فروغ دیں گے۔ حکیم محمد حسن قرشی، حکیم نبی خان جمال سویدا، شہید پاکستان حکیم محمد سعید اور دیگر اکابرین نے پاکستان میں طب اسلامی کے فروغ کا بیڑہ اٹھایا اور ان کی شبانہ روز کوششوں سے یونانی اینڈ آیور ویدک ایکٹ 1965ء کا نفاذ عمل میں آیا جس کے تحت طبی تعلیمی ادارے، ہسپتال شفاخانے قائم کرنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی۔
پاکستان میں طب کا روشن مستقبل
طب یونانی اب صرف پاکستان، ایران، بھارت، نیپال، سری لنکا تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ امریکہ، روس، چین اور یورپی ملکوں میں اس فن پر مسلسل تحقیق ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں نئے نئے انکشافات منظر عام پر آرہے ہیں۔ اس فطری طریقہ علاج سے کینسر ،ایڈز جیسے پیچیدہ اور خطرناک امراض کے علاج میں بھی بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے مغربی ملک اب طب یونانی کو سائنس کا درجہ دیتے ہیں عالمی ادارہ صحت (W.H.O) نے اس طریقہ علاج کو تسلیم کرتے ہوئے دنیا بھر میں اسے رائج کرنے کی اجازت دی ہے۔ پاکستان میں ادویاتی جڑی بوٹیوں پر جو تحقیقی کام ہو رہا ہے اس کے نتائج سے اہل مغرب بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں اس سلسلے میں نیشنل ہیلتھ لیبارٹری اسلام آباد، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، ہمدرد یونیورسٹی کراچی،بہاولپور یونیورسٹی، قرشی ہربل ریسرچ سنٹر ، اوردواخانہ حکیم اجمل خان سمیت ملک کے دیگر اداروں میں تحقیق کے جدید اور سائنسی طریقے اختیار کئے گئے ہیں۔ طب یونانی فوائد سے بھرپور اور مضر اثرات سے پاک ہے۔ یہ طریقہ علاج پاکستانی عوام کے مزاج کے قریب تر ہے۔ ملک کی 80 فیصد آبادی بالخصوص دیہی علاقوں کے لوگ اسی طریقہ علاج کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ پاکستان میں طب اسلامی(یونانی) کا مستقبل بڑا روشن اور تابناک ہے۔اس کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ملک کی نامور یونیورسٹیوں نے طب فیکلیٹزکو قائم کردیا ہے اور اب وہاں ڈگری اور ماسٹر کورسسز کروائے جارہے ہیں۔ اطباء کرام کی اہمیت روز بروز بڑھ رہی ہے سرکاری ہسپتالوں شفاء خانوں اور نیم سرکاری اداروں میں انہیں ملازمت کے مواقع حاصل ہیں۔ ملک کے بیشتر سرکاری محکموں کے ملازمین کو گورنمنٹ کی ہدایات کے مطابق طب سے استفادہ کی باقاعدہ طور پر اجازت حاصل ہے۔ اٹامک انرجی کمیشن،زرعی ترقیاتی بینک، سٹیٹ بنک، سٹیٹ لائف، سوئی ناردرن گیس، نیشنل بینک آف پاکستان، پاک عرب فرٹیلائزر سمیت وفاقی ‘ صوبائی اور ضلعی محکموں کے ملازمین اس سہولت سے خاطر خواہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
گریک طبی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اسلامک یونانی میڈیکل کالج کا قیام
لاہور دور قدیم میں طب یونانی کا اہم مرکز رہا ہے یہاں کئی شہرہ آفاق اور تاریخ سازاطباء نے جنم لیا اس حوالے سے یہ شہر طب یونانی کا امین ہونے کا شرف رکھتا ہے۔ اس علاقے کی تقریبا ایک کروڑکی آبادی ایک عرصے سے اس بات کی متقاضی تھی کہ یہاں معیاری طبی درسگاہ قائم کی جائے۔گریک طبی ایسوسی ایشن کے قیام کا مقصد فروغ تعلیم طب ہے ۔ گریک طبی ایسوسی ایشن کے بانی اور صدر، ہر دلعزیز سماجی شخصیت اور طب کے کہنہ مشق استاد محترم پروفیسر حکیم محمد سجادزخمی نے لاہور میں معیاری طبیہ کالج کے قیام کا چیلنج قبول کرتے ہوئے 1994ء میں اسلامک یونانی میڈیکل کالج قائم کیا۔ جس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان نے 23نومبر 1994کو بذریعہ لیٹر نمبر F.7.14/IUMCجاری کیا اسلامک یونانی میڈیکل کالج کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں پاکستان کے تمام صوبوں کے علاوہ قبائلی علاقوں اور آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے طلباء بھی زیر تعلیم ہیں۔ کالج 3/4سوک سنٹر ‘ لیاقت چوک ‘سبزہ زار سکیم لاہور میں ایک جدید اور عالی شان بلڈنگ میں قائم ہے یہاں انتہائی پرسکون ماحول موجود ہے۔ الحمد للہ اسلامک یونانی میڈیکل کالج مختصر عرصہ میں ہی پاکستان کے صف اول کی طبی درسگاہ کی حیثیت اختیار کر گیاہے۔
محمد پرنسپل پروفیسر حکیم سجاد
بانی صدر گریک طبی ایسوسی ایشن
انتظامات
کالج کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے گریک طبی ایسوسی ایشن کی طرف سے گورننگ باڈی کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے۔
جس کے صدر بانی کالج پروفیسر حکیم محمد سجاد ہیں ۔
ایڈمنسٹریٹو سٹاف
اکاؤٹنٹ محمد جاویدمغل
ہیڈکلرک عمر دراز
قاصد محمد افتخار
خاکروب /مالی نذیر احمد
چوکیدار محمد اصٖغر
معاون تدریسی سٹاف
لیڈی طبیبہ فریحہ اشتیاق
لیبارٹری انچارج ڈاکٹر محمد عمر ایم بی بی ایس
لائبریر ین حکیم محمد حنیف
انچارج دواسازی حکیم یسین احمد خاں
تعلیمی سٹاف ۔ حکیم محمد سجاد پرنسپل B.A. فاضل طب والجراحت
حکیم غلام عباس وائس پرنسپل F.A. فاضل طب والجراحت
حکیم محمد نذیر گوندل پروفیسر Zabda فاضل طب والجراحت
حکیم مخدوم ارشاد پروفیسر FTJ فاضل طب والجراحت
حکیم محمد حنیف پروفیسر FTJ فاضل طب والجراحت
حکیم محمد عبداللہ پروفیسر FTJ فاضل طب والجراحت
حکیم امتیاز محموداسسٹنٹ پروفیسر B.A.فاضل طب والجراحت
حکیم یاسین احمد خان اسسٹنٹ پروفیسر FTJ فاضل طب والجراحت
طبیبہ فریحہ اشتیاق اسسٹنٹ پروفیسر FTJ فاضل طب والجراحت
حکیم نعیم پرویز صابر لیکچرار اعزازی F.A فاضل طب والجراحت
حکیم شیخ عبدالرحمن لیکچرار اعزازی F.A فاضل طب والجراحت
حکیم مبشر احمد بسرا لیکچرار اعزازی FTJ فاضل طب والجراحت
فاضل طب والجراحت حکیم قاری نذیر احمد لیکچرار اعزازی
حکیم محمد عالم لیکچرار اعزازی M.A.فاضل طب والجراحت
حکیم ملک امیر احمد لیکچرار اعزازی B.E.M.S.B.A.فاضل طب والجراحت
حکیم سلیم اختر لیکچرار اعزازی F.A. طبیب رجسٹرڈ
ادارہ کی امتیازی خصوصیات
صف اول کا ادارہ کالج کا شمار ملک کے صف اول کے طبی اداروں میں ہوتا ہے ملک بھر سے طلباء یہاں داخلہ لیتے ہے۔
طب یونانی کا فروغ ادارے کے قیام کا مقصد ملک میں طب یونانی کے فروغ اور مسیح الملک حکیم محمداجمل خان حکیم محمد سعید شھید،حکیم رشید اشرف ندوی کے عظیم طبی مشن کو آگے بڑھانا ہے۔
پرسکون تعلیمی ماحول کالج کی جدید طرز تعمیرکی حامل عمارتLDA لاہور کی سبزہ زار سکیم 3/4سوک سنٹر ‘ لیاقت چوک میں جہاں ہر طرح کے شور و غل سے پاک انتہائی پر سکون تعلیمی ماحول موجود ہے۔
تجربہ کار سٹاف کالج کا سٹاف تجربہ کار پروفیسر پر جو علمی اور عملی تعلیم دینے کی مہارت رکھتے ہیں پرمشتعمل ہے
عملی تربیت طلباء کی عملی تربیت کے لئے جدید سازو سامان سے لیس شعبہ جات قائم ہیں جہاں ہر قسم کے پریکٹیکل تجربہ کار پروفیسرز کی زیر نگرانی کرائے جاتے ہیں۔
حصول تعلیم کے لیے جدید تکنیک کا استعمال تعلیم و تدریس کے لئے جدید سائنسی طور طریقے اپنائے گئے ہیں۔ سمعی و بصری انداز اختیار کرتے ہوئے آڈیو وڈیو سسٹم کے ذریعے طلباء و طالبات کو مختلف موضوعات کے تکنیکی پہلوؤں سے روشناس کرایا جاتا ہے۔
میوزیم علم تشریح کے لئے نقشہ جات انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے (Skeletons) اور جسم کے مختلف اندرونی اعضاء پر مشتمل ایک میوزیم کالج میں موجود ہے۔ علم الادویہ کے لیے الگ میوزیم ہے ۔جہاں طلباء کوادویات کی پہچان کروائی جاتی ہے
تشخیص طلباء و طالبات کو ایکسریز، بی پی اپریٹس، سٹیتھو سکوپ، ای سی جی جیسے جدید ذرائع تشخیص کی تربیت دینے کے لئے ماہر ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
اضافی لیکچرز مختلف نصابی مضامین پر اضافی لیکچرز کے لئے ممتاز اطباء، پروفیسرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں کو مختلف اوقات میں دعوت دی جاتی ہے تاکہ طلباء ان ماہرین کے علمی تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
فری شفا خانہ مطب عملی کیلئے طلباء و طالبات کو کالج ہذا سے منسلک آؤٹ ڈور فری شفاخانہ میں پرنسپل/پروفیسرز حضرات کی نگرانی میں خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ اس شفاخانہ سے نادار اور غریب مریضوں کا مفت علاج کیا جاتاہے۔
تربیت دوا سازی دوا سازی طب کے شعبے میں سب سے اہم مرحلہ ہے اس کے لئے انتہائی زیرک اور تجربہ کار ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ دواخانہ حکیم اجمل خاں ،تحسین دوا خانہ لاثانی دواخانہ کا عملی تعاون حاصل ہے۔ طلباء و طالبات کو تعلیمی ٹورز کے دوران معروف دوا سازاداروں اورلیبارٹریوں میں بھی لیجایا جاتا ہے۔
غیر نصابی سرگرمیاں
سپورٹس ڈے تعلیمی سال کے آخر میں طلباء وطالبات کی جسمانی صحت اور مقابلہ کی فضاکو پیدا کرنے کے لیے سپورٹس ڈے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔جس میں کرکٹ ،دوڑ۔فٹبال اور ان ڈور گیمز کا انعقاد کروایا جاتاہے
تعلیمی و تفریحی دورے ہر تعلیمی سال کے اختتام پر تعلیمی و تفریحی دورے کا اہتمام کیا جاتا ہے اس موقع پر ایسے پر فضا مقامات کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں ادویاتی جڑی بوٹیاں بکثرت اگتی ہیں اس طرح سٹوڈنٹس فطرت کے حسین نظاروں کے ساتھ ساتھ قدرت کی عطا کردہ جڑی بوٹیوں کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔
تقاریب نئی طبی ریسرچ اور طبی مشاہیر کی یاد میں تقاریب کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے جس کا مقصد طلباء کی علمی استعداد کو بڑھانا اور اسلاف کے طبی کارناموں سے آگاہ کرنا اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دینا ہے۔ ذہین طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کیلئے اداروں کی طرف سے انعامات و تعریفی اسناد جاری کی جاتی ہیں۔
گریک میگزین ادارہ ایک طبی میگزین شائع کرتا ہے جس میں قدیم و جدید طب کے حوالے سے تحقیقی مضامین، جدید طبی معلومات، سائنس، ادب اور دوسرے موضوعات پر معروف اہل قلم حضرات کی نگارشات شامل ہوتی ہے۔ اساتذہ اور کالج ہذا کے طلباء و طالبات کی تحریروں کو بھی میگزین میں نمایاں جگہ دی جاتی ہے۔
اعتراف خدمات فا ئنل امتحانات میں کونسل اور کالج میں نمایاں پوزیشنز لینے والے طلباء وطالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے اور کالج کے لیے کسی بھی نمایاں خدمت کے اعتراف میں تعریفی اسناد ،میڈلز اور تحائف باقاعدہ تقریب میں طبی سماجی یا حکومتی شخصیت کے ذریعے عطا کی جاتی ہیں۔
متعلمین کے لئے سہولیات
اعلی تعلیم کے حصول کے مواقع
4سالہ کورس کے بعد ہمدرد یونیورسٹی اور بہاولپور یونیورسٹی میں کنڈنس کورس (B.E.M.S. ڈگری کورس) میں داخلہ کی سہولت موجود ہے۔ ڈگری کورس کے بعد M.D. کی تعلیم حاصل کریں
رعایتی سفر کیلئے شناختی کارڈ
حکومت پاکستان کے فیصلے کے مطابق دیگر سرکاری تعلیمی اداروں کی طرح کالج ہذا میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کو رعایتی سفر کی تمام سہولیات حاصل ہوں گی۔ کالج ہر طالب علم کو شناختی کارڈ جاری کرے گا جس کے ذریعے ریل،روڈ ٹرانسپورٹ اور ہوائی جہاز میں رعایتی ٹکٹ پر سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔
وظائف
(الف) مستحق طلباء و طالبات کو زکوٰۃ فاؤنڈیشن اور دیگر اداروں کے تعاون سے وظائف دیئے جائیں گے۔
ب) لائق و فائق طلباء و طالبات کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جائے گی۔)
ج) داخلی و سالانہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنیوالے طلباء و طالبات کو تعریفی اسناد اور انعام و اکرام سے نوازا جائیگا۔
ملازمت کے مواقع
کالج ہذا کے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کو تمام سرکاری طبی شفا خانوں، ہسپتالوں میں بطور طب آفیسر اور تمام طبی درسگاہوں میں بحیثیت لیکچرار ملازمت کے حقوق حاصل ہیں اس کے علاوہ تمام نیم سرکاری اداروں اور کارپوریشنوں کے پینل میں بطور کنسلٹنٹ معالج کی تقرری کے مواقع بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ذاتی مطب آزادانہ قائم کر سکتے ہیں۔ انہیں وہ تمام سہولتیں حاصل ہوں گی جو ایک مستند ایم بی بی ایس ڈاکٹر یا طبیب کو حاصل ہیں۔
بک بینک(BOOK BANK)ٖ
مستحق اورضرورت مند طلباء کو بک بینک سے کورس کی کتابیں پورے سیشن کے لیے دی جاتی ہیں ۔جنہیں سیشن کے اختتام پر بک بینک میں لازمی واپس جمع کروانا ہوتا ہے ۔طلباء کتب کے حصول کے لیے بینک انچارج کس درخواست دیتے ہیں ۔جن کی سفارش پر پرنسپل کی منظوری سے کتب جاری کی جاتی ہیں۔مسلسل غیر حاضری کی بنا پر یہ سہولت واپس لی جاسکتی ہے
شعبہ جات (DEPARTMENTS)
لائبریری (Libarary)
لائبریری ہر تعلیمی ادارے کا جزو لاینفک ہے۔ بالخصوص طبی تعلیمی ادارے میں اس شعبے کی بہت زیادہ اہمیت ہے کیونکہ کوئی بھی طالب علم تاریخ طب اور جدید تحقیقات پر مبنی لٹریچر کا مطالعہ کئے بغیر فن طب کے اسرار و رموز سے شناسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ اساتذہ کو اپنے لیکچر کی تیاری اور طلباء کو اضافی علم کے حصول کے لئے بھی مختلف طبی کتابوں کی ضرورت پڑتی ہے چنانچہ ادارہ نے اس شعبہ پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے طب سے متعلق تمام اہم کتب کا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ قدیم و جدید طبی، سائنسی، تاریخی اور ادبی کتب کے علاوہ اندرون و بیرون ملک شائع ہونے والے طبی رسائل و جرائد بھی لائبریری میں مل سکتے ہیں۔ طلباء کے استفادہ کے لئے چینی طب، آیورویدک، ایلوپیتھک اور ہومیوپیتھک کے موضوعات پر بھی کتابیں موجود ہیں۔
شعبہ الادویہ (Musium of Medicine)
* نصاب میں شامل مفرد ادویہ سمیت تمام دستیاب نباتی، معدنی اور حیوانی ادویہ کوقرینے سے ترتیب دیا گیا ہے۔ دوا شناسی کے لئے سال اول اور دوا سازی کے لئے سال دوم کے طلباء طالبات کو گروپ وار عملی تربیت دی جاتی ہے۔
* مماثل ادویہ کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ متعلمین (Students) ان کی شناخت میں غلطی نہ کرے۔
* ادویات کو ان کے مخصوص خواص مثلاً ہاضم (ہضم کرنے والی) کا سر ریاح (ریاح کا خارج کرنے والی) منوم (نیند لانے والی) وغیرہ کے اعتبار سے نمایاں کرنے کے لئے انہیں چارٹوں کی شکل میں آویزاں کیا گیا ہے۔
* نباتاتی ادویات کو ان کی اصل حالت میں جڑ، تنا، پتے، پھول سمیت چارٹوں پر محفوظ کر کے لگایا جاتا ہے۔
* بعض دوائی جڑی بوٹیوں اور پودوں کے مختلف حصوں کو عمل تحفیظ (Preservation) کے ذریعے جاروں میں محفوظ کر کے رکھا گیا ہے۔ تازہ جڑی بوٹیوں، پودوں کی شناخت کے لئے انہیں گملوں میں لگایا گیا ہے۔ ادارہ ہربل گارڈن کے قیام کے لئے بھی کوشاں ہے۔
شعبہ دوا سازی (Department of Pharmacy)
یہ طب قدیم کا سب سے اہم شعبہ ہے اس میں ادویات کا سفوف تیار کرنے سے لے کر گولیوں،کیپسولز، شربت، خمیرہ جات، اطریفلات، معاجین، ایملشن، مکسچر، گرینولیشن، شوگر کوٹنگ، نباتاتی ادویہ کی ایکسٹریکشن، مختلف روغنیات کشید کرنے مرہم اور عرقیات کی تیاری، نیز گولیوں پر سونے چاندی کے اوراق چڑھانے تک کی تربیت دی جاتی ہے۔
شعبہ تشریح الابدان (Depatment of Anatomy)
انسانی جسم کے اعضاء کی ساخت اور ان کے افعال کو جانے بغیر فن طب پر عبور حاصل کرنا ناممکن ہے۔ سال اول اور دوم کے طلباء کی رہنمائی کے لئے شعبہ اناٹومیکل میوزیم میں انسانی جسم کے اعضاء ہڈیاں اور ماڈلز موجود ہیں۔ انسانی اعضاء کی ڈائی سیکشن سے مکمل طور پر آگاہی کے لئے بیرون ملک سے رنگین تعلیمی فلمیں درآمد کی گئی ہیں ان فلموں کو پریکٹیکل کے دوران ڈارک روم میں دکھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ عملی تعلیم کے لئے طلباء گروپ وار اس میں شریک ہوتے ہیں۔
شعبہ منافع الاعضاء (Department of Physiology)
فزیالوجی سے متعلق تمام ٹیسٹوں کے لئے ضروری آلات و سامان اور بیرون ملک سے درآمد شدہ جسمانی پلاسٹک باڈی (Human Trunk Body) (جس کے تمام اعضاء الگ الگ ہوتے ہیں) فزیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ طلباء کو انسانی جسم کے مختلف اعضاء کے افعال کو چارٹس اور سلائیڈز کی مدد سے پڑھایا جاتاہے
معمل تشخیصی (Clinical Laboratory)
پیشاب، خون، بلغم کے نظری، کیمیاوی اور خوردبینی امتحانات کے علاوہ حوینات منویہ حمل اور سوزاک کے تشخیصی امتحانات اور خون کی گروپنگ کے لئے ضروری سہولتیں موجود ہیں۔ عملی تربیت کے دوران مختلف جسمانی اعضاء کی سلائیڈز بذریعہ مائیکرو سکوپ دکھائی جاتی ہیں۔
شعبہ جراحیات صغیرہ (Department of Minor Surgery)
اس شعبہ میں طلباء و طالبات کو عملی جراحت صغیرہ اور تشخیص و تجویز کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں سال چہارم کے طلباء و طالبات گروپ وار پریکٹیکل کرتے ہیں۔ڈیپارٹمنٹ میں ابتدائی طبی امداد (First Aid) سے لے کر پٹیاں باندھنے، ٹانکے لگانے اور مائنر سرجری کے تحت آنے والے آپریشنوں کے علاوہ طب قدیم کے معروف اعمال فصد (Vein-section) مالش (Massage) ٹکور (Moxibusion) اترے ہوئے جوڑوں اور عضلات کے کھنچاؤ کو درست کرنے اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے کے طریقوں کی عملی تربیت کے لئے ضروری آلات اور سامان موجود ہے۔
ایکسرے ،سٹی سکین ،ایم آر آئی میوزیم (X-Ray,CT scan,MRI Musium)
اس شعبہ میں مختلف امراض کی تشخیص کے لئے مخصوص امراض میں مبتلا جسم کے مختلف حصوں کے ایکسرے ،سٹی سکین ،ایم آر آئی کی فلمیں رکھی گئی ہیں جن کو دیکھنے کے بعد طلباء و طالبات کو عملی زندگی میں امراض کی تشخیص مددملے گی۔
میوزیم تاریخ طب (Musium History of Tibb)
یہاں مشاہیر اطبا کی تصاویر اور ان کی مختصر سوانح حیات اور طبی کارناموں کو چارٹس کی صورت میں آویزاں کیا گیا ہے مشاہیر کے مفصل حالات زندگی اور طبی ایجادات پر مبنی کتب لائبریری سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
شفاء خانہ برائے بیرونی مریضاں (Out Door Patient Department)
سال سوم اور چہارم کے طلباء و طالبات کو تشخیص و تجویز کی عملی تربیت فراہم کرنے اورعوام الناس کی خدمت کے لئے آؤٹ ڈور شفاخانہ قائم کیا گیا ہے یہاں مستحق مریضوں کو مفت مشورہ اور ادویات مہیا کی جاتی ہیں۔ یہاں طلباء و طالبات کو بہترین تربیت کے علاوہ ہاؤس جاب کے مواقع بھی میسر ہیں۔
نصاب
سال اول
1۔ تاریخ طب (History of Tibb)
اس مضمون میں طب کی قدیم تاریخ بابلی، مصری، ہندی، یونانی، چینی، ایرانی اور رومی طب کے ادوار کا بطور خاص جائزہ لیا گیا ہے اس کے علاوہ ظہور اسلام کے بعد طب قرآن و نبوی کی تاریخ کے علاوہ قدیم مسلم اطباء کے کارہائے نمایاں، برصغیر پاک و ہند میں ترقی طب اور قیام پاکستان کے بعد یہاں طب اور اطباء کے بارے میں طبی ترقی اور خدمات کے حوالے سے تعلیم دی جاتی ہے۔ اخلاقیات طب بھی اسی مضمون کا الگ باب ہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں تاریخ الاطباء ،مشاہیر طب،طب العرب،طب نبوی ہیں
2۔ کلیات طب (Principles of Tibb)
طب قدیم کو عام دیگر طبی نظاموں کے مقابلے میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے کیونکہ یہ نظام ایک مکمل فلسفہ رکھتا ہے۔ اس کے تمام اصول اور جزیات اسی فلسفے پر قائم اور اسی سے متعلق ہیں۔ علمی اصطلاح میں طب کا یہ فلسفہ ’’کلیات‘‘ کہلاتا ہے فن طب کو سمجھنے کے لیے بنیادی اصول و مبادیات پر مبنی یہ مضمون درحقیقت فلسفہ حیات، انسانی تخلیق و تجسیم، طبعی و غیر طبعی کیفیات ،مزاج اور اسی قسم کے بنیادی نظریات کے بارے میں معلومات فراہم کرتاہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں مختصر الکلیات،موجز القانون،افادہ کبیر،کلیات نفیسی،کلیات سدیدی،کلیات اقصرائی شامل ہیں
3۔ علم الادویہ قدیم (دواشناسی) (Pharmacognosy)
قدرت نے نباتات حیوانات اور جمادات میں ایسی قوتیں و دیعت فرمائی ہیں جنہیں اگر سوچ سمجھ کر کام میں لایا جائے تو نہ صرف یہ انسانی جسم کی بیماریاں اور تکلیفیں دور کر سکتی ہیں بلکہ ان کے بروقت اور صحیح استعمال سے قیمتی انسانی جان بھی بچ سکتی ہے۔ ضروری ہے کہ طالب علم ان اشیاء کی واقفیت حاصل کرے جو دفعیہ بیماری کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ علم الادویہ کے ضمن میں کثیر الاستعمال دواؤں کی ماہیت و شناخت، ان کی جائے حصول، ان کے افعال اور طریقہ استعمال نیز مزاج، مقدار خوراک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ نصاب میں شامل دواؤں کی شناخت بھی کرائی جاتی ہے۔ اور جو دوائیں موسمی اثرات رکھتی ہیں ان کے متعلق طلباء کو تفصیل سے بتایا جاتا ہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں علم الادویہ سدیدی ،علم الادویہ نفیسی ، تعلیم الادویہ ،کتاب المفردات وغیرہ شامل ہیں
4۔ حفظان صحت (Hygiene)
اس مضمون میں حفظان صحت کے اصولوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اور ان اصولوں سے طالب علم کو روشناس کرایا جاتا ہے جن کا تعلق روزمرہ زندگی سے ہوتا ہے مثلاً ہوا، پانی، لباس وغیرہ کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہیں کیسا ہونا چاہئے نیز امراض کی روک تھام اور ان سے بچاؤ کے طریقے ازبر کرائے جاتے ہیں تاکہ مستقبل کے طبیب اپنا قومی فرض صحیح طریقے سے ادا کر سکیں اور ملک میں صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکیں۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں قانون صحت،مخزن حکمت(اول)،جامع الحکمت(اول) شامل ہیں
5۔ علم تشریح الابدان (Anatomy)
اس مضمون میں انسانی بدن کی ساخت اور مختلف اعضاء جسمانی کے باہمی ربط و تعلق کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے۔ تمام طبی علوم کی بنیاد یہی مضمون ہے اس مضمون کی تعلیم علمی و عملی دونوں طریقوں سے دی جاتی ہے۔ جسمانی ساخت اور مختلف اعضاء کی وضع قطع اور مقام کو بہتر طور پر سمجھانے کے لئے انسانی ماذل اور چارٹوں سے مدد لی جاتی ہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں تشریح حبیب(اول)اناٹومی وفزیالوجی(ڈاکٹرغلام جیلانی)
6۔ منافع الاعضاء (Physiology)
طب کے طالب علم کیلئے جس طرح انسانی ساخت کا جاننا ضروری ہے اسی طرح انسانی اعضاء کے افعال و منافع کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا بھی ازحد ضروری ہے۔ اس مضمون میں طالب علم کو بتایا جاتا ہے کہ صحت مند جسم کے مختلف اعضاء کے افعال کس طرح انجام پاتے ہیں تاکہ وہ ان تبدیلیوں کو سمجھ سکے جو امراض کی حالت میں پیدا ہوتی ہیں۔ نصاب میں شامل تمام پریکٹیکلز کرائے جاتے ہیں۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں منافع کبیر،منافع الاعضاء ،لیکچرار افعال الاعضاء شامل ہیں
سال دوم
1۔ علم تشریح الابدان (Anatomy)
اسکی نصابی اور امدادی کتب میں تشریح حبیب (دوئم)تشریح صغیر،تشریح کبیر،تشریح کے معا لجین شامل ہیں
2۔منافع الاعضاء (Physiology)
اسکی نصابی اور امدادی کتب میں منافع الاعضاء(کبیرالدین)منافع الاعضاء(ظفرالدین)منافع الاعضاء(خواجہ رضوان)
-3کلیات طب (Principles of Tibb)
اسکی نصابی اور امدادی کتب میں القانون فی الطب (شیخ الرئیس)شامل ہے
4۔ علم الادویہ (قدیم بہ اضافہ جدید تحقیق)
اس مضمون میں قدیم علم الادویہ کے مفردات پر جو جدید تحقیقات ہوئی ہیں پڑھائی جاتی ہیں۔ افعال و خواص کے اعتبار سے قدیم و جدید تحقیقات کا تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے نیز ادویات کے لئے اجزائے ترکیبی سے لے کر اس کی کیمیاوی ساختوں پر بحث کی جاتی ہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں نباتی مفردات جدید تحقیقات ہمدرد اکیڈمی،بیاض کبیر حصہ دوئم شامل ہیں
5 ۔ میزان الطب (معالجات) (Therapeutics)
یہ مضمون امراض کی ماہیت، اس کی علامات، اسباب اور اصول علاج پرابتدائی تعارف اور بحث کرتا ہے۔ اس مضمون کی تعلیم اس طرح دی جاتی ہے کہ طالب علم مریض کی بیان کردہ شکایات اور اس کے طبی معائنہ کے نتیجہ میں مرض کی صحیح تشخیص کر سکے اور علاج کے لئے مناسب تدابیر اختیار کر سکے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں میزان الطب (حکیم کبیر الدین)شامل ہیں
6۔ دوا سازی (Pharmacy)
طبیب کے لئے ضروری ہے کہ وہ علاج معالجہ میں مستعمل ادویات کو تیار کرنے کا ہنر جانتا ہو۔ دواسازی کی تعلیم طالب علموں کو عملی و علمی دونوں طریقوں سے دی جاتی ہے تاکہ وہ فن کے اصولوں سے اس طرح واقف ہو سکے کہ وہ مطب کی ضروریات کے مطابق دوا سازی کر سکے۔ شعبہ دوا سازی اور طبی ہسپتال اسلامک یونانی میڈیکل کالج میں طلبا کی عملی تربیت کا خاص اہتمام ہے۔ طبی دوا سازی کے جدید طریقوں سے روشناس کرانے کے لئے طلباء کو ملک کے بڑے بڑے طبی دوا ساز اداروں کا دورہ بھی کرایا جاتا ہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں بیاض کبیر حصہ سوئم (کبیرالدین)دہلی کا صیحح مطب(خواجہ رضوان)
سال سوم
1۔ معالجات (Therapeutics)
یہ مضمون امراض کی ماہیت، اس کی علامات، اسباب کے اصول علاج پر بحث کرتا ہے۔ اس مضمون کی تعلیم بذریعہ لیکچرو نوٹس اس طرح دی جاتی ہے کہ طالب علم مریض کی بیان کردہ شکایات اور اس کے طبی معائنہ کے نتیجہ میں مرض کی صحیح تشخیص کر سکے اور علاج کے لئے مناسب تدابیر اختیار کر سکے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں شرح اسباب اول حکیم کبیر الدین یا خواجہ راضوان
2۔ طب قانونی و علم السموم (Medical Jurisprudence and Toxicology)
معالج معاشرے کا اہم فرد ہے۔ایسے مریض بھی اس کے پاس آتے ہیں جن کی تکالیف و عوارض کے طبعی و غیر طبعی ہونے کا جائزہ لینے کی قانونی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی صورتوں میں علاج معالجہ کے ساتھ ساتھ قانونی شہادت بھی دینا پڑتی ہے یہ مضمون ایسے ہی معاملات کے بارے میں رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں قانون ،عدالتوں، ضابطہ قانونی اور شہادت کے بارے میں ضروری معلومات کی تعلیم دی جاتی ہے۔ موت اور اس کی اقسام ، وجوہات، ضربات اور زخموں کی اقسام، اتفاقی اور خود ساختہ ضربات اور زخموں کی شناخت اور اس طرح کے دیگر مباحث کی تعلیم اس مضمون میں شامل ہے۔
علم السموم میں زہروں کی تعریف، اقسام، مقدار خوراک اور طریق استعمال کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ زہر خوری کی صورت میں مختلف زہروں سے پیدا ہونے والی علامات اور ان کا موازنہ، زندہ اور مردہ جسم میں زہر خوری کے بعد کی علامات اور تشخیص بھی اسی مضمون کے مباحث میں شامل ہیں۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں طب قانونی وعلم السموم (خواجہ رضوان)
3۔ مطب و نسخہ نویسی (Clinics&Practice of Medicine)
اس مضمون کے ذریعے نظری و عملی طور پر مرض کی تشخیص اور اس کے مطابق نسخہ ترتیب دینے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ کالج کے کوالیفائیڈ اور تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی میں مطب کی عملی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں مخزن حکمت (حکیم غلام جیلانی)دہلی کا صحیح مطب(خواجہ رضوان تا حکیم کبیر الدین)
4۔ تشخیص عملی (Clinics)
طلباء کو علمی وعملی طور پر ان طریقوں کے متعلق تعلیم اوراستعمال کی تربیت دی جاتی ہے جو تشخیص امراض کے سلسلے میں ضروری ہوتے ہیں۔ نیز انہیں تشخیصی آلات کے استعمال کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ اسکی نصابی اور
5۔ ماہیت الامراض (Pathology)
اس مضمون میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ بدن کے مختلف اعضاء اور ان کے افعال میں بیماری کی حالت میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اس مضمون کے مطالعے سے طلباء کو ان امراض کو سمجھنے اور ان کی علامات و اسباب کے درمیان تعلق کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ اس مضمون کی تعلیم کے لئے کالج ہذا میں تشخیصی معمل (Clinical Laboratory) کی سہولت موجود ہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں ماہیت الامراض شامل ہیں
6 ۔ فن الولادت (علم القابلہ) (Obstetrics)
اس مضمون میں عورت کے حاملہ ہونے ،دوران حمل اوروضع حمل کے دوران ہونے والی تبدیلیوں اور اس کے بعد ماں اور بچے کی صحت کی حفاظت کی تدابیر کے بارے میں تعلیم دی جاتی ہے۔ طلباء کو اس مضمون کی نظری تعلیم دی جاتی ہے اور طالبات کو زچگی کی عملی تعلیم کے لئے میٹر نٹی ہوم میں بھیجا جاتا ہے۔ وہاں ان کے لئے کم از کم دس کیس اپنے ہاتھ سے کرنے یا دیکھنے ضروری ہوتے ہیں۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں فن الولادت (حکیم فضل الرحمن)
سال چہارم
1۔ امراض نسواں و اطفال (Gynecology & Peadiatrics)
اس مضمون میں عورتوں کے مخصوص امراض اور بچوں کے زمانہ طفولیت (Childhood) کے تمام امراض ان کی تشخیص، علاج اور بچوں کی صحت کی حفاظت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ طلباء کو اس مضمون کی نظری تعلیم دی جاتی ہے جبکہ طالبات کو نسوانی امراض کی تشخیص اور تدابیر علاج کی عملی مشق کیلئے کالج کے مطب کے زنانہ شعبوں میں خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔
2۔ امراض متعدیہ وبائیہ (Infectional and Viral Diseases)
ایسے تمام امراض جو ایک مریض سے دوسرے میں منتقل ہونے کی استعداد رکھتے ہیں یا وبا کے طور پر پھیلتے ہیں کو جدید و قدیم نظریات کے پس منظر میں پڑھایا جاتا ہے اور ان سے بچاؤ کے طریقوں اور تشخیص و علاج کے بارے میں رہنمائی کی جاتی ہے۔ اسکی نصابی وامدادی کتب میں امراض متعدیہ (ڈاکٹر غلا م حیدر خاں نیازی)
3۔ حمیات و معالجات (Therapeutics and Fevers)
اس مضمون میں امراض کی تعریف ،اسباب ،علامات و علاج سے متعلق تعلیم جاتی ہے۔اور بخاروں کی اقسام پر مکمل بحث کی جاتی ہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں شرح اسباب (حصہ سوئم ،چہارم حکیم کبیر الدین)جامع الحکمت ۔مخزن الحکمت،ترجمہ حمیات قانون(کبیر الدین)شامل ہیں
4۔ علم الجراحت (Surgery)
اس مضمون کے ذریعے جراحت سے متعلقہ تمام امور اور جراح (Surgeon) کی ذمہ داریوں پر تعلیم دی جاتی ہے۔ طلباء کو عملی تربیت بہم پہنچانے کے لئے کالج میں شعبہ جراحت قائم ہے جہاں مختلف انجکشن لگانے اور مائنر سرجری کی سہولت موجود ہے نیز طلباء کو باقاعدہ فلموں کی مدد سے آپریشنزدکھانے کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں جراحت صغیرہ شامل ہے
5۔ نفسیات طبی (Psychology)
ایک اچھے معالج کے لئے ضروری ہے کہ وہ نفسیات کے علم پر بھی عبور حاصل کرے کیونکہ نہ صرف صحت و مرض کی حالت میں واقع ہونے والی نفسیاتی اور ذہنی کیفیتوں کا مطالعہ طبیب کے لئے کار آمد ہوتا ہے بلکہ اس علم کے ذریعے اسے ان امراض کی تشخیص و علاج کے سلسلے میں بھی رہنمائی ملتی ہے جن کے حقیقی اسباب محض نفسیاتی اور ذہنی ہوتے ہیں۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں مبادیات نفسیات،(ڈاکٹر کرامت حسین )نفسیات اور جسمانی امراض(محمد یونس حسرت) شامل ہیں
6۔ مطب علمی و عملی (Practice of Medicine)
اس مضمون کے ذریعے نظری و عملی طور پر مرض کی تشخیص اور اس کے مطابق نسخہ ترتیب دینے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ کالج کے کوالیفائیڈ اور تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی میں مطب کی عملی تربیت کالج کے آوٹ ڈور ہسپتال میں فراہم کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ کالج کی طرف سے موبائل فری طبی کیمپس کا بھی باقاعدگی سے اہتمام کیا جاتا ہے۔اس سے طلباء کو وسیع سطح پر ہاؤس جاب کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ اسکی نصابی اور امدادی کتب میں مخزن حکمت (ڈاکٹر غلام جیلانی یا حکیم کبیر الدین)
دستور العمل
قواعد و ضوابط ہذا ’’دستور العمل اسلامک یونانی میڈیکل کالج‘‘ کے نام سے موسوم ہوں گے۔ مدت تعلیم
نیشنل کونسل فار طب کے قواعد و ضوابط اور یونانی آیورویدک ایکٹ 1965ء کے مطابق تعلیم کی مدت چار سال ہے۔
سند فراغت
چار سالہ کورس کی تکمیل کے بعد سالانہ امتحان میں پاس ہونے کی صورت میں وفاقی وزارت صحت / قومی طبی کونسل اسلام آباد فاضل الطب و الجراحت کی سند جاری کرے گی۔
طرز تعلیم مخلوط ہے۔
ذریعہ تعلیم
الف) اردو زبان ہے۔ )
ب) ہر پرچہ کی تیاری کے لئے مطالعہ کتب، لیکچرز اور مشاہدات کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
(ج) مفردات کی شناخت، مرکبات کی تیاری، نبض شناسی، تشخیص مرض ،عملی تربیت کالج ہذا کے دواخانہ اور مطب میں طریقہ علاج و تجویز نسخہ جات اور طریق تیمار داری وغیرہ کی دی جائے گی۔ ،
مالی سال یکم جولائی تا 30 جون ہو گا۔
تعلیمی دورانیہ یکم ستمبر تا 30 اپریل ہو گا۔
سالانہ امتحان
ہر کلاس کا امتحان نیشنل کونسل فار طب کی طرف سے جاری کردہ ڈیٹ شیٹ کے مطابق مقررہ تاریخوں کے مطابق ہو گا۔
اوقات کالج صبح 9.00 سے 2.00تک روزانہ ہیں ۔لیکن جمعہ کے دن 12.30تک کالج کھلا رہے گا
تعطیلات
(الف) عام تعطیلات سرکاری گزٹ کے مطابق ہوں گی۔ دیگر تعلیمی اداروں کی طرح کالج ہذا میں بھی موسم سرما اور گرما کی تعطیلات پروگرام کے مطابق ہوں گی تاہم ان ایام میں دفاتر باقاعدہ کھلے رہیں گے۔
(ب) خصوصی مقامی تعطیلات کے لئے چیئرمین گورننگ باڈی یا پرنسپل نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا مجاز ہے۔
داخلہ کیلئے اہلیت و طریقہ کار
* امیدوار کسی بھی منظور شدہ سیکنڈری بورڈ سے میٹرک سائنس مضامین میں پاس ہو۔
* امیدوار کی عمر14 سال سے کم نہ ہو اور 45 سال سے زائد نہ ہو۔
* مقررہ تاریخ داخلہ کے اندر اندر کالج کا مطبوعہ فارم پر کر کے مندرجہ ذیل دستاویزات کے ہمراہ کالج میں جمع کرائے۔
دستاویزات
(i) تعلیمی اسناد بمعہ میٹرک کی سند کی مصدقہ نقول5 عدد
(ii) قومی شناختی کارڈ کی نقل مصدقہ 2 عدد
(iii) کریکٹر سر ٹیفکیٹ کی نقل مصدقہ ایک عدد
(iv) تازہ پاسپورٹ سائز تصاویر 8 عدد (طالبات مستثنیٰ نہیں)
* مکمل فارم دستی یا بذریعہ رجسٹری بنام پرنسپل مقررہ تاریخ تک دفتر اسلامک یونانی میڈیکل کالج 3/4سوک سنٹر ‘ لیاقت چوک ‘سبزہ زار سکیم لاہور کے پتہ پر پہنچانا ضروری ہے۔
* نامکمل درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا۔
* مقررہ تاریخ کے بعد ملنے والی درخواستیں مسترد کر دی جائیں گی۔
داخلہ کیلئے میرٹ
* امیدواروں کی درخوست سے منسلکہ کوائف و اندراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے میرٹ کا تعین کیا جائے گا۔
* میٹرک میں سائنس کے مضامین رکھنے والے امیدوار ہی داخلہ کے اہل ہوں گے۔
* قرآن پاک کے حفاظ کرام اور سپیشل طلباء جو داخلہ کے لئے دیئے گئے تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہوں کو بھی ترجیح دی جائے گی۔
نااہلیت برائے داخلہ
* کالج کے اوقات کار میں کہیں ملازم ہونا یا کسی دوسری درسگاہ میں تعلیم پانا۔
* طالب علم کا کسی بھی کلاس میں مسلسل تین سال فیل ہونا۔
نوٹ:
* اگر کسی طالب علم/ طالبہ نے داخلے کے وقت اپنے متعلق کوائف کی فراہمی میں غلط بیانی یا اخفا سے کام لیا ہو اس کا داخلہ منسوخ کر دیا جائے گا۔
* پرائیویٹ طور پر امتحانات میں شمولیت کی اجازت نہیں ہو گی۔
* ہوسٹل کا کوئی انتظام نہیں۔ بیرونی طلباء کو رہائش کا بندوبست خود کرنا ہو گا۔
تجدید داخلہ
کوئی بھی طالب علم جو سال دوم، سوم اور چہارم کے دوران کسی وجہ سے تعلیم چھوڑ دے تو عرصہ تین سال کے اندر اسی جماعت میں از سر نو داخلہ لے سکتا ہے۔ سالانہ امتحان کے نتائج کے بعد اگلی کلاس میں ترقی کرنے والے ہر طالب علم کو از سر نو داخلہ کروانا ہو گا۔ بصورت دیگر وہ کالج سے خارج متصور ہو گا۔
داخلہ فارم، پراسپکٹس کا حصول
داخلہ فارم پراسپکٹس کے ہمراہ دفتر کالج ہذا سے قیمتاً دستیاب ہے۔ بذریعہ ڈاک منگوانے کیلئے پراسپکٹس کی مقررہ قیمت مبلغ 50/-روپے اور ڈاک خرچ کالج کے پتہ پر بھیجنا ہو گا
مائیگریشن
نیشنل کونسل فار طب کی منظور شدہ/ مسلمہ کسی بھی طبی درسگاہ میں زیر تعلیم کسی بھی کلاس کا طالب علم/ طلبہ کونسل کے قوانین کے مطابق ایک سے دوسری درسگاہ میں مائیگریشن کروا سکتا ہے بشرطیکہ :-
1۔ جس کالج میں زیر تعلیم ہو اس کا پرنسپل اسے چھوڑنے پر آمادہ ہو۔
2 جس کالج میں داخلہ لینا چاہتا ہو اس کالج کا پرنسپل اسے داخلہ دینے پر رضا مند ہو۔
3۔ نیشنل کونسل فار طب اسے مائیگریشن سر ٹیفکیٹ جاری کر دے۔
4۔ تمام واجبات بمعہ داخلہ ادا کر کے داخلہ حاصل کرے ۔
مخصوص نشستیں
* اطباء، ڈاکٹروں (ایلوپیتھک، ہومیو پیتھک) کے بچوں کے لئے کالج میں نشستیں رکھی گئی ہیں۔
* آزاد جموں و کشمیر اور آزاد قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لئے دس دس نشستوں کا کوٹہ رکھا گیا ہے۔
داخلہ فیس
* درخواست داخلہ کی منظوری کے بعد داخلہ و تعلیمی فیس مقررہ تاریخ تک ادا کرنا لازمی ہے۔
* مقررہ معیاد کے بعد ایک ماہ تک لیٹ فیس کے ساتھ داخلہ دیا جائے گا۔
قواعد و ضوابط عمومی
نظم و نسق
1 ہر طالب علم/ طالبہ کے لیے کالج کے اوقات کار اور تقریبات میں صاف ستھرا لباس پہن کر آنا لازمی ہو گا۔
2 وقت کی پابندی لازمی ہوگی۔ لیکچر کے دوران استاد کی پیشگی اجازت کے بغیر کلاس روم سے باہر نکلنا ممنوع ہو گا۔
3 تعلیم و تدریسی اوقات میں کالج حدود میں کسی بھی قسم کی گیم کھیلنا منع ہو گا۔
4 کالج کی حدود میں منشیات اور سگریٹ نوشی کی اجازت نہیں ہو گی۔
5 کسی بھی قسم کی ناشائستہ اور غیر اخلاقی حرکت کا ارتکاب ڈسپلن کی خلاف ورزی تصور ہو گا۔
6 کوئی بھی متعلم دوران تعلیم یا دوران امتحان اپنے کسی بھی استاد کے ساتھ بدتمیزی گستاخی یا بدسلوکی سے پیش نہیں آئے گا۔
7 ہر طالب علم کی انفرادی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اپنے رہائشی یا ڈاک کے پتے ،فون نمبر کی تبدیلی کی صورت میں دفتر کالج کو مطلع کرے بصورت دیگر ڈاک /پیغام نہ پہنچنے کی ذمہ داری کالج انتظامیہ پر نہ ہو گی۔
8 کالج میں کسی دوسرے شخص کو ماسوائے والدین/ سرپرست ہمراہ لانے کی اجازت نہ ہو گی۔
9 کالج کی حدود میں کسی جگہ اشتہار یا سٹیکرز لگانا سخت منع ہے۔
10 کالج میں ہر طرح کی یونین/ تنظیم/ سوسائٹی/ سیاسی جماعت بنانے پر پابندی ہو گی۔
11 کالج کی حدود میں اسلحہ یا کوئی بھی قابل اعتراض چیز لانا اور نعرے بازی کرنا منع ہے۔
12 کوئی بھی متعلم کسی دوسرے کو ہڑتال کے لیے نہیں اکسائے گا۔
13 کسی بھی مسئلہ پر انفرادی طور پر ہر متعلم رجسٹرار یا پرنسپل کالج سے بذریعہ تحریری درخواست ملاقات کر سکے گا۔
14 کالج کے قواعد و ضوابط اور قومی کونسل کی جانب سے وقتاً فوقتاً آمدہ ہدایات/ قواعد و ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہو گا۔
تادیبی کارروائی
درج بالا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ طالب علم/ طالبہ کیخلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو جرم کی نوعیت کے مطابق درج ذیل ہو سکتی ہے۔ البتہ متعلقہ طالب علم/ طالبہ کو صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا۔
1۔ (الف) کالج سے اخراج (ب) وظیفہ سے محرومی (ج) جرمانہ و تحریری یا زبانی معافی
2۔ پرنسپل/ چیئرمین گورننگ باڈی کالج ہذا کسی بھی طالب علم کو بغیر وجہ بتائے کالج سے خارج کر سکے گا جبکہ وہ یہ محسوس کریں کہ مذکورہ طالب علم کالج کے مفادات کے خلاف خود یا کسی کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے۔
3۔ کسی بھی معاملہ میں چیئرمین گورننگ باڈی کا فیصلہ حتمی ہو گا جس کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
4۔ خدانخواستہ کسی تنازعہ کی صورت میں فیصلہ صرف لاہور کی عدالت میں ہوگا۔
کالج سے اخراج
پرنسپل کو اختیار ہو گا کہ وہ کسی بھی طالب علم کو درج ذیل وجوہات میں سے کسی ایک یا زیادہ کے ارتکاب کی بنا پر کالج سے خارج کر دے۔
1۔ کالج کی فیس/ واجبات کی بلا عذر معقول بروقت ادائیگی میں ناکام ہو جائے۔
2۔ چال چلن خراب ہونے یا غیر اخلاقی فعل کے ارتکاب کا ثبوت مل جائے۔
3۔ کسی فوجداری جرم میں سزایاب ہو جائے۔
4۔ کالج کی املاک کو نقصان پہنچائے یا کسی کو اکسائے
5۔ بیک وقت کسی اور تعلیمی درسگاہ میں باقاعدہ زیر تعلیم ہونے کا ثبوت مل جائے۔
6۔ دوران اوقات تعلیم کسی جگہ باقاعدہ ملازم ہونے کا ثبوت مل جائے۔
7۔ اساتذہ و جملہ کالج انتظامیہ کے ساتھ گستاخی سے پیش آئے۔
8۔ کسی قسم کی بدعنوانی یا شرانگیزی میں ملوث ہو۔
9۔ نظام ونسق میں خلل اندازی یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔
رخصت و غیر حاضری
1۔ متعلمین اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ ان کی سالانہ حاضریاں 70 فیصد سے کم نہ ہوں بوقت ضرورت درخواست دے سکتے ہیں۔ البتہ حاضری کے تناسب پر نظر رکھنا طالب علم کی اپنی ذمہ داری ہو گی۔
2۔ بیماری، تہوار یا شادی کے علاوہ زیادہ سے زیادہ چھ یوم کی رخصت دینا پرنسپل کی صوابدید ہو گا۔ سال بھر میں پندرہ یوم سے زائد رخصت نہیں دی جائے گی۔
3۔ غیر حاضری کی صورت میں (خواہ ایک پیریڈ میں ہی کیوں نہ ہو) پانچ روپے یومیہ یا پچاس پیسے فی پیریڈ جرمانہ کیا جائے گا۔
4۔ دو ہفتوں تک متواتر غیر حاضر رہنے یا ہر قسم کی حاصل کردہ رخصتوں (ماسوائے رخصت بیماری) اور غیر حاضری کا مجموعہ 20 یوم سے تجاوز کر جانے کی صورت میں مذکورہ متعلم کا نام خارج کر دیا جائے گا۔
5۔ جو طلباء کالج کی تعطیلات سے پہلے یا بعد میں غیر حاضر ہوں گے انہیں خصوصی جرمانہ ہو گا۔
قواعد و ضوابط لائبریری
اوقات
1۔ لائبریری روزانہ کالج اوقات میں کھلتی ہے۔
2۔ چھٹی کے روز اور سالانہ سٹاک چیکنگ کے دوران لائبریری بند رہے گی۔
3۔ موسم گرما اور موسم سرما کی تعطیلات میں لائبریری صبح نو بجے سے ایک بجے تک کھلی رہے گی۔
4۔ پیریڈ کے دوران طلباء و طالبات کا لائبریری میں داخلہ ممنوع ہو گا۔
لائبریری کارڈ
1۔ کالج کی انتظامیہ ہر طالب علم/ طالبہ کو لائبریری کارڈ جاری کریگی جس پر پرنسپل کے دستخط اور مہر ہو گی۔
2۔ لائبریری کارڈ کے بغیر کوئی کتاب جاری نہیں کی جائے گی۔
3۔ لائبریری کارڈ صرف داخل شدہ طلباء و طالبات اور اساتذہ کو جاری کیا جائے گا۔
4۔ ہر تعلیمی سال کے لئے نیا کارڈ بنے گا جس کی مقررہ فیس (سالانہ لائبریری چندہ) ادا کرنا ہو گی۔
5۔ کارڈ کے گم یا خراب ہونے کی صورت میں مثنیٰ (Duplicate) کارڈ جاری کیا جائے گا جس کے لئے مبلغ 20 روپے جمع کرانا ہوں گے۔
6۔ لائبریری کارڈ صرف وہی طالب علم استعمال کر سکتا ہے جس کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔
7۔ سالانہ امتحان کے داخلہ فارم جمع کرانے سے قبل لائبریری کارڈ انچارج لائبریری کو واپس جمع کروا کر کلیرنس سر ٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا۔
ضروری ہدایات
1۔ لائبریری میں کسی قسم کی کاپی، کتاب، فائل، بیگ، بریف کیس یا تھیلا وغیرہ لے جانا منع ہے۔
2۔ لائبریری میں خاموشی اور سکون سے مطالعہ کریں۔
3۔ ایک وقت میں صرف ایک کتاب جاری کی جائے گی۔
4۔ جاری شدہ کتاب کو دس یوم کے اندر اندر واپس کرنا ضروری ہو گا۔
5۔ طالب علم جاری شدہ کتاب کو مزید دس یوم کیلئے جاری کرا سکتا ہے لیکن دوسری بار اجراء سے قبل کتاب انچارج لائبریری کو پیش کرنا ہو گی۔
کتاب کو درست حالت میں واپس کرنا ہو گا۔ کتاب کی گمشدگی خراب ہونے پھٹ جانے شکل بگڑ جانے یا اندرونی صفحات غائب ہونے کی صورت میں دگنی قیمت اور جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔
نصابی کتب کے علاوہ دیگر کتب پرنسپل یا چیئرمین گورننگ باڈی کی خصوصی تحریری اجازت سے جاری ہو سکیں گی تاہم مندرجہ ذیل اصناف کی کتب کسی بھی صورت میں جاری نہیں کی جائیں گی۔
* جملہ کتب حوالہ جات Reference Books
* لغت Dictionary
* دائرہ المعارف Encyclopaedia
* غیر مطبوعہ مسودہ جات Unprinted Books
* نایاب کتب Unavailable Books
* رپورٹیس و گزٹ Gazetts and Reports
* رسائل و اخبارات News Papers and Journals
قواعد امتحانات داخلی
1۔ ہر تعلیمی سال کے آغاز میں پرنسپل امتحانات کے سپرنٹنڈنٹ و اسسٹنٹ سپر نٹنڈنٹ کا تقرر کرے گا۔
2۔ سالانہ ٹیسٹ مارچ/اپریل میں ہو گا۔امتحانات کی تاریخ کا اعلان امتحان سے دو ہفتہ قبل کیا جائے گا اور کالج کے نوٹس بورڈ پر آویزاں کیا جائے گا۔
3۔ جوابی کاپیاں کالج کی طرف سے مہیا کی جائیں گی۔
4۔ پرچہ شروع ہونے سے قبل سپرنٹنڈنٹ طلباء کو ضروری ہدایات دے گا۔جس کے وہ پابند ہوں گئے
5۔ مقررہ وقت کے پندرہ منٹ بعد آنے والے امیدواروں کو کمرہ امتحان میں داخل ہونے سے روک دیا جائے گا۔
6۔ امتحان شروع ہونے کے بعد نصف وقت گزرنے سے قبل کسی طالب علم کو کمرہ امتحان سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
7۔ اگر کمرہ امتحان میں کسی طالب علم کے پاس یا نزدیک کوئی کتاب، کاغذ یا کاپی موجود ہوئی یا وہ کسی دوسرے امیدوار سے امداد لیتا یا دیتا یا نقل کا کوئی اور ذریعہ اختیار کرتے دیکھا گیا تو سپرنٹنڈنٹ کو اختیار ہو گا کہ وہ کمرہ امتحان سے اسے باہر نکال دے۔
8۔ اگر کوئی طالب علم جوابی پرچے میں غیر اخلاقی و ناشائستہ کلمات تحریر کرے گا یا سپرنٹنڈنٹ کے احکام کی خلاف ورزی یا نافرمانی کرے گا یا کسی قسم کا شور و غل کرے گا تو سپرنٹنڈنٹ اسے کمرہ امتحان سے نکال دینے کا مجاز ہو گا۔
9۔ تمام متنازعہ معاملات کی چھان بین امتحانی کمیٹی کرے گی جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ کمیٹی جرم ثابت ہونے پر طالب علم کے خلاف درج ذیل کاروائی کی سفارش کر سکتی ہے۔ تاہم متاثرہ متعلم پرنسپل سے فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل کر سکے گا پرنسپل کا فیصلہ قطعی و آخری ہو گا۔
(الف) جس مضمون کے امتحان سے اسے خارج کیا گیا اس میں ناکام قرار دے دے۔ (ب) مکمل امتحان میں فیل قرار دے دے۔
(ج) سزا کے طور پر جرمانہ کر دے۔ (د) غیر اخلاقی حرکت، بدتمیزی یا شر انگیزی کی بناء پر کالج سے خارج کر دے۔
10۔ ہر جماعت کا تحریری پرچہ روزانہ صرف ایک ہو گا۔
11۔ آزمائشی امتحان میں ناکام رہنے والے طلباء کو سندی امتحان میں شریک ہونے سے روک دیا جائے گا۔
سالانہ امتحان نیشنل کونسل برائے طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان
1۔ سالانہ امتحان میں ہر طالب علم مکمل مضامین کے ساتھ یا کمپارٹمنٹ مضامین کے ساتھ امتحان دے سکتا ہے بشرطیکہ مذکورہ طالب علم نے فارم و فیس داخلہ بروقت جمع کرادی ہو ور وہ اس کا اہل ہو۔
2۔ سالانہ امتحان میں عدم شرکت کی وجہ سے خواہ وہ کسی وجہ سے بھی ہو (مثلاً حاضریوں کی کمی یا حادثہ وغیرہ) متذکرہ امیدوار کو ضمنی امتحان میں مکمل مضامین کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت نہیں ہو گی۔
3۔ ایسے امیدوار جو کسی سیشن میں دو مضامین سے زیادہ میں ناکام نہ ہوں ان کو مشروط طور پر اگلی کلاس میں داخل کیا جا سکتا ہے اور وہ ان مضامین میں آئندہ کمپارٹمنٹ کے امتحان اور سالانہ امتحان میں دوبارہ شرکت کر سکتے ہیں۔
4۔ وہ طلبا جو دو مضامین سے زیادہ میں فیل ہوں انہیں تمام مضامین کا دوبارہ امتحان دینا ہو گا۔
5۔ کسی بھی امیدوار کا اس وقت تک اگلے سال کی کلاس کا نتیجہ روک لیا جائے گا جب تک وہ پچھلے سال کے تمام مضامین میں پاس نہیں ہو گا۔
فیس سالانہ امتحان
1۔ سالانہ امتحان کی فیس نیشنل کونسل برائے طب کی ہدایات و احکامات کے مطابق ہو گی۔
2۔ مقررہ فیس داخلہ فارم کے ساتھ دفتر میں موصول ہونا لازمی ہے۔
3۔ ایک امتحان کیلئے داخل کرائی گئی فیس صرف اسی امتحان کیلئے قبول ہو گی اور اگلے امتحان کیلئے منتقل نہ ہو گی۔
داخلہ بھیجنے کی شرائط
1۔ طالب علم کو سال بھر میں ستر فیصد حاضریاں کرنے کی تصدیقی سلپ حاصل کرنا ہو گی۔ ستر فی صد حاضریاں پوری نہ ہونے کی صورت میں پرنسپل صاحب کو داخلہ نہ بھیجنے کا اختیار ہو گا۔
2۔ کالج کے جملہ واجبات ادا کرنا ہوں گے۔
3۔ لائبریری، لیبارٹریز، شفاخانہ بیرونی اور دیگر شعبہ جات کے انچارج حضرات سے کلیرنس سر ٹیفکیٹ لینا ہو گا۔
4۔ طالب علم کے خلاف کسی قسم کا غیر اخلاقی کیس (کالج سے متعلق) نہ ہو ۔
امتحانی قواعد و ضوابط
الف) فارم داخلہ)
1۔ ہر لحاظ سے مکمل فارم داخلہ وصول کیا جائے گا۔
2۔ فارم داخلہ اور امیدوار کی تصاویر کی تصدیق پرنسپل کالج سے کرائی گئی ہو۔
3۔ فارم داخلہ پر تمام مطلوبہ جگہوں پر متعلم اور پرنسپل کے دستخط اور مہر پرنسپل ثبت ہو۔
4۔ فیس امتحانات جمع کرا دی گئی ہو۔
5۔ مقررہ حاضریوں کی تعداد پوری ہو۔
6۔ حاضریوں کی تکمیل اور تاریخ داخلہ کی تصدیق پرنسپل صاحب نے کی ہو۔
7۔ فارم داخلہ مقررہ تاریخ کے اندر اندر دفتر میں وصول ہو گیا ہو وگرنہ فارم داخلہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی لحاظ سے نامکمل
فارم داخلہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
ب) شمولیت امتحان )
1۔ امتحان میں شامل ہونے کا صرف وہی طالب علم اہل ہو گا جس کا رول نمبر جاری کیا جائے گا۔
2۔ کوئی طالب علم بیک وقت دو جماعتوں کا امتحان اکٹھا نہیں دے سکتا۔
3۔ جب تک کوئی طالب علم اپنی سابقہ کلاس مکمل مضامین کے ساتھ پاس نہیں کر لیتا وہ اگلی جماعت میں داخل نہیں ہو سکتا۔
پ) ضمنی امتحان )
1۔ فیس داخلہ برائے ضمنی امتحان سالانہ امتحانات کی فیس کے مساوی ہے۔
2۔ ضمنی امتحان میں صرف کمپارٹمنٹ والے متعلمین شامل ہو سکتے ہیں۔
3۔ کمپارٹمنٹ زیادہ سے زیادہ دو مضامین تک ہوسکتی ہے۔
4۔ کمپارٹمنٹ والے امیدواروں کے لیے دو چانس ہوں گے۔
5۔ کوئی بھی طالب علم کسی بھی صورت میں ضمنی امتحان میں مکمل مضامین کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتا۔
6۔ جب تک کوئی طالب علم ایک جماعت کا امتحان مکمل پاس نہیں کر لیتا اس کو اگلی جماعت میں ترقی نہیں دی جا سکتی اورنہ ہی وہ اگلی جماعت کا امتحان دے سکتا ہے۔
7۔ تین سال تک ایک جماعت میں فیل ہونے والا طالب علم آئندہ کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے گا۔
ت) نتائج)
1۔ صرف اہل امیدواروں کا نتیجہ شائع کیاجائے گا۔
2۔ کسی متعلم کے خلاف سپرنٹنڈنٹ، نگران، انسپکٹرز یا پرنسپل صاحبان کی رپورٹ پر (سنگین الزامات ثابت ہونے کی بنیاد پر) اس کا نتیجہ روکا جا سکتا ہے اور اس کے شائع کردہ نتائج کو منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ٹ) جانچ پڑتال جوابی کاپیاں)
1۔ امتحان کا نتیجہ شائع ہونے کے پندرہ دن کے اندر اندر جوابی کاپیوں کی جانچ پڑتال کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے اس کے بعد وصول ہونے والی درخواست پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا۔
2۔ درخواست کا پرنسپل کالج کی معرفت ارسال کرنا ضروری ہے۔
3۔ مقررہ فارم پر درخواست دی گئی ہو۔
4۔ درخواست کا جواب پرنسپل کالج کی معرفت دیا جائے گا۔
5۔ طالب علم نے مقررہ فیس جمع کرا دی ہو۔
امتحانات کا طریقہ کار
امتحانات نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان کے زیر اہتمام ہوتے ہیں کونسل کی ہدایات کے مطابق امیدواران کے لئے لازم ہے کہ وہ وقت مقررہ سے 15منٹ قبل کونسل سے جاری شدہ رول نمبر کے مطابق ہی اپنی نشست پربیٹھیں۔
q رول نمبر سلپ کے بغیرامیدوار کمرہ امتحان میں بیٹھنے کا مجاز نہ ہوگا۔
q امتحانی کمرے میں نقل کرنے والا ‘نقل میں معاونت کرنے والا‘نقل سے متعلق کسی بھی قسم کا مواد کمرہ امتحان میں لے جانیوالا اور کمرہ امتحان میں نظم و ضبط کو برقرارنہ رکھنے والا امتحانی قوانین کے مطابق قابل مواخذہ ہوگا۔
q ہر امیدوار کے لئے لازم ہے کہ دوران حاضری نام ‘ولدیت ‘رول نمبر اور جوابی کاپی کا نمبر درست تحریر کرے اور اپنے وہی دستخط کرے جو رول نمبر سلپ پر ثبت ہیں۔
q مخصوص جگہ کے علاوہ کسی اور جگہ اپنا رول نمبر ‘نام یا نشانی تحریر کرنے والے کو اس مضمون میں فیل قرار دیا جائے گا۔
q جوابی کاپی کے اوراق کے دونوں جانب لکھیں درمیان میں صفحہ خالی نہ چھوڑیں‘ بچ جانے والے خالی صفحات پرX کا نشان لگا دیں۔
q زائد شیٹس استعمال کرنے کی صورت میں اصل جوابی کاپی کے ساتھ اچھی طرح نتھی کریں اور تعداد درج کریں۔
q عملی امتحان کے لئے ضروری ہے کہ امیدوار اپنی پریکٹیکل کاپی ساتھ لائے ۔ انچارج مضمون کے دستخط ہونا ضروری ہیں۔
q دو تک مضامین میں فیل ہو جانے والے امیدوار ضمنی امتحان دینے کے اہل ہو نگے۔
q زائد مضامین میں فیل ہو نے کی صورت میں آئندہ سالانہ امتحان میں مکمل مضامین کا امتحان دینا ہوگا۔
q کسی ایسے فرد کا کمرہ امتحان میں بیٹھ کر امتحان دینا جو کسی اور کی جگہ امتحان دے رہا ہو قابل مواخذ ہ جرم تصور ہوگا۔
q طالب علم/طالبہ پر چہ حل کرنے کے لیے صرف نیلی یا کالی سیاہی استعمال کرنے کا پابند ہے۔
q امتحانی سنٹر میں موبائل فون لیجانا سخت منع ہے۔
q مذکورہ بالا ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں کونسل کی جانب سے امتحانی قوانین کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واجبات کالج
کلا س فیس ماہوار کثیرالمقاصدفنڈ ماہوار ٹوٹل ماہوار
467 سال اول 167 300
سال دوئم 167 300 467
سال سوئم 167 400 567
سا ل چہارم 167 400 567
داخلہ جماعت --- --- 2000
1000 --- --- Readmission Fee
انرولمنٹ فیس 100 شناختی کارڈ 30 سالانہ داخلی امتحان 50
بلڈنگ فنڈ 100 پروویثرنل سرٹیفیکٹ 200 شفاخانہ 200
کالج سے متعلقہ واجبات فیس ،تعلیمی فیس ششماہی وار (جولائی تا دسمبر اور جنوری تا جون)دو اقساط کی صورت میں پیشگی مقررہ تاریخوں میں یکمشت ادا کرنا لازمی ہے ۔نوٹ *درخواست دے کر ماہانہ اقساط میں جمع کرانے کی اجازت بھی لی جاسکتی ہے ۔وصول شدہ واجبات ناقبل واپسی ہوں گئے بصورت دیگرماہ وصولی کی تاریخ کو نام خارج کر دیا جائے گا ۔
فیس معافی
ہرسال 3%ایسے غریب اور مستحق طلباء حسب حالات کلاس انچارج کی سفارش پر پرنسپل کو درخواست دے سکیں گے ۔ پرنسپل تہائی، نصف فیس یا مکمل فیس اپنی سفارش سے کالج کمیٹی کی منظوری کے بعد معاف کر سکے گا ۔لیکن اس میں فنڈز شامل نہ ہوں گئے ۔سالانہ یا داخلی امتحانات میں فیل ،غیر حاضر ،بد اخلاق طلباء اس رعایت کے مستحق نہ ہوں گئے
نوٹ*پراسپکٹس کی موجودہ اشاعت تمام سابقہ اشاعتوں کو منسوخ کرتی ہے
پوزیشن ہولڈرزسالانہ امتحانات نیشنل کونسل فارطب حکومت پاکستان
نام و ولدیت
کلاس
حاصل کردہ نمبر
پوزیشن
سال
محمد منظور ولد چوہدری حشمت علی
اول
408
اول
2000
پراسپکٹس
اسلامک یونانی میڈیکل کالج لاہور
(منظور شدہ نیشنل کونسل فارطب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان )
3/4سوک سنٹر ‘ لیاقت چوک ‘سبزہ زار سکیم لاہور
فون نمبر:042 37443206, 0300 4102044