Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official

Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official Rahimia Institute of Quranic Sciences strives to foster collectivism and instil unity of thought among responsible youth of the country.

The Rahimia Institute is an educational organization that aims to create a society based upon the Quran's universal principles of peace, justice and prosperity for all people. With its five campuses in Karachi, Sukkhur, Rawalpindi, Multan and Lahore, Rahimia Institute is rapidly preparing conscientious, intelligent, socially-aware human resource educated to take on the challenge of country’s devel

opment. Rahimia Institute considers the youth of this country an asset which must be valued and groomed to accept the responsibility of this society. The Institute manages to do this by proactively engaging the youngsters of this country through various seminars, discussion forums, Friday congregations and numerous other activities. The primary objective of all these activities is to instill among Pakistani youth the significance of systematically understanding the Quranic principles of a worthy society. For more information visit http://www.rahimia.org/about-us

08/09/2026

توحید کی اساس پر فکری و سماجی غلامی سے آزادی اور مساوات پر مبنی مستحکم نظامِ حیات کا قیام: رحمۃُ للعالمینﷺ کے راہ نما کردار کی عصری اہمیت

خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ

بتاریخ: 21؍ ربیع الاوّل 1448ھ / 4؍ ستمبر 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس

خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ٘-یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ (157)
سورۃ الاعراف:7 (157)
ترجمہ: وہ لوگ جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں، جو نبی اُمّی ہے، جِسے اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ ان کو نیکی کا حکم کرتا ہے اور بُرے کام سے روکتا ہے، اور ان کے لیے سب پاک چیزیں حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے ان کے بوجھ اور وہ قیدیں اتارتا ہے جو ان پر تھیں۔ سو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی حمایت کی اور اُسے مدد دی اور اس کے نور کے تابع ہوئے، جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے، یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔

۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ بعثتِ نبویﷺ بطور رحمت للعالمین
✔ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا ممالک پر سیاسی و معاشی غلامی مسلط کرنے کی روِش
✔ تمام مخلوق پر انسان کی وجہ فوقیت: عقل و بصیرت
✔ موجودہ دور میں استحصالی طاقتوں کا بنیادی ہدف: انسانیت کی فکری غلامی
✔ ملکِ عزیز میں سیاسی عدمِ استحکام کی سیاہ تاریخ
✔ انبیائے کرامؑ کی دعوتِ توحید کا لازمی نتیجہ: فکری اور نظریاتی آزادی اور طاغوتی طاقتوں کا ردّ
✔ دعوتِ توحید کا پیغام: فکری، سماجی، سیاسی و معاشی غلامی سے انکار
✔ قریشِ مکّہ کے طبقاتی نظام کے بالمقابل نبی رحمتﷺ کا مساوات پر مبنی سماجی نظام
✔ توحید کے اصولوں پر قائم سماجی مساوات کا حامل مثالی نبوی معاشرہ
✔ نظریہ توحید کا عملی تقاضا: طبقاتی نظام کا خاتمہ
✔ خطبے میں مذکور مرکزی آیت کا پسِ منظر
✔ نبی اکرمﷺ کے فرائضِ منصبی: امر بالمعروف و نہی عن المنکر
✔ نبی اکرمﷺ کے فرائضِ منصبی: طیّب اور خبیث کا عِلم
✔ دینِ اسلام میں نماز بطور مساوات کے لازمی نظام کا عملی نمونہ
✔ نبی اکرمﷺ کے فرائضِ منصبی: جماعت صحابہؓ پر مظالم کے بوجھ کی کمی کرنا
✔ مہاجرینِ حبشہ کی واپسی کے لیے وفدِ قریش کی سازشیں
✔ حضرت جعفر طیّارؓ کا نجّاشی کے دربار میں دینِ اسلام کا پیغام پہنچانا
✔ مُلکِ عزیز میں سیاسی عدمِ استحکام کی سیاہ تاریخ اور اس کی بنیادی وجہ
✔ ماہِ ربیع الاوّل میں سیرتِ رسولﷺ کی نسبت کے تقاضے
✔ نبی اکرمﷺ کا اُسوہ حسنہ: اعلیٰ فکر پر تربیت یافتہ جماعت کا قیام
✔ سماجی تبدیلی کا بہترین لائحہ عمل: سیرتِ نبویﷺ

07/09/2026

نورِ محمدیؐ اور مقتدر اوصافِ پنج گانہ : فلسفہ بعثت اور اہلِ حق وارثین کی انسان دوست ذمہ داریاں

خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 21؍ ربیع الاول 1448ھ / 04؍ ستمبر 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، پشاور کیمپس
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا۔ (33 – الأحزاب: 45-46)
ترجمہ: ”اے نبی ! ہم نے آپ کو بلاشبہ گواہی دینے والا اور خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بُلانے والا اور چراغ روشن بنایا ہے“۔
حدیثِ نبویﷺ:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169)
ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“

🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ ربیع الاول‘ انسانوں کی روحانی ترقی اور دلوں میں نورِ محمدی کے ذریعے سے نورِ خداوندی کی پرورش کا مہینہ
✔️ کرۂ ارض پر ظلم و کفر اور روحانی مُردَنی کے خاتمے کے لیے ’ازکی خلقِ اللہ‘ روحِ محمدﷺ کا انتخاب اور بعثت
✔️ نبی اکرمؐ کا نور اور وجودِ گرامی‘ باعثِ تخلیقِ کائنات نیز جسمانی فضائل اور نورانی و روحانی تاثیرات
✔️ جسمانی اور عقلی نشو و ارتقاء اور کامل انسان بننے کا دورانیہ‘ مثالوں سے وضاحت
✔️ ماہِ ربیع الاول اور چالیس سال کی عمر مبارک میں سچے خوابات کی صورت میں انخصرتؐ کی نبوت و رسالت کے اظہارات
✔️ نبوت و رسالت کا تئیس سالہ تدریجی ارتقاء؛ وحی الہی، نزولِ قرآن اور تکمیلِ دین
✔️ ربیع الاول میں وصال؛ روضۂ رسول میں روحِ محمدیﷺ کی روحانیت و نورانیت کا برزخی نشو و ارتقاء اور فیوضات و برکات
✔️ ربیع الاول میں سیرتِ مقدسہ کا تذکرہ‘ دلوں کو منور کرنے اور محبتِ رسولؐ پیدا کرنے کا ذریعہ
✔️ نبی اکرمؐ کی نبوت کے فیضان سے کائنات اور آدمیت کی ابتدا اور خاتم النبیین کی وجہ سے تا قیامت کوئی نیا نبی نہیں آئے گا
✔️ حضرت عیسیٰؑ کے دنیا میں نزول اور آمد کا ہدف اور مقصد
✔️ دنیا میں حضورؐ کی پیدائش اور اعلانِ نبوت سے میدانِ حشر تک آپؐ کی نبوت اور حکومت (اتھارٹی) برقرار اور قائم ہے
✔️ خلفاء اور اولیاء کی صورت میں فیضِ و برکاتِ نبوت تک قیامت جاری نیز حضرت مہدی کی آمد کا مقصد
✔️ محبتِ رسولؐ کے بغیر ایمان نامکمل
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر؛ غزوۂ احزاب کے موقع پر عرب کی تمام قوتوں کی مدینہ پر یلغار اور صحابہ کرامؓ کا امتحان
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں ریاست، اتھارٹی اور حکومت سے متعلق رسول اللہؐ کے پانچ اوصاف (شاہد، مبشر، منذر، داعی اور سراج منیر) کی توضیح و تشریح
✔️ ’دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ‘ کی روشنی میں منصبِ دعوت کے تقاضے، شیخ و مرشد کی تربیت اور اجازت کی ضرورت و اہمیت اور آج کا المیہ
✔️ منصبِ دعوت اور وعظ کا اختیار صرف بادشاہ وقت اور با رعب عالم کو حاصل ہے
✔️ مولانا الیاس دہلویؒ کی چھ نمبروں کی دینی دعوت و تبلیغ اور منصبِ دعوت کے حوالے سے بڑی غلطی فہمی کا ازالہ
✔️ پانچواں نبوی وصف؛ سراجِ منیر کے نتائج (دنیا کا ہر کونہ نورِ محمدیﷺ سے روشن اور مکمل دینی غلبہ)
✔️ حدیثِ نبوی میں حضورؐ کے پانچ صفاتی نام اور ان کے اثرات و نتائج
✔️ ورثة الانبیاء: علماء کا پانچ نبوی اوصاف اپنانے اور دور کے تقاضے کے مطابق کردار ادا کرنے کی ناگزیر ضرورت
✔️ پانچ نبوی اوصاف کی اساس پر برعظیم پاک و ہند میں حریت پسند علماء کے کردار و افکار اور ان کی اتباع کی ضرورت و اہمیت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا

04/09/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 30
(دوسرا مقالہ: مبحثِ اول، فصل؛ 1)
معرفتِ الٰہی کی فطری اساس اور حنیفی طریقۂ : معاشی و ربّانی عقل کی اساس پر خدا شناسی کا ابراہیمی اسوہ

مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 31؍ جنوری 2024ء / 19؍ رجب المرجب 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ فصل کا بنیادی موضوع؛ انسان فطری طور پر معرفتِ الہی حاصل کرسکتاہے
✔️ فصل کے نصفِ اول کا خلاصہ
✔️ ناقص و سطحی سوچ کی اساس پر نظامِ کائنات کا مرکزہ تلاش کرنے والے کوتاہ بین مناطقہ و فلاسفہ
✔️ حنیفی طریقہ؛ روح کی اساس پر خدا شناسی کا ابراہیمی اسوہ
✔️ طریقۂ حنیفیّن کی تفصیلات؛ عقلی معاشی اور عقلی ربّانی
✔️ انسان کو عقلِ ربّانی ودیعت کی گئی ہے
✔️ ہر انسان‘ اپنی عقلِ معاشی کی استعداد اور ذہنی سطح کے اعتبار سے معرفتِ الہی کا ادراک رکھتا ہے
✔️ دینِ حنیف کا پیروکار؛ عقلِ معاشی کی اساس پر رب کی معرفت حاصل کرنے والا
✔️ شدھی سَنگَھٹن تحریک میں علمائے ربّانین کی دعوتی حکمت عملی
✔️ عقلِ معاشی سے معرفتِ خداوندی کی تین ظاہری صورتیں
✔️ ظہورِ حق کے بعد دنیا و آخرت میں ترقی کے اگلے مراحل کا سفر
✔️ معرفتِ الہی کے بحارِ ذخّار سے نفسِ ناطقہ کے کوزۂ صغیر میں فطری معرفت ودیعت کی گئی ہے
✔️ کوزۂ صغیر میں رکھی گئی استعداد سے فطری معرفت کی تمثیلی توضیح
✔️ اجمالی قاعدہ (المعدوم لا یماثلہ شیء) کی وضاحت
✔️ شہد کی مکھی اور چڑیا کی طرف کی گئی وحی کی نوعیت
✔️ ہر انسان کو خدا کے ادراک کی فطری استعداد‘ وہبی طور پر عطا کی گئی ہے
✔️ ایک سوال کا جواب
✔️ قاعدۂ کلیہ کی روشنی میں معرفتِ الہی کی تحقیقِ مزید
✔️ قاصرین (ملتِ طبیعیّین، صابئین اور مشرکین) کی حالت؛ سطحی مشاہدہ، ناقص علم اور کامل معرفت سے کوتاہی کی وجہ سے فطرت مسخ
✔️ معرفتِ خداوندی کے راستے کے تین حجابات؛ طبیعت، مألوف (رسم) اور محسوس
✔️ اس وجدانی معرفت کی اساس پر انسان کی اختصاصی حیثیت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

02/09/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 29
(دوسرا مقالہ: مبحثِ اول، فصل؛ 1)
طبیعتِ انسانی اور معرفتِ الٰہی: امامِ نوعِ انسانی کی رہنمائی میں حکمتِ ربانی و عقلی کا ولی اللہی مطالعہ

مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 24؍ جنوری 2024ء / 12؍ رجب المرجب 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ فاتحة الکتاب میں تمام انسانوں کے لیے امامِ نوع انسانی کے معیار اور بطور نمونہ ہونے کا ذکر
✔️ پہلے مقالے میں انسان کی بھیمیت (نسمہ اور جسمانی ساخت) سے متعلق علمِ اخلاق اور علمِ ارتفافات کی تفصیلات کا بیان ہوا
✔️ دوسرے مقالے میں (ا) امامِ نوع انسانی کے واسطے سےقربِ بارگاہ الہی اور معرفتِ خداوندی کے حصول کے لیے انسانی طبائع (نفسِ ناطقہ) کی علمی و عملی صلاحیت و استعداد کا ذکر
✔️ (ب) اس معرفت و قربِ الہی کے نتیجے میں روحِ ملکوتی میں دنیا کے ہر شر سے اجتناب اور مقابلہ کرنے کی طبعی اہلیت و صلاحیت
✔️ (ج) اسی استعداد کی بنا پر مرنے کے بعد تین مواطن؛ قبر، حشر اور جہنم کے عذاب سے نجات حاصل کرنے کا طبعی تقاضا
✔️ دوسرے مقالے کے عنوان کی مزید وضاحت
✔️ دوسرے مقالے میں براہین (حکمتِ نظری) اور عقلِ معاشی(حکمتِ عملی) کی اساس پر تقربِ الہی کے ہر مسئلے پر بصیرت افروز اور شعوری غور و فکر
✔️ مقالے کی تقسیم کار؛ پانچ مباحث میں فصول کی تقسیم
✔️ مبحثِ اول کی چھ فصلوں میں عقلی طور پر ذاتِ باری تعالیٰ، صفاتِ الہی، اسمائے حسنیٰ، آیات و نشانیاں اور ایمان بالقدر کی معرفت و شناسائی
✔️ پہلی فصل میں طبیعتِ انسانی کو عطا کی گئی خدا شناسی کی عقلی تحقیق و تفتیش
✔️ حکمت و برہانِ قاطع کی اساس پر ذاتِ واجب الوجود کے ثبوت کے تین دلائل
✔️ وحدت الوجود اور وحدت الشھود کے اختلافی اِبہام کا تصفیہ
✔️ ایک قلمی نسخے کے حاشیے میں مصنفِ علّام شاہ صاحبؒ کی عبارت سے معرفتِ خداوندی کے تین دائروں کی وضاحت
✔️ طبیعتِ انسانی کا مادی دائروں سے الگ ہو کر معرفتِ الہی کے راستے کی طرف تجرّد (فارغ ہونے) کے طریقے کو جاننا ضروری
✔️ جانور اور انسان کی یکساں علمی و طبعی حالت اور ایک مثال سے وضاحت و استدلال
✔️ بسا اوقات بعض جزئیات (جانوروں) میں قاعدہ کلیّہ کے قابلِ عمل نہ ہونے کی وجوہات
✔️ شرفِ انسانیت کی اساس پر قاعدہ کلیّہ کے دو امتیازی علمی پہلو؛ شدّتِ تنبّہ اور کمالِ علم کا حصول
✔️ جانور کی عادت کے تحقیقی جائزے کی اساس پر شرفِ انسانی کے دو امتیازی علمی پہلؤوں کی مزید تحقیق
✔️ انسان کا منظم داخلی نظام اور کائنات کے ہمہ گیر آفاقی نظام کا تقاضا؛ طبائعِ انسانی میں موجبِ کائنات (اللہ تعالیٰ) کا علم موجود ہے
✔️ ناقص استعداد والوں کا واجب الوجود‘ ذات کے تعین اور مرکزہ تلاش کرنے میں کوتاہی کا منطقی جائزہ
✔️ پہلا طریقہ؛ ناقص رائے سے قوتِ فعّالہ کی تفتیش و تحقیق کرکے عملی نظام بنانے والے حکماء و فلاسفہ اور ان کا اخروی معاملہ
✔️ دوسرا طریقہ؛ حضرت ابراہیمؑ کا معرفتِ خداوندی کا حنیفی طریقہ اور ملکوتی نظام تک رسائی کے لیے خالص توجہ
✔️ انسان کی دو عقلیں؛ عقلِ معاشی اور عقلِ ربّانی

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

31/08/2026

معاشرے کی تعمیر نو کے لیے سماجی شعور اور جدوجھد کی اہمیت: قبل از بعثت، نبوی ﷺ سماجی سرگرمیوں کا مطالعہ

خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ

بتاریخ: 14؍ ربیع الاوّل 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس

خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (128)
سورۃ التوبہ: 9 (128)
ترجمہ: البتہ تحقیق تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا ہے، اسے تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے، تمہاری بھلائی پر وہ حریص ہے، مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والا، مہربان ہے۔

۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ بعثتِ نبویﷺ سے قبل عالمِ انسانیت کے فکری، سماجی اور اخلاقی حالات
✔ انبیائے کرامؑ کو اپنی قوم میں مبعوث کرنے کی سنّت اللہ
✔ اجنبی زبان کو معاشرے میں پروان چڑھانے کی ظالمانہ روِش کا مقصد
✔ قومی زبان میں تعلیم و تربیت کے اہتمام کا نبوی طریقہ کار
✔ مکہ میں بعثتِ نبویﷺ کے وقت تین اقسام کے معاشرتی طبقات
✔ مکّہ میں قبائلی چپقلش کی وجہ سے بدامنی کا فروغ
✔ نبی اکرمﷺ کی سماجی بصیرت اور کردار
✔ کُل قومی تعمیر و ترقی میں انبیائے کرامؑ کا اساسی کردار
✔ سماجی اور اجتماعی اُمور میں بھرپور شمولیت کا نبوی اُسوہ حسنہ
✔ رسول اکرمﷺ کی قبل از بعثت معاہدہ حِلف الفضول میں شرکت
✔ سیرتِ طیّبہ ﷺ میں معاہدہ حِلف الفضول کی اہمیت
✔ موجودہ سماج میں ظالم طبقات کی بابت بے حِسی و بے شعوری کا جاہلانہ رویّہ
✔ موجودہ ظالمانہ نظام کی سفّاکیت کے شعوری اِدراک کی ضرورت
✔ رسولِ اکرمﷺ کا قبل از بعثت بھرپور سماجی کردار بطور دلیلِ نبوّت اور مدعیّانِ نبوّت کے ردّ کی کسوٹی
✔ حضرت ابوبکر صدّیق کا سفرِ معراج کی تصدیق کرنا اور مقامِ صدّیقیت کا حُصُول
✔ حضرت خُزیمہؓ کا رسولِ اکرمﷺ کے معاملے کی تصدیق، گواہی دینے کا واقعہ اور اُن کا اِعزاز
✔ رسولِ اکرمﷺ کا اعلیٰ سماجی کردار اور نبوّت کے فرضِ منصبی کا لازم و ملزوم تعلق
✔ حضرتِ خدیجہؓ کی زبانی رسولِ اکرمﷺ کی قبل از بعثت زندگی کا خُلاصہ
✔ رسولِ اکرمﷺ کا بعثت کے ذریعے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کا اجتماعی سماجی نظم و ضبط قائم کرنے کا اُسوہ
✔ رسولِ اکرمﷺ کا قوم کی ہدایت و راہ نمائی کے لیے انتہائی فکرمندی اور اہلِ ایمان کے لیے حدّ درجہ شفقت کا رویّہ
✔ محبّت رسولﷺ کا بنیادی تقاضا: نبی اکرمﷺ اور جماعتِ صحابہؓ کی اتباع

30/08/2026

مقتدر کردار اور قوتِ نافذہ کا نبوی ﷺ اسوہ اور عادلانہ نظام کے قیام کی ناگزیریت
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 14؍ ربیع الاول 1448ھ / 28؍ اگست 2026ء
بمقام: جامع مسجد قباء، مانسہرہ
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1- وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ-وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا (17 –بنى اسرائيل:105)
ترجمہ : ”اور سچ کے ساتھ اتارا ہم نے قرآن اور سچ کے ساتھ اترا اور تجھ کو جو بھیجا ہم نے سو خوشی اور ڈر سنانے کو“ ۔
2۔ هُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا۔
ترجمہ: ”اس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے، اور کافی ہے اللہ حق ثابت کرنے والا “ ۔ (48–الفتح:28)
حدیثِ نبویﷺ:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ، وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ . (صحیح مسلم، حدیث: 169)
ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔“

🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
0:00 آغاز خطاب
2:01 ماہِ ربیع الاول کو سیرتِ رسول اکرمﷺ سے خصوصی نسبت حاصل
3:23 اقوامِ عالم کا دستور؛ قومی رہنماؤں کی سیرت و کردار کی یاد کے لیے دن مختص کرنا
5:00 اطاعتِ رسولؐ ہی دنیا و آخرت میں بھلائی اور کامیابی کی ضامن!
6:33 سیرتِ نبی اکرمﷺ پر گفتگو کے آداب، مقاصد و اہداف اور عملی تقاضے
8:42 منصبِ رسالت کے فہم کے تناظر میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے شہنشاہ مطلق اور مالک الملک ہونے پر تفصیلی گفتگو
10:00 ’رسول‘ کا حقیقی مفہوم اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپؐ کی عالمگیر حکمرانی کا اعلان
11:38 کائنات کا حقیقی بادشاہ اور شہنشاہِ مطلق‘ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے
26:09 دنیا میں احکاماتِ الٰہیہ کے نفاذ کی اتھارٹی کے طور پر شہنشاہِ مطلق کی جانب سے انبیاءؑ کی بعثت
27:59 حضورؐ سے پہلے تمام انبیاء ایک مخصوص قوم، جغرافیے اور زمانے کے لیے مبعوث ہوئے
32:04 رسول محض ڈاکیا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دین کے نفاذ کے لیے قوت نافذہ بھی لے کر آتا ہے
33:04 قرآنِ حکیم؛ انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے برحق پیغام
33:53 قرآن حکیم میں انسانی سماج اور اجتماعیت کی بنیادی اقدار کی دستوری ہدایات
34:47 نبی اکرمؐ کی اتھارٹی (قوتِ نافذہ) کے دو اہم لوازمات‘ بشیر اور نذیر ہونے کا حقیقی مفہوم
39:20 نبی کی اتھارٹی کا پہلا تقاضا‘ حکومت و بادشاہت
42:46 دورِ غلامی کے تصورِ رسالت میں اتھارٹی کا انکار اور دین کی حکومت کا تصور مفقود ہو گیا
54:31 حضرت محمدؐ کے معلمِ انسانیت ہونے کا حقیقی مفہوم، ریاستِ مدینہ کی تشکیل کی اساسیات اور نظامِ عبادات کی روشنی میں حکومت، اتھارٹی اور نظام کے قیام کی اہمیت
59:17 نبی اکرمؐ کی کتابِ ہدایت قرآنِ حکیم کے ساتھ بعثت نیز کتابِ ہدایت کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے اتھارٹی اور نظام کی ضرورت
1:02:13 دینِ حق؛ رسول اللہ کی ہدایات پر مشتمل سسٹم کی توضیح و تشریح؛ انسانیت کو ہدایت یافتہ بنانے کے لیے حکومتی اتھارٹی قائم کرنے، ماحول بنانے اور مواقع بنانے کی ضرورت ہے
1:06:36 حضورؐ کی جانب سے راستوں کو روکنے کی ممانعت نیز ’السلام علیکم‘ کا حقیقی تقاضا‘ لوگوں کو امن، مالی تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی ہے
1:12:54 دینِ اسلام کے معاشی نظام میں دھوکہ دہی کی ممانعت نیز حضرت امام ابو حنیفہؒ کا معاشی لین دین میں دیانت و سچائی کا مشہور واقعہ
1:17:31 سیرتِ نبویؐ کا لازمی تقاضا‘ دینِ اسلام کے اجتماعی نظام کا قیام ہے
1:21:34 خلفائے راشدین کا دینِ اسلام کے استحکام، حکومتی رٹ قائم کرنے، ظالمانہ نظام کے خاتمے اور عادلانہ نظام کے قیام کےلیے بے لاگ کردار
1:26:19 خلافتِ بنو امیہ کے دور میں بلوچستان سے اٹک تک اور بنو عباس کے دورِ خلافت میں لاہور تک فتوحات
1:28:43 اولیاء اللہ کے نزدیک ظلم کی سیاست کی نفی اور دینِ اسلام کی سیاست کی ضرورت اور اہمیت
1:30:15 مولانا الیاس دہلویؒ کا شریعت، طریقت اور سیاست کی جامعیت پر مبنی تصورِ دین
1:32:19 یہودی اور عیسائی اپنے دین میں سود کی ممانعت کے باوجود سود خوری کرتے ہیں کیونکہ وہ انبیاء کو اتھارٹی نہیں مانتے
1:33:03 رسول اللہﷺ کے حکمران (اتھارٹی) ہونے کی حیثیت سے عادلانہ حکومت کے قیام کی ناگزیریت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

27/08/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 28
(پہلا مقالہ: مبحثِ سابع، فصل؛21 ، 22)
(پہلے مقالے کی آخری بحث)
مزاجِ انسانی: منطقی اصول، انبیائی ادوار اور نظامِ ارتفاقات میں کردار

مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 17؍ جنوری 2024ء / 05؍ رجب المرجب 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ علم الاخلاق و علم الارتفاقات کی مباحث کی تکمیل کے بعد مزاجِ انسانی کے منطقی اصولوں پر مشتمل منفرد بحث کا آغاز
✔️ فصل؛ 19 میں انسانی مزاجوں سے اخلاق و ارتفاقات کے پھوٹنے کے عمل کی اصولی توضیح
✔️ افرادِ انسانی کے حقیقی مزاج تک رسائی کیسے ممکن ہے؟
✔️ مزاجِ انسانی کو ملاحظہ کرنے کے چار منطقی اصول:
✔️ ۱) صَلابت و صَفاء کا وزن معلوم کرکے ان سے اخلاق کی پیمائش تک رسائی
✔️ صَلابت و صَفاء کی وضاحت
✔️ صَلابت و صَفاء کے اعتبار سے کامل المزاج، مزاجِ تامّ و دیگر افراد کی جسمانی ساخت اور اخلاقی حالت کا جائزہ
✔️ ہر مزاج اور جبلّت کے خصوصی آثار اور نتائج کی تفصیلات
✔️ ۲) نظامِ ارتفاقات کے اعتبار سے درست مزاح کے حاملین حکمرانوں اور ہر شعبے کے سربراہان کی صفات کا جائزہ
✔️ ۳) ہمت کی بلندی اور پستِ ہمتی کے پہلو سے انسانوں کے مزاج کا مشاہدہ
✔️ ہمت کا معاملہ گنبد کی طرح نیز بچے، جوان اور سمجھ دار عقل مند شخص کی مثالوں سے ہمت کے قبّے کی وضاحت
✔️ خلیفہ مامون الرشید اپنی اعلی درجے کی ہمت کی بدولت غیر معمولی ذہانت و فطانت اور اعلی انتظامی صلاحیتوں کے مالک
✔️ ہر انسان اپنی ہمت کے قبّے کے مطابق علمی و عملی شعبہ، پیشہ اور منصب اختیار کرتا ہے۔
✔️ ۴) اصلِ فطرت (انبیاؑ کے مزاجوں کے) کے اعتبار سے انسانوں کے مزاج کی تفتیش، پہلے دور کے انبیاؑ کے مزاج؛ مزاجِ آدمی، مزاجِ ادریسی اور مزاجِ نوحی
✔️ دوسرے دور کے انبیاؑ کے مزاج؛ حضرت ابراہیمؑ سے لے کر حضرت محمدؐ تک
✔️ حدّت، سُبوغ اور اِمدادِ سماوی کی توضیح و تشریح
✔️ ردیُّ الترکیب اور سویُّ الترکیب افراد کی شجاعت اور کمزوری کے اعتبار سے فرق کی نوعیت
✔️ پہلے مقالے کی آخری فصل؛ 20 میں ارتفاقات اختیار کرنے کے حوالے سے لوگوں کو تنبیہ
✔️ علمِ اخلاق و علمِ ارتفاق بدیہی اور ہر انسان کی اصلِ فطرت کا حصہ
✔️ نظام ارتفاق کے حوالے سے شاہ صاحبؒ کی غیر سلیم الفطرت اور بد ذوق شخص پر کڑی تنقید اور دلائل سے ان کے نظریے کا بطلان
✔️ دو طبقات ان علوم کے منکر اور انبیاؑ کی ہدایت سے مستفید نہیں ہو سکتے؛ اہلِ بلاہت اور سوفسطائیہ
✔️ نظام کے تین درجات اور انسانی طبیعت کا اصل تقاضا‘ صحت مند نظام کا قیام
✔️ ارتفاقِ اول و ثانی کے اعتبار سے کرۂ ارض کا جائزہ نیز ارتفاقِ ثالث کے چار طرح کے نظام نیز بڑے مرض اور بحران کے پیدا ہونے کی وجہ

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

25/08/2026

دعاءِ ابراہیمی سے بعثتِ محمدیﷺ تک: اجتماعیت کا ارتقائی تسلسل اور محبّتِ رسولﷺ کا حقیقی تقاضا

خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ

بتاریخ: 7؍ ربیع الاوّل 1448ھ /21؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس

خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ -رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(127) رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪-وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا-اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(128) رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ (129)
سورۃ البقرۃ: 2 (127-129)
ترجمہ: اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے: اے ہمارے ربّ! ہم سے قبول کر۔ بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنا فرماں بردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرماں بردار بنا، اور ہمیں ہمارے حج کے طریقے بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ اے ہمارے ربّ! اور ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیج جو اِن پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب اور دانائی سکھائے، اور انہیں پاک کرے۔ بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔

۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ سلسلہ نبوّت کا تاریخی تسلسل اور نبی آخر الزّماںﷺ
✔ انسانی معاشرے کی ترقی میں حضرت ابراہیمؑ کا کردار
✔ تعمیرِ کعبہ کے موقع پر حضرت ابراہیمؑ کا دعاؤں کے ذریعے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا
✔ استقامت کا مفہوم اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت
✔ نئی اجتماعیت کی تشکیل کی بابت حضرت ابراہیمؑ کا ذہنی خاکہ اور اس کے قیام کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا
✔ نبوّت اور دین کے لیے اجتماعیت کی اہمیت اور حضرت ابراہیمؑ کا قیامِ اجتماعیت کے لیے دعا کرنا
✔ حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی قبولیت: مکّہ میں انسانی آبادی کا آغاز اور تمدّن کا قیام
✔ ابراہیمی دعا کے نتیجے میں دارالندوہ کی اجتماعیت کے ذریعے مکّہ کے شہری نظام کا قیام
✔ نبی اکرمﷺ کا فرائضِ منصبی کی تکمیل کے لیے اجتماعی جدوجہد کو اختیار کرنا اور قیامِ اجتماعیت کو بنیاد بنانے کا اُسوہ
✔ موجودہ دور کا المیہ: سیرتِ نبویﷺ کا انفرادی مطالعہ
✔ رسولِ اکرمﷺ کا شعوری بنیادوں پر عام انسان کی سطح پر زندگی گزارنے کا اُسوہ
✔ رسولِ اکرمﷺ کا جدوجہد سے بھرپور اور سادہ طرزِ زندگی گزارنے کا لائحہ عمل
✔ حقیقی محبّتِ رسولﷺ کی تشریح و توضیح: حضرت شیخ الہندؒ کا شعوری تجزیہ
✔ موجودہ دور میں بے شعوری پر مبنی محبّتِ رسولﷺ کے خود ساختہ تصوّرات کا جائزہ
✔ سیرتِ نبویﷺ سے عملی راہ نمائی کی ضرورت و اہمیت
✔ معاشرے میں رائج بے شعوری پر مبنی میلاد منانے کے غلط طریقوں کا تجزیہ
✔ رسول اکرمﷺ کی سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں
✔ نبی اکرمﷺ کے چار مناصبِ نبوّت اور مسلمان کا مطلوبہ کردار

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

24/08/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 27
(پہلا مقالہ: مبحثِ سادس فصل؛ 18 تا 20)
ارتفاقِ رابع (بین الاقوامی نظام) کی ضرورت و اہمیت، اور آداب و فرائض اور فساد کی صورت میں زیریں ارتفاقات کی حفاظت کا تصور
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 10؍ جنوری 2024ء / 27؍ جمادی الاخریٰ 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ ارتفاقِ رابع (بین الاقوامی نظام) کی ضرورت و اہمیت
✔️ بین الاقوامی نظام اور امنِ عالَم کے قیام کے عناصر اور خط و خال
✔️ خلافتِ راشدہ کا نظام قائم ہو سکتا ہے؟
✔️ بین الاقوامی نظام کے چھ اہم آداب اور ذمہ داریاں
✔️ فصل؛ 19 میں ارتفاقات کے نظام کے قیام کی اہمیت
✔️ جبلی طور پر انسان اعلی اخلاق و ارتفاقات پر پیدا ہوا ہے
✔️ ’حجة اللہ البالغہ‘ کی روشنی میں ارتفاقات کے مسلّمہ و متّفقہ فطرتی اصولوں کی وضاحت
✔️ طبائعِ انسانی کے لیے نظامِ ارتفاقات کی اہمیت
✔️ نظام کی پابندی جانوروں اور انسانوں کی اصلِ فطرت سے پھوٹتی ہے
✔️ سسٹم بنانے کے اسباب اور تین بنیادیں
✔️ ہر ملک اور شہر کا خاص نظام اور قبیلے کی منفرد رسومات
✔️ مملکتِ راشدہ اور مملکت غیرِ راشدہ کا فرق
✔️ فاسد نظام کی بنیادی خرابیاں اور ظالمانہ عناصر
✔️ ۱) غلط نظام‘ انسان کے فطری اور طبعی اخلاق کی ترقی میں بڑی رکاوٹ
✔️ ۲) صحیح نظام ہونے کے باوجود‘ غیر سلیم الفطرت اور کرپٹ افراد کا تسلط
✔️ ۳) وسائل کا بے جا استعمال اور فضول خرچیاں
✔️ اعلی اخلاق اور عمدہ ارتفاقات کو توڑنے والے نظام کا تسلط
✔️ ایسا نظام جو اقتراباتِ الہیہ میں بگاڑ کا سبب ہو
✔️ سب سے اعلی نظام کی خصوصیات
✔️ نظام اور رسم توڑنے والے دو طبقات
✔️ فاسد اور اچھے نظام میں فرق معلوم کرنا‘ حکمران طبقے کی بنیادی ذمہ داری
✔️ کس حکمران کو معزول کرنا ضروری ہے؟
✔️ نظام بنانے کے تین مذاہب (سکول آف تھاٹ) ملتِ نجامین، ملتِ مجوس اور ملتِ حنیفیہ
✔️ کتاب کے تیسرے مقالے میں ان تینوں ملتوں کی تفصیلات بیان ہوں گی
✔️ فصل؛ 20 میں ارتفاقات کے نظام میں فساد پیدا ہونے کی صورت میں زیریں ارتفاق کو اختیار کرنے کی تفصیلات
✔️ ارتفاقات میں فساد پیدا ہونے کی چند بڑی وجوہات
✔️ ارتفاقِ رابع کے نظام کے بطلان کے وقت قومی ریاست کی مضبوطی ضروری
✔️ ارتفاقِ ثالث کی خرابی کے وقت ارتفاقِ ثانی اور ہر زیریں ارتفاق کی حفاظت کرنا ضروری
✔️ اعلی و سمجھ دار قیادت اور بے وقوف و نادان قیادت کے معاملات کا جائزہ
✔️ معاشی تنگی پیدا کرنے والے پیشے سے چمٹے رہنا‘ غلط رسم کے پروان چڑھنے اور درست طریقہ کار کو چھوڑنے کا باعث
✔️ ارتفاقات میں فساد کی اصل وجہ؛ انواعِ ارتفاق سے عدم آگہی اور جمود کی حالت
✔️ اگلے مبحث میں انسانوں کے ممکنہ مزاج کی اقسام اور ان کی نفسیات کے مطابق ارتفاقات کے تحقّق پر مشتمل لا جواب بحث

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

23/08/2026

رحمۃ للعالمین ﷺ کی تین عالمگیر حیثیتوں اور تین دائروں کی روشنی میں سیاسی حکمتِ عملی اور مزاحمتی شعور کا اسوہ حسنہ

خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 07؍ ربیع الاول ۱۴۴۸ھ / 21؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) راولپنڈی کیمپس
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و احادیثِ نبویہﷺ:
آیتِ قرآنی:
وَ مَا اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ. (21 –الانبیاء:107)
ترجمہ : ”اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر جہان کے لوگوں پر“ ۔
احادیثِ نبویہﷺ:
1۔ ”إنما أنا رحمة مهداة“. (تفسير ابن كثير :5/ 388)
ترجمہ: ” بے شک میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے لیے) سراپا رحمت اور انہیں سیدھا راستہ دیکھنے ولا ہوں“۔
2۔ ”قال: والذي نفسي بيده لأقتلنهم ولأصلبنهم ولأهدينهم وهم كارهون، إني رحمة بعثني الله ولا يتوفاني حتى يظهر الله دينه، لي خمسة أسماء: أنا محمد، وأحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب“. (كنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال :11/ 464)
ترجمہ: ”نبی اکرمﷺنے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کو ضرور قتل کروں گا، اور انہیں ضرور سولی پر لٹکاؤں گا، اور میں انہیں ضرور ہدایت دوں گا خواہ وہ اسے ناپسند ہی کریں۔ بیشک میں سراپا رحمت ہوں، اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے، اور وہ مجھے اس وقت تک وفات نہیں دے گا جب تک اللہ اپنے دین کو غالب نہ کر دے۔ میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، اور احمد ہوں، اور میں 'ماحی' (مٹانے والا) ہوں جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹا دے گا، اور میں 'حاشر' (اکٹھا کرنے والا) ہوں میرے قدموں میں لوگوں کو (قیامت کے دن) اکٹھا کیا جائے گا، اور میں 'عاقب' (سب کے آخر میں آنے والا) ہوں۔"
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ماہِ ربیع الاول کی اہمیت
✔️ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے پانچ موطن (نشأتیں)
✔️ آپؐ‘ وجہِ تخلیقِ کائنات، رحمتِ عالم اور نورِ ہدایت
✔️ نبی اکرمؐ کی ذاتِ قدسی‘ نورِ عرش سے ارضی فرش تک تمام مخلوقات کے لیے سراپا رحمت
✔️ آپؐ کا انسانیت کو ظالموں اور طاغوتی قوتوں سے نجات دلانا‘ ’’رحمة للعالمین‘‘ ہونے کے منافی نہیں!
✔️ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی تفسیر کی روشنی میں ’’رحمة للعالمین‘‘ کا درست معنی و مفہوم
✔️ رحمت کے تین دائروں؛ رحمتِ عقلی، قلبی اور طبعی کی وضاحت اور احادیث سے استدلال
✔️ رسول اللہؐ کی تین عالمگیر حیثیتیں؛ بادشاہِ عالَم، متبحّر عالم (قانون ساز) اور مرشدِ عالم
✔️ نبی اکرمؐ کی رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے جامع حکمتِ عملی کا مطالعہ
✔️ آپؐ کی ریاستِ مدینہ اور حکمرانی کی حکمتِ عملی کی صدائے بازگشت‘ دار الندوہ میں ابوجہل کی زبانی
✔️ ابوجہل کی خوفزدگی کی حالت میں پلاننگ کی اطلاع کے موقع پر آپؐ کا سیاسی غلبے کے اظہار اور رحمت و شفقت پر مبنی ارشادات
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور سیرتِ مقدسہ کا بنیادی ہدف و مقصد
✔️ ’رحمة للعالمین‘ کے عامیانہ و انتہاء پسندانہ تصورات اور منفی اثرات‘ دورِ غلامی کا شاخسانہ
✔️ سیرتِ النبیؐ کا سب سے اہم تقاضا؛ انسانی سماج کی حالتِ مرض اور حالتِ صحت کا جائزہ لے کر رحمت کے نظام کا قیام
✔️ دورِ غلامی کا المیہ؛ آپؐ کی سیرت کے اہم پہلو‘ بادشاہِ عالم، رحمتِ سیاست اور طاغوت کے خلاف جدوجہد کا مطالعہ مفقود و عنقاء
✔️ آپؐ کی جانوروں پر رحمت و شفقت سے ظالموں اور انسانیت دشمنوں کے لیے رحم دل ہونے کا استدلال درست نہیں!
✔️ انسانیت دشمن طاقت سے مقابلہ اور مزاحمتی شعور بھی رحم دلی ہے
✔️ عدم تشدد کے پہلے بنیادی نکتے کی سیرت النبیؐ کی روشنی میں وضاحت؛ ظالم کے خلاف نظریہ مزاحمت کی اساس پر مستقل و مستحکم جدوجہد
✔️ عدم تشدد کی اساس پر اگلا مرحلہ؛ نظم و ضبط کے ساتھ ڈائیلاگ اور سٹریٹ پاورکا اظہار
✔️ رحمة للعالمین کا تقاضا‘ سیاسی و معاشی طاقت کی اساس پر دینِ اسلام کو باطل ادیان پر غالب کرنا
✔️ رحمة للعالمین کے مظاہر سے مسلمہ امت کی پہلو تہی
✔️ عصری تقاضا؛ رحمت للعالمین کا درست فہم اورانسانی سماج کی تعمیر نو کے لیے شعوری مزاحمت اور جدوجہد کی ناگزیریت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

Address

Rahimia House, 33-A, Queens Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official:

Shortcuts

Share